عقیل شادابؔ عہد حاضر کے غزل گویوں میں اس لئے انفرادی حیثیت رکھتے ہیں کہ انہوں نے مروجہ روش سے انحراف کرتے ہوئے ایسا اندازِ سخن اختیار کیا جو ملکی و غیرملکی سطح پر اُن شعراء کے دوش بدوش معلوم ہوتا ہے جنہوں نے صنفِ غزل کو سوقیانہ آلودگی کے ماحول سے نکال کر کھلی فضامیں سانس لینے اور غواصی کرنے کے مواقع فراہم کرائے۔
فی الوقت شادابؔمرحوم کا مجموعۂ غزلیات ’’بے آب سمندر‘‘ راقم کے پیشِ نظر ہے اور اُسی کے تناظر میں گفتگو مقصود ہے۔ یہ مجموعہ اس لئے بھی مثبت تاثرات چھوڑتا ہے کہ اس میں کسی قسم کی تعریف، تحسین، تقریظ، مقدمہ، پیش لفظ یا تاثراتی تحریریں شامل نہیں ہیں۔ مرحوم کے اس عمل سے یہ مترشح ہوتا ہے کہ آپ اپنی شاعری اور اُس کی تاثیرسے کلّی طورپر مطمئن تھے۔ اور کسی طرح کی رسمی تعریف و توصیف یای وں کہئے گویا سستی شہرت کامطالبہ کرنے سے گریز وپرہیزکرتے تھے۔ انہیں یہ بھی علم تھا کہ ادب کے باشعور قارئین وشائقین ازخود مشمولات کے مطالعے اور مشاہدے کے بعداپنی اپنی رائے قائم کرلیں گے۔ اور ہوا بھی یہی کہ جب یہ مجموعہ منظرِ عام پر آیا تو مختلف مکتبۂ فکر سے وابستہ حضرات نے منفی اورمثبت دونوں طرح کی آراء ظاہر کیں۔ بعض ایسے حضرات ان رائے دہندوں میں موجود تھے جنہوں نے کلام کی نوعیت واہمیت کو یکسر پس پشت ڈالنے کی کوشش کی۔ ایسے حضرات نے زیرِ نظرمجموعہ ٔ کلام کوبے راہ روی کاشکاربتایا۔ لیکن وقت کے تقاضوں کاخیرمقدم اور احترام کرنے والوں نے ایسے حضرات سے کلامِ شادابؔ کا از سرِ نو مطالعہ ومشاہدہ کرنے کامطالبہ کیا تاہم جن حضرات نے مطالبے پر لبیک کہا انہوں نے جلد ہی اپنی رائے بدل کرمشمولات کے انفرادی لب ولہجے کی تاثیر سے اتفاق ظاہرکیا۔ دوسری طرف ایسے حضرات بھی دیکھنے میں آئے جنہوں نے رفتہ رفتہ اور دبی دبی آواز میں کلامِ شادابؔ کی اثر پذیری کا اعتراف کرنا شروع کردیا۔ ابتداء ً جو حضرات شادابؔ صاحب کی شاعرانہ صناعی کے منحرف تھے وہ ’’بے آب سمندر‘‘ کے مشمولات کوپڑھ کر سر دھُننے لگے۔ یہاں ایسے اشعار پیشِ خدمت ہیں جنہوں نے شادابؔ شناسی کو بڑھاوادیا : ؎
اک کھڑکی نے جھک کر اُسے سلام کیا
کپڑے سکھانے جب جب چھت پر آئی دھوپ
٭
ہُوں دیارِ یقیں کا پروردہ
شہرِ وہم و گماں میں رہتا ہوں
٭
مجھ سے ڈر کر میرا سایہ
صحرا صحرا بھاگ رہا ہے
کس پہ کروں شادابؔ بھروسا
آئینہ بھی بے چہرا ہے
٭
زبانِ حال سے کہتی ہیں داستانِ مآل
سکوت میں بھی ہیں محوِ خیال دیواریں
٭
شگافِ شب سے ہوس کے نہ سانپ درآئیں
ذرا سنبھال کے رکھنا بدن کی جنت کو
٭
اپنے سینے میں سرابوں کا سمندر لے کر
کب سے آوارہ ہوں سوکھے ہوئے بادل کی طرح
٭
خود اپنے آپ سے ملنا بھی اب محال ہوا
حسد سے دیکھ رہا ہوں میں اپنی شہرت کو
٭
جب میرے گھر میں آگ بھڑکی تھی
ملنے آیا تھا وہ ہوا کی طرح
٭
واقف ہوں پھولوں کے سیاست دانوں سے
کانٹے سے کانٹا نکالتا رہتا ہوں
٭
مطمئن ہوں میں اپنے مٹنے پر
میری آسودگی کو مت کوسو
٭
عقیل شادابؔ نے چونکہ اردو ادب کے علاوہ دیگر ہندوستانی ادبیات کا بھی مطالعہ کیاتھا اس لئے اُن کے فکر وتدبّر میں گہرائی اور گیرائی پیدا ہوگئی تھی۔ انہوں نے سنسکرت اور ہندی کی ادبیات وشعریات سے اثرقبول کیا اس لئے ان ادبیات وشعریات کے اوصاف، محاسن اور روشن پہلو اُن کی غزلیات میں مخلوط ہوکر تخلیقی لوازمات کو مزیّن کرتے رہے۔ اُن کی چمک دمک اکثر معاصرشعرائے غزل کو بھی دعوتِ فکروعمل دیتی ہوئی نظرآتی ہے ، مثلاً : ؎
جڑیں اس کی بہت گہرائی تک ہیں
اُگا ہے روح میں چتھنار برگد
شرن میں، میں بھی تیری آگیا ہوں
لگا میرا بھی بیڑا پار برگد
٭
لمحہ لمحہ مرگِ مسلسل ہے اپنا
جیون ناگ پھنی کا جنگل ہے اپنا
٭
تُو ہے اک موجِ رواں اور میں ہوں پتھر گھاٹ کا
لکھ رہے ہیں دونوں افسانہ ندی کے پاٹ کا
٭
کیسا مکّہ، متھرا، کعبہ، کاشی ہے
من بیراگی اپنا تو سنّیاسی ہے
یہ تو اچھی خاصی وِش کنّیا نکلی
ہم سمجھے تھے دُنیا اپنی داسی ہے
٭
کیسا کھونا، کیسا پانا ماٹی کا
ٹوٹے گا اک روز کھلونا ماٹی کا
کستوری سی مہک رہی ہے چاروں اور
چھان رہا ہوں کونا کونا ماٹی کا
بسی ہوئی ہے تلسی کی خوشبو گھر میں
رچا ہوا ہے روپ سلونا ماٹی کا
٭
آسمان کے منہ پر تھوک دیا ہے میں نے گھبرا کر
دھرتی ماں کی کوکھ مجھے پیدا کرکے شرمائی ہے
٭
بازاروں میں بھائو نہ اپنا گر جائے
کھوٹے سکے اُچھالتا رہتا ہوں
ترشنا چین نہیں لینے دیتی ہے مجھے
اندھے کنویں میں ڈول ڈالتا رہتا ہوں
٭
انگنائی چھٹپٹا رہی ہے واپس آ
گھر کی چوکھٹ بلا رہی ہے واپس آ
پنگھٹ سونا ہے چوپال اکیلی ہے
برکھا آنسو بہا رہی ہے واپس آ
٭
عہدِ رفتہ کا گھاؤ روشن ہے
آنسوئوں کا الائو روشن ہے
میرے شعروں میں جا بہ جا شادابؔ
زندگی کا بہائو روشن ہے
٭
نیل کنٹھ پیدا ہوتے ہیں دنیا میں
کرواتی ہے جب امرت منتھن روٹی
ہرشاعر، اہلِ قلم، مصور، موسیقار، اہل علم ودانش اور فنون لطیفہ سے وابستہ شخص کا کوئی نہ کوئی نظریۂ فن ضرور ہوتا ہے جس کااعلان اعتراف اور وضاحت وصراحت وہ مختلف طریقوں او رحوالوں کی وساطت سے کرتا رہتا ہے۔ چونکہ عقیل شاداب سرگرمِ عمل اور بیدار مغز شاعر تھے تاہم آپ نے ’’بے آب سمندر‘‘ کی غزلیات کے حوالے سے نہ صرف اپنے نظریۂ فن کا اظہار کیا بلکہ اپنے عہد او رماقبل عہد کے ادبی منظرنامے پراعتدال پسندانہ تبصرہ بھی کیا ہے۔ اپنی شاعری پَر لگائے گئے الزامات خصوصاً عریانی کے سلسلے میں معاصرین کی کہی گئی ایک طرفہ باتوں کا بھی آپ نے بہ نفسِ نفیس جواب دیا ہے، یہ جواب کبھی اصلاح کی صورت تو کبھی بے باکی کے توسط سے اشعار کی صورت میں پیش کیاگیا ہے ۔ شاعری کی مختلف جہتوں، روایتوں اور اصول ونظریات کے ساتھ ساتھ معیار ومیزان کی کسوٹی پر اپنے قرب وجوار کی ادبی صورتِ حال پر ایسی تنقیدی آراء بھی پیش کی گئی ہیں جو میانہ روی پر مبنی ہیں۔ ذیل میں اپنے متعدد اشعار پیش کئے جارہے ہیں جو مذکورہ پہلوئوں سے گہرا تعلق رکھتے ہیں، یہ اشعار راقم کی غیر جانب داری کے بھی غماز ہیں اور ان اشعار کے پیش نظر راقم کا بیان محض ظن وقیاس پر مبنی نہیں ہونے کا ثبوت بھی فراہم ہوجاتا ہے : ؎
چھوا جس لفظ کو شادابؔ میں نے
غزل بن کر چمک اُٹھّا اچانک
٭
دل نہ جن کے گداز ہوں شادابؔ
وہ سخن ور نہیں ہوا کرتے
آگئی فکر و نظر میں تازگی
اب میرا لہجہ نیا لگنے لگا ہے
٭
میرے شعروں میں جا بہ جا شادابؔ
زندگی کا بہائو روشن ہے
٭
آج کل شادابؔ پردے میں سخن کے
لفظ ومعنیٰ کی عبادت کر رہاہوں
٭
مجھ کو لکھنے سے کون روکے گا
ہے بہرحال میرا حق لکھنا
مشکلیں اور بھی ہیں دنیا میں
شعر شادابؔ کیوں ادق لکھنا
٭
تھوتھی غزلیں، مری وراثت تھی
کھوکھلے لفظ میرا ترکہ تھا
٭(یہ بھی پڑھیں باصرسلطان کاظمی کی غزلیں [حصّہ اوّل] – ڈاکٹر صفدر امام قادری)
عام روش سے ہٹ کے چلاجائے شادابؔ
کچھ اونچا اپنا معیار کیا جائے
٭
یہ سچ ہے میرا روایت پہ اعتبار نہیں
لکیر پیٹتے رہنا مرا شعار نہیں
اسے فضول حوالوں سے زیر بار نہ کر
یہ شاعری ہے مری جان کاروبار نہیں
مرا کلام ہے آئینہ عصرِ حاضر کا
جدیدیت کا مرے ذہن پر بخار نہیں
ہے فکر وفن میں مرے زندگی کا ہر پہلو
کسی بھی اِزم کا تک میں زیربار نہیں
کبھی کبھی کوئی پل لازوال ہوتا ہے
ہر ایک شعر کسی کا بھی شاہکار نہیں
نئی نویلی زمینوں کی چاٹ نے مارا
مجھے خود اپنے تجسس کی کاٹ نے مارا
٭
میری زباں کو میرا ہی ہمزاد ڈس نہ لے
شادابؔ کوئی لہجہ نیا بخش دو مجھے
٭
روایتوں سے گریزاں رہے جئے جب تک
گلاب زاروں میں تنہا ببول بن کے رہے
٭
مجھ پر بھپتی کسنے والو تم کیا جانو
خاموشی کے گھائو بہت گہرے ہوتے ہیں
عُریانی تو ذہنوں کے اندر پلتی ہے
کپڑوں کے اندر تو سب ننگے ہوتے ہیں
٭
کرنے کو سب ہی کرتے ہیں شادابؔ شاعری
الفاظ کس کے پاس، اثر کس کے پاس ہے
میرے ہر ایک شعر میں شادابؔ
حسنِ زیر وزبر سلامت ہے
ہے شاعری وہی شادابؔ جو بہ ہر صورت
لبوں پہ شعر دلوں میں اصول بن کے رہے
ہم نے ایوانِ غزل میں شادابؔ
غالبیؔ کی کبھی میریؔ کی ہے
ایسے کی شاداب پوری یہ غزل
جیسے ہوتی ہے دلہن آراستہ
٭
کھوکھلے الفاظ کی بھرپائیوں میں کٹ گئی
عمر ساری قافیہ پیمائیوں میں کٹ گئی
گِر گیا ہے آج کل کس درجہ معیارِ سخن
مجھ سے اک نادان کی دانائیوں میں کٹ گئی
گور ہا شادابؔ غالبؔ میں حریفوں پر مگر
میری اپنے آپ سے پسپائیوں میں کٹ گئی
٭
عقیل شادابؔ نے تادمِ حیات مادرِ وطن سے ٹوٹ کر محبت کی جس کا ثبوت کوٹہ اور چمبل کے استعاروں اور حوالوں سے فراہم ہوتا ہے۔ اپنی جائے پیدائش سے اس قدر عقیدت ومحبت کے طفیل انہیں اپنے علاقے میں ہر دل عزیز سخن ور ہونے کا اعزا ز حاصل ہوا۔ کوٹہ اور چمبل پر وہ اِس قدر مفتخر ہیں کہ چہک چہک کر اور لہک لہک کر اس کا تذکرہ کرتے ہیں۔ لیکن کوٹہ میں جب مذہبی فسادات رونماہوئے تو شادابؔ صاحب تڑپ اٹھے اور اپنی نم ناک آنکھوں سے جو دل خراش مناظر آپ نے دیکھے اُن کا ذکر درد وکرب کے ساتھ موقع بہ موقع کرتے رہے، اور اہلِ کوٹہ سے مہرومحبت اور یگانگت کامطالبہ بھی ان اشعار کی روح میں مضمر دکھائی دیتا ہے ، ذیل میں ’’بے آب سمندر‘‘ سے چند مثالیں اس بابت ملاحظہ فرمائیں : ؎
ایسا کوٹا ایسی چمبل ایسا گھر
کہاں ملے گا یہ گنگا جل ایسا گھر
آگ خون کی ہولی کھیلنے والوں نے
بنا دیا پل بھر میں مقتل ایسا گھر
٭
میں چمبل سا اُلٹا بہتا ہوں شادابؔ
جنم جنم سے رواں دواں کوٹے میں ہوں
٭
دونوں اپنے جنم جنم کے ساتھی ہیں
کوٹا کی ماٹی اور چمبل کا پانی
٭
آپ اپنی نظیر سی چمبل
کوٹا رانجھا سا ہیر سی چمبل
چاندنی رات میرے پہلو میں
ایک ناری شریر سی چمبل
ہے جلال وجمال کی مظہر
فکرِ اقبالؔ ومیرؔ سی چمبل
عہدِ حاضر کی جیسے روحِ رواں
عہدِ نو کے ضمیر سی چمبل
اپنی غزلوں میں ڈھل گئی شادابؔ
مصرع مصرع کبیر سی چمبل
٭
ہمیں تو اپنا کوٹا کوفہ جیسا ہے
اور فرات کے بدلے چمبل ہے اپنا
٭
جنم جنم سے کوٹا اپنا مقتل ہے
میں چمبل کا چمبل میری پیاسی ہے
٭
آگ لگانے آئے تھے جو میرے گھر
وہ سب چہرے جانے پہچانے نکلے
مندر مسجد کی بنیادیں کانپ اٹھیں
بچّے جب مائوں کو دفنانے نکلے
شہرت کے بھوکے لعشوں کے سوداگر
اخباروں میں خبریں چھپوانے نکلے
شہر میں گویا مر گھٹ کا سناٹا تھا
اپنے کیے پر جب ہم پچھتانے نکلے
ایک خدا کی بستی جل کر راکھ ہوئی
چند محافظ سنگینیں تانے نکلے
ان پر کیسے پورے اتروگے شادابؔ
نئے نئے مذہب کے پیمانے نکلے
٭
ردیفوں قافیوں بحروں سے خون ٹپکے گا
غزل کہوں گا تو لفظوں سے خون ٹپکے گا
ہمارے عہد کی تاریخ جب رقم ہوگی
قلم سے ، حرفوں سے ، صفحوں سے خون ٹپکے گا
لکھوں گا سچ تو کتابیں جلا دی جائیں گی
کروں گا ضبط تو پوروں سے خون ٹپکے گا
اسی طرح سے فسادوں میں گھر جلیں گے اگر
رحیمؔ و تلسیؔ کے دوہوں سے خون ٹپکے گا
لگی جو مہر زبان وبیان پر شادابؔ
اشاروں اور کنایوں سے خون ٹپکے گا
٭
آگ میں خود ہی جل گیا اپنی
غیر کا گھر جلانے نکلا تھا
دفن ہوں آپ اپنے ملبے میں
گھر پڑوسی کا ڈھانے نکلا تھا
٭
اتنے گھر جلتے دیکھے ہیں آنکھوں نے
اپنے گھر میں دیا جلاتے ڈرتا ہوں
٭
کہیں نہ حرمتِ ہمسائیگی پہ حرف آئے
میں اپنے ہاتھ سے اپنا ہی گھر جلادوں گا
نہ ہو کہیں مرے قاتل کو کچھ پشیمانی
چراغ گھر کے سرِ شام ہی بجھا دوں گا
بنے بنائے کھلونے جو توڑ دیتا ہے
میں اُس کو شیشہ گری کا ہنر سکھادوں گا
ہمارے بیچ میں کوئی نہ بھید بھائو رہے
میں اپنے جسم کی دیوار بھی گِرا دوں گا
٭ (یہ بھی پڑھیں شہریار کی غزلوں میں لفظیات کے در و بست – اصغر شمیم)
لگا شادابؔ جب دل پر کچوکا
غزل تخلیق ہونے سے نہ چوکی
٭
عقیل شادابؔ کے تجربات ومشاہدات مختلف شعری استعارات، تلازمات، اصطلاحات او رتمثیلات وغیرہ کے حوالوں سے اپنے زندہ وجُہندہ ہونے کا احساس کراتے دکھائی پڑتے ہیں۔ دراصل علی گڑھ میں زیرِ تعلیم رہتے ہوئے شادابؔ صاحب نے اُن شعراء کی صحبتیں حاصل کیں جن کی شاعری کو تمام دنیائے اردو میں سند کادرجہ ہمہ وقت حاصل رہا۔ اس لئے علی گڑھ کا مجلسی علم اور معاصر رسائل وجرائد کی ورق گردانی نے اُن کے فن شعر گوئی کو ایسی جلا بخشی کہ معاصر غزل گو یوں کی طرح انہوں نے بھی دھوپ، سورج، دھواں، سحر، صحرا، شجر، مٹّی، پانی، دریا، سمندر، آگ، ندی، گھر، آنگن، سنگ، پتھر، پیرہن، زمین ،آسمان، پیکر، جنگل، آئینہ جیسے اشارات ولفظیات کے توسط سے اپنے مافی الضمیر کا مظاہرہ کیا۔
واضح ہوکہ اس روش نے 1960ء کی جدیدیت کی تحریک کے زیراثر زور پکڑاتھا جس کا مدغم یا سنگم مابعدِ جدیدیت کے سمندر میں ہوگیا۔ ترقی پسند تحریک کے خاتمے کے بعد راجستھان میں مذکورہ تحریکات کے تناظر میں ادبی کاشت کاری کرنے والے شعراء میں عقیل شادابؔ کا نام وکلام انفرادی حیثیت کاحامل ہے ۔ متذکرہ استعارات، تمثیلات اور فن کارا نہ افہام وتفہیم کی صراحت ووضاحت عقیل شادابؔ کے درجِ ذیل اشعار کی وساطت سے بھی ہوتی ہے : ؎
اکثر میں نے اک لڑکی کے تصور میں
اوڑھی دھوپ، لپیٹی دھوپ، بچھائی دھوپ
٭
میں نے مانا کہ میں اک ڈوبتا سورج ہوں مگر
اپنے سایے کو میں چھوٹا نہیں ہونے دوں گا
٭
کل جہاں سے دھواں اٹھا تھا شادابؔ
اب وہاں میرا گھر نہیں باقی
٭
شجر جو پھیلا پھلا تھا پڑوس کے گھر میں
عجیب ذائقہ اس کے پھلوں میں تھا شاید
٭
اپنی طغنائی سے میں غرقاب ہوں
مجھ کو صحرا اور سمندر ایک ہے
٭
موافق جب ہوئے دونوں کنارے
چڑھا حالات کا دریا اچانک
٭
نمائش گاہ مٹّی کے کھلونوں کی ہے یہ دنیا
نہ رقصِ چاک تھمتا ہے نہ کوزہ گر بدلتا ہے
٭
منعکس مجھ میں ہیں دونوں عالم
پیکر پیکر داخل خارج
٭
انگنت جلوے ہیں منظر ایک ہے
پیرہن لاکھوں ہیں پیکر ایک ہے
٭
ہر طرف ہے بارشِ سنگِ ہوس
اور میرے دوش پر سر ایک ہے
٭
مٹّی ہمارے پائوں کی ہے آسمان پر
کتنی بلندیوں پہ یہ بستی چلی گئی
٭
جس دن سے وہ چلی گئی اپنے میکے
اس دن سے لگتا ہے جنگل ایسا گھر
٭
یہ پرانا درخت آنگن کا
جھیل پائے گا آندھیاں کتنی
٭
رات ندّی پر نہانے آگئی
سب دِشائوں میں اُجالا ہوگیا
٭
میں اپنے آپ کو کیسے نہ سنگ سار کروں
مرے خلاف مرا دل اگر گواہی دے
٭
اب کے برس بھی پچھلے برس کی طرح زمیں
پانی کو بوند بوند ترستی چلی گئی
٭
کریں تو کیسے کریں پار آگ کا دریا
ندی چڑھے تو کنارے بھی ڈوب جاتے ہیں
٭
اُس بدن کی کتاب میں اکثر
میری قربت کا اقتباس آئے
٭
شاذ و نادر ملیں گے دل سے دل
ملنے کو گھر سے گھر ملیں گے بہت
٭
قد و قامت دیکھ کے دھوکا مت کھا جانا
ڈھلتے سورج کے سایے لمبے ہوتے ہیں
٭
واقعاتِ کربلا کاتذکرہ ہر عہد میں شعرائے کرام کا موضوعِ خاص رہا ہے۔ بعض شعراء نے مستقل مراثی تخلیق نہیں کئے لیکن انہوں نے اپنی غزلیہ شاعری کے حوالے سے گاہے بہ گاہے یا اکثر وبیشتر سانحۂ کربلا کو سانحۂ انسانیت وروحانیت کے بطور تمثیلی اور استعاراتی عمل میں دوہرانے یا یوں کہئے کہ برتنے کا فریضہ انجام دیا۔ یہ روایت سینہ بہ سینہ ہم تک پہنچی ہے ۔ یہ معلوم ہے کہ عقیل شادابؔ گوکہ روایتی شاعر نہیں تھے لیکن صالح اقدار اور روایتوں سے کسبِ فیض ضرور کرتے تھے، تاہم ’’بے آب سمندر‘‘ کی اکثرغزلیات میں واقعاتِ کربلا سے متعلق ایسے اشعار مل جاتے ہیں جن میں ایک طرف امام عالی مقام اور شہدائے کربلا کے تئیں جذبۂ عقیدت ومحبت موجزن ہے تو دوسری طرف اپنے گرد ونواح اور قرب وجوار کی فساد زدہ فضائوں اور روایتوں پرمرثیہ خوانی کا طرزِ عمل بھی موجود ہے۔ بعض اوقات اُن کا استعاراتی نظام اپنے عہد کی افراتفری اور طوائف الملکی نیز یہ کہ ابتری وزوال آمادہ صورتِ حال وکیفیت کے پیشِ نظر حاکمِ وقت کو بابانگِ بلندیزیدِپلید سے تشبیہ دینے پر بہ وجود مجبوری آمادہ ہوجاتا ہے۔ ذیل میں چند اسی قبیل کے اشعار زیرِ بحث مجموعۂ کلام سے منقول ہیں : ؎
ناگ پھنیوں کی سیاست کر رہا ہوں
کیوں یزیدوں کی حمایت کر رہا ہوں
کرب کیوں بھولا ہوا ہوں کربلا کے
کس لئے انکارِ بیعت کر رہا ہوں
٭
باپ دادا کی وراثت کے لئے
گھر کا آنگن کربلا لگنے لگا
٭
حق پرستی وغارت گری کی لت نہ گئی
یزید مر گیا لیکن یزیدیت نہ گئی
٭
بناتِ زینب وزہرا کی آزمائش میں
اُنہیں یزید کا دربار بھی عطا کردے
٭
کچھ یزیدوں کی مہربانی سے
ہو گیا شہر کربلا کی طرح
٭
ہم ایسے لوگوں سے پوچھو حیات وموت کافرق
یزیدیوں میں جوابنِ بتول بن کے رہے
٭
اک روشن تاریخ بنانی پڑتی ہے
ہر پیاسا تو امام نہیں ہوتا جاناں
٭
یزید وحُر ملا وشمر کے مقابل میں
ہمیں حسین کا کردار بھی عطا کردے
٭
مبادا جنگ کا اعلان ہم نے
کوئی جیتے کہ ہارے کردیا ہے
کسی نے ہار کر اعلانِ بیعت
کسی نے ڈر کے مارے کر دیا ہے
٭
یہی ہے ایمان کی کسوٹی
پلٹ کے شہادت کی طرف آ
٭
عقیل شادابؔ کی شاعری سرقہ وتوارد سے بَری ہونے کے باعث انفرادی ہونے کے ساتھ ساتھ افادی ہونے کا اعزاز بھی رکھتی ہے ۔ یہ وہ شاعری ہے جس پر کسی کو رانہ تقلید کا لیبل چسپاں نہیں ہوتا۔ یہ بات الگ ہے کہ اُن کے اکثر معاصر شعراء نے قدامت وروایت کی پگڈنڈیوں کو چھوڑ کر جدّت طرازی کی شاہراہوں پر اپنا شاعرانہ سفر کرتے ہوئے اسی سے ملتا جلتا لب ولہجہ اختیار کیا اور تبدیلیوں او رتغیرات سے چشم پوشی کے بجائے اُن کا خیر مقدم کیا۔ عقیل شادابؔ نے انہیں شعراء کے ہمراہ مسافتِ سخن کاکارواں آگے بڑھایا ، تاہم اُن کی شاعری میں لفظوں کا عرفان جذبات واحساسات کاطوفان بن کر نہیں بلکہ چمبل کی چنچل لہروں کی طرح رواں دواں روش اختیار کیے ہوئے نظرآتا ہے ۔ اور حق تو یہ ہے کہ اسی روش نے انہیں نہ صرف ہندوستان بلکہ برِّصغیر کے ادبی حلقوں میں شہرت ومقبولیت دلائی ہے ۔آئیے اب اُن اشعار سے بھی روبرو ہولیاجائے جنہوں نے شادابؔ صاحب کے گلشنِ سخن کی آبیاری وسیرابی کافریضہ انجام دیا۔ شاید ہی کسی ناقد کو اس بات سے انکار ہوکہ شاداب کی ادبی پہچان قائم کرانے میں یہ شعری تخلیقات ممدومعاون ثابت ہوئیں۔ یعنی : ؎
سارے سایے سمٹ سمٹ کر سورج میں تحلیل ہوئے
میرے اندر سے جب کوئی سایہ سایہ چلّایا
٭
یہ سچ ہے میرا روایت پہ انحصار نہیں
لکیر پیٹتے رہنا مرا شعار نہیں
٭
میں نے جس کے لئے چھپوائی غزل
اُس کو دلچسپی ادب سے کم ہے
٭
اب تو لہجے کا بھی دم گھُٹنے لگا
کیسی پابندی لگی اظہار پر
٭
یہ کیسا شور شرابہ ہے میرے آنگن میں
یہ لوگ بیچ میں دیوار کیوں اُٹھاتے ہیں
٭
اُس کے دستِ حنائی پر میری
انگلیوں کا دبائو روشن ہے
٭
دھوپ کے دشت بے اماں میں کبھی
موم کے گھر نہیں ہوا کرتے
٭
دیمک چاٹ چُکی ہے مجھ کو اندر تک
درج میں پھر بھی خواہش کے صفحے میں ہوں
٭
جانے پڑھ کر اُس کے دل پر کیا گزرے
شعر میں شادابؔ سماتے ڈرتا ہوں
٭
بڑھ کر اُسے صحراؤں نے سینے سے لگایا
ندیا وہ سمندر سے جو ملنے کو چلی تھی
٭
کس پہ کرو شادابؔ بھروسہ
آئینہ بھی بے چہرہ ہے
٭
کب سے بجھی ہوئی ہے مری مشعلِ وجود
اپنے بدن کی آگ سے روشن کرو مجھے
٭
مِٹّی، کستوری، صندل اور تلسی کی مہک سے معطر عقیل شادابؔ کی شاعری نے اذہان کو ہمیشہ تروتازگی بخشی اور ایسی فضا ہموار کی جودلوں کو کدورت سے صاف وشفاف کرنے کامطالبہ کرتی ہے ۔ انہوں نے سلیقے مندی سے اپنے اندازِ خاص میں کہا ہے کہ : ؎ ( یہ بھی پڑھیں سلطان اختر: غزل کے قصر میں شاید ہو آخری آواز [حصّہ اوّل] – ڈاکٹر صفدر امام قادری )
بسی ہوئی ہے تلسی کی خوشبو گھر میں
رچا ہوا ہے روپ سلونا ماٹی کا
کستوری سی مہک رہی ہے چاروں اور
چھان رہا ہوں کونا کونا ماٹی کا
٭
زلف جھرنے کی طرح، جسم ہے صندل کی طرح
ایک جادو ہے ترے حسن میں جنگل کی طرح
٭
تنہا پیڑ ہوں میں شادابؔ بیاباں میں
گھرا ہوا سانسوں میں صندل ہے اپنا
٭
’’بے آب سمندر‘‘ کی غزلیات بے اثر، بے رونق، بے زیب وزینت اور بے راہ وروی کاشکار نہیں ہیں۔ یہ غزلیات اُس وقت تخلیقی عمل سے گزریں جب خطۂ راجستھان کے اکثر وبیشتر شعراء ’’جدیدیت‘‘ کو ایک وبا سمجھ کر اس سے فاصلہ گھٹانے او ر قربت بڑھانے میں کشمکش اور تذبذب محسوس کررہے تھے لیکن عقیل شادابؔ کے فکروعمل پر علامہ اقبالؔ کایہ فرمان صادق آتا ہے کہ ’’بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق‘‘ آمدم برسرِ مطلب ’’بے آب سمندر‘‘ کی تخلیقات محض خام خیالی پر مبنی نہ ہوکر حقیقت ،صداقت اورارضیت سے گہرا تعلق رکھتی ہیں اور اسی لئے اُنہیں فکر وفن اور شعر وسخن کی معراجِ کمال کادرجہ واعزاز حاصل ہے ۔
Dr. Moinuddin Shaheen (M. 7850921002)
Associate professor Urdu
S.P.C. Govt. College, Ajmer
305001 (Rajasthan)
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

