سن 2005، میری زندگی میری شخصیت اور میرے دیرینہ خوابوں کو سنوارنے والا سال تھا. یہی وہ سال تھا جس میں اپنے باطن میں کئی تہزیبوں کا تصادم دیکھ رہا تھا. ایک تصادم تھا گاؤں کی دیہی زندگی میں پلنے بڑھنے اور شعور کی منزلیں طے کرنے کا، دوسرا تصادم تھا مدرسے کی قید و بند اور ازکار رفتہ تھوپی ہوئی مصنوعی اسلامی تہزیب و ثقافت اور جبری نظام کا، تیسرا خود اپنے اندرون میں پنپ رہی ذہنی، فکری کج روی کا، ان تمام تصادمات کے ساتھ جولائی کا مہینہ جو اپنی تمام تر شدت اور حدت کے ساتھ سروں پر مسلط تھا دوپہر کی چلچلاتی دھوپ اور لُو کی لپٹ اپنے دائرہ حصار میں جکڑ کر تھپیڑے لگا رہی تھی اور میں نا کردہ گناہ گار کی طرح صف بستہ قطار میں کھڑا اپنے بغل میں اپنا کل اثاثہ لیے اپنی باری کا منتظر تھا کہ کب درباری آئے گا اور شاہی فرمان کا نزول ہوگا.جب فرمان آتا تو اندر جاتا وہاں پہنچنے کے بعد ویریفکیشن کے دوران کچھ کاغذات نامکمل پائے جاتے تو لوٹا دیے جاتے اور کہا جاتا پورے کاغذات لے کر آؤ. پورے کاغذات بنوانے میں سہ پہر گزر گیا اور میں گلاب رائے کے یہاں سے سارے کاغذات مکمل کرکے آکے پھر سے قطار میں لگ گیا. اور انتظار کرنے لگا آخر انتظار کی گھڑیاں ختم ہو نے لگیں اور مایوسی اور نا امیدی کی گھڑیاں شروع ہونے لگیں لیکن مایوسی اور نا امیدی کے درمیان جھولتے دیکھ میرے ایک کرم فرما نے آکر مجھے امید کی کرن دکھائی اور کہا کہ گھبرائیے نہیں آج نہیں ہوا تو کل ہو جائے گا. خیر ان کرم فرما اور مخلص سینیر کے امید افزا کلمات سن کر خود کو مطمئن کیا اور شام کے پانچ بجے ایڈمیشن کاؤنٹر بند ہوگیا. خیر اس طرح کا تجربہ تو اسی وقت ہوگیا تھا جب میں پہلی بار اپنے گھر کو چھوڑ کر مدرسے میں داخلے کے لیے گیا تھا لیکن وہاں کے اور یہاں کے ایڈمیشن کا طریقہ کار بالکل الگ تھا وہاں ایڈمیشن بہت آسانی سے ہوجاتا تھا لیکن یہاں بہت پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں. وہاں کا ماحول یہاں کے ماحول کلچر نشست و برخاست اور آداب گفتگو جدا گانہ تھے. ایک طرف مدرسے کی زندگی جہاں عام بول چال میں انگریزی الفاظ کا کثرت استعمال نا پسندیدہ تصور کیا جاتا تھا زیادہ انگریزی بولنے والے افراد کو خبطی، بقراط، انگریز کی اولاد اور نہ جانے کن ناموں سے یاد کیا جاتا تھا لیکن اب صورتحال تبدیل ہو چکی ہے اب وہاں بھی بچے انگریزی اور عربی زبان و ادب میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے میں کامیاب ہوگئے ہیں لیکن ہم جیسے جو تھوڑی بہت انگریزی سیکھ کر اپنا کام چلاتے تھے صحن سر سید میں داخل ہونے کے بعد خود کو انگریزی کے معاملے میں بونا پایا. یہاں آتے ہی کانوں میں انگریزی کے اتنے الفاظ یک بیک ٹھونس دیے جاتے کہ اس کو ہضم کرنا مشکل ہوجاتا. عام بول چال میں انگریزی کے الفاظ ہم سب کے سروں سے ایسے باؤنس ہوتا جیسے یارکر بال پر گیند دکھائی نہ دے اور بیٹس مین سیدھا کلین بولڈ ہوجائے. ہم سب کی حالت اسی بیٹس مین کی طرح تھی خیر میدان میں اترنے کے بعد بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی. اس سلسلے میں ہم لوگوں نے یہ طے کیا کہ جو بھی انگریزی لفظ عام گفتگو میں استعمال ہو بات چیت کے دوران چپکے سے اس کو ہاتھ پر لکھ لیا جائے اور بعد میں ڈکشنری کی مدد سے اس کے معنی یاد کیے جائیں اس طرح ابتدائی دنوں میں جب یہ عمل شروع کیا تو کافی فائدہ ہوا اور آج بھی فائدہ ہو رہا ہے آج بھی میرے پاس وہ کاپی موجود ہے جس میں بول چال کے دوران بولے جانے والے الفاظ نوٹ ہیں. یہ تھا پہلے دو دن کا تجربہ جب ایڈمیشن نہیں ہوا تھا. دوسرے میرے محسن میرے کرم فرما جنھوں نے مجھے شام کو کاؤنٹر بند ہونے کے بعد امید کی کرن دکھائی تھی وہ حسب وعدہ دوسرے وقت مقررہ پر آدھمکے. آدھمکے اس لیے کہا کہ وہ اپنے پورے لاؤ لشکر کے ساتھ آرٹس فیکلٹی کے لاؤنج میں داخل ہوئے تھے. کالی شیروانی، چوڑی دار پائجامہ، سر پر دو منزلہ ٹوپی، بغل میں ڈائری اور شیروانی کے جیب میں قیمتی قلم جس سے سب کے نامہ اعمال لکھے جاتے اور دس بیس چمچے ہمیشہ بائک پر سوار ہو کر ان کے آگے پیچھے چلتے، یہ جلوہ دیکھ کر رشک پیدا ہوا اور کچھ دنوں کے بعد میں بھی ان کی ٹولی کا ایک حصہ ہوگیا اور وقت الیکشن میں دھروں کی شکل میں ہم ان کے پیچھے ان کا ٹیمپو ہائی کرتے اور انھیں کے پیسوں سے چائے، بریانی اور قورمہ سے بطن شاہ کو سیراب کرتے. یہ سب کام تب شروع ہوا جب ان صاحب نے ہم سب کا ایڈمیشن بی اے میں کروایا اور ساری فارملٹیز پوری کرانے کے بعد کسی کو آفتاب ہال میں کسی کو آر ایم میں کسی کو سرسیدمیں، کسی کو حبیب کسی کو سر ضیاء الدین میں تو کسی کو ایم ایم ہال میں این ایکسی تو کسی کو روم بھی دلوا دیا حالانکہ ابتدائی کچھ دنوں تک ہم لوگ بھٹکے ہوئے آہو کہ طرح پورے حرم کے چکر لگا یا کرتے اور نوشتہ دیوار کو بغور پڑھتے خوبصورت حروف میں کندہ اردو اور انگریزی کے الفاظ اور شعبوں کے نام سب نوٹ کرتے اور یاد کرتے جاتے اور روم نہ ملنے کی وجہ سے سینٹرل کینٹین میں کھانا کھا کر دن بھر آوارگی کرتے اور شام کو شمشاد مارکیٹ میں زمی کے ڈھابے یا چنگی پر چائے اور سگریٹ کا لطف لیتے. ایڈمیشن ہونے کے کچھ دنوں کے بعد جب کلاس میں آنے جانے کا سلسلہ شروع ہوا اور پھر تعارفی کلاس ہوئی. اردو اور عربی کی کلاس میں کبھی کوئی دشواری پیش نہیں آئی کیونکہ اس میں وہی سب کچھ تھا جو آٹھ سال پہلے پڑھ چکے تھے لیکن جب تاریخ اور انگریزی کی کلاس میں شریک ہوئے تو سر کا پسینہ نیچے تک پہنچ گیا. وجہ یہ تھی کہ اس کلاس میں پورے پچاس منٹ انگریزی سنتے سنتے بور ہوگیا اور اکتاہٹ محسوس ہونے لگی کیونکہ سمجھ میں کچھ آتا نہیں تھا دو چار الفاظ ہوں تو نوٹ کرکے یاد کرلوں لیکن کچھ دنوں تک صرف حاضری دیتے رہے اور لیکچر سنتے رہے لیکن سمجھ میں کچھ نہیں آیا.تاریخ کے ایک اچھے استاد تھے جو جنگ میں فوجوں کے آمنے سامنے کا نقشہ یوں بیان کرتے جیسے بس ابھی جنگ ہونے والی ہے. پورے کلاس والے انھیں "چیدو” سر کہتے تھے. ایک میڈم تھیں جنھیں سنتے بھی اور دیکھتے بھی لیکن کاپی پر کچھ نہیں لکھتے. ایک دن اچانک وہ جب ہم بغور انھیں دیکھے جارہے تھے تو انھوں نے کہا کہ میرے چہرے پر کچھ نہیں لکھا ہے کیا دیکھ رہے ہو. یہ جملہ سنتے ہی میں سٹپٹا گیا. میں نے کہا کچھ نہیں میم بس سب رہا ہوں آپ کی بات اور سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں اتنا کہنا تھا کہ سب ہنسنے لگے مجھے بھی ہنسی آگئی. جب پوری کلاس ہنسنے لگی تو میڈم کا چہرہ سرخ ہو کر گلابی ہو گیا اوروہ گلابی رنگت آج بھی یاد آتا ہے. غصے میں وہ اور زیادہ خوبصورت لگتی تھیں. لیکن وہ تھیں بہت نیک دل اور شریف طبیعت کی مالک تھیں بہت محنت سے پڑھاتی تھیں. انھیں بہت بعد میں پتہ چلا کہ ہم سب مدرسے کے طالب علم ہیں انگریزی کم سمجھ میں آتی ہے تو انھوں نے ہم سب کی آسانی کے لئے ایک اردو میں اسلامی تاریخ کی کتاب دی جو آج بھی میرے پاس موجود ہے اور وقتا فوقتاً اس سے استفادہ کرتا رہتا ہوں. بہر حال اس طرح تعلیمی سلسلہ شروع ہوگیا اور اس طرح کے لیکچر سننا روز مرہ کا معمول بن گیا آہستہ آہستہ کچھ محنت اور مشقت کے بعد سب کچھ سمجھ میں آنے لگا اور و ہاں کی تہذیبی اور ثقافتی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے گا
ایک سال تک علی گڑھ کی فضا میں سانس لینے کے بعد وہاں سے کہیں نکلنے کا جی نہیں چاہتا تھا. میں نے تو تہیہ کر لیا تھا اردو اور تاریخ کو پڑھ کر یو پی ایس سی کوالیفائی کروں گا. دوسرے سال سے اس کا جنون اپنے اوپر طاری کرکے 14 گھنٹے تک پڑھائی کرنا شروع کردیا. کچھ نوٹس ہندی سے کچھ اردو سے اور کچھ انگریزی کے اکٹھا کرکے دن رات مطالعہ کرنا شروع کر دیا. ایک سال کی تیاری میں بہت کچھ سیکھ گیا تھا اور یہ سلسلہ جاری تھا کہ فائنل ایر میں پہنچتے پہنچتے میرے یو پی ایس سی کے سارے خواب چکنا چور ہوگئے اور دل برداشتہ ہو گیا وجہ یہ تھی 2007 اور 2008 میں سنڈائ نے میری طرح اور بھی بہت سے بچوں کے خوابوں کو چکنا چور کر دیا. ڈھائی سے تین مہینے گھر بیکار بیٹھا رہا. فائنل ایر کے کچھ پیپر ہو چکے تھے اور کچھ باقی تھے خبر یہ تھی کہ زیرو سیشن ہو جائے گا لیکن کچھ دنوں کے بعد حالات تھوڑے سازگار ہوئے تو امتحان کی تیاری میں لگ گئے خیر کسی طرح امتحان پاس کیا.لیکن یو پی ایس سی کا امتحان تو نہیں دے پایا لیکن اس کی تیاری نے مجھے "یونیورسٹی مڈل” ضرور دلادیا. یہی چمن سر سید کی خوبی ہے کہ کچھ چھینتا ہے تو کچھ نواز بھی دیتا ہے جو تا عمر یاد رہتا ہے.چمن سید کا یہ صرف ایک ڈائمنشن ہے اور بھی بہت سے واقعات ہیں جسے پھر کبھی اور قلم بند کیا جائے گا آج "سرسید ڈے” کے موقع پر اپنی یادوں کے نہاں خانوں سے اس مجاہد کو سلام پیش کرتا ہوں جس نے قوم کی فلاح کے لیے اپنا سب قربان کر دیا.. سلام اے چمن سید کے نو نہالو. اٹھو اور اس موقع پر سید کے خوابوں کی تعبیر اور اس کی تفسیر بن کر پوری دنیا میں پھیل جاؤ اور سوئی ہوئی میری قوم کو خواب غفلت سے بیدار کردو.
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

