جب دنیا بنی تو بولیوں نے بھی ساتھ ہی ساتھ جنم لیا۔ لیکن اس وقت کوئی زبان وجود میں نہیں آئی۔ زبان انسان کے آغاز کے بہت برسوں بعد تحریر کی ابتدا کے ساتھ وجود میں آئی۔ اور یہ سبھی جانتے ہیں کہ لکھنے کا عمل کیسے شروع ہوا اور کس طرح ارتقا کرتے ہوئے اس شکل میں پہنچا جہاں آج ہے۔ آج رسم الخط نہ صرف اردو بلکہ دنیا کی تمام زبانوں کی نہ صرف شناخت ہے بلکہ ان کی جان اور ان کا وجود اسی رسم الخط کی بنا پر ہے۔
اس معاملے پر آگے گفتگو کرنے سے پہلے اس پر غور کرلینا ضروری ہے کہ رسم الخط کیا ہے اور یہ کیسے تشکیل پاتا ہے۔ انسان نے جب احساسات و ادراکات اور باتوں کی ترسیل کا عمل شروع کیا تو اسے سب سے پہلے بولی کی ضرورت پڑی۔ بولی کیا ہے؟ بولی کچھ خاص آوازوں کا مجموعہ ہے۔ اسے آسان زبان میں یوں سمجھیں کہ جتنے بھی حروف ہیں وہ ایک خاص آواز کے حامل ہیں اور آپ اپنی زندگی میں جتنی بھی باتیں کرتے ہیں وہ انھیں مخصوص آوازوں کا مجموعہ ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جغرافیہ کے اختلاف کے ساتھ زبانوں میں حروف کی تعداد بھی مختلف ہوتی ہے۔ جس علاقے میں آواز کی زیادہ شکلیں پائی جاتی ہیں وہاں کی زبان میں بھی زیادہ حروف پائے جاتے ہیں اور جہاں کے لوگ کم طرح کی آوازیں نکالنے پر قادر ہوتے ہیں وہاں کی زبان میں کم حروف ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر عرب والوں کے یہاں ’’پ‘‘، ’’ٹ‘‘، ’’چ‘‘، ’’ڈ‘‘، ’’ڑ‘‘، ’’گ‘‘ وغیرہ کی آوازیں نہیں ہیں لہذا یہ حروف بھی ان کی زبان کا حصہ نہیں ہے۔ وہ ان آوازوں کے نکالنے پر کیوں قادر نہیں ہیں، یہ معاملہ سراسر جغرافیائی ہے۔ کیوں کہ اس جغرافیے کی آب و ہوا کا اثر زبان اور اس کے متعلقات پر پڑتا ہے اور اسی سبب سے علاقوں کے اختلاف کے ساتھ ساتھ انسان کا ڈھانچہ بھی مختلف ہوتا جاتا ہے۔ اور ڈھانچے کے مختلف ہونے کے سبب اس کی صلاحیتوں میں بھی تبدیلی واقع ہوتی ہے اور اس کے بولنے یا آوازیں نکالنے کا عمل بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہے۔ اس کے مزید مطالعے کے لیے جغرافیائی اثرات سے متعلق کتابوں کا مطالعہ کرنا بہتر ہوگا، یہاں اس کا تفصیلی ذکر ممکن نہیں۔ جب یہ واضح ہوگیا کہ حروف بذاتِ خود کوئی وجود نہیں رکھتے ہیں بلکہ وہ صرف ان خاص آوازوں کا مجموعہ ہیں جن آوازوں کے نکالنے پر ایک خاص علاقے کے لوگ قادر ہیں اور وہاں کےلوگ انھیں آوازوں میں تھوڑے بہت رد و بدل یا ان کی مختلف ترتیب کے ذریعے ایک دوسرے تک اپنی بات پہنچاتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ آوازوں کے کسی مجموعے کا کیا معنی ہے یہ کیسے مقرر کیا جاتا ہے؟ اس کا جواب تقریباً سبھی جانتے ہیں کہ جتنے بھی ترسیلی ذرائع ہیں وہ ایک طرح کے سماجی سمجھوتے کی بنیاد پر تشکیل پاتے ہیں۔ اس کی ہزاروں مثالیں ہیں، ایک عام مثال یوں لے سکتے ہیں کہ ایک خاص علاقے کے لوگوں نے شعوری یا لاشعوری طور پر ایک سبزی کو ’’کدّو‘‘ کہنا شروع کردیا تو وہاں اگر کسی نے اسی سبزی کو ’’لوکی‘‘ بول دیا تو اسے سمجھنے میں وہاں کے بعض لوگوں کو دقت ہوسکتی ہے۔ کیوں کہ وہ جس سماجی سمجھوتے سے واقف ہیں اس نے اس سبزی کا نام ’’کدو‘‘ رکھا ہوا ہے۔ لہذا نہ صرف زبان بلکہ ترسیل کا کوئی بھی ذریعہ سماجی سمجھوتے کی بنیاد پر ہی قائم ہےاور اسی سمجھوتے کے تحت ان آوازوں کے مجموعوں کے معنی متعین ہوتے ہیں۔ (یہ بھی پڑھیں لغت نگاری کے چند مسائل اور مہذب اللغات – ڈاکٹر محضر رضا )
تو بات چل رہی تھی کہ رسم الخط کیسے وجود میں آتا ہے۔ جب ابتدا میں انسان نے ترسیل کے لیے ایک بولی بنائی اور کچھ خاص آوازوں کے مختلف مجموعوں پر سماجی سمجھوتہ کرلیا کہ ان کے معنی یہ ہیں تو اس کے بعد کا مرحلہ یہ آیا کہ گزرتے وقت کے ساتھ اسے کچھ باتوں کو لکھنے کی ضرورت بھی پڑی۔ اب اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے اس نے یہ کیا کہ جن مخصوص آوازوں کے مجموعے کی مدد سے اس نے بولی کو جنم دیا تھا ان آوازوں کو ایک شکل بھی دے دی۔ انھیں شکلوں کو ہم حروف کے نام سے جانتے ہیں۔ آپ غور کریں تو پائیں گے کہ حروف بذات خود کوئی وجود نہیں رکھتے بلکہ وہ آوازوں کے لیے ایک نشان کا کام انجام دیتے ہیں۔ ’’ب‘‘ جہاں یہ نشان نظر آئے گا وہاں آپ سمجھ جائیں گے کہ آپ کو ’’با‘‘ کی آواز نکالنی ہے۔ اسی طرح تمام حروف۔ تو معلوم یہ ہوا کہ جب انھیں ترسیل کے لیے بولنے کے علاوہ دیگر ذرائع بنانے پڑے تو انھوں نے تحریر کو بھی ایک ذریعہ بنایا اور جن مخصوص آوازوں سے بولی کی تشکیل کی تھی انھیں آوازوں کو ایک شکل دے دی اور ان شکلوں کی مدد سے ترسیل کا کام انجام دیا۔ یہی وجہ ہے کہ کسی بھی زبان کا عمل بولی بننے سے ہی شروع ہوتا ہے۔ کوئی بھی زبان ابتدا سے ہی زبان نہیں ہوتی بلکہ کوئی ایک بولی بعد میں ترقی کرکے زبان بنتی ہے۔ اور زبان اور بولی کا واحد نمایاں فرق رسم الخط ہی ہوتا ہے۔
اب جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ رسم الخط کسی بھی زبان کی تحریری شکل کا نام ہے۔ لہذا ایک رسم الخط کا اس زبان اور اس کے بولنے والوں سے کیا رشتہ ہوتا ہے ،رسم الخط کے بغیر زبان کا وجود کیوں نہیں ہوتا اور رسم الخط کی تہذیبی اہمیت کیا ہے، اس پر غور کرنا ضروری ہے۔ جب ہم حروف پر غور کرتے ہیں تو پاتے ہیں کہ ہر زبان کے جو حروف ہیں ان میں ان کی تہذیب کے یا علاقے کے کچھ خاص نشانوں کو ہی تھوڑی سی تبدیلی اور رد و بدل کے ساتھ آوازوں کا نشان بنانے کے لیے چنا گیا ہے۔ جیسے عربی زبان کے زیادہ تر حروف کی شکل میں ’’آدھے چاند‘‘ کو آپ غور کرنے پر ڈھونڈ سکتے ہیں۔ اسی طرح انگریزی کے حروف پر غور کریں تو آپ پائیں گے ان میں کہیں نہ کہیں مکمل یا جزوی یا بہت ہی استعاراتی شکل میں ’’صلیب‘‘ کا نشان موجود ہوتا ہے۔ اسی طرح اگر آپ ہندی کے حروف کو غور سے دیکھیں تو بھی آپ کو ہندوستانی تہذیب کے دیوی دیوتاؤں کی شیبہ مل سکتی ہے۔ یہ جھلک اتنی واضح کبھی نہیں ہوتی کہ بالکل صاف نظر آجائے، بلکہ آوازوں کو شکل دینے والے اپنی تہذیب کے ان نشانوں میں تبدیلی کرکے اسے منفرد بنا کر پیش کرتے ہیں۔ لیکن اگر آپ غور کریں گے تو پائیں گے کہ ان کی بنیاد تو بہر حال ان کی تہذیب کا کوئی خاص نشان ہی ہوتا ہے۔ اور جب ان آوازوں کے نشان تشکیل پا جاتے ہیں تو سماج ان پر سمجھوتہ کر لیتا ہے اور اس طرح یہ بھی ترسیل کا ایک ذریعہ بن جاتے ہیں۔ اور آوازوں کو شکلیں دینے کا یہ عمل بہت سے دور دیکھتے ہوئے، جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ پہلے حروف کی شکل کسی چیز کی تصویر ہوتی تھی جیسا کہ پرانے زمانے کے کتبوں میں دیکھا جاسکتا ہے، یہاں تک پہنچا ہے۔
اب رہی بات الگ الگ جگہوں پر الگ الگ زبانیں اور رسم الخط بننے کی، تو یہ بات ہر ذی فہم جانتا ہے کہ پوری دنیا کا کسی ایک سمجھوتے پر متفق ہوجانا امرِ محال ہے۔ لہذا انسانوں کے الگ الگ گروہوں نے جتنے سمجھوتے کیے اتنی ہی زبانیں اور رسم الخط وجود میں آئےاور دنیا کے بڑھنے کے ساتھ نئی نئی زبانیں بھی وجود میں آئیں۔ اب رہا سوال یہ کہ زبانوں کا تشکیلی عمل اگر کسی خاص تہذیب اور خاص علاقے کے ساتھ ہی خاص ہے تو ایک ہی جغرافیائی علاقوں میں زمانے کی تبدیلی کے ساتھ نئی نئی زبانیں کیسے وجود میں آئیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ زبانوں کی تشکیل کا عمل دو صورتوں میں ہوتا ہے۔ ایک تب جب پرانی تہذیب مکمل طور پر نیست و نابود ہوجاتی ہے، اور ایسا ممکن ہے کہ ایک ہی علاقےمیں ایک وقت کوئی تہذیب رہی ہو اور کسی قدرتی آفت یا بلا کی وجہ سے اس تہذیب کی مکمل تباہی کے بعد نئی تہذیب وجود میں آئی ہو۔ لہذا ایک ہی تہذیب میں زمانے کے سرد و گرم کے سبب دو یا زیادہ زبانوں کا پایا جانا بھی بعید نہیں۔ زبانوں کی تشکیل کا دوسرا عمل یہ ہے کہ جب ایک علاقے اور تہذیب کے لوگ کسی دوسرے علاقے میں جاتے ہیں تو ان کے لیے وہاں کی زبان سمجھنا اور وہاں کے لوگوں کے لیے ان کی زبان سمجھنا ممکن نہیں ہوتا، لہذا ایک عرصے میں وہ دونوں آپس میں سمجھوتا کرکے آوازوں کا ایک نیا مجموعہ اور ان کی شکلیں ترتیب دیتے ہیں، جس کے ذریعے ان دونوں میں ترسیل کا عمل آسان ہوجائے اور اس طرح ایک نئی زبان وجود میں آتی ہے۔ اس کو سمجھنے کے لیے کسی بڑی دلیل کی ضرورت نہیں بلکہ دنیا کی زبانوں کی تاریخ کے مطالعے سے کوئی بھی ذی فہم انسان اس کو آسانی سے سمجھ سکتا ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ بعض زبانوں کے حروف میں دو تہذیبوں کے نشان بھی مل جاتے ہیں۔ (یہ بھی پڑھیں ناقدین کے عجائب خانوں کاقیدی:میراجی- پروفیسر ابوبکرعباد )
مذکورہ بالا تمام باتوں سے ایک بات واضح طور پر سامنے آتی ہے کہ زبان اور رسم الخط کا تعلق سراسر تہذیب سے ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ تہذیب اور زبان کی بقا کس چیز میں ہے۔ جب ہم اس پر غور کرتے ہیں تو پاتے ہیں کہ کسی بھی تہذیب یا زبان کی بقا اس کی ٹھوس باقیات پر ہی منحصر ہے۔ ایسی بہت سی تہذیبیں ہیں جو آج ناپید ہیں لیکن ان کے بارے میں ہم بخوبی جانتے ہیں۔ اور یہ جانکاری ہمیں ان کی ٹھوس باقیات سے ملتی ہے۔ جیسے ان کے محلات، ان کے کتبے یا ان کے ساز و سامان، جو ہمیں کھدائیوں کے دوران دستیاب ہوتے ہیں۔ لہذا آسانی سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ کسی بھی تہذیب اور زبان کی بقا اس کی ٹھوس شکلوں یا باقیات پر ہی منحصر ہے اور انھیں کی وجہ سے وہ تہذیب یا زبان نیست و نابود ہونے کے باوجود جزوی طور پر ہی سہی زندہ رہتی ہے۔
جب ہم یہ بات جان چکے ہیں کہ زبان اور تہذیب کی بقا ٹھوس شکل میں ہی ہوسکتی ہے اور ہم یہ بھی جان چکے ہیں کہ زبان کی ٹھوس شکل اس کا رسم الخط ہی ہوتا ہے، کیوں کہ آواز کوئی ٹھوس یا مرئی شے نہیں ہےاور یہی وجہ ہے کہ زبان کو بولی پر فوقت حاصل ہے اور زبان کی زندگی بولی کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہوتی ہے، لہذا ان تمام نکات کو سامنے رکھتے ہوئے یہ بات بھی بخوبی واضح ہوجاتی ہے کہ کسی بھی زبان کی بقا اس کے رسم الخط پر ہی منحصر ہے اور رسم الخط کے بغیر زبان کا وجود ہزاروں بولنے والوں کے باوجود ناقص اور جزوقتی ہے۔
اب ہم اپنے اصل مضمون کی طرف آتے ہیں کہ اردو رسم الخط کے تعلق سے کیا غلط فہمیاں ہیں، کیا خوش فہمیاں ہیں اور کیا نافہمیاں ہیں۔ موجودہ دور میں ہم دیکھ رہے ہیں کہ اردو زبان کو رومن اور دیوناگری رسم الخط میں لکھنے کو فروغ دیا جارہا ہے۔ بہت سے لوگ اس کی حمایت میں ہیں اور بہت سے لوگ اس کی مخالفت میں۔ میرا شمار آپ بلاجھجک آخرالذکر لوگوں میں کرسکتے ہیں۔اور یہ کوئی نئی بات نہیں ہے،بلکہ اس کی شروعات فورٹ ولیم کالج کے للّو لال جی سے ہی ہوجاتی ہے اور پھر سرسید اور بھارتیندو ہریش چندر و راجہ رام موہن رائے سے ہوتے ہوئے گاندھی اور مولوی عبد الحق تک پہنچتی ہے اور آج بھی اسی طرح جاری ہے۔ اس حوالے سے مزید گفتگو پھر کبھی، اس وقت میں اس تعلق سے بس کچھ بنیادی باتیں پیش کرنا چاہتا ہوں، لیکن اس سے پہلے میں اس کے تعلق سے جو مختلف بیانیے ہیں ان پر اپنی رائے پیش کردینا بہتر سمجھتا ہوں۔ (یہ بھی پڑھیں لسانی تاریخ نویسی اور محمود خاں شیرانی (’پنجاب میں اردو‘کے حوالے سے) – پروفیسر مرزا خلیل احمد بیگ )
سب سے پہلے تو اردو زبان کو دوسری رسم الخط میں لکھنے کے حامیوں کی دلیل یہ ہوتی ہے کہ اس طرح وہ دوسرے لوگوں تک زیادہ پہنچ سکتے ہیں۔ گستاخی معاف، لیکن یہ دلیل دینے والوں کے ظرف پر مجھے شک ہونے لگتا ہے اور ان کی علمیت پر بھی۔ وہ نہ جانے اس غلط فہمی یا خوش فہمی میں کیوں مبتلا ہوجاتے ہیں کہ دوسرے لوگوں تک ان کی بات پہنچنا ضروری ہے اور ان کی بات اتنی اہم ہے کہ دوسروں تک نہ پہنچی تو خدانخواستہ بڑا نقصان ہوجائے گا۔ یہاں ایک بات یہ بھی آتی ہے کہ ہمارے کچھ جاننے والے اردو رسم الخط سے واقف نہیں لہذا ہمیں دوسری رسم الخط میں لکھنا مناسب لگتا ہے تاکہ ان تک بھی یہ بات پہنچ جائے۔ اب اگر آپ اس بات پر غور کریں تو اس کے دو پہلو سامنے آتے ہیں جن سے ایسے لوگوں کے تعلق سے عجیب صورتِ حال نظر آتی ہے۔ ایک تو یہ کہ آپ نے اپنے ’’کچھ‘‘ جانکاروں تک اپنی بات پہنچانے کے لیے اس رسم الخط کو چھوڑ دیا جس سے آپ کے ’’اکثر‘‘ جانکار واقف ہیں۔ دوسری خرابی اس میں یہ ہے کہ اگر آپ نے اپنے ’’کچھ جانکاروں‘‘ کے لیے رومن یا دیوناگری رسم الخط کو اپنایا ہے تاکہ ان ت پہنچ سکیں تو اس عمل سے آپ کے ’’کچھ‘‘ ایسے جانکار آپ کی بات تک پہنچنے سے محروم ہوجائیں گے جو ان دونوں رسم الخط سے واقف نہیں ہیں اور ایسے لوگوں کی تعداد بھی کافی ہے۔ لہٰذا بہر دو صورت آپ اپنی بات یا اپنا کلام سب تک پہنچانے سے تو رہے اور یہ ممکن بھی نہیں۔ یہ ایک امرِ محال ہے کہ ہر انسان تک آپ کی بات پہنچ جائے یا پہنچنا ضروری ہو۔ لہذا معاملہ یہ ہوتا ہے کہ نہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم۔ سب سے پہلے تو ہمیں اس خوش فہمی یا غلط فہمی سے نکلنے کی ضرورت ہے کہ ہم سب تک اپنی بات پہنچا سکتے ہیں یا ایسا کرنا ضروری ہے۔ رہی بات کچھ عزیزوں کی تو آپ اپنے عزیزوں کے لیے اتنا تو کرہی سکتے ہیں کہ ان کو الگ سے ذاتی طور پر وہ جس رسم الخط سے واقف ہیں اس میں اپنی بات لکھ بھیجیں اور از راہِ محبت یہ ترغیب بھی دے دیں کہ جانی! تمھیں اگر میری باتیں اتنی ہی پسند ہیں تو تھوڑی کوشش کرکے میری رسم الخط بھی سیکھ لو۔ یہ سونے پہ سہاگہ ہوگا۔ (یہ بھی پڑھیں تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول (
پھر ایک گروہ کی دلیل یہ ہوتی ہے کہ آپ رسم الخط پر زور دے کر تعصب کو بڑھاوا دے رہے ہیں۔ ہندی اور اردو دو بہنیں ہیں ان میں کوئی تفریق نہیں کی جانی چاہیے ، آپ ایک زبان کے لیے دوسری زبان کو رد نہیں کرسکتے، آپ اردو کی محبت میں ہندی سے نفرت کر رہے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔ اگر کوئی ذی فہم ان باتوں پر ٹھنڈے دماغ سے غور کرے تو مجھے یقین ہے کہ اسے ان باتوں پر ہنسی آجائے گی۔ چلیے میں آپ سے ایک سوال کرتا ہوں۔ آپ کی دو بچیاں ہیں اور دونوں سگی بہنیں ہیں۔ ان میں سے ایک نے شلوار سوٹ پہننے کو چنا ہے اور ایک نے جینس اور ٹوپ۔ آپ نے دونوں کی باتوں کو منظور کرلیا۔ اب کسی دن ایسا ہو کہ آپ کی شلوار سوٹ والی بیٹی کو کوئی جینس اور ٹوپ پہنا دے، جس میں وہ خود کو مطمئن محسوس نہ کرے، اور آپ کی جنیس ٹوپ پہننے والی بیٹی کو شلوار سوٹ پہنا دے جو اس کی شخصیت کے منافی ہے، تو آپ کو کیسا لگے گا؟ اور پھر اگر اس پر آپ کی بیٹیوں میں سے کوئی بیٹی اعتراض کرے تو کیا آپ کا یا کسی اور کا یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اس کو اپنی دوسری بہن سے محبت نہیں ہے؟
اردو اور ہندی کا معاملہ بھی یہی ہے۔ ان دونوں سگی بہنوں کو الگ الگ طرح کا لباس پسند ہے اور یہ دونوں خود کو اسی لباس میں پسند کرتی ہیں۔ زبردستی ان کا لباس تبدیل کرنے سے ان کے حسن میں خرابی واقع ہوجاتی ہے اور ان کی شخصیت بھی پژ مردگی کا شکار ہوجاتی ہے۔ لہذا سب سے پہلے تو یہ بات اپنے ذہن سے نکالیں کہ دو بہنوں میں سے کسی ایک کی پسند کی حمایت کا مطلب دوسری سے نفرت نہیں ہوتا ہے۔ اور پھر یہ بات بھی ذہن نشیں رکھیں کہ جب دونوں کو الگ الگ لباس پسند ہے تو بس ’’زبردستی‘‘ اور دکھاوے کی محبت کے لیے دونوں کو ایک لباس پہنانا، دونوں کے لیے ہی یکساں نقصان دہ ہے۔ اور یہ معاملہ اس وقت اور بھی پیچیدہ ہوجاتا ہے جب وہ دونوں سگی بہنیں جڑوا بھی ہوں۔ جیسا کہ ہندی اور اردو جڑوا بہنیں ہیں، کہ دونوں آواز اور الفاظ کی سطح پر بڑی حد تک ایک دوسرے کے مشابہ ہیں۔ لہذا ان جڑواں بہنوں کی شناخت کا کوئی تو ذریعہ ہونا ہی چاہیے ورنہ خود باپ بھی کنفیوژ ہوجائے گا کہ کون اردو ہے اور کون ہندی۔ لہذا ایک خطِ امتیاز دونوں کی منفرد شناخت اور دونوں کی مستحکم بقا کے لیے نہ صرف ضروری ہے بلکہ محبت کا تقاضہ بھی ہے۔
اب مسئلہ یہ آتا ہے کہ اردو شاعری یا ادب پسند کرنے والی بڑی تعداد ایسی بھی ہے جو اردو رسم الخط سے واقف نہیں لہذا ان کے لیے ہمیں ان کا رسم الخط اختیار کرنا پڑتا ہے۔ اس تعلق سے میرا سب سے بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا وہ بھی ایسا سوچتے ہیں کہ ہندی ادب کو پسند کرنے والی بڑی تعداد ایسی بھی ہے جو دیوناگری رسم الخط سے واقف نہیں لہذا وہ اسے ان کے لیے اردو رسم الخط میں لکھیں۔ اور اگر لکھ بھی دیں تو اس کی شکل کا کیا کباڑا ہوجائے گا اس کا اندازہ لگانا بھی مشکل نہیں ہے۔ لہذا ہم اس احساس کمتری کا شکار کیوں ہیں یا تھوڑے اچھے لفظوں میں کہیں تو ہم اس ’’یک طرفہ‘‘ محبت کا شکار کیوں ہیں۔ بھئی ایک دو لوگ ایسا کریں تو ٹھیک ہے لیکن پوری کی پوری ایک جماعت کا ’’یک طرفہ‘‘ محبت کا شکار ہوجانا خود محبت کے لیے ہی نقصان دہ ہوجائے گا۔ میرا معاملہ یہ ہے کہ میں نے اپنی زندگی کا ابتدائی حصہ مدرسوں میں گزارا ہے۔ مجھے اس وقت کہانیاں پڑھنے کا بہت شوق تھا۔ اردو کی جتنی کہانیاں مجھے دستیاب تھیں انھیں پڑھنے کے بعد ہندی کہانیوں کی طرف بھی دلچسپی ہوئی۔ تو میں نے مدرسے میں رہتے ہوئے اپنے ماموں سے ٹیوشن پڑھ کر کچھ دنوں میں ہندی رسم الخط سیکھی اور آج میں ہندی رسم الخط میں پڑھ بھی سکتا ہوں اور لکھ بھی سکتا ہوں، حالاں کہ نہ یہ میری مادری زبان ہے نہ اس زبان میں میں نے کبھی تعلیم حاصل کی نہ کسی سے سنی نہ بولی۔ لیکن چوں کہ مجھے اس زبان کے ادب سے دلچسپی ہوئی تو میں نے پڑھنے اور لکھنے لائق اس کے رسم الخط کو سیکھا۔ تو کیا میں بھی اپنے پسند کرنے والوں سے اتنی امید اور بجا امید نہیں رکھ سکتا کہ وہ میری زبان کے ادب کو پسند کریں تو اس کے رسم الخط کو بھی سیکھنے کی پرخلوص کوشش کریں، یہ نہ کریں کہ اس کی شکل ہی بدل دیں اور اسے اپنے رنگ میں رنگ کر پڑھیں، جہاں اس کا لطف تو انھیں مل جائے گا مگر اس کی روح نہیں۔
آخر میں اس تعلق سے میں اپنی رائے مختصراً یہ پیش کرنا چاہتا ہوں کہ ہم ہندوستان کے باشندے ہیں جہاں مختلف تہذیبیں اور زبانیں ہیں اور ہر تہذیب اور ہر زبان کے فرد کو اپنی تہذیب سے محبت ہے اور وہ اس کی توسیع و بقا کا خواہش مند ہے اور یہ خواہش فطری بھی ہے۔ اس کی اس خواہش کو ہم دوسری تہذیبوں سے نفرت کا نام نہیں دے سکتے ہیں۔ ایسا کرنا خلاف فطرت اور نہایت احمقانہ عمل ہوگا۔ لہٰذا مجھے بھی اپنی زبان کو اس کے تمام تر حسن کے ساتھ دیکھنا پسند ہے اور میں اس کی بقا چاہتا ہوں۔ اور جیسا کہ میں اوپر بتا چکا ہوں کہ زبان کی بقا بہر صورت اس کے رسم الخط پر ہی منحصر ہے۔ رسم الخط ہی اس کی شناخت ہے اور اس کے حسن کا امتیازی وصف ہے۔ لہذا مجھے ہندی دشمن یا معتصب کہنے سے پہلے آپ ایک بار ٹھنڈے دماغ سے اپنی تہذیب، اپنی شناخت اور اپنی بقا کے معاملات پر غور کریں اور ایمانداری کے ساتھ بتائیں کہ کیا اردو کو اردو رسم الخط میں لکھنے کا تقاضا کرنا مناسب ہے یا نہیں؟ اور کیا اردو تہذیب کی بقا ہندوستان کی تہذیبی رنگا رنگی کا اہم عنصر ہے یا نہیں؟ اور کیا ہم پر نہ صرف اہل زبان ہونے بلکہ ایک ہندوستانی ہونے کے طور پر بھی اس کی بقا کی فکر کرنا اور اس کے حسن کو برقرار رکھنا لازم ہے یا نہیں؟
میرا ماننا تو یہ ہے کہ میں اپنی شناخت کا سودا کرکے سولوگوں کا منظورِ نظر بننے کے بجائے اپنے امتیازی وصف کےساتھ سب کا معتوبِ نظر بننا پسند کروں گا۔
سفیر صدیقی
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

