غبارِ حیرانی / احمد محفوظ – ڈاکٹر شاہ نواز فیاض
شعبۂ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی
عصر حاضر کے چند منتخب شعرا جو اپنے انداز واسلوب اور مضامین کے تنوع کے سبب جداگانہ شناخت رکھتے ہیں ان میں احمد محفوظ کا نام بہت نمایاں ہے ۔ان کی غزلوں کا اسلوب کلاسیکی رنگ وآہنگ کی بھی یاد دلاتا ہے ۔ ان کا پہلا شعری مجموعہ’غبارِ حیرانی‘کے نام سے حالیہ دنوں میںمنظر عام پر آیاہے۔یہ مجموعہ اپنی لفظی اور معنوی سطح کی انھیں خوبیوں کے سبب ان دنوںموضو ع گفتگو ہے ۔
زیر تبصرہ کتاب’غبارِ حیرانی‘ کا مطالعہ دراصل ہماری شعری روایت کا مطالعہ ہے۔ احمد محفوظ نے الفاظ وتراکیب کو اس سلیقے سے شعرکا حصہ بنایاہے کہ وہ نہ صرف اساتذہ سخن کی یاد دلاتا ہے ،بلکہ ان میں کلاسیکی رنگ وآہنگ بھی پیدا ہوگیا ہے۔ وہ لفظ کی سطح پر تازگی پیدا کرتے ہیں ۔اسی طرح وہ بار بارکے برتے ہوئے مضامین کواس طرح سے شعری پیکر عطا کرتے ہیں کہ وہ روایتی ہوتے ہوئے بھی جدید معلوم ہوتے ہیں۔ مثلاً
آہنگِ سکوت دم بہ دم سُن
یہ سازِ نفس ہے نے نہیں ہے
شکلیں دونوں ہی مشکل ہیں خواہ ملا کر دیکھو تم
دشواری کو آسانی سے آساں کو دشواری سے
دیکھے جو ایک بار رخ یار کی طرف
پھر عمر بھر نہ جائے وہ گلزار کی طرف
کلاسیکی ادبیات سے خصوصی شغف اور مطالعۂ میر احمد محفوظ کا اختصاصی پہلو ہے ۔اس کے واضح اثرات ان کی شاعری پر دیکھے جاسکتے ہیں ۔یعنی ایک طرف وہ شعری مضامین کو بڑے اہتمام سے بیان کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور دوسری طرف شعری حسن اور لطافت کا کوئی نہ کوئی پہلووہ ضرور سامنے رکھتے ہیں۔ اسی لیے ان کے اشعار سے بآسانی نہیں گذرا جاسکتا۔لطف و انبساط کا کوئی نہ کوئی پہلو ضرور ہاتھ آتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ان کے بہت سے آسان اور سادہ اشعار بھی معنویت کے متعدد جواز رکھتے ہیں۔
تری ہی جستجو ہے سب کو لیکن
تجھے پہچانتا کوئی نہیں ہے
بھڑا کر تو دیکھو مزہ آئے گا
کسی دن نئی کو پرانی کے ساتھ
اسے بھلایا تو اپنا وجود بھی نہ رہا
کہ میرا سارا اثاثہ اسی مکان میں تھا
آسان اور سادہ اشعار کے ساتھ ساتھ احمد محفوظ شعری مرکبات بھی خلق کرکے معنی کی ایک نئی دنیاآباد کرتے ہیں۔ زیر نظر مجموعہ کلام کا نام ’غبار حیرانی‘سے ہی اس کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ ’جشن بے خوابی‘،دولت رنج رائیگاں ،دریائے ویرانی ،چشمہ شب ،تخت گاہ قناعت جیسی تراکیب ان کے خلاقانہ طبیعت اور مزاج کی غماز ہیں ۔
منا رہے تھے وہاں لوگ جشن بے خوابی
یہاں تھے خواب بہت سو ادھر نہیں گئے ہم
پھینکتے سنگ صدا دریائے ویرانی میں ہم
پھر ابھرتے دائرہ در دائرہ پانی میں ہم
یہ تراکیب معنوی جہت کو مزید پرقوت بناتی ہیں، نیز شعر میں متعدد پہلو بھی اس سے روشن ہوجاتے ہیں ۔ اس طرح کی بہت سی مثالیں ان کے کلام سے مزید پیش کی جاسکتی ہیں۔
زیر تبصرہ کتاب’غبارِ حیرانی‘ میں بہت سی ایسی تراکیب کا استعمال کیا گیا ہے،جو احمد محفوظ سے پہلے کے شعرا کرچکے ہیں ،مگر جیسا کہ یہ بات سطور بالا میں کہی جاچکی ہے کہ وہ بار بار کے برتے ہوئے مضامین کو لفظی اور معنوی سطح پر تازہ کرنے کا ہنر رکھتے ہیں ۔بند قبا کا مضمون اردو غزل کا پامال مضمون کہا جاسکتا ہے۔ میر وغالب کے علاوہ قائم چاند پوری اور دتاتریہ کیفی وغیرہ نے اس مضمون کا استعمال کیا ہے ۔ احمد محفوظ نے اس مضمون کو کیا خوب نبھایا ہے ۔
یوں تو بہت ہے مشکل بند قبا کا کھلنا
جو کھل گیا تو پھر یہ عقدہ کھلا رہے گا
اس شعر کو ابہام نے معنی خیز بنادیا ہے ۔ کس کے ’بند قبا‘ کا کھلنا مشکل ہے؟ ظاہر ہے کہ یہاں بھی مراد معشوق ہی ہے، لیکن ’یوں تو‘، ’یہ‘اور’عقدہ کھلا رہے گا‘ کے استعمال نے ابہام کی صورت پیدا کردی ۔ اس نوع کی فنی باریکیاں احمد محفوظ کی شاعری کی اہم خصوصیت قرار دی جاسکتی ہے ۔
زیر نظر کتاب ’غبارِ حیرانی‘ احمد محفوظ کی کم وبیش تین دہائیوں کی شعری ریاضت کا نتیجہ ہے۔ اگر عرصہ دیکھا جائے تو بہت ہے ،مگر اس کے مقابلے میں کلام کم کہاجائے گا لیکن اگر کلام کی فنی اور معنوی خوبیوں پر نظر ڈالی جائے تو یہ کہنا درست قرار پائے گا کہ انھو ں نے بہت اہتمام اور خوش اسلوبی کے ساتھ یہ عرصہ گذارا ہے اور ایک مختلف رنگ کی شاعری کو پیش کیا ہے ۔جامعیت اور اختصار کا عملی نمونہ’غبار حیرانی‘کی صورت میں حیران کرنے والا ہے ۔’غبارِ حیرانی‘میں ایک حمد، دو نعت ،ستر(۷۰)غزلیں اور کچھ متفرق اشعار بعنوان’خردہ‘شامل ہیں۔صاحب کتاب نے چند صفحات پر مشتمل ’پیش لفظ ‘بھی لکھا ہے۔ جس سے ان کے شعری سفر اور شعری رویوں کو سمجھا جاسکتا ہے ۔شاعری سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے اس کتاب میں بہت کچھ ہے ۔کتاب کی اشاعت پر میں مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ سرورق دیدہ زیب ہونے کے ساتھ ساتھ معنی خیز بھی ہے۔ کتاب ایم۔ آر۔ پبلی کیشنز، نئی دہلی سے حاصل کی جا سکتی ہے۔
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page


1 comment
ڈاکٹر شاہنواز فیاض نے ڈاکٹر احمد محفوظ کے مجموعہ کلام غبار حیرانی کا مختصر، لیکن جامع تعارف کرایا ہے۔ انھوں نے چند جملوں میں شعری محاسن کو بڑی عمدگی سے بیان کر دیا ہے۔