اماں باجی کہتی ہیں
جنت میں نہریں بہتی ہیں
دودھ شہد اور پانی کی
بات ہے یہ حیرانی کی
کرنا ہوگا نیک کام
لیکر رب کا پیارا نام
ہمدرد بنوں محتاجوں کا
خیال رکھوں مسکینوں کا
داد رسی بیماروں کی
اور خوشی ہمسایوں کی
اب نا کسی سے جھگڑونگا
اچھائی کو پکڑوں گا
اماں باجی کہتی ہیں
جنت میں نہریں بہتی ہیں
باغ وہاں انگوروں کے
عمدہ عمدہ پھولوں کے
چڑیاں قسم قسم کی ہوگی
تتلیاں رنگ برنگی ہوگی
پروں والے گھوڑے ہونگے
اونچائی پر اڑتے ہونگے
اب تو محنت کرنی ہوگی
جنت تو حاصل کرنی ہوگی
ماں باپ کی فرماں برداری
بزرگوں کی خدمت گاری
اللہ کی اطاعت شعاری
اور رسول کی پیروی کاری
اب تو دعا ہے میری
داخل کر جنت میں تیری
اماں باجی کہتی ہیں
جنّت میں نہریں بہتی ہیں
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

