عربی سے ترجمہ : وسیم احمد علیمی
تمہاری آنکھیں سمندر ہیں
ان سمندروں سے عشق سا ہو گیاہے،
کہ اس کی وسعتوں میں ڈوب ہی جاؤں
تمہاری آنکھیں خواب ہیں
ان میں ابدی نیند سو جاؤں
تمہاری آنکھیں عشق ہیں
جی چاہتاہے انہیں سینے سے لگا لوں
کہ وہ عشق روح میں اتر جائے
تمہاری آنکھیں ولولہ ہیں
کاش یہ لمحے دراز ہو جائیں
اور یہ ولولے میری رگوں میں سرایت کر جائیں
تمہاری آنکھیں انقلاب ہیں
ایسا ہو کہ قدموں تلے زمین لرزہ خیز ہو جائے
اے وہ شخص کہ جس کی آنکھوں میں
میں نے اپنا وطن دیکھ لیا
اجازت ہو کہ ان آنکھوں کی مسافر ہو جاؤں
اجازت ہو کہ لا محدود سفر پر نکلوں
کہ ان آنکھوں میں نظر آتاہے مجھے اپنا عکس
اور دیکھتی ہوں اپنی زندگی
سو اجازت ہو کہ ان آنکھوں کو دیکھو ں اور بھر پور دیکھوں
اور عشق کے نغمات سناتی جاؤں
قصیدے لکھوں
اور تاریخ میں وہ پہلی خاتون بن جاؤں
جو ان آنکھوں میں جنمی ہے
***
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


1 comment
ماشااللہ