سرسید کے ایک معاصر اخبار ’’جریدۂ روزگار‘‘میں ایک صاحب نے مدرستہ العلوم علی گڑھ کے بارے میں مراسلہ لکھتے ہوئے چند استفسار کیے تھے۔ ان میں ایک سوال یہ تھا کہ ’’مدرسۃ العلوم تو خاص مسلمانوں کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔ اس میں ہندوؤں کو پڑھانے کی کیا وجہ؟‘‘ سرسید نے جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ’’ اس کا ایک جواب تو یہ ہوسکتا ہے کہ مدرسۃ العلوم مسلمانوں کے لیے قائم ہوا، مگر مسلمانوں کو ایسا تنگ دل اور بخیل نہ ہونا چاہیے کہ اگر دوسری قوم اس سے فائدہ اٹھانا چاہے تو اُسے محروم رکھے بلکہ خوبی اور نیکی اسی میں ہے کہ مسلمانوں کے سبب سے اور لوگ بھی فائدہ اُٹھاویں۔‘‘
لیکن اس کا دوسرا جواب زیادہ تفصیل سے دیا، انھوں نے لکھا:
’’جب کوئی باغیرت اور قومی ہمدردی کرنے والا ٹھیٹ مسلمان اس سوال کو پڑھے گا تو بے اختیار رو دے گا اور اپنی قوم کی ذلت اور اپنی قوم کے ادبار، اپنی قوم کے جھوٹے تعصب، اپنی قوم کی خودغرضی، اپنی قوم کی جھوٹی دینداری، اپنی قوم کی ناسمجھی و ناعاقبت اندیشی پر افسوس کرے گا اور یہ جواب دے گا کہ ہماری قوم اس لائق نہ تھی کہ اپنی قوم کے لیے اور اپنی نسلوں کے لیے، اپنی اولاد کے لیے، اپنے بچوں کے لیے ایک ایسا مدرسہ جن میں وہ تعلیم پاویں بناسکے، لاچار مدرسۃ العلوم کے بانیوں کو مسلمانوں کے اس قومی مدرسۃ العلوم کے لیے دوسری قوم کے آگے ہاتھ پھیلانا پڑا اور ہندوؤں نے نہایت فیاضی سے روپیہ و جاگیر و انعام دیا اور تمام قوم کو اپنا ممنون اور زیربار احسان کیا۔ پس ایسی صورت میں یہ سوال کرنا کہ ہندو کیوں پڑھائے جاتے ہیں۔ کیسی شرم کی بات ہے۔ قومی غیرت والوں کو ڈوب مرنے کا مقام ہے نہ ایسے سوال کرنے کا۔
خدا ہماری قوم کو سچی عزت ، سچی غیرت، سچی قومی ہمدردی عنایت کرے آمین‘‘۔
(مقالاتِ سرسید، مرتبہ اسماعیل پانی پتی، جلد 13 صفحہ 371)
سرسید کے اس جواب سے دو باتیں ثابت ہوتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ مدرسۃ العلوم علی گڑھ، جو آگے چل کر مسلم یونیورسٹی بنا خاص مسلمانوں کی تعلیم کے مقصد سے قائم کیا گیا تھا۔
دوسرے یہ کہ اس کے قیام کے لیے ہندوؤں نے فراخدلانہ مدد کی، اور ابتدا سے ہندو طلبا اس تعلیمی ادارے میں تعلیم پاتے رہے ہیں۔
اس جواب سے جو تیسری حقیقت ظاہر ہوتی ہے، وہ اس عہد کے مسلمانوں کی بے حسی اور آج کے مسلمانوں کے لیے عبرت کا ایک آئینہ ہے۔ سرسید کی مخالفت مسلمانوں کے بہت بڑے گروہ نے کی، جن کی قیادت قدامت پسند علما اور تنگ نظر قائدین نے کی۔ سرسید کو انگریز پرست، قوم کا غدّار، دشمن، ابن الوقت، مغرب زدہ، نیچری حتیٰ کہ کافر تک کہا گیا اور ان کے خلاف علما نے کفر کے فتوے دینے میں بھی تامل نہیں کیا۔ سرسید کا قصور صرف اتنا تھا کہ انھوں نے مسلمانوں کی ذہنی پسماندگی، سیاسی انحطاط اور معاشی بدحالی کو دیکھتے ہوئے سچی نیت اور مصمم ارادے کے ساتھ یہ کوشش کی کہ پوری قوم کو پستی کے اس غار سے نکال کر ترقی کے راستے پر گامزن کیا جائے۔ سرسید کے سامنے سب سے اہم مقصد یہی تھا۔ اس کا مداوا، اُن کی بصیرت نے مغربی تعلیم میں دیکھا۔ علما جو قرآن مجید کے فارسی ترجمے کو بھی کفر سمجھتے تھے، انگریزی کی تعلیم اور مغربی علوم کی اشاعت کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوئے۔
عام مسلمانوں کی ذہنی پسماندگی کو انھوں نے سرسید کے خلاف خوب خوب استعمال کیا۔ سرسید بجاطور پر یہ سمجھتے تھے کہ اسلام تحصیلِ علم کا مخالف نہیں مؤید ہے آزادیٔ فکرکی اس مذہب میں گنجائش ہے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اسلام ایسا مذہب نہیں جسے جدید سائنسی علوم ، فلسفے اور سماجی علوم سے نقصان پہنچے۔ اپنی اس رائے کو انھوں نے مذہب پر مضامین لکھ کر، علما سے مناظرانہ انداز میں بحث کرکے قرآن کی نئی تفسیر لکھ کر ثابت کیا۔ اُن کا اسلام کا تصور یہ تھا کہ اسلام مذہب فطرت ہے اور فطرت کے متعلق جدید تر انکشافات و نظریات، اُسے کمزور کرنے کے بجائے مزید تقویت پہنچائیں گے۔ان مذہبی مباحث نے سرسید کی مخالفت کی آگ کو اور بھی ہوا دی۔ لیکن آہستہ آہستہ انھیں اپنے مقصد میں کامیابی ہوئی۔ مسلمان انگریزی کی تعلیم اور مغربی علوم کے حصول کی طرف متوجہ ہونے لگے۔ وہ اپنے قائم کردہ کالج کو یونیورسٹی بنانا چاہتے تھے، اُن کا یہ خواب اُن کی زندگی کے بعد حقیقت بن گیا۔
اس یونیورسٹی نے مسلمانوں کی بیداری،ترقی، ملازمتوں میں اُن کے داخلے، معاشی اور ذہنی ارتقا میں نمایاں کارنامہ انجام دیا۔ سرسید چاہتے تھے کہ مسلمان دوسرے ہندوستانیوں کی طرح قومی دھارے میں شریک ہوں۔ نئے حالات کا سامنا کریں۔ نئے تقاضوں کی تکمیل کریں اور جدید ہندوستان کی تعمیر و تشکیل میں ہندوؤں کے شانہ بہ شانہ حصّہ لے سکیں۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے قیام کا، اُس کے بانی کی نظر میں یہی اصل مقصد تھا، جس کا ثبوت اُن کی تحریروں سے آج بھی مل سکتا ہے۔ سرسید نے کبھی ہندوؤں اور مسلمانوں کو دو الگ قومیں نہیں سمجھا، اُن کے مضامین شاہد ہیں کہ وہ ہندوؤں اور مسلمانوں کو دلہن کی دو آنکھیں سمجھتے تھے ، ایک آنکھ کی تکلیف، نقصان یا عیب دوسرے کا بھی نقصان ہے اور پورے چہرے کی بدنمائی کا سبب۔ اس لیے وہ مسلمانوں کے ساتھ ہندوؤں کی تعلیم و ترقی کے بھی خواہاں تھے۔ انھوں نے شمالی ہند میں ایک ورنا کیولر قومی یونیورسٹی کی تجویز بھی پیش کی تھی۔ ایک تو حاکمانِ وقت کی مخالفت، دوسرے ذریعۂ تعلیم کے سوال پر اردو اور ہندی کے جھگڑے نے اس تجویز کو عملی جامہ پہننے نہ دیا اور سرسید کا یہ خواب تشنہ رہ گیا۔ آزادی کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں انگریزی ذریعۂ تعلیم کے ساتھ طلبا کو ایک خاص سطح تک اردو اور ہندی دونوں زبانوں میں امتحان دینے کی اجازت دے کر ان کی ورناکیولر قومی یونیورسٹی کے خواب کی ادھوری تعبیر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ہی نے پیش کی۔ موجودہ حالات میں جب کہ علاقائی زبانوں کو ذریعۂ تعلیم بنایا جارہا ہے، مسلم یونیورسٹی اردو کا انتخاب کرکے سرسید کے دوسرے خواب کو بھی پورا کرسکتی ہے اور یہ اس یونیورسٹی کا فرض ہے۔
مسلم یونیورسٹی اپنے قیام سے قبل بھی، مدرسۃ العلوم مسلمانانِ ہند کی صورت میں، ایک قومی ادارہ ہی تھی جس کے دروازے کبھی بھی ہندوؤں اور دوسری مذہبی جماعتوں پر بند نہیں ہوئے بلکہ سرسید اور ان کے جانشینوں نے اُن کو خوش آمدید کہا۔ اس میں شک نہیں کہ اس یونیورسٹی کی بنیاد میں مسلمانوں کے ایک اعلیٰ تعلیمی ادارے کے قیام کا مقصد کارفرما تھا اور مسلم یونیورسٹی کو مسلمانوں کے کل ہند قومی اجتماعی ادارے کی حیثیت آزادی سے پہلے بھی حاصل رہی، اور بعد میں بھی۔
سرسید جس نئے علمِ کلام کی بنیاد پر مذہب کے عقلی،سائنسی مطالعے، جدید حالات کے تحت اُس کی نئی تفسیر و تاویل اور مذہب میں اجتہاد کے قائل تھے،وہ مذہبی علما کی جمود پرستی کی وجہ سے کبھی علی گڑھ میں پورا نہ ہوسکا۔ اس طرح سرسید کو نئے مذہبی تصور کے عام کرنے میں جو جدید حالات کے مطابق ہوتا اور جس میں بدلتے ہوئے نظریات اور قومی تقاضوں کے ساتھ مطابقت پیدا کرکے مذہب اور مسلمانوں کو ذہنی طور پر توانا اور فعال رکھنے کی صلاحیت ہوتی، پوری کامیابی نہ ہوئی۔ یہ کام آج بھی مسلم یونیورسٹی کو اپنے بانی کا قرض سمجھ کر سرانجام دینا چاہیے۔ مگر آزادی کے بعد مسلمانوں کے چند گوشوں میں علاحدگی پسندی، ہزیمت خوردگی اور اس کے نتیجے کے طور پر جو تنگ نظری پیدا ہوگئی ہے وہ مذہب کا استحکام، تبدیلی کے بجائے جمود، جدیدیت کے بجائے قدامت، روشن خیالی کے بجائے اندھی ادعائیت اور حالات سے مطابقت کے بجائے اس سے گریز میں ہی دیکھتی اور چاہتی ہے۔ اس معاملے میں علی گڑھ تنہا نہیں وہ مسلمانوں کے عام ذہن کا آئینہ ہے۔ روشن خیالی کی جو شمع سرسید نے روشن کی تھی، اُس کا نور علومِ جدید کے فانوسوں میں محفوظ ہوکر مسلمانوں کے ذہن کو تو منور کررہا ہے، مگر جدید علوم اور مذہب میں فاصلہ، جدید تعلیم یافتہ طبقے اور علمائے مذہب کے درمیان کوئی مکالمہ و معاملہ نہ ہونے کی وجہ سے اب تک دور نہ ہوسکا۔ سرسید جدید علوم، قومی تقاضوں اور اسلام میں جو ہم آہنگی پیدا کرنا چاہتے تھے، وہ اس لیے اب بھی کم یاب ہے کہ مذہب کی زمام اختیار آج بھی ان افراد کے ہاتھ میں ہے جو سرسید کے مشن کے مخالف تھے۔ انھوں نے سرسید کے صنم خانۂ ذہن کے کچھ بتوں کو تو قبول کرلیا، مگر پاسبانی حرم ہی کی کرتے رہے۔
مسلم یونیورسٹی کا ایک مقصد مغربی تعلیم کے توسط سے مسلمانوں کو انگریزوں سے قریب لانا بھی تھا تاکہ وہ ملازمتوں میں اپنا جائز حق حاصل کرسکیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس یونیورسٹی نے انگریزوں کی سیاسی اور ذہنی غلامی بلاچوں چرا قبول کرلی ہو۔ جب آزادی کی تحریک کے لیے حالات سازگار ہوئے تو اس یونیورسٹی کے طلبا اور اساتذہ دونوں نے پوری قوم کے ساتھ جد وجہد آزادی میں حصّہ لیا۔ ترکِ موالات کی تحریک کے زمانے میں اس یونیورسٹی کے طلبا ہی نے جن میں ہندوستان کے سابق صدر مرحوم ڈاکٹر ذاکر حسین کو اہمیت حاصل ہے، ایک قومی یونیورسٹی جامعہ ملیہ کی داغ بیل ڈالی۔ آزادی تک علی گڑھ میں مسلم لیگ کی سیاست کا غلبہ رہا اس کا ایک سبب تو یہ ہے کہ آزادی تک یہ یونیورسٹی بڑی حد تک مسلمانوں کے اونچے مالدار طبقے کے طلبا کی یونیورسٹی تھی، نوابوں، جاگیرداروں، زمینداروں اور عہد ے داروں کے لڑکے ہی یہاں زیادہ تر تعلیم حاصل کرتے تھے۔ ان کے اپنے طبقاتی مفادات کا اثر پڑنا فطری تھا۔دوسرے یہ کہ مسلم یونیورسٹی میں پنجاب سندھ سرحد ایسے صوبوں کے طلبا کی بھی بڑی تعداد تھی جو مجوزہ پاکستان کے لازمی عناصرِ ترکیبی بننے والے تھے۔ اس اثر کے باوجود مسلم یونیورسٹی نے قوم پرست مسلمانوں کی بھی کئی نسلیں پیدا کیں جن میں کانگریس ، کمیونسٹ، سوشلسٹ، احرارسب ہی شامل تھے۔ ان میں سے اکثر کا نام ہماری آزادی کی تاریخ میں شامل ہوچکا ہے۔ اس لیے یہ سمجھنا غلط ہوگا کہ علی گڑھ قومی دھارے سے کٹا رہا۔
آزادی کے بعد مسلم لیگ کی سیاست کا خمار اترا، یوپی کے مسلمانوں نے، جن کی مسلم یونیورسٹی میں اکثریت ہمیشہ رہی ہے ، مسلم لیگ کی بے سوچی سمجھی تائید کے مضر نتائج کو محسوس کیا تو ہزیمت،مایوسی اور بددلی پیدا ہوئی۔ خوش قسمتی سے آزاد ہندوستان کی جمہوری حکومت نے مسلمانوں کے اس تعلیمی ادارے کو قومی یونیورسٹی تسلیم کرلیا اور اس کی مکمل مالی امداد منظور کی۔ ایسے نازک وقت میں ذاکر حسین ایسے روشن خیال قائد نے مسلم یونیورسٹی کو بھنور سے نکال کر عظیم تر قومی دھارے کے رخ پر ڈالنے کا کام سرانجام دیا۔ آزادی کے بعد مرکزی حکومت نے اسے فراخدلانہ مدد دی۔ یونیورسٹی کو مرکزی یونیورسٹی قرار دینے کے ساتھ اسے ریاستی یونیورسٹیوں سے ممتاز بھی کیا اور اسے خود اختیاری دے کر یہاں کے طلبا اور اساتذہ کو پوری سیاسی آزادی دی۔ تقسیم کے بعد کے حالات میں اس یونیورسٹی کے اساتذہ کو یہ آزادی دینا، دانش مندانہ اقدام تھا کیونکہ اس کا زبردست نفسیاتی اثر نہ صرف علی گڑھ بلکہ پورے ملک کے مسلمانوں پر پڑا۔ اس یونیورسٹی کے اساتذہ آزاد شہریوں کی طرح کسی بھی سیاسی پارٹی کے علی الاعلان رکن بن سکتے ہیں۔ الکشن لڑسکتے ہیں اور انھیں تقریر و تحریر کی مکمل آزادی ہے۔ پچھلے کئی انتخابات میں علی گڑھ کے کئی اساتذہ اسمبلی اور پارلیمنٹ کے رکن منتخب ہوئے جن میں مسلمانوں کے ساتھ ریپبلکن پارٹی کے سابق رکن مسٹر موریہ بھی، جو اس وقت کانگریس (برسراقتدار) کے رکن پارلیمانی ہیں شامل ہیں۔ مسلم یونیورسٹی کے ایک پروفیسر ڈاکٹر نورالحسن کو وزارت تعلیم میں وزیر بناکر حکومت نے مسلمانوں کے روشن خیال، جدیدیت پسند طبقے کی نمائندگی ہی تسلیم نہیں کی بلکہ انھیں قومی تعلیم کے اہم کام میں شریک کیا۔
سرسید علم کا جو سیکولر تصور اور مذہب کا جو عقلی تصور عام کرنا چاہتے تھے، اس کی تکمیل کی طرف اب بھی لمبا سفرباقی ہے۔ یہ کام مسلمانوں کے دانشور طبقے کو کرنا ہے۔ سرسید کا ایک مقصد تو پورا ہوگیا کہ مسلم یونیورسٹی نے مسلمانوں میں مغربی تعلیم عام کرکے، انھیں قومی دھارے میں شامل کردیا۔ دوسرا مقصد ابھی اپنی تعبیر کے لیے ذہنوں کے سرابوں میں بھٹک رہا ہے، وہ مسلمانوں کو اوروں سے زیادہ روشن خیال، جدید، سائنسی ذہن کامالک دیکھنا چاہتے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ مسلمان خود کو نئے علوم کی روشنی میں نئے سانچوں میں ڈھالیں۔ اس کے لیے مذہب کا بھی زیادہ ترقی پسند فعّال اور جدید تصور عام کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ کام اور اداروں و تنظیموں اور انجمنوں سے زیادہ مسلم یونیورسٹی کو کرنا ہے۔
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

