Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
کتاب کی بات

by adbimiras مارچ 1, 2024
by adbimiras مارچ 1, 2024 0 comment

ہاجرہ نازلی کی سوانح ‘اک آسماں اک کہکشاں’ ایک جائزہ – علیزےنجف

انسانی زندگی میں رشتوں کی اہمیت سے ہر کوئی آشنا ہے، رشتوں کے درمیان فرقِ مراتب کا ہونا ایک فطری ترتیب ہے، ان رشتوں میں ماں کا رشتہ سب سے مقدس ہوتا ہے جس کی ایثار پسندی، بےلوثی اور اخلاص بےمثل ہے، ہم میں سے ہر انسان اپنی ماں کے لئے غیر معمولی محبت اور دارفتگی کا احساس رکھتا ہے کیوں کہ ماں کی محبت اور قربانیوں کا جواب محبت  کے سوا اور کچھ نہیں ہو سکتا۔

‘ہر بچے کی ایک ماں ہوتی ہے مگر ہر ماں ہاجرہ نازلی جیسی نہیں ہوتی’  یہ جملہ ایک بیٹی کا ہے جسے ہم اور آپ شہناز کنول غازی کے نام سے جانتے ہیں، اس وقت میرے سامنے انھیں کی مرتب کردہ کتاب ‘سوانح ہاجرہ نازلی٫ اک آسماں اک کہکشاں’ رکھی ہے۔ یہ  معروف افسانہ نگار و ناول نگار ہاجرہ نازلی کی سوانح عمری ہے  جو کہ ہند و پاک میں یکساں مقبول تھیں، چوں کہ یہ سوانح عمری ہے اس لئے یہ پوری کتاب انھیں کے گرد گھوم رہی ہے۔ اس میں ان کی شخصیت کے ہر پہلو کو تشفی بخش انداز میں زیر قلم لایا گیا ہے، یہ کتاب یعنی ان کی سوانح  ان کی وفات کے اٹھارہ سال کے بعد مرتب کی گئی ہے، وہ جب تک باحیات رہیں کسی کو بھی اپنے اوپر لکھنے کی اجازت نہیں دی، یہ شاید ان کی عاجزی اور منکسر المزاجی تھی جس پہ وہ آخری عمر تک قائم رہیں  اس وقت جب کہ  وہ ہمارے درمیان نہیں رہیں انھوں نے جس طرح زندگی کو بااصول انداز میں گزارا تھا اس کا یہ تقاضہ تھا کہ اسے دوسروں تک پہنچایا جائے تاکہ چراغ سے چراغ جلتے رہیں اور تاریکی اپنا دائرہ بڑھانے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ انسانی معاشرے میں پائے جانے والے اقدار، تہذیب و ثقافت ہی ہے جو کہ معاشرے کو مثبت رخ سے مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں یہ تہذیب و ثقافت شخصیات کے ذریعے پروان چڑھتے ہیں اور فروغ پاتے ہیں۔

یہ کتاب پڑھتے ہوئے بارہا محسوس ہوا کہ ہاجرہ نازلی ہمہ جہت شخصیت کی حامل انسان تھیں، اس کتاب کے ذریعے ان کی زندگی میں تفکر و تدبر کے عنصر کو واضح طور پہ محسوس کیا جا سکتا ہے، انھوں نے نامساعد حالات میں بھی اپنے ذوق و شوق کو بخوبی پروان چڑھایا، حالات کا ہمہ وقت شکوہ کرنے کے بجائے انھوں نے ہمیشہ آپ اپنی دنیا بنانے کو  ترجیح دی، انھوں نے علامہ اقبال کے شعر کے مصداق خاکستر سے آپ اپنا جہان پیدا کیا تھا،  ان کی پیدائش ایک ایسے دور میں ہوئی تھی جب تعلیم نسواں کے حوالے سے معاشرے کا شعور سو رہا تھا، اس وقت جتنے بھی تعلیمی ادارے تھے وہ صرف مردوں ہی کے لئے  تھے اس میں عورتوں کی کوئی جگہ نہیں تھی، ان کو فقط بنیادی تعلیم دی جاتی تھی جو کہ گھروں کی چہار دیواری میں ہی ممکن تھی، اور بعض گھرانوں میں بنیادی تعلیم کا بھی  کوئی تصور نہیں تھا محض ناظرہ قرآن ہی ان کی ترجیح میں شامل تھا۔  چوں کہ ان کا تعلق  نابغہء روزگار ہستی معروف عالم دین مولانا قاسم نانوتوی کے علمی و تاریخی گھرانے سے تھا اس لئے اس دور کی عام گھرانوں کی لڑکیوں کے مقابلے میں انھیں ایک بہترین ماحول ملا جس نے ان کے اندر موجود علمی ذوق کو پروان چڑھانے میں اہم کردار ادا کیا، ان کے اندر پڑھنے کی خواہش غیر معمولی تھی، کتابیں ان کی اصل متاع حیات تھی،  لیکن اس دور میں لڑکیوں کے لئے کوئی باضابطہ تعلیمی ادارہ نہ ہونے کی وجہ سے وہ اپنے تشنگی کو کبھی تشفی بخش انداز میں سیراب نہیں کر سکیں، جس کا انھیں ساری عمر ملال رہا،  باقاعدہ تعلیمی اداروں سے اعلی تعلیم حاصل کرنا ان کی زندگی کی سب سے بڑی خواہش تھی جو کہ تشنہء تکمیل ہی رہی، اس نامساعد حالات میں انھوں نے حالات سے بےشک مفاہمت اختیار کی لیکن اپنے شوق کو مکمل قربان نہیں کیا انھوں نے گھر میں ہی میسر کتابوں کے مطالعہ کے ذریعے اپنے علم و فکر کو رسد فراہم کرنی شروع کر دی، ادبی رسائل اور اصلاحی کتابیں ان کے لئے متاع حیات تھیں،  کتابوں تک رسائی حاصل کرنے کے لئے انھوں نے ہر ممکن ذرائع کا استعمال کیا، شوق مطالعہ نے ان کے نظریات و خیالات کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کیا، سیکھنے کی خواہش ان کے اندر فطری طور پہ موجود تھی جو کہ ساری زندگی ان کی ذات کا حصہ بن کر رہی، شادی سے قبل حالات سے سمجھوتہ کیا اور  مطالعہ کے ذریعے اپنے شوق کو پروان چڑھایا ۔لیکن ایک روشن خیال عالم دین صحافی اور نامور دانشور سے شادی کے بعد  ان کی زندگی میں خوش گوار تبدیلی آئی اور  یوں ادبی کہکشاں پر چاند بن کر  ایک نام  ہاجرہ نازلی  کا چمکا جو اپنے منفرد اسلوب اور اصلاحی نگارشات سے جلد ہی اپنی علیحدہ شناخت بنانے میں کامیاب ہوا  ہم ہاجرہ نازلی کے بارے میں مجموعی طور پہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ ایک علم پسند، صاحبہء فکر اور بااصول انسان تھیں جنھوں نے اپنی پوری زندگی علمی و فکری جہاد میں گزاری۔

ہاجرہ نازلی صاحبہ کی سوانح کو پڑھتے ہوئے جس بات نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا وہ تھا ان کا مربی کردار، وہ ایک بہترین ماں تھیں انھوں نے اپنے بچوں کی شخصیت سازی میں بطور مربی جو کردار ادا کیا  وہ آج کے لوگوں کے لئے بھی نمونہء عمل ہے، بےشک وقت کے ساتھ بہت کچھ تبدیل ہو گیا ہے لیکن انسانی اقدار اور انسانیت کے تقاضوں اور اخلاقیات کی بنیاد آج بھی وہی ہے جو صدیوں پہلے تھے، ہاجرہ نازلی نے کبھی بھی اپنے بچوں کی تربیت کے لئے کوئی وقت متعین نہیں کیا جس میں وہ بچوں کو اخلاقیات کا درس دیتیں بلکہ وہ ہمہ وقت اٹھتے بیٹھتے اپنے بچوں کو صحیح رویے اور ردعمل کی طرف رہنمائی کرتیں اس طرح بچوں کی غلطیوں کی نہ صرف بروقت اصلاح ہو جاتی بلکہ انھیں زیادہ گراں بھی  محسوس نہیں ہوتا،  یوں چلتے پھرتے سوتے جاگتے تربیتی کام بھی ہو رہا ہوتا، ہاجرہ نازلی ایک دور اندیش خاتون تھیں وہ ہر عمل و ردعمل کے نتائج پہ گہری نظر رکھتی تھیں، اخلاقی اصولوں کو وہ ہمیشہ مقدم رکھتیں، دوررس نگاہ کی حامل ہونے کی وجہ سے انھوں نے کبھی بھی اپنی اولاد میں ان اطوار کو پنپنے نہیں دیا جو عمومی طور پہ مائیں جذباتیت کے ساتھ کر جانے میں عار محسوس نہیں کرتیں جیسے عمومی طور پہ مائیں بچوں کے سامنے ہی ہر کس و ناکس کی برائیاں کرکے اپنا دل ہلکا کر لیتی ہیں بچے ان کو خاموشی سے سن لیتے ہیں لیکن وہ یہ نہیں سمجھتیں کہ یہ وقتی کتھارسس بعد کو اس کی اور اس کی اولاد کی زندگی کو زہر آلود کر دے گا، ایک برائی جو ہمارے معاشرے میں رائج ہے اور لوگ خصوصاً مائیں اسے بلکل بھی برا نہیں خیال کرتیں اس کے متعلق ارشد غازی لکھتے ہیں:

” جن گھرانوں میں بچوں کو ددھیال سے دور کرنا اور ننھیال سے محبت میں فنا فل رہنا سکھایا جاتا ہے وہاں بچوں کی شخصیت ادھوری رہ جاتی ہے اور شخصیت کا یہ ادھورا پن انھیں ساری زندگی ایک آسیب کی صورت چمٹا رہتا ہے اور ان کا ذہن لایعنی خیالات کی آماجگاہ بن جاتا ہے وہ بچے اپنی نسل ہی نہیں بلکہ فکری اصل سے بھی کٹ جاتے ہیں، امی نے کبھی ددھیال سے دوری کا درس نہیں دیا نہ کبھی کوئی شکوہ ان کی زبان پہ آیا نہ شکایت بلکہ وہ ددھیال کے بہت سے واقعات سنایا کرتی تھیں یہ بہت اہم نفسیاتی نکتہ ہے جو شخصیت سازی میں برتنا چاہئے۔”

بےشک ایسی دور اندیش ماؤں کے فقدان نے ہی ہمارے معاشرے کو ایک ایسی کگار پہ لا کھڑا کر دیا ہے جہاں پہ قوموں کا مستقبل مخدوش ہوتا دکھائی دے رہا ہے، ہاجرہ نازلی جیسی مائیں آج کے وقت کی ایک بڑی ضرورت ہیں۔ بچوں کی تربیت کے حوالے سے پائی جانے والی بےشعوری اور لاپرواہی کی وجہ سے ہی اس بات کی ضرورت محسوس کی گئی کہ آج بڑے بڑے شہروں میں ماؤں کو پیرنٹنگ کے اصول سے آگاہ کرنے والی کلاسز کا انعقاد کیا جا رہا ہے جو کہ ایک اچھی پیش رفت ہے۔ ذاتی سطح پہ ہر لڑکی اور ہر والدین کو اپنے ہر عمل و ردعمل کے دور رس نتائج پہ نگاہ رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ معاشرے میں پنپنے والے منفی عناصر کی بروقت روک تھام کی جا سکے۔

ہاجرہ نازلی صرف ایک اچھی ماں ہی نہیں بلکہ ایک اچھی انسان بھی تھیں انھوں نے ہمیشہ انسانی رشتوں کے تقدس کا خیال رکھا لوگوں کے درمیان پائے جانے والے فرق مراتب کی وجہ سے کبھی ان سے امتیازی سلوک نہیں کیا، ہر انسانی تعلق کے ساتھ بھائی، چچا کا لاحقہ لگا کر ان کی عزت خود بھی کی اور اپنی اولاد کو بھی اس کی ترغیب دی، کسی بھی انسان کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اسے لوگ بطور انسان ایک اچھا انسان کہنے پہ ذرا بھی تامل نہ کریں، ہاجرہ نازلی نے اپنے والدین سابق مہتمم دارالعلوم دیوبند قاری محمد طیب و حنیفہ خاتون اور شوہر  معروف عالم دین و صحافی مولانا حامد الانصاری غازی سے جو کچھ سیکھا ساری زندگی اس کو اپنا عملی شعار بنائے رکھا اور اسے ایک بہتر انداز میں ڈھال کر اپنی اولاد کو منتقل کر دیا۔ ہاجرہ نازلی کے صاحبزادے طارق غازی ایک جگہ لکھتے ہیں ” حقیقت یہ ہے کہ امی کی ادبی شخصیت سازی میں ابا جان کا کلیدی کردار تھا اگرچہ ابا جان کو افسانوی ادب سے دلچسپ نہیں تھی لیکن امی کی ادبی ذوق کی حوصلہ افزائی جس طرح مولانا حامد الانصاری غازی نے کی وہ بجائے خود مثالی تھی، ہم نے خود ایسی ذی استعداد خواتین کو دیکھا ہے جن کے دماغ معاشرتی سوچ سے متحرک بھی تھے جن کے ہاتھ میں قلم بھی تھا اور اسے استعمال کرنے کا سلیقہ بھی آتا تھا مگر وہ خواتین صرف اس لئے خاکدان غفلت میں گم ہو گئیں کہ وہاں ان کی استعداد سے مثبت کام لینے والا کوئی نہ تھا” بےشک یہ بلکل سچی بات ہے کہ اکثر جواہرات محض اس لئے وقت کی خاک سے آلودہ ہو جاتے ہیں کیوں کہ کوئی جوہر شناس نظر اسے میسر نہیں ہو پاتا۔ ہاجرہ نازلی اس لحاظ سے کافی خوش قسمت تھیں کہ انھوں نے ساری زندگی علمی و تحقیقی فضا میں گذاری تھی جس نے ان میں نہ صرف سوچنے کی تمیز پیدا کی بلکہ انھیں تخلیقی سوچ کا حامل بھی بنا دیا۔

ہاجرہ نازلی ایک افسانہ نگار اور ناول نگار تھیں، ایک ایسی خاتون جنہیں باقاعدہ کسی ادارے سے تعلیم نہ حاصل کر پانے کا شدید قلق تھا، روایتی انداز میں علم حاصل نہ کر پانے کے غم کی تلافی  انھوں نے غیر روایتی  طرز سے علم حاصل کر کے پوری کی اس شدت کے ساتھ انھوں نے علم و فکر کو اپنے اندر جذب کیا کہ ان کے اندر ایک فنکار نے جنم لیا جس نے ہند و پاک میں یکساں مقبولیت حاصل کی بقول ارشد غازی ” انھوں نے پانچ بچوں کی پرورش کے ساتھ ساتھ سو سے زائد سماجی و اصلاحی افسانے تحریر کئے، اور تقریبا انیس ناول شائع یوئے، یہ بھی لطیفہ ہے کہ پاکستان میں ان کے پینتیس ناول شائع ہوئے، ان کی شہرت کو دیکھتے ہوئے بعض ناشرین تقریبا سولہ ناول ان کے نام سے چھاپ دئے جو ان کے نہیں ہیں ” بےشک یہ سولہ ناول جو ان کے نام سے چھاپے گئے یہ ناشرین کی مفاد پرستانہ کوشش تھی وہیں دوسری طرف یہ ہاجرہ نازلی کی شہرت و مقبولیت کی گواہی دیتا ہے کہ لوگوں نے ان کے نام کو برانڈ کی طرح استعمال کیا۔ ہاجرہ نازلی کے افسانوں میں روایتی قنوطیت، بےجا رنجشیں اور گلےو شکوے نظر نہیں آتے انھوں نے ہمیشہ عورتوں کو سر اٹھا کر جینے کی ترغیب دی، حقیقت پسندی کے ساتھ جینے کا حوصلہ دیا، ہاجرہ نازلی اپنے ایک افسانے میں لکھتی ہیں ” عورت چوں کہ اپنے گھر کی بااختیار ملکہ ہوتی ہے اس کے بھلے برے کی ذمےداری اس کے سر آتی ہے، لہٰذا اپنے گھر کو سکون و مسرت کی جگہ بنانا عورت ہی کے فرائض میں داخل ہے”  بےشک یہ ایک حقیقت ہے کہ ایک عورت کامیاب تبھی کہلا سکتی ہے جب اس کا گھر تمام طرح کی خواہشات کے مد مقابل اس کی پہلی ترجیح ہو، اس کا مطلب قطعا یہ نہیں کہ وہ صرف گھر کی ہی ہو کے رہ جائے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ خواہ کسی بھی مقام پہ ہو گھر کے حوالے سے اپنی ذمےداریوں سے غافل نہ ہو۔   ہاجرہ نازلی صاحبہ کو  علم سے جنون کی حد تک لگاؤ تھا اس لئے انھوں نے اپنے افسانے کی عورتوں کو تعلیم یافتہ اور تہذیب آشنا رکھا وہ عورتوں کی آزادی کو حصول علم سے مشروط قرار دیتی ہیں کیوں کہ جب تک عورتیں اپنے اندر شعور کی بالیدگی کی اہمیت کو تسلیم نہیں کر لیتیں اس وقت تک ان کے لئے اس معاشرے میں سروائیو کرنا مشکل ہوگا جہاں پہ مرد اور عورتوں کو اپنا زیر دست سمجھتا ہے،  ان کے نزدیک تعلیم کا اصل مقصد حروف شناسی نہیں بلکہ تربیت تھی وہ ایک جگہ لکھتی ہیں ” اگر محض ماں باپ کے کہنے اور سکول میں داخلہ ہی سے تعلیمی مدارج طئے ہو جایا کرتے و جاہلوں کی تعداد گھٹ کر ایک دم صفر پ پہنچ جاتی”  خیال رہے کہ ہاجرہ نازلی صاحبہ  ایک ایسے دور کی افسانہ نگار ہیں جس میں عورتوں کے ساتھ کی جانے والی حق تلفی  عام سی بات خیال کی جاتی تھی جہاں پہ عورتوں کو چہاردیواری میں رہنے کا پابند کیا جاتا تھا، جہاں پہ عورتیں خود مختاری اور خودارادیت کے سارے اختیارات سے محروم تھیں ایسے دور میں عورتوں کے اندر علم و شعور کو پروان چڑھانے کی بات کرنا آج کی طرح قطعا آسان نہیں تھا، ہاجرہ نازلی صاحبہ نے معاشرے میں پائی جانے والی ہر طرح کی ناہمواری کا مقابلہ پورے عزم و ہمت اور دانشمندی کے ساتھ کیا، انھوں نے بیک وقت کئی کردار کامیابی کے ساتھ ادا کئے، اپنی ذاتی اور پروفیشنل زندگی  کے درمیان انھوں نے ہمیشہ ایک توازن قائم کئے رکھا، حقیقی زندگی کی بساط پہ پورے شعور اور بصیرت کے ساتھ اپنے معاملات انجام دیے۔ جب قلم اٹھایا تو اپنے مشاہدہ و مطالعہ سے پیدا ہونے والے سیاسی و سماجی شعور کو کامیابی کے ساتھ برتا، جن اوصاف و خصائص کی ضرورت عملی زندگی میں محسوس کی اسے کرداروں کی صورت بھی پیش کیا ہے، بالخصوص عورتوں کی نفسیات کو انھوں نے گہرائی کے ساتھ سمجھا اور مختلف انداز میں اسے اپنے قاری کے سامنے پیش کیا۔

اس وقت میرے ہاتھوں میں چوں کہ ‘اک آسماں، اک کہکشاں’ ہے جو کہ ہاجرہ نازلی کی سوانح ہے، اس میں ہاجرہ نازلی کی شخصیت کے کم و بیش ہر پہلو پہ روشنی ڈالی گئی ہے، اس میں ان کے صاحبزادگان اور قریبی متعلقین کے مضامین بھی شامل ہیں جس میں انھوں نے ہاجرہ نازلی صاحبہ کی شخصیت اور ان سے اپنی نسبت کو بہت ہی سادہ مؤثر اسلوب میں لکھا ہے، ہر مضمون سے ان کی شخصیت کا کوئی نہ کوئی نیا پہلو سامنے آیا ہے۔ اس مضمون سے صاحب مضمون کی ہاجرہ نازلی کے تئیں عقیدت و محبت کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔

اس کتاب کے آخر میں ان کے ناول نگاری پہ بھی تبصرہ کیا گیا ہے۔ ان کے قلم نے ان کو شناخت دینے اور ان کی سوچ کو متحرک کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا، انھوں نے معاشرتی مسائل بالخصوص عورتوں کے مسائل پہ بہت کچھ لکھا ہے ہاجرہ نازلی صاحبہ تقریبآ نصف صدی سے زائد عرصے تک اردو ادب کی آبیاری کرتی رہیں، ان کی زبان نہایت شستہ، شائستہ اور بامحاورہ تھی، برجستہ جملوں پہ ان کی اچھی گرفت تھی ان کے ناول اور افسانوں کا مجموعہ کتابی شکل میں بھی شائع ہوا، بدقسمتی سے ان کے افسانے اور ناول آج کے بازار میں عنقا ہو چکے ہیں ریختہ پہ ان کے کچھ ناول محفوظ کر دئے گئے ہیں، لیکن زیادہ تر ابھی بھی متاع گمشدہ کی حیثیت رکھتے ہیں، ہاجرہ نازلی صاحبہ بلا تکان ایک لمبا عرصہ قلم و قرطاس سے برسرپیکار رہیں انھوں نے افسانوں اور ناولوں کے علاوہ بچوں کے لئے کہانیاں بھی لکھیں اس کی بھی ایک لمبی فہرست ہے۔ اس میں انھوں نے ان کرداروں کو مرکزی حیثیت دی جو بچوں کی شخصیت سازی میں معاون رہے۔

ہاجرہ نازلی صاحبہ اردو ادب کا وہ خاموش کردار ہیں جن کے فن نے انھیں بلندیء افق پہ پہنچا دیا وہ عزم و ہمت اور استقلال کی زندہ مثال رہیں، انھوں نے اپنے اوپر واجب الادا سارے حقوق کی ادائیگی بحسن خوبی کی، انھوں نے اپنے سے جڑے ہر کردار کے ساتھ مطلب بحیثیت بہن، بیٹی، ماں، شریک حیات، فنکار بالخصوص ایک انسان کے قابل رشک زندگی گزاری، ‘اک آسماں، اک کہکشاں’  کی تالیف بہت ضروری تھی اسے مرتب کرنے والے کا نازلی شناس ہونا ضروری تھا اس فریضے کو  ان کی اکلوتی بیٹی شہناز کنول غازی نے نہایت محبت و عقیدت کے ساتھ سر انجام دیا۔ ہاجرہ نازلی صاحبہ یہ حق رکھتی ہیں اردو ادب کے خدمت گزاروں میں ان کا بھی نام شامل ہو، اخلاقیات اور اقدار کی جب بات کی جائے تو چند جملے ان کے بھی حوالے سے کہے جائیں، نامساعد حالات میں  جب عزم و ہمت اور استقامت اختیار کرنے کی بات ہو تو لوگ انہیں بھی بطور مثال پیش کریں۔ یہ کتاب ہاجرہ نازلی صاحبہ کی زندگی کے ہر گوشے کی ترجمانی کرتی ہے یہ ان کے لئے ایک بہترین خراج عقیدت ہے۔

 

 

 

(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں    https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

 

 

adabi meerasadabi miraasadabi mirasادبی میراث
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
اگلی پوسٹ

یہ بھی پڑھیں

فروری 2, 2026

فروری 1, 2026

دسمبر 14, 2025

ستمبر 29, 2025

جولائی 12, 2025

جولائی 12, 2025

فروری 5, 2025

جنوری 26, 2025

ظ ایک شخص تھا – ڈاکٹر نسیم احمد...

جنوری 23, 2025

جنوری 18, 2025

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں