اسلام علیک یا سید المومنین
سیدی مولائی آقائی اُمید ہے کسی باغ میں ٹہلتے ہون گے وہ تو خیر جنت کے باغات ہیں اور آپ کے اپنے بھی ہیں ۔ایسی امید میں سلام کے بعد بڑی معذرت کے ساتھ ایک شکایت کر رہا ہوں کہ آپ معاف فرمائیں گے، آپ کے خاندان کی شکایت ہے ، ایک سید صاحب سے آپ کو خط لکھنے کا پتہ پوچھا اور اجازت طلب کی وہ قطعی انکار کر گئے یہ خطہ انہیں کئی بار دیا انہوں نے آپ تک پہنچایا ہی نہیں جواب کا انتظار کرتے کرتے آنکھوں کے سامنے سیاہ دھبے پڑھ گئے ہیں،اب خود ٹائیپ کرکے بھیج رہا ہوں۔ آپ بڑے فیصل رہے ہیں ،میں جب دو سال نو مہینے کا تھا آپ کا نام سننے میں آیا ۔ہوش آنے پر کچھ کتابیں دیکھیں اہل ہند نے جنہیں ٹھیک اسی زبان میں لکھا ہے جس میں یہ خط زیرِ تحریر ہے۔اسلام علیکم کی فضیلت پڑھی اور آپ کے رفقا میں اس لفظ کے ادا کرنے کی پہل کا حال سنا دھنگ رہ گیا ۔یہاں تواب خیراس کلمے کی جگہ ہیلو اور ہائے کا دور دورا ہے ،شاید یہ زمانے کا بدلاؤ ہے ضرور رہنمائی فرمائیں۔ہمارے ہاں ایک روایت تھی سو میں بھی سلام ہی سے گفتگو کا آغاز کر رہا ہوں ۔اور مولا ایک یہ مسئلہ کہ اس کے بغیر آپ سے بات بھی تونہیں ہو سکتی ۔پھر یہ خیال بھی آیا کہ خط منشیوں کے مخصوص کاغذ پر لکھ بھیجوں اس سے عہد رفتہ کی کچھ پاسداری ہوجائے گی شاید میں لکھتا کاغذ خریدا اورلکھنے بیٹھا ہی تھا کہ اپنے پیارے لوگ ہاہاہاہاہاہنس پڑے ۔پھر کاغذ قلم ماضی کی الماریوں میں رکھ دیے اور سچ بتاؤں یہی کہ ایمان آڑے آگیا کوئی خط اس صدی میں بھلا سفید کاغذ پر رقم نہ ہو توآپ جیسے سخی انسان کی دل شکنی کا باعث نہ ہوگا؟۔ اور وبا ایمان مولویوں کی بھر مار ہے یہ بتا تا چلوںکہ یہ سب آپ کی صدی کے مولوی نہیں ہیں ۔اور دیکھیے نا یا علی،یہ مولوی اقبال کو علامہ کہتے ہیں اور وہ انہیں ملا کہتے تھے گویا انہوں نے ان سے بغض رکھا اور یہ ان کے ثنا خوان ٹھہرے یہاں ایک یہ بات توثابت ہوجاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے پیاروں کا ذکر کسی سے بھی کروا ہی لیتاہے دوسرا یہ کہ ایسے مولویوں کو کوئی کیا کہہ سکتا ہے۔ باخدا آپ ہوتے ان کی علمی فکر ی اور تقریری دنیا پر ضرور ہنستے اور سارے صحابہ خوب مزے لے لے کر کے کہتے یہ مولوی ہیں؟اچھا جانکاری کے لیے کہ یہ صدی اسلام سے زیادہ مولویوں کی ہے ۔ میں ٹائپنگ پر بیٹھ گیاہوںاب ادھر اُدھر کی باتیں نا کروں گا۔ ۔۔۔میرے ابا کا ماننا ہے کہ میں علی کے نام ۔۔۔خط اور وہ بھی اس صدی میں کیسے لکھ سکتا ہوں ۔خیر یہ جواب جاننے کا اشتیاق نہیں ہے میں خود ہی جانتا ہوں کہ محبت میں سب جائزہے ۔یا علی میں ان دنوں ٹھیک ہوں اور اللہ کے حضور جھکنے چلا جاتا ہوں معلوم نہیں کس مولوی کے اقتدا میں نماز ہوجاتی ہے کیونکہ یہاںہر ایک مولوی کا علم اور فتویٰ دوسرے مولوی کی جماعت اور ایمان کو کفر سے تعبیر کرتا ہے ہاں میں سب کے پیچھے پڑھ لیتا ہوں ۔آپ اس بات پر مکمل انشراح رکھتے ہیں کہ اللہ نا چاہے تو یونس پیغمبر کا چالیس دن کا وعدہ پورا ہونے کے آثار غائب ہونے لگتے ہیں۔اور چاہے تو اسماعیل علیہ سلام کی گردن پرچھری پھیکی پڑھ جاتی ہے ۔اس کا مطلب ہے جو اللہ چاہے وہ ہوجاتاہے اور نا چاہے تو وہ ہو ہی نہیں سکتا ہے ۔ میری نمازوں کا حال میری سن عجوزی سے دریافت ہو سکتا ہے۔ اور آپ کو بتاتے ہوئے کچھ شرم بھی آرہی ہے کہ رکوع میں غالب کے شعر یاد آجاتے ہیں سجدہ میں فیض نہیں چھوڑتا۔کسی تازہ ناول کو پڑھا تو پوری سورہ فاتحہ میں اپنے تمام کرداروں کے ساتھ داخل ہو جاتا ہے ۔اور مولویوں کا کیا بتاؤں پرسوں ہی ایک علامہ فرما رہے تھے کہ ہمارا بھی یہی حال ہے نماز میں نذرانے نہیں چھوڑتے اور نذرنوں میں نماز بھول جاتا ہوں ۔میں سچ بتاتا ہوں آپ سے کیا چھپانا ویسے بھی جب ہم ا س روز ذلیل ہونگے آپ تو ملاحظہ فرما ہی رہے ہو نگے ۔ وہاں تو ہمارا نہ کوئی زور اور نہ زبردستی ہوگی ۔میرے قریبی دوست ، وہ جو نفس مریدی کا شکار ہیں عورت باز ی میں لگے رہتے ہیں جب کبھی کسی بے غیرت لڑکی کو کو کہیں بھی دیکھتے ہیں تو آہیں بھرنے لگتے ہیں سسکیاں لینے لگتے ہیں گہری سانسیں چھوڑتے ہیں اور میں جب آپ کا کوئی قول سناتا ہوں تو گرما جاتے ہیں ۔ حضرت صلاح دین ایوبی کے حالات بتاتا ہوں تو وہ الٹا مجھے گالیاں سنانے لگتے ہیں ایسی گالیاں تواس خط میں نہیں لکھ سکتا جو وہ مجھے سناتے ہیں ہاں یہ ہے کہ ان سب کا متفقہ جملہ کچھ یوں کر ہوا کرتا ہے، ابے او ہر جگہ اسلام کو مت گھسیٹ لایاـ کر۔اس مسئلے میںبھی آپ رہنمائی فرمائیں ۔یا علی میں انہیں کیا بتاوؤں کے جنہیں آپ رفیقِ حیات کہتے تھے اور جو آپ کو بھی آپ کہتی تھیں جنہیں آپ کے سوا کسی نے نظر بھر دیکھا تک نہیں سنا ہے جبرائیل اپنی نگاہیں جھکائے انہیں رب کا سلام کہتے تھے۔اور اگروہ اس دور میں ہوتیں توکیا اللہ کی راتوں کے طویل ہونے کی دعائیں کرتیں اس عہد کی راتیں جو امت کی بچیوں کی سسکیوں سے بھری ہوئی ہیں؟ ایسی راتیں ہیں ان کی بیٹیوں پر کہ میں کیا بتاوؤں فرشتے تو لکھتے ہی ہونگے اور آپ تک شاید یہ خبریں پہنچ رہی ہوں۔یہاں وہ سکون دھرتی نے کہیں بیچ دیا ہے وہ یہاں ہے ہی نہیں بلکہ رہا ہی نہیں ہے ۔دھرتی بے چین ہے سیدہ کا نام آگیا ہے انہیں آپ میری طرف سے یہ ایک بات کہہ دیں کہ آپ کا ایک روحانی بیٹا ہند سے آپ کو سلام عرض کر تاہے اور یہ کہتا ہے سیدہ طیبہ طاہرہ ،آپ کی اولادیں بڑی بے مروت ہوگئی ہیں ننگے سر گھومتی ہیں فخریہ مردوں سے کم لباس پہنتی ہیں ۔اور کہیں جب آپ کا نام سنایا جائے تو اس سے زمانے سے تعبیر کر دیتی ہیں۔ مولویوں کا حال تو بتا چکا ہوں آج کے من مست صوفیا آپ کی امت کی ان باوقار بیٹیوں کا ماضی چھین لینا چاہتے ہیں ان کی بچے کھچے لباس عزتیں نیلام کر رہے ہیں یہ بھی صحیح ہیکہ ایسا صرف اس صدی کے مسلم صوفیائ نہیں کرتے بلکہ ہندوں میں سنت اور عیسائیوں کے پادری اس معاملے میں دو قدم آگے بڑھ چکے ہیں عیسائیوں کا حال ایک دوسرے خط میں بتانے کی کوشش کرونگا۔آپ کہا کرتے تھے کہ خاتم المرسلین نے فرمایا ہے۔ اور آپ کی اولادیں کہتی ہیں ،اسٹورٹ مِل نے کہا ہے،یہ مارکس نے کہا ہے اور فلاں فلاں نے کہا ہے کہ عورتیں آزاد نہیں ہیں ۔خیر جواب میں آپ فرمائیں آزادی کیا ہے ،باقی سب کا تو نہیں کہتا اپنی امی اور بیٹی کو آپ کا جواب پہنچا دوں گا ،بیوی تک پہنچا نے کی کوشش کروں گا مان گئیں تو اچھی بات ہے لیکن آپ ضرور بتائیں۔ اپنے اس روحانی بیٹے کو ایک بار باروز یوم جزا بیٹا کہہ کر پکار دیں گی تومیں قدموں میں آشرواد لینے آسکوں گا ۔یہ آشرواد کچھ ہندیانہ لفظ ہے میں تاکہ آپ کے قدم چومنے آسکوں اس چ کا کیا کروں عربی کو اردو سے دور بھگا دیتی ہے ،خیر یہاں بہت کم علم لوگ خود کو عالم سمجھتے ہیں آپ کے بابا جان جن کے واسطے کائنات کی تعمیر ہوئی ظاہر سی بات ہے دنیا کی ہر زبان اللہ نے انہیں سیکھا رکھی ہوگی اور ان کی گود میں بیٹھ کر آپ نے بھی تو ٹ چ ڈ ڑ وغیرہ سیکھ لیا ہوگا ۔اس دور میں سب سے زیادہ مصنفین و مقررین کا خیال ہیکہ شبرات اور عید کے دن سب گناہ معاف ہوجاتے ہیں ،اچھایوں ہیکہ اس بات سے دوسرے مذاہب کے لوگ ہمارے واسطے اگلی دنیا کا اچھا گمان رکھتے ہیں کہ یہ دیکھو ان مسلمٹوںکو ایک آدھ رات ہی عبادت سے لبریز کر دیتی ہے بلکہ جنت کے کہیں قریب قریب ہی لے جا کر انڈیل دیتی ہے ۔ اب جتنے چور اچکے بدمعاش زانی قاتل ظالم ہیں وہ سب عید ،رمضان اور محرم کا خاص خیال رکھتے ہیں معلوم نہیں اللہ کو کیا سمجھ رکھا ہے ۔میں نے پچھلے کئی سال ان سب جنتی ٹوٹکوںمیں گذارے ،اب کہیںکچھ پڑھا تو معلوم ہوا کہ سیدہ! ایسے ہی آپ اللہ سے سردیوں کی لمبی راتوں میں ہمکلام نہیں ہوا کرتی تھیں، یونہی سجدے کے دوران لذتیںمحسوس کرتیں تھیں غشی کا طاری ہونا آسان نہیںتھا،بلکہ آپ کے شہر والے سبھی اس بات پر کامل ایمان رکھتے تھے کہ سجدہ خدا کو ہورہا ہے ۔ تو میں معذرت کے ساتھ پھر یا علی آپ سے کہوں گا آئیں ایک بار پرانی دہلی کا حال دیکھ جائیں۔ اور اوکھلا پر بھی ایک نظر ڈالیں گے تو خود احساس ہوجائے گا میں اہل کوفہ میں سے نہیں ہوں ۔باخدا سچ کہہ رہا ہوں ہاں یہاں بڑے لوگ پولیس کی رکھوالی میں آتے ہیں، شائد آپ کے لئے یہ بندو بست نا ہوپائے میں نے بڑوں تک کی رکھوالی کا حال سنا ہے بڑوںسے بڑے کی رکھوالی کا انتظام کیا ہوگا میں نہیں جانتا ہوں،ویسے یہاں ان دنوں ایک اوبامہ صاحب ہیں وہ اپنی گاڑی تک وہیں امریکہ سے لائے تھے جب کبھی آپ آنا چاہیں تو اپنی پولیس فورس ہی لائیں پھر کبھی ،لیکن آئیں ضرور۔جن کے لئے آپ کے ساتھی کٹے ہیں جن کے لئے ختم المرسلین روئے ہیں ان کا حال ضرور دیکھ جائیں۔ حضرت فاطمہ سے کہہ دیں کہ یہاں آپ بھی آئیں اور دیکھیں آپ کی بیٹیوں نے برقعے جلا دیے ہیں وہ بھی ایسے برقعے یا نقاب جو آپ کے عہد میں تھے ہی نہیں ۔ انہیں کون سمجھائے کہ امی فاطمہ کے تن پر تو بہتر پیوند والا دنیا کا اعلیٰ ترین کرتا تھا ۔آپ اپنے اسی بہتر پیوند والے برقعے میں آئیں،ویسے آپ کے آنے پر سڑکیں بند نہیں کر پائیں گے آپ بھی اسی سیکورٹی فورس میں آئیں جو سیدنا علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی تھی، لیکن یہاں کسی کا اعتبار کبھی نہیں ،نہیںاورکیاہی نہیں جا سکتا ہے، کبھی نہیںکرنا لوگ اب بڑا ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ آپ کی بے حرمتی ہوگی تو آپ کا یہ روحانی بیٹا کبھی نا جھیل پائے گا۔ اس لئے حضرت علی کے ساتھ ہی اپنی سیکورٹی اور اپنے لوگوں کے ساتھ آنے میں یہاں سلامتی ہو سکتی ہے کہ ممکن ہو۔باخدا سچ کہہ رہا ہوں اس سے میری بد تمیزی نا سمجھیں میری کیا جرأت کہ لب کھول سکوں ۔ہاں یہ سب سچائیاں ہیں بتانے میں کوئی خرج نہیں سمجھتا ہوں،سچا بیٹا اور با وفا امتی وہی ہے جو سچی باتیں آپ تک پہنچاتا رہے۔میں کربلا کی کوئی بات نہیں چھیڑوں گا خواہ مخواہ آپ کے آنسوں ڈھلک جائیں گے ،بھلا اس سے مجھے کیا حاصل ہوگا ۔ہاں یہ جو میں نے شکائتیں درج کی ہیں ان میں ہر ایک وہ گناہ جو سب سے ہو رہا ہے ان سب میں ایک میں بھی ہوں، آپ چاہیں تو باروزِ قیامت یہ خط اہل جنت و دوزخ کو سنا سکتے ہیں اور فضول میں آپ کی کسی جنتی الماری کا کوئی حصۂ زائیدہ مانگتا ہو تو جنت میں شراب طہورہ کے بجائے دودھ کی نہرمیں پھینک دیں اس شرط پر کہ کوئی دوسرا نا پڑھ سکے، اس لئے پھاڑ کر پھینکیں گے تو آپ کا غلام خوش رہے گا۔خط کی طوالت سے میں بھی لرزنے لگ گیا ہوں از راہ کرم سیدنا امام حسین سے پڑھوا لیں، میں سمجھتا ہوں کہ اتنا لمبا خط اور آپ کو دیا جائے گستاخی ہے۔ مگر کیا کروں ہمارے ادھار کارڈ بنے ہوئے ہیں بار بار رابطے سے حکومت وقت ملک غدار ٹھہرا سکتی ہے ۔ ہم اسلامی تہذیب اور ثقافت تو دور اس کے معمولی ترین اوصاف سے بھی نابلد ہی نہیں بالکل کورے پڑے ہیں ، میں مغلظات سے پرہیز برتنا چاہتا ہوں کیونکہ یہ خط آپ کے حضور پیش کرنا مقصد ہے ، ٹوپی داڑھیاں تو مکر و ریا کے نیا لباس کی صورت میں عام لوگوں کے لئے بس مصیبت سے کم نہیں رہ گئیں ہیں ، مولا حسین کا وہ واقعہ میں نے پڑھا کہ جب ایک بزرگ کسی وضو خانے میں وضو کے طریقے سے بے خبر بس یونہی ٹائم پاس کرر ہا تھا ، مولا نے بزرگ سے فرمایا کہ اے بزرگ آپ ہمیں دیکھیں شاید ہمارا وضو کرنے کا طریقہ درست نہیں ہے آپ بس ہمیں سکھا دیں ، آپ کے پیاروں نے وضو کرنا شروع کیا ، بزرگ سنجیدہ تھا سمجھ گیا کہ بچہ مجھے سکھانا چاہتا ہے ، فرمانے لگا بچو! آپ کا نہیں میرا وضو کرنے کا طریقہ غلط تھا اور آپ نے مجھے سکھا دیا ہے، وہ ممنون ہوا آپ کی اولاد دین سکھاتی تھی لیکن طریقہ یہی تھا میرے گاؤں محلہ تحصیل میں جس کسی نے جو کچھ رٹ رٹارکھاہے اس سے سمجھاتے ہوئے ایسے چیختا چلاتا بھڑبھڑاتا ہے جیسے کہ دین نہیں اب کیا کہوں اگر یہ خط آپ کے دربار میں جانے والا نہ ہوتا تو ضرور کچھ جی چاہ رہا تھا ، اب آپ ہی بتائیں ہمارا پرسانِ حال کون ہے اور کس سے سیکھیں ۔ (یہ بھی پڑھیں مسلکی و فکری مناظرے اور ان کا حل – الطاف جمیل ندوی )
یا علی آپ ایسا نہ سوچیں کہ میں شکایتوں کے ساتھ اس امت کی تذلیل کا سبب بن رہا ہوں اور خدا نخواسطہ کچھ لوگ ابھی اچھے ہیں جن سے امید کی جاسکتی ہے۔ یہاں دنیا میں عام انسانوں سے رابطہ کرنے پر پابندیاں عایدہیں یہ بھی معلوم نہیں یہ خط آپ تک پہنچنے بھی دیا جائے گا یا نہیں اس سے مجھے سزا بھی ہو سکتی ہے ۔آپ ہی کے نامی گرامی غلام مجھے سزا دے سکتے ہیں غیروں سے کیا شکایت ۔یا علی آپ کے جواب کا انتظار رہے گا انشااللہ دوسرا خط لکھوں گا جاتے جاتے ایک مسئلہ حل فرما دیں ویسے یہ آپ کا ذاتی ہے مجھے اس میں دخل دینے کا حق نہیں ہے ام مومنین رضی اللہ عنہا کی شادی کس عمر میں ہوئی تھی یہاں اردو کے ہر مورخ نے اپنی اپنی رائے قائم کررکھی ہے ؟ پیارے علی اصغر کا ماتھا چوم کر میری طرف سے سلام عرض کر دیں آپ کے خانوادے میں اتنے بزرگ ہوئے ہیں کہ کس کس کا نام گناوؤں سیدنا عبدلقادر جیلانی کو بھی ان کے مرید کا سلام پہنچ جائے اور اپنے پیارے حسن و حسین رضی اللہ عنھم سے کہیں آپ نے جن کی خاطر سب کچھ قربان کیا ان میں سے کچھ آپ سے متفق ہی نہیں۔ اور جو ہیں انہیں آپ کے کردار سے کوئی محبت نہیں۔ ناراض نا ہوں سچ کہہ رہا ہوں اگر اس بات سے علی اکبر کے آنسو نکلے ہوں تو خدا راہ میری گستاخی معاف فرما دیں۔۔ میں کوئی ایسا جملہ کہنا ہی نہیں چاہتا جس میں آپ کی طرف سے غدار ٹھہرایا جاؤں۔جنت مجھے مل گئی تو آپ کے پڑوس میں دو بھیگا زمین کی خواہش رکھوں گا نا ملی تب بھی جلتی آگ میں علی علی کہتا رہوں گا ۔اس سے اگر میں مشرک ٹھہرتا ہوں تو اللہ ہی جانے آپ کو میں کیا کہوں۔ آپ کا نام لینے والے چوریاں کر رہے ہیں اور یہی نہیں ہندوستان میں ناچنے گانے والوں کو سٹار کہا جاتا ہے وہ ناچ گا کر بھی علی دم مست قلندر کہہ رہے ہیں یہ آخری شکایت تھی ۔میرے اس خط میں کسی فن کار کا کوئی رنگ نہیں ہے آپ یقین مانیں یا علی مرزا کے خطوط اچھے ہیں مگر کوئی بھی خط آپ کے نام نہیں ہے شایدمرزا ہٹ دھرم تھے ضدی تھے اس لیے نہیں لکھا ہوگا میں پیار سے لکھ رہا ہوں جواب کا انتظار رہے گا ۔ہند سے آپ کا ادنٰی غلام ۔غلام مصطفٰے ضیا ؔ نام میں آخری لفظ ابا کا ودیعت کردا نہیں ہے اس لئے مغالطہ نا ہو غلام مصطفٰے ہی پورا نام ہے ۔اور خط کا جواب نہ آنے کی صورت میں دوسرا بھیجوں گا انشا اللہ۔
خط کا جواب بھجنے کا پتہ ہندوستان ،پوسٹ آفس جو آپ کو اچھا اور با اعتبار معلوم ہو۔
بڑی مایوسی کے ساتھ اس کا جواب نہیں آیا تکنیکی خرابیاں اس کی بڑی وجہ رہیں ۔وسلام
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


1 comment
زورِ قلم کے ساتھ ساتھ تخیل کی پرواز میں بھی بلندی ہے۔