امیر خسروؔدہلوی اور اُن کا ہندوستانی رنگِ سخن – ڈاکٹر ابراہیم افسر

by adbimiras
0 comment

تیرھویں صدی کے شمالی ہندوستان میں فارسی کے بطن ،زبانِ ہندوی اور مقامی بولی ،ٹھولی کے امتزاج سے اپنے کلام میں نیا رنگ و آہنگ پیدا کر جسے عوام الناس میں مقبول بنایا اُس آزمودہ کار،بالغ نظراور عہد ساز شخصیت کا نام یمن الدین بالمعروف امیر خسروہے ۔امیر خسرو صوبہ اتر پردیش، ضلع ایٹہ کے پٹیالی میں 652ھ مطابق1253کو پیدا ہوئے۔امیر خسرو کے والد نے انھیں پڑھنے کے لیے قاضی سعد الدین کے پاس خوش نویشی سیکھنے کی غرض سے بھیجا تھا لیکن وہاں امیر خسرو مہ زبینوں کے خطوط کی تعریف و توصیف میں شعر کہتے تھے۔قاضی سعد الدین نے ننھے خسرو کی صلاحیتوں کو بھانپ کر مور،باجا،تیر،اور خربوزہ کے اوپر اشعار کہنے کے لیے دیے۔امیر خسرو نے اپنی خداداد صلاحیتوں کے دم پر فوراً استاد کے سامنے فارسی میں شعر کہا،جسے سن کر قاضی صاحب نے امیر خسرو کی ذہانت و فطانت پر رشک کیا۔یہ امیر خسرو کا ہی کمال تھا کہ جنھوں نے عوام کی لسانی نبض کو پہچانا پھر ان کے مزاج کے مطابق اپنے کلام میں وہ تمام عناصر شامل کیے جو عوام میں رائج اور مقبول تھے۔در حقیقت امیر خسرو نے ہندوستانی عوام کے جذبات ،ان کے کلچر اور ثقافت ،رسم و رواج کی نہ صرف نمایندگی کی بلکہ اپنے کلام کے ذریعے اسے بام عروج بخشا ۔سیدھے سادے ہندوستانیوں کی عام زندگی میں رو نما ہونے والے واقعات کی سچی ترجمانی امیر خسرو نے کی ۔ہندوستان میں اپنی جائے پیدایش ہونے پر امیر خسرو نے فخر یہ انداز میں یوں کہا’’ہست میرا مولد و ماوایٰ و وطن‘‘ اور:

تُرک ہندوستانیم من، ہندوی گویم  جواب

شکّر مصری ندارم کز عرب گویم سخن

(میں ایک ہندوستانی تُرک ہوں ،میں ہندوی میں جواب دیتا ہوں،میرے پاس مصری شکر نہیں جو میں عربوں کی گفتگو کروں) ایک دوسری جگہ یوں لکھا:

چوں من طوطی ہندم ار راست پُرسی

زمن ہندوی پُرس تا نغز گویم

(اگر صحیح پوچھوں تو میں ہندوستان کا طوطی ہوں،اگر تم مجھ سے شیرنی گفتار چاہتے ہو تو ہندوی میں بات کرو)۔امیر خسرو کواپنے مادرِ وطن سے بے حد لگاؤ اور والہانہ عشق تھا۔وہ اس پر اپنا سب کچھ قربان کرنے کو ہمیشہ تیار رہتے تھے۔صحیح معنوں میں امیر خسرو ہندوستانی تہذیب کے سچے امین ،ترجمان،علمبرداراور عاشق تھے۔یہ بات دوسری ہے ہے کہ ان کے آبا و اجداد ترکی نسل کے تھے اور وہ ہندوستان میں بلخ سے وارد ہوئے،لیکن ان کی ماں ہندی نژاد تھی۔جس کا اثر انھوں نے اپنی شاعری میں قبول کیا ۔انھوں نے اپنے کلام میں بے ساختہ ہندوستان کو عظیم ملک تسلیم کرتے ہوئے اسے روم ،عراق اور خراسان سے افضل قرار دیا۔امیر خسرو لکھتے ہیں:

ترجیحِ ملکِ ہند  بہ عقل از ہوائے خوش

بر روم و عراق و خراسانِ برف بار

امیر خسرو نے مثنوی ’’نہہ سپہر‘‘جسے دہلی کے باد شاہ قطب الدین مبارک خلجی کی فرمایش پر 1318میں تخلیق کیا ،کے تیسرے سپہر میں ہندوستان کی عظمت ،وقار اور تقدس کے بارے میں لکھا’’کشورِ ہند است بہشتِ بزمی‘‘۔ امیر خسرو ’نے’ نہہ سپہر‘‘میںسر زمینِ ہندوستان کومانندِ جنت ہونے کے افتخار ،یہاں کی مٹی کی شان و شوکت اورعظمت کے دس حجّت( اسباب) گنوائے جس میںپہلایہ کہ ’’ہندوستان میں علم ہر ملک سے زیادہ ہے،دوسراہندوستانی دنیا کی تمام زبانیں(صحت کے ساتھ) بول سکتا ہے۔لیکن دوسرے ملک والے زبان ِ ہند (صحیح)نہیں بول سکتے،تیسرے ہندوستان میں لوگ ہر جگہ سے تحصیل علم کے لیے آئے۔لیکن کوئی برہمن تحصیل علم کے لیے کہیں نہیں گیا،ابو معشر نے تنجیم کی تعلیم یہاں حاصل کی،چوتھے ریاضی میں صفر(zero)ہندوستانی برہمن آسا کی ایجاد ہے،پانچوے دمنیہ کلیہ قدیم ہندوستان کی تصنیف ہے جس کے ترجمے دوسری زبانوں(عربی،فارسی ،ترکی)میں ہوئے،چھٹے شطرنج ہندوستان کی ایجاد ہے، ساتویں ہندسہ، دمنی اور شطرنج یہ تینوں ہند کے گھر گھر کی رونق ہیں آٹھویں سرود نوازی ہندوستان کی ایسی سارے جہاں میں نہیں،نویں یہاں کی موسیقی،آہوانِ صحرا کو بھی مدہوش کر دیتی ہے اور دسواں ہندوستان کے خسرو کا ایسا شاعر ساری دنیا میں نہیں :

حجّت دہ آں کہ چو خسروؔ بہ سخن

سحر گری نیست تہہ چرخِ کہن

’’نہہ سپہر‘‘کے تیسرے باب میں ایک مقام پر لکھا کہ’’یہاں دوسرے ملکوں سے لوگ علم حاصل کرنے کے لیے آتے ہیں،یہاں کی موسیقی دوسرے ملکوں کی موسیقی سے اعلا و عرفہ ہے۔وید یہاں کی مقدس الہامی کتابیں ہیں جن میں موسیقی، سیاست اور زندگی گزارنے کے طور طریقوں کا بیان ہے‘‘۔ان دسوں حجّتوںکا مطالعہ کرنے کے بعد قاری اس نتیجے پر ضرور پہنچے گا کہ امیر خسرو ہی وہ پہلے شاعر ہیں جنھوں نے ہندوستان کی ماٹی سے اُٹھتی ہوئی سوندھی خوشبوکو اپنے کلام میں پیش کر عوام کے قلوب پرنہ صرف دستک دی بلکہ سچا ہندوستانی شاعر ہونے پر فخریہ اعزاز بھی انھیں حاصل ہوا۔مولاناسید سلیمان ندوی نے آل انڈیا ہسٹری کونسل مدراس کے اجلاس میں ’’امیر خسرو کا ہندوستان ‘‘کے بارے میں حاضرین جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

’’امیر خسرو نے ہندوستان کی خاک کو اپنی آنکھوں کا سُرمہ بنایا۔حالاں کہ نسل سے وہ تُرک تھے مگر اُن کا دل ہندوستان کی مٹّی سے بنا تھا ۔اُنھوں نے فارسی زبان میں لکھی’’نُہہ سپہر‘‘میں پورا ایک سپارا یہاں کی خوبیوں پر لکھا ہے اور یہاں کے باشندوں کی اصناف،فن،اور یک جہتی کی تعریف میں اپنی شاعری کا پورا جوہر دکھایا ہے۔‘‘

مولانا سید سلیمان ندوی کی بات کو واضح کرتے ہوئے علامہ شبلی نعمانی نے اپنے مقالے ’’مسلمانوں کی علمی بے تعصبی‘‘میں امیر خسرو کی ہندوستان سے محبت اور یہاں کی رنگا رنگی اور یک جہتی پر تبادلۂ خیال کچھ اس طرح پیش کیا:

’’خسرو کے زمانے کا ہندوستان بہت وسیع تھا۔ایک اور اس کی سر حدیں لاہور پیشاور سے بھی آگے افغانستان تک پھیلی ہوئی تھیں تو دوسری طرف اس کی سرحدیں سمندر کو چھوتی تھیں۔اُس وقت نیپال ،بھوٹان،سیکم،تبّت،وغیرہ پہاڑی علاقے بھی ہندوستان کی سرحدمیں ہی آتے تھے۔امیر خسرو سیر و سیاحت پسند انسان تھے۔ملک و بیرون ملک کی اُنھوں نے خوب خاک چھانی تھی۔ہندوستان کے چپّے چپّے کو اُنھوں نے گھوم گھوم کر دیکھا تھا۔اس لیے ہی وہ اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ ہندوستان دوسرے ملکوں کے مقابلے بہتر ہے۔‘‘

امیر خسرو نے ہندوستان کے شہروں ،تیج تہواروں،رسم و رواجوں،موسموں ،چرندوں پرندوں ،مقامی لوگوں اور یہاں کی بولیوں کی کھل کر تعریف و توصیف کی ہے۔امیر خسرو نے ہندوستان کے مختلف مقامات اور شہروں کو گھوم گھوم کر دیکھا تھا۔امیر خسرو نے جب اودھ بالخصوص لکھنؤ میں قیام کیا تو اس شہر کے دل کش نظاروں سے وہ بہت متاثر ہوئے۔اس شہر کی خصوصیات کا تذکرہ اپنے دوست تاج الدین کے نام لکھے ایک خط میںفراخ دلی کے ساتھ کیا۔ امیر خسرو نے اپنے زمانے کے اودھ کا آنکھو دیکھا حال کچھ اس انداز میں بیان کیا:

’’اودھ کا شہر بلا شبہ بہت دل فریب ہے۔شہر کیا ایک باغ ہے جہاں آدمی خوشی اور اطمنان کے ساتھ زندگی بسر کر سکتا ہے۔اُس کی زمین دنیا کے لیے جنت ہے۔باغوں میں درختوں کی شاخیں پھلوں کے بوجھ سے جھکی جاتی ہیں ۔پرندوں کے سریلے اور اُداس نغموں سے فضا گونج رہی ہے۔کپڑے ایسے کہ عمرِ گذشتہ کو واپس لے آئے۔‘‘

یہ کیسے ہو سکتا تھا کہ امیر خسرو اپنے محبوب شہر دہلی پر کچھ خامہ فرسائی نہ کی ہو۔امیر خسرو کو دہلی سے جذباتی لگاؤ تھا۔دہلی اور خسرو ایک دوسرے کے لیے لاز م و ملزام کی حیثیت رکھتے ہیں۔ان کی عمر کا زیادہ تر حصہ دہلی میں ہی گزرا۔امیر خسرو نے جن سات سلاطین کے ساتھ اپنی زندگی بسر کی اُن کا پایۂ تخت بھی دہلی ہی تھا۔اس لیے ضروری تھا کہ امیر خسرو ہندوستان کے دل یعنی دہلی کی شان اور عظمت کے بارے میں تعریف ضرور کرتے انھوں نے دہلی کو ’’باغِ حرم‘‘کے لقب سے یاد کیا ہے۔دہلی کی انصاف پسندی اور یہاں کی خوبیوں کے بارے میں امیر خسرو نے لکھا:

’’دہلی کی انصاف پسندی کے چرچے دور دور تک پھیلے ہوئے ہیں ۔یہ اپنی خصوصیات کی وجہ سے ’’عدن کی جنت‘‘ہے۔یہ شہر اتنا پاک اور دل کش ہے کہ اس باغ کا قصہ سن کر مکہ بھی ہندوستان کا تواف کر نے لگے۔

حضرتِ دہلی کنفِ دین و داد

جنتِ عدنست کہ آباد باد

گر شنود قصہ گوئی بوستاں

مکہ شبد تائفِ ہندوستاں

امیر خسرو نے دہلی کے باشندوں کو فرشتہ صفت قرار دیا تھا ساتھ میں یہ بھی کہا تھا کہ یہاں کے مکیں اعلا اخلاق اور بڑے دل والے ہیں۔خسرو کو یہاں کی آب و ہوا بہت پسند تھی۔اُن کا ماننا تھا کہ اگر کوئی ایک بار اس ملک(دہلی)کا پانی پی لے تو وہ خراسان کا پانی پینا ہی چھوڑ دے:

ہر کہ در ایں،ملک دمِ آب خورد

گشت دل از آبِ خراساں نِش سرد

سید غلام سمنانی نے اپنی کتاب ’امیر خسرو‘میں امیر خسرو اور دہلی کے حوالے سے یوں لکھا:

’’ان کے دل و دماغ پر ہر وقت ان کا شہر دلّی چھایا رہتا ہے۔وہ کہیں بھی جائیں وہ اس خوب صورت شہر کو فراموش نہیں کر پاتے تھے۔ان کے نزدیک دلّی عدل و صداقت کا خزانہ ہے۔دلّی اچھائیوں اور خوبیوں کی بنا پر باغ بہشت کی طرح ہے ۔وہ اس شہر کی اُن عمارتوں کی توصیف کرتے ہیں جن سے اس شہر کی آرایش ہے اگر مکہ اس باغ کے متعلق سُن لے تو وہ ہندوستان کا طواف کرنے لگے۔دلّی کی جامع مسجد ہم دوش حرم محترم ہے۔قطب مینار وہ زینہ ہے جس کے زریعے آسمانوں تک جایا جا سکتا ہے۔حوض خاص کا پانی نور سماوی کا چشمہ ہے جس میں آسمان منعکس ہوتا ہے۔دلّی عظیم سیاحوں اور شہنشاہوں کا دارالسلطنت ہے جہاں پر اساتین حکومت رہتے ہیں۔اس شہر کے رہنے والے فرشتہ کردار قدسی سیرت ہیں اور کوئی بھی ان سے ادب و شعر،موسیقی و رقص اور دوسری ثقافتی سر گرمیوں میں بازی نہیں لے جا سکتا۔سیم تنان دلّی بُھلا کر امیر خسرو کے ناوک ذوق جمال سے محفوظ رہ سکتے تھے دلّی کے بتان سادہ ہر وقت اور ہر جگہ ان کے دل و دماغ پر حاوی رہتے ہیں۔‘‘

(امیر خسرو،سید غلام سمنانی،نیشنل بُک ٹرسٹ ،نئی دہلی1986،صفحہ98)

در اصل پورا ہندوستان امیر خسرو کے دل میں بسا تھا۔وہ جہاں بھی جاتے اپنی میٹھی اور شیریں زبان کا اثر وہیں چھوڑ آتے۔مقامی لوگوں سے میل جول ،بات چیت اور اُن کے طور طریقوں کو وہ اپنے کلام میں ضرور قلم بند کرتے۔امیر خسرو کے بارے میں یہ بھی گمان کیا جاتا ہے کہ وہ فوری طور پر اشعار کہہ دیتے تھے۔اس ضمن میں ان کا یہ مشہور واقعہ نقل کیا جاتا ہے جس میں امیر خسرو  پیدل سفر کر رہے تھے انھیں راستے میں زور کی پیاس لگی۔دیکھا تو سامنے کنویں تھا جس پر چار پنیہارن پانی بھر رہی تھیں ۔جیسے ہی خسرو نے اُن سے پینے کے لیے پانی مانگا،اُنھوں نے انھیں پہچان لیا۔ان میں سے ایک پنیہارن نے فرمایا’’کھیر پر شعر سنایئے۔‘‘دوسری نے کہا’’چرکھا پر شعر سنایئے۔‘‘اُن میں سے تیسری بولی ’’کّتا پر ہی کوئی شعر ہو جائے۔‘‘اس پر فوراً چوتھی پنیہارن نے اپنی فرمایش رکھی’’نہیں پہلے ڈھول پر مجھے کچھ سنایئے۔’’امیر خسرو کا پیاس سے گلا سوکھا جا رہا تھا۔وہ بڑے شش و پنج میں پڑ گئے لیکن اُنھوں نے ہمت نہیں ہاری اور وہیں پر ہی یہ ڈھکوسلا بنا کر سنا دیا:

کھیر پکائی جتن سے اور چرکھا دیا چلائے

آیا کتّا کھا گیا،تو بیٹھی ڈھول بجائے

میرا ماننا تو یہاں تک ہے کہ امیر خسرو نے ہندوستان کے ذرے ذریسے محبت کی۔صحیح معنوں میں وہ سچے ہندوستانی سیکولر کردار کے ترجمان، علم برداراوروطن پرست تھے۔ اُن کی نظر میں تمام انسان برابر تھے۔تیرھیوں اور چودھویں صدی کے ہندوستان کی اگر صحیح تاریخ معلوم کرنا ہو تو امیر خسرو کی شخصیت کے ساتھ ساتھ ان کے کلام کا مطالعہ نا گزیر ہے۔امیر خسرو ہندوستان کے ایسے پہلے شاعر اور ادیب تھے جنھوں نے ہندوستان کے مقامی رنگوں،تہواروں، موسموں، پھلوں، پھولوں، چرندوں،پرندوں،ندیوں اور قدرتی مناظر کا بیان اپنی غزلوں، مثنویوں،ڈھکوسلوں اور پہیلیوں میں واضح طور پر کیا۔ مذکورہ تمام باتیں ان کی سر زمین ہندوستان سے والہانہ عقیدت اور بے پناہ محبت کی غماز ہیں۔امیر خسرو نے پیغمبر اسلام کی اُس حدیث کی پیروی کی جس میں کہا گیا ہے کہ’’ایمان والوں ،وطن سے اُلفت رکھنا ایمان کا لازمی جُذ ہے۔‘‘اسی نظریے کے تحت امیر خسرو نے ہندوستان کی ہر شے سے محبت کی ۔یہاں تک کہ اُن کے جسم اور روح میں پورا ہندوستان بستا تھا۔ ہندوستای عوام کا دل اپنے اشعار سے فتح کرنے میں ان کا ہندوی کلام معاون و مدد گار ثابت ہوا۔امیر خسرو نے خود یہ تسلیم کیا کہ ’’زبانِ ہندوی‘‘ہندوستان کے مختلف خطّوں میں بولی جانے والی بولیوں سے مل کر کھڑی ہوئی ہے۔امیر خسرو صرف فارسی کی ہی قدرشناس نہیں تھے بلکہ ہندوستان کی مقامی زبانوں کی اہمیت کا بہ خوبی اندازہ تھا۔’گزری زبان‘ کے حسن ،اس کی لطافت ،اس کی مٹھاس کے بارے میں یوں فرمایا:

گُجری تو کہ در حسن و لطافت چوں مہے

ایں دیگ دہی بر سر تو چتر شہی

از ہر دولت شہد و شکر می ریزد

ہر گاہ کہ می گوئی’’دہی لیہودہی

اُردو کے بہت سے محققینِ لسانیات نے انھیں اُردوبان کا بانی اورموجد ہونے کاتمغہ بھی عطا کیاہے۔اس کی خا ص وجہ یہ ہے کہ امیرخسرونے اپنی شاعری میں ایک مصرع فارسی کا اور دوسرا مصرع ہندوی زبان کا استعمال کیا۔ اُرود ادب کی تاریخ میں اُردو زبان کی ابتدائی نشو نما اور ترقی کے لیے امیر خسرو کے کردار کو سنہرے حرفوں میں درج کیا جاتا ہے۔اس بابت رام بابو سکسینہ نے اپنی کتاب ’’تاریخِ ادب اُردو‘‘میں امیر خسرو کی خلاقانہ صلاحیتوں کے بارے میں تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے تحریر کیا:

’’ زبان اُردو کی ترقی کا ابتدائی زمانہ اتنا دھندلا نظر آہے کہ اُس کے خط و خال صاف طور پر نمایاںنہیں مگر اس میں کوئی شک نہیں کہ سب سے پہلا شاعر زبان اُردو کا اس دھندلکے میں صاف طور پر نمایاں نظر آتا ہے وہ حضرت امیر خسرو دہلوی ہیں جن کی شہرت بحیثیت ایک فارسی شاعرکے کسی تعریف وتوصیف کی محتاج نہیں ۔ان کا لقب اسی شاعری کی مناسبت سے’’طوطی ہند‘‘ہے۔انھوں نے سب سے پہلے اُردو الفاظ ادبی اغراض سے استعمال کیے اور سب سے پہلے اُردو میں شعر کہا۔سب سے پہلی غزل اُردو بھی امیر خسرو ہی کی طرف منسوب ہے مگر اس کی ترکیب اس طرح کی ہے کہ اس کا ایک مصرع فارسی اور ایک اُردو ہے اور بحر فارسی ہے اس کے علاوہ اکثر پہیلیاں ،مکریاں،انملیاں ،دو سخنے ،دوہرے وغیرہ آج تک مشہور ہیں،جو ان کی طرف منسوب ہیں۔بعض شعر ایسے بھی ہیں جس میں ٹھیٹھ ہندی الفاظ جو مشکل اُردو کہے جا سکتے ہیں ،سنسکرت بحروں میں بندھے ہیں گو فارسی الفاظ بھی کہیں کہیں استعمال ہوئے ہیں۔‘‘

(تاریخ ِ ادب اُردو ،رام بابو سکسینہ،مطبع منشی تیج کمار ،نئی دہلی،1986،صفحہ 16تا17)

امیر خسرو نے مثنوی ’’نُہہ سپہر‘‘کے تیسرے سپہر میں اپنے زمانے کی ہندوستانی زبانوں کی فہرست ان اشعار میں قلم بند کی:

سندی و لاہوری و کشمیر و گر

دھور سمندری تلنگی و گجر

معبری و گوری و بنگال و اودھ

دہلی و پیرامنش،اندر ہمہ حد

ایں ہمہ ہند ویست زایام کہن

عامہ بہ کارست بہ ہر گو نہ سخن

(سندی(سندھی)،لاہوری(پنجابی)،کشمیر(کشمیری)،گر(مراٹھی)،دھور سمندری(کنڑ)تلنگی و گجر(گجراتی)، معبری(تمل)، گوری(آسامی) بنگال(بنگالی)،اودھ(اودھی)دہلی(ہندوی)۔ سنسکرت زبان کے تذکرے میں امیر خسرو نے لکھا کہ یہ زبان صرف برہمن بولتے ہیں عوام سے اس کا کوئی تعلق نہیں ،یاس زبان کا تعلق عہد کہن سے ہے:

لیک زبانیست دگر کز سخناں

آنست گزیں نزد ہمہ برہمناں

سینسکرت نام ز عہد کہنش

عامہ ندارد خبر از کن مکنش

امیر خسرو کواپنے فارسی کلام کی بہ نسبت ہندوی کلام پرناز تھا۔وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ’’اگر تم مجھ سے کچھ پوچھنا چاہتے ہو تو ہندوی میں پوچھو‘‘۔ہندوی کلام کوامیرخسرو نے اپنے دو سخنوں ،کہ مکرنیوں،پہیلیوں،دوہوں،مثنویوں میں بہ خوبی استعمال کیا۔امیر خسرو نے اپنے وقت اور مزاج کو بھانپ کر عوام کی زبان میں جو بھی اشعار کہے وہ آج اُردو اور ہندی دونوں زبانوں کا سرمایۂ سخن ہیں۔امیر خسرو کو اُردو اور ہندی دونوں زبانوں کے بانی کی حیثیت حاصل ہے۔اگر ان دونوں زبانوں کی تاریخ لکھی یا بتائی جاتی ہے تو امیر خسرو کے ذکر کے بغیر بات ادھوری اور نامکمل تسلیم کی جائے گی۔کھڑی بولی ،برج ،سنسکرت اور فارسی زبانوںکے الفاظ کو یکجا کر اسے ایک نئی صورت اور قالب میں ڈھالنا کوئی آسان کام نہیں۔امیر خسرو کی شناخت صرف ایک قادر الکلام شاعرکی نہیں ہے وہ بیک وقت فارسی زبان کے اہل قلم،ذہین و فطین عالم،مصور ،مؤرخ،سیاست داں،موسیقار،جنگجو،کمانڈر،صوفی بزرگ،راگ راگنیوں اور قوالیوں کے موجد کی حیثیت سے بھی پہچانے جاتے ہیں ۔ایک انسان میں اتنے فنون کا جمع ہوجانا اور ان سب میں مہارت حاصل کرنا کسی معجزے سے کم نہیں ۔امیر خسرو کی عوامی مقبولیت کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ان کاحلقۂ اثراور حلقۂ احباب عموماًخواص کے ساتھ ساتھ بالخصوص عوام میں زیادہ تھا۔امیر خسرو کے کلام کا غائر مطالعہ کرنے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ موصوف ہندوستانی لسانی مزاج سے بہ خوبی واقفیت رکھتے تھے۔امیر خسرو کو دنیا کی سیاحت کا بھی شو ق تھا اس لحاظ سے دیگر افراد سے رابطے میں آنے کے سبب انھیں دوسری زبانوں کو سیکھنے کے مواقع فراہم ہوئے ۔وہ خود عربی فارسی اور ترکی زبانوں سے واقف تھے۔ان کی پدری زبان ترکی اور فارسی تھی۔مختلف درباروں سے وابستہ ہونے کے باوجود امیر خسرو نے عوام الناس کی زبان میں اپنے خیالات کی ترسیل کو ترجیح اور فوقیت دی۔ایک روایت کے مطابق ان کی ماں ہندوستانی تھی ،جس کی وجہ سے عوامی اور مقامی الفاظ ان کی شاعری میں استعمال ہوئے ہیں۔انھوں نے اپنے کلام میں پسینہ، جھولا،جامن، جھوٹا، اینٹ، اولا،موری،لوٹا،چھتری،بچھو وغیرہ عام چیزیوں کا استعمال اپنی پہیلیوں میں احسن طریقے سے کیا۔امیر خسرو کے کلام کی سادگی کا اثر ترقی پسند اور جدید شاعروں نے اپنی شاعری میں قبول کیا۔مشہور ادیب رضا حسین نے مذکورہ تمام موضوعات پر ناقدانہ نظر ڈالتے ہوئے اپنی کتاب ’’اُردو شاعری کا پس منظر‘‘میں لکھا:

’’اس نئی زبان کو اشعار میں پہلے پہل قلم بند کرنا بھی اسی عالم و فاضل جہاں دیدہ اور جید شاعر کا کام تھا،جو وصیت کے لحاظ سے فقیر تھا مگر دنیا اُس کو امیر خسرو کہتی ہے۔بنتی ہوئی اُردو کو اُ س نے خود کبھی ہندی،کبھی ہندوی اور کبھی دہلوی کہا۔‘‘

در اصل امیر خسرو نے فارسی زبان کے ساتھ جس زبان کی بھی آمیزش کی اُسے ہم ’’لفظوں کی پیوند کاری‘‘سے بھی تعبیر کر سکتے ہیں۔امیر خسرو کے کلام کی خوبی یہ ہے کہ انھوں نے جن الفاظ کا انتخاب اپنی شاعری کے لیے کیا وہ جوں کے توں اُسی شکل میں آج بھی موجود ہیں۔تالا،کتّا،چرخا،نیلا،بھالا،میٹھا،چلا،جان،سیکھ،اور دیکھیے ایسے ہی الفاظ ہیںجو موجودہ دور میں بھی اُسی شکل میں استعمال ہو رہے ہیں جیسے تیرہیوں صدی میں استعمال ہوتے تھے۔امیر خسرو نے اپنے دو سخنوں میں ہندوستانی ماحول اور گفت و شنید کوموضوعِ سخن بنایا۔اُس وقت سے لے کر آج تک ان کی مقبولیت میں ذرہ برابربھی کمی نہیں آئی ہے۔امیر خسرو کے چند دو سخنے آپ کی خدمت میں پیش ہیں۔انھیں سننے اور پڑھنے کے بعد کانوں میں مٹھاس گھلنے کا احساس خود بہ خود ہو جاتا ہے ۔مثلاً:

٭  انار کیوں نہ چکھا؟وزیر کیوں نہ رکھا؟دانہ نہ تھا

٭  ستار کیوں نہ بجا؟عورت کیوں نہ نہائی؟پردہ نہ تھا

٭  شکاری راچا می باید،مسافر کو کیا چاہیے؟دام

٭  شکاری باچا می باید کرد،قوتِ مغز کو کیا چاہیے؟بادام

٭  پانی کیوں نہ بھرا؟ہار کیوں نہ پہنا؟گھڑا نہ تھا

٭  دیوار کیوں ٹوٹی؟ راہ کیوں لوٹی؟راج نہ تھا

٭  گھر کیوں اندھیارا؟فقیر کیوں بگاڑا؟دیا نہ تھا

٭  گوشت کیوں نہ کھایا؟ ڈوم کیوں نی گایا؟ گلا نہ تھا

٭  گھوڑا ڑا کیوں؟پان سڑا کیوں؟پھیرا نہ تھا

٭   سنبوسا کیوں نہ کھایا؟جوتا کیوں نہ چڑھایا؟ تلا نہ تھا

امیر خسرو کی شاعری میں استعمال شدہ رائج مقامی لفظوں کو غور سے پڑھیے ان کا استعمال ویسے ہی ہو رہا ہے جیسا پہلے ہوتا تھا۔امیر خسرو لفظوں کی مورت کو عوام الناس کے گارے سے تیار کرتے تھے۔عوام نے بھی ان کی پہیلیوں،دو سخنوں اور کہہ مکرنیوں کو اپنے طریقے سے استعمال کیا۔عام اور سادہ لفظ یہی ماخذ امیر خسرو کے عوامی ادب کا اساس ہیں۔انھوں نے بسنت ،ساون ،ہولی وغیرہ لوک گیت تخلیق کیے ۔ان لوک گیتوں کو عوام میں بہت مقبولیت حاصل ہوئی۔اس موقع پر میں امیر خسرو کا عوامی گیت’’ہولی‘‘ پیش کرنا چاہتاہوں تاکہ اندازہ لگایا جا سکے کہ امیر خسرو نے ہندو تیج تہواروں کا کتنی نزدیکی سے عملی مشاہدہ کیا ہوگا اور کھڑی بولی کے منتخب الفاظ کو کتنے خوب صورت طریقے سے اپنے کلام میں پیش کیا:

دیّا ری موہے بھجویا ری

شاہ نطام کے رنگ میں

کپڑے رنگ کے کچھ نہ ہوتا ہے

یا رنگ میں تن کو ڈبویا ری

دیّا ری موہے بھجویا ری

مورا جوبنا نویل را بھیو غلال

کیسے گھٹ دھینی بکس میری موری مال

نظام الدین اولیا کو کوئی سمجھائے

جوں جوں مناؤں وہ تو روسا ہی جائے

مورا جوبنا

چوڑیاں پھوڑوں پلنگ پر ڈاروں

اس چولی کو دونگی میں آگ لگائے

کیسے دھر دھینی بکس موری مال

سونی سیز ڈراون لاگے

برہا اگنی ڈس ڈس جائے

مورا جوبنا نویل را بھیو غلال

پروفیسر ایس شاہ جہاں نے امیر خسرو کو کھڑی بولی کا پہلا شاعر قرار دیتے ہوئے لکھا:

’’کھڑی بولی ہندی کی شیریں نظم نگاری کی ابتدا کا عمل ہندی کے عظیم شاعر امیر خسرو کے ہاتھوں ہوا۔خسرو صاحب نے ایک ایسے وقت پر ہندی نامی نا بالغ لڑکی کو سہارا دیا جب سب کہیں فارسی ،برج بھاشا اور اودھی کا نام رو پوش ہو گیا تھا۔ایسے موقع پر عوامی زبان میں کلام تخلیق کراُنھوں نے نہ صرف عوام کی خواشہات کی حمایت کی بلکہ اس زبان کے تئیں اپنے دل میں پیدا ہوئی محبت اور جذبات کا اظہار کیا۔‘‘

امیر خسرو نے اپنی غزلوں میں فارسی الفاظ کے ساتھ مقامی اور ہندوی الفاظ کی تراکیب کو خوب استعمال کیا۔یہاں خاص بات یہ ہے کہ انھوں نے اپنے زمانے کی شاعری میں عورت کے دکھ درد کواس انداز میں پیش کیاگویا یہ واقعات سات سو سال قبل نہیں بلکہ آج ہی رو نما ہو رہے ۔ان کی غزلیں عاشق اور معشوق کے گلے شکووں کا حسین مرقع ہیں ۔ہجر کی رات زلف کی مانند لمبی اور وصل کی گھڑی انھیں بہت چھوٹی دکھائی دیتی ہے۔ان کے فارسی اور ہندوی الفاظ سے سجی دھجی غزل ’زحال مسکیں‘ہندوستانی تہذیب و تمدن کا آئینہ ہے۔یہ غزل قدیم ہندوستان کے رسم و رواج ،عادت و اطوار،بول چال اور ملی جلی ثقافت کی نفسیاتی وسماجی روداد ہے۔ڈاکٹر سلیم اختر کے الفاظ میں ’’خسرو کی اور اُردو ادب کی مشہور ترین غزل ریختہ کی اعلا ترین مثال ہے لیکن اس کا مطالعہ محض لسانیاتی موشگافیوں اور حوالوں کے لیے ہی نہیں کیا جا سکتا کیوں کہ اس میں غزل کی وہ اساسی صفت بھی ملتی ہے جسے ’’تغزل‘‘سے تعبیر کیا جاتا ہے۔‘‘غزل ملاحظہ کیجیے:

زحال مسکیں مکن تغافل دورائے نیناں ملائے  بتیاں

جو تاب ہجراں ندارم ایجاں‘نہ لیو گاہے لگائے چھتیاں

یکایک از دل دو چشم جادو بصد فریبم ببر و تسکیں

کسے پڑی ہے کہ جا سناوے پیارے پی کو ہماری بتیاں

شبانِ ہجراں دراز چوں زلف و روز و صلش چو عمر کوتہ

سکھی پیا کو جو میں نہ دیکھوں تو کیسے کاٹوں اندھیری رتیاں

جو شمع سوزاں چو ذرہ حیراں ہمیشہ گریاں بعشق آں مہ

نہ نیند نیناں نہ انگ چینا ں نہ آپ آوے نہ بھیجے پتیاں

بحق آں مہ کہ روز محشر بد ادمارا فریب خسروؔ

سپیت من کی دوراہے راکھوں جو جائے پاؤں پیا کی کھیتاں

ڈاکٹر وحید مرزا اپنی کتاب’’امیر خسرو ‘‘میں یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ’’خسرو نے فارسی کے ساتھ ہندی میں بھی کافی کچھ لکھا،لیکن کبھی انھیں یکجا نہیں کیا۔وہ تو عوام کے درمیان پھیلتی گئی اور قبولِ عام کا درجہ حاصل کرتی گئی۔‘‘امیر خسرو کا جادو صرف شمالی ہندوستان تک ہی محدود نہیں تھا ۔اس زبان کا سحر پورے ہندوستان میں پھیلا۔جب ملا وجہی نے1635میں ’’سب رس‘‘کو تخلیق کیا تو اس میں بھی اُنھوں نے خسرو کے اس شعر کو کوڈ کیا:

پنکھا ہو کر میں ڈلی ،سکھی تیرا چاؤ

مجھ جلتی جنم گیو،تیرے لیکھن باؤ

اس شعر سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ امیر خسرو کا کلام اس زمانے میں دستیاب تھا۔میر تقی میر نے بھی امیر خسرو کے کلام کو فارسی اور ہندوی کی ملی جلی شکل قرار دیا یعنی عہدِ میر میں امیر خسرو کا کلام محفوط تھا۔امیر خسور جس چیز کا مشاہدہ کرتے تھے اُسے عوامی زبان میں کہہ کر محفوظ کر لیتے تھے۔اس بابت وہ کہتے ہیں:

رفت و تماشۂ کنار جوئے

دیدم بلو آب زن ہندوی

امیرخسرونے اپنی زندگی میں سات بادشاہوں کو دہلی کے پایۂ تخت پر بیٹھتے دیکھاتھا۔ان میںسے چار بادشاہوں کے دربار میں امیر خسرو کا مقام ایک مدح گو شاعر کے علاوہ بذلہ سنج ندیم اور خوش بیان مصاحب کا بھی تھا ۔امیر خسرو کا یہ بہت بڑا کمال تھا کہ کسی بھی باد شاہ یا سلطان سے ان کے رشتے تلخ نہیں تھے۔بلکہ بادشاہوں نے امیر خسرو کونہ صرف اپنے دربار میں اعلا عہدے دے کر سرفراز کیا بلکہ ’’طوطیِ ہند‘‘،’’ملک الشعرا‘‘،اور’’امیر‘‘جیسے القاب سے نواز کر ان کی عزت افزائی کی۔امیر خسرو نے کبھی بھی عیش و عشرت سے بھری ہوئی درباری اور شاہی زندگی کو اپنے اوپر ہاوی نہیں ہونے دیا۔جہاں ایک جانب وہ امرا و سلاطین کے قریب تھے وہیں دوسری جانب عوام کے سکھ دکھ میں شامل ہونا ان کی روز مرہ کی زندگی کا خاصہ تھا۔امیر خسرو خدا داد صلاحیتوں کے مالک تھے۔ادب نوازی اور ادب شناسی ان کی روح میں سرائیت کر گئی تھی۔موقع و محل کے مطابق اپنے آپ کو ڈھال لینا انھیں بہ خوبی آتا تھا۔عہد طفلی سے ہی انھیں شعر و سخن سے شغف تھا۔اپنی شاعرانہ صلاحیتوں کی بدولت اگر وہ کسی بھی دربار سے وابستہ ہوئے تو ہمیشہ اسی کی طرف داری کی چاہے باد شاہِ وقت کوئی بھی رہا۔یہ امیر خسرو کی ادبی ذہانت اور لیاقت کا ہی کمال تھا کہ دہلی کا ہر نیا بادشاہ انھیں اپنے دربار سے منسلک کرنے کے بعدفخر محسوس کرتا تھا۔ہندوستانی ادب میں امیر خسرو کا وہی مقام تھا جو فارسی زبان و ادب میں فردوسیؔ،سعدیؔ، انوریؔ،عرفیؔ ،نظیریؔ کا تھا۔علامہ شبلی نعمانی نے امیر خسرو کی مذکورہ جامع کمالات شخصیت پر اظہار خیال کرتے ہوئے شعر العجم میں تحریر کیا:

’’ہندوستان میں چھ سو برس سے آج تک اس درجہ کا جامع کما لات نہیں پیدا ہوا،اور سچ پوچھو تو اس قدر مختلف اور گونا گوں اوصاف کے جامع ،ایران و روم کی خاک نے بھی ہزاروں برس کی مدت میں دو ہی چار پیدا کیے ہوں گے صرف ایک شاعری کو لو تو ان کی جامعیت پر حیرت ہوتی ہے ،فردوسیؔ ،سعدیؔ ،انوری ؔ،عرفیؔ،نظیریؔ،بے شبہ اقلیم سخن کے باد شاہ ہیں لیکن ان کی حدود حکومت ایک اقلیم سے آگے نہیں بڑھتی ،فردوسیؔ مثنوی سے آگے نہیں بڑھ سکتا،سعدیؔ قصیدہ کو ہاتھ نہیں لگا سکتے،انوریؔ مثنوی اور غزل کو چھو نہیں سکتا،حافظؔ،عرفیؔ،نظیریؔ غزل کے دائرہ سے باہر نہیں نکل سکتے لیکن امیر صاحب کی جہاں گیری میں غزل ،مثنوی،قصیدہ،رباعی سب کچھ داخل ہے اور چھوٹے چھوٹے خطہ ہائے سخن یعنی نظمیں ،مستزاور صنائع و بدائع کا تو شمار نہیں۔‘‘

(مولانا شبلی نعمانی،شعر العجم ،جلد دوم،مشمولہ امیر خسرو،سید غلام سمنانی،نیشنل بُک ٹرسٹ،نئی دہلی، 1985،صفحہ60)

امیر خسرو نے اپنے تمام مذہبی معاملات کو پیر و مرشد حضرت نظام الدین اولیا کے سپرد کر رکھا تھا ۔جہاں،امیر خسرو محبوب الٰہی حضرت نظام الدین اولیا کے شاگرد تھے وہیں بو علی شاہ قلندر پانی پتی کے بھی عزیز تھے۔حضرت نظام الدین کہا کرتے تھے کہ میں سب سے اوب جاتا ہوں پر خسرو سے کبھی نہیں اوبتا۔وہ امیر خسرو کی سادگی سے نہ صرف متاثر تھے بلکہ یہ ان کے سب سے چہیتے مریدوں میں شمار ہوتے تھے۔حضرت نظام الدین انھیں پیار سے’’تُرک ‘‘کہہ کر پکارتے تھے ۔محبوب الٰہی نے ایک بار کہا تھا کہ کہ’’اس ترک کے دل میں جو آگ سلگ رہی ہے ،قیامت کے دن اس سے میرا ’نامۂ اعمال‘پاک ہوجائے گا۔محبوبِ الٰہی فخریہ انداز سے کہا کرتے تھے کہ ’’جب اللہ مجھ سے پوچھے گا کہ تم میرے لیے کیا لائے ہو تو میںامیر خسرو کو پیش کر دوں گا‘‘۔مرنے سے قبل حضرت نظام الدین نے خواہش ظاہر کی کہ’’اگر قبر میں دو انسانوں کو دفن کیا جاتا تو میں چاہتا کہ خسرو کو ان کی بغل میں دفن کیا جائے۔جب امیر خسرو نے اپنے پیر و مرشد کی موت کی خبرسنی تو ان کی حالت دیوانوں کی طرح ہو گئی،انھوں نے اپنے کپڑے پھاڑ دالے، سر کے بال کٹوا لیے اور چہرے پر سیاحی پوت لی۔ انھوں نے دہلی میں حضرت نظام الدین اولیا کے مزار پر اپنی زندگی کے آخری ایام گزارے۔نظام الدین اولیا کی وفات کے چھ ماہ بعد 18شوال725ھ مطابق1324-25 کو امیر خسرو اس دار فانی سے کوچ کر گئے ۔امیر خسرو اس کیفیت کو اپنے دل کے جذبات کو اس دوہے میں بیان کیا:

گوری سووے سیج پر اور مُکھ پر دارے کیس

چل خسروؔ گھر آپنے ،رین بھئی چوندیس

اپنے پیر و مرشد کی آخری خواہش کے مطابق امیر خسرو کو ان کے پہلو میں دفنایا گیا ۔امیر خسرو نے حضرت نظام الدین سے تصوف کی باریکوں کو سیکھ کر انھیں اپنا اوڑھنا اور بچھونا بنایاتھا۔عبدالماجد دریابادی نے امیر خسرو کی علمی،ادبی سماجی،سیاسی شخصیت کا محاکمہ پیش کرتے ہوئے ٹھیک ہی لکھا ہے:

’’وہ امیروں میں امیر،فقیروں کے فقیر،عارفوں میں سردار،شاعروں کے تاج دار،شعر و ادب کے دیوان،اس کی ادب وعظمت کے گواہ خان کاہیں اور سجّادے،اُس کے مطبع ثانی سے آگاہ،سرِ مشاعرے آجائیں تو میر محفل اُسے پائیے۔‘‘

امیر خسرو نے نثر اور نظم دونوں میں اصناف میں ادب تخلیق کیا۔ماہرین کے نزدیک ان کی تخلیقات کی تعداد کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔امیر خسرو کی زیادہ تر تخلیقات فارسی زبان میں ہیں لیکن انھوں نے ہندوی میں بھی ادب تخلیق کیا۔کچھ اصحاب قلم اور دانش ور حضرات کے مطابق فردوسی نے70ہزار شعر لکھے،صائب نے ایک لاکھ سے اوپر ،وہیں امیر خسرو نے 4لاکھ سے اوپر اشعار تخلیق کیے۔علامہ شبلی نعمانی نے امیر خسرو کے اشعار کی تعداد 5لاکھ سے اوپر بتائی ہے۔مرزا لطف علی خاں نے ’’تذکرۂ آتش کدہ ‘‘میں لکھا ہے کہ انھوں نے خود امیر خسرو کے ایک لاکھ اشعار دیکھے ہیں۔کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ امیر خسرو نے فارسی سے زیادہ ہندوی زبان میں اپنی تخلیقات کو مکمل کیا ۔گارساں دتاسی کے مطابق امیر خسرو نے ہندوی میں زیادہ کتابیں تخلیق کیں پر فارسی کے مقابلے کافی کم۔مشہور تاریخ داں برنی نے امیر خسرو کی تخلیقات کی تعداد100سے زائد بتائی ہیں۔دوسری طرف ’’ہفت اقلیم‘‘کے خالق امین احمدراضی نے امیر خسرو کو99کتابوں کا مصنف قرار دیا۔نواب اسحاق خاں کی تحقیق کے مطابق امیرخسرو نے محض 45کتابیں تخلیق کیں۔ڈاکٹروحید مرزا نے اپنی تحقیق میں امیر خسرو کی کتابوں کی تعداد 21بتائی ہے۔ بحر کیف!امیر خسرو کی جن تخلیقات پر سب کا اعتراف ہے ان کے نام حسبِ ذیل ہیں:

نثر۔1،اعجازِ خسروی2،خزائن الفتوح(تاریخِ علائی)3،افضل الفوائد

شاعری کے پانچ دیوان:1،تحفت الصغر 2،وسط الحیات3،غرۃ الکمال4،بقیہ نقیہ5،نہایت الکمال

مثنویاں:1،قران السعدین2،مفتاح الفتوح(تاج الفتح)3،عشقیہ خجرخاں و دیول رانی4،نُہہ سپہر5،تغلق نامہ6،مطلع الانور 7،شیریں وخسرو8، مجنوں ولیلا9،آئینہ ِا سکندری10،ہشت بہشت11،مثنوی شکایت نامہ مومن پور پٹیالی

اس کے علاوہ امیر خسرو نے فارسی میں ایک لغت’’خالق باری ‘‘کے نام سے بھی تخلیق کیا۔215اشعار پر مشتمل اس لغت کی سب سے بڑی خصوصیت یہ تھی کہ اس کے ہر شعر میں ترکی،عربی،اور فارسی لفظوں کے ہم معنی الفاظ دیے گئے ہیں ۔اس لغت کو تخلیق کرنے کا ایک مقصد یہ بھی تھاکہ فارسی زبان کے مشکل الفاظ کو آسان ہندوی زبان میں عوام کے سامنے پیش کیا جائے۔اس لغت کے بارے میں کہاجاتا ہے کہ اس کی لاکھوں نقلیں اونٹوں پر لدواکر ہندوستان کے مختلف مقامات پر تقسیم کی گئیں۔در اصل خالق باری ہندوستانی بچوں کو فارسی اور ہندوی زبانوں سے روشناس کرانے کے واسطے تخلیق کی گئی تھی۔مولانا محمد حسین آزاد نے خالق باری کی اہمیت و افادیت کے تعلق سے ’’آبِ حیات‘‘لکھا:

’’امیر خسرو نے کہ جن کی طبیعت ،اختراع میں اعلا درجہ صنعت و ایجاد کا رکھتی تھی۔ملک سخن میں برج بھاشا کی ترکیب سے ایک طلسم خانہ انشا پردازی کا کھولا خالق باری،جس کا اختصار آج تک بچوں کا وظیفہ ہے۔کئی بڑی بڑی جلدوں میں تھی۔اس میں فارسی بحروں نے اول اثر کیا اور اسی سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت کون کون سے الفاظ مستعمل تھے جو اب متروک ہیں ۔اس کے علاوہ بہت سی پہیلیاں عجیب غریب لطافتوں سے ادا کی ہیں۔جن سے معلوم ہوتا ہے کہ فارسی کے نمک نے ہندی کے ذائقے میں کیا لطف پیدا کیا ہے۔مکرنی ،انمل،دو سخنے وغیرہ ان کے آئینے کا جوہر ہے۔‘‘

(آبِ حیات،مولانا محمد حسین آزاد،کتابی دنیا،نئی دہلی،2008،صفحہ62)

الغرض!امیر خسرو نے ہندوستانی تہذیب ،تمدن اور ثقافت کے ہر پہلو کا گہرائی اور گیرائی سے مطالعہ کیا تھا۔انھوں نے ہندوستانی ثقافت اور عوام الناس کی زندگی سے جہاں تک ممکن تھا فائدہ اٹھایا۔ سر زمینِ ہند سے تعلق رکھنے والی ہر شے ان کی توجہ کا محور و مرکز بنی۔انھوں نے اپنی تخلیقات میں کئی مقامات پر تحریر کیا کہ ’وہ متعدد ہندوستانی زبانیں جانتے تھے۔‘ان زبانوں میں سے کچھ کی وہ سد بُد رکھتے تھے اور کچھ سے بخوبی آشنا تھے اور کچھ کو انھوں نے اپنی شاعرانہ صلاحیتوں کے اظہار کا ذریعہ بنایا۔امیر خسرو سنسکرت زبان پر مکمل دسترس رکھتے تھے۔سنسکرت کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ یہ وہ زبان ہے جس کے دامن میں علوم و فنون کا بیش بہا خزانہ ہے یہ زبان قواعد و ادب اور دیگر علوم و فنون میں فارسی سے بلند اور عربی کے ہم پلہ ہے۔کلیہ و دمنیہ جو ہندوستان میں لکھی گئی ،بھی سنسکرت زبان کی کتاب ہے ۔نہہ سپہر میں امیر خسرو نے جو دس حجتیں ہندوستان کی فضیلت کے واسطے قائم کی ہیں ان میں ایک دلیل یہ بھی ہے کہ موسیقی کی جو ترقی ہندوستان میں ہوئی کہیں نہیں ہوئی اور یہ کہ ہرنوں پر ہندوستان موسیقی نشہ کی کیفیت طاری کر دیتی ہے۔امیر خسرو ہر خاص و عام کے محبوب تھے۔عوام ان کے دماغ کو عجائب خانہ مانتی تھی۔بے شک امیر خسرو بڑے شاعر اور نثر نگار تھے جنھوں نے تا عمر ہندوی زبان کی زلفیں سنواری اور ہندوستان کے ہر خطے کی خوبیوں کو اپنے مخصوص رنگِ سخن میں باندھا۔ان کے کلام پر ناقدین اور محققین نے یہ اعتراض بھی کیا کہ ’’امیر خسرو سے بہت ساہندوی کلام منسوب کیا جاتا ہے جو ان کا نہیں ہے۔‘‘تاہم تمام اعتراضات کے با وجود اس حقیقت سے ہم منہ نہیں موڑ سکتے کہ آج ہم جس کھڑی بولی کی نکھری ہوئی شکل یعنی اُردو ہندی زبان کا استعمال کر رہے ہیں ،اُس کے بنیاد گزار امیر خسرو ہی ہیں۔امیر خسرو پہلے ہندوستانی تھے جنھوں نے اپنے ادبی کارناموں سے پورے ہندوستان میں گھوم گھوم کر ہندوی زبان کو متعارف کروایا۔امیر خسرو کی شخصیت جامع کمالات کا مرقع تھی۔ہم ان کی شخصیت کو جس طریقے سے بھی دیکھیں وہ اُسی طرح نظر آئے گی۔میں اپنی بات ڈاکٹر اسلم فرخی کے الفاظ کے ساتھ ختم کرنا چاہتا ہوں ،جس میں موصوف نے امیر خسرو کی حیات ،شخصیت اور کارناموں پر اپنی رائے کا اظہار کیا ہے:

’’امیر خسرو وہ انسان تھے جن کے ایک چہرے میں بے شمار چہرے نظر آتے ہیں۔جدھر سے دیکھیے ایک نیا انداز ،نئی جھب ،نئی صورت،صوفی درویش شاعر،تاریخ لکھنے والے،اُردو زبان کو ترقی دینے والے اُردو کے پہلے شاعر،کبھی معصوم بچے، کبھی شہ زور نو جوان،کبھی سفید بالوں والے پاکیزہ بوڑھے ادب سے ہاتھ باندھے سلطان جی کی مجلس میں کھڑے ہیں۔شاہی دربار میں قصیدہ سنا رہے ہیں ۔لڑائیوں کا حال لکھ رہے ہیں۔بچوں کو ہنسا رہے ہیں۔محفلوں میں گا رہے ہیں ،نئے نئے گانے بنا رہے ہیں۔صبح ہونے کو آئی ہے ، آنکھوں میں آنسو بھرے اللہ تعلی کو یاد کر رہے ہیں۔کیا انسان تھے ،کیسے انسان تھے ۔کل بھی زندہ تھے ،آج بھی زندہ ہیں،کل بھی زندہ رہیں گے۔‘‘

(بچوں کے رنگا رنگ خسرو،ڈاکٹر اسلم فرخی،مکتبہ پیامِ تعلیم،جامعہ نگر،دہلی ،جون2016،صفحہ30تا31)

٭٭٭

DR. IBRAHEEM AFSAR

WARD NO-1,MEHPA CHOURAHA NAGAR PANCHAYAT

SIWAL KHAS,DISTT MEERUT(UP)PIN 250501

MOBILE 9897012528 EMAIL ibraheem.siwal@gmail.com

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

You may also like

Leave a Comment