کسی زبان کی وسعت اور قوت کا اندازہ اس کے سرمایۂ الفاظ سے لگایا جاسکتا ہے۔ اگر اس زبان میں ہر موقع، محل کے لحاظ سے جذبات و احساسات کی ترجمانی اور علمی و تکنیکی مطالب کے بیان کے لیے مناسب سرمایۂ الفاظ موجود ہے تو ہم اس زبان کو ترقی یافتہ زبانوں میں شمار کرسکتے ہیں۔ کسی زبان میں یہ سرمایہ موجود ہے یا نہیں ،یا اس کا سرمایۂ الفاظ کس نوعیت کا ہے ان معلومات کو حاصل کرنے کا موثرٔ ذریعہ لغت ہے۔لغت کے ذریعہ ہم زبان کے سرمایۂ الفاظ کی کمیت وکیفیت دونوں کا باریکی سے مطالعہ کرسکتے ہیں۔ماہرین لسانیات نے اس شعبے کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ علم اللغات (Laxicology) اور لغت نویسی (Laxicography) اردو میں لغت نویسی کے تعلق سے تو کام ہوا ہے لیکن علم اللغات کے تعلق سے خاطر خواہ مواد سامنے نہیں آیا۔
اردو لغت نگاری کے ابتدائی نقوش ہمیں منظوم نصاب ناموں مثلاً خالق باری یا حفظ اللسان اور اللہ خدائی جیسی کتابوں میں ملتے ہیں۔ لیکن اردو/ اردو لغت نگاری کا باقاعدہ آغاز فرہنگ آصفیہ سے مانا جاتا ہے۔ فرہنگ آصفیہ کی جلد اول و جلد دوم ۱۸۸۸ میں اور جلد سوم ۱۸۹۸ میں اور جلد چہارم ۱۹۰۱ میں مکمل ہوئی ۱؎۔اس سے قبل مؤلف فرہنگ آصفیہ ’’مصطلحات اردو‘‘ کے نام سے ۱۸۷۱ء میں ایک لغت تیار کرچکے تھے۲؎۔انھیں مشہور مستشرق لغت نویس ڈاکٹر فیلن کے ساتھ بھی کام کرنے کا تجربہ حاصل تھا۔ فرہنگ آصفیہ میں کچھ بحث طلب مقامات ہیں اور غلطیاں بھی موجود ہیں اس کے باوجود اس لغت کو اردو کے بہترین لغات میں شمار کیا جاتا ہے۔ اور اس کی اہمیت محض تاریخی نہیں۔ فرہنگ آصفیہ کے بعد اردو کا دوسرا سب سے اہم لغت ’’نوراللغات‘‘ (۱۹۲۴۔۱۹۳۱) ہے۔ مولف نے تدوین لغت کے سلسلے میں جس تلاش، تحقیق اور تند دہی کا ثبوت دیا ہے اس کی وجہ سے یہ لغت فرہنگ آصفیہ پر اضافے کی حیثیت رکھتا ہے۔ گو اغلاط کے امکانات یہاں بھی موجود ہیں۔ جعفر علی خاں اثر نے فرہنگ اثر میں مذکورہ لغت کا تحقیقی جائزہ لیا ہے۔ اور مولف کی فروگذاشتوں کی گرفت کی ہے۔ مہذب اللغات ان دونوں بلکہ اپنے عہد تک شایع شدہ تمام لغات سے زیادہ ضخیم ہے ۔ اس کی پہلی جلد ۱۹۵۸ میں اور چودھویں اور آخری جلد مولف کی وفات کے بعد ۱۸۸۹ میں منظر عام پر آئی۔ (یہ بھی پڑھیں "بے گھری ، جلاوطنی اور جدید نظم ” – پروفیسر ناصر عباس نیّر )
مہذب سابقہ لغاتی سرمایہ کو نامکمل اور ناکافی سمجھتے تھے اورترقی پسند تحریک کے شروع ہوتے ہی انھیں ایسا لگنے لگاکہ اردو زبان و ادب کے مقررہ اصول ٹوٹ رہے ہیں خصوصاً لکھنؤ کی ٹکسالی زبان کو خطرہ لاحق ہے۔ ان کی لغت نگاری اس کا ردعمل تو نہیں تھی تاہم اس نظریے نے ان کے عمل میں شدت اور توازن کی کمی کو جنم دیا۔ اور علاقائیت پورے لغت پر حاوی ہوگئی۔ متروکات اور غیر فصیح الفاظ کی فہرست طویل سے طویل تر ہونے لگی۔ اردو کی حفاظت اور لکھنؤی زبان کو راسخ ٹھہرانے کے جذبے نے نہ صرف ان کے قلم سے ایسے فیصلے صادر کرائے جس پر آج بھی لغت کا طالب علم انگشت بدانداں ہوجائے بلکہ جدیداصول لغت سے ہم آہنگ ہونے میں بھی حائل ہے۔ لیکن انھوں نے اپنے اس مقصد کو کہ اردو کا سب سے ضخیم اور جامع لغت مرتب کریں۔ اپنی محنت اور تلاش سے پا لیا۔فرد واحد کی مساعی سے اردو الفاظ و محاورات اور ضرب الامثال کا اتنا بڑا ذخیرہ جمع ہوجانا معمولی بات نہیں کہی جاسکتی۔مولف کے بعض فیصلوں میں اگرچہ اختلاف کی گنجایش ہے تاہم اردو کا کوئی لغت اس امکان سے بری نہیں۔ان کی اس خدمت کے اعتراف میں حکومت ہند نے ۱۹۷۱ میں انھیں پدم شری کے اعزاز سے بھی نوازا۔
مہذب اللغات جدید اصول لغت کی روشنی میں ترتیب نہیں دیا گیا۔ مولف نے بنیادی طور پر اس کو سابقہ لغات کی روش پر ہی ترتیب دیا ہے۔ کہیں کہیں انھوں نے سابقہ لغات کی روش سے اختلاف کر کے اپنی صواب دید پر بھروسہ کیا ہے۔ اس کے باوجود اس کی ترتیب اور طریقہ کار روایتی ہی ہے۔ لہٰذا اس مطالعہ میں انھیں اصولوں کی روشنی میں مہذب اللغات کو دیکھنے کی کوشش کی گئی ہے جن پر مہذب اللغات کی امارت بلند ہے۔ ( یہ بھی پڑھیں قاضی عبدالودود اور غالب تحقیق – ڈاکٹر محضر رضا)
کسی لغت کا تنقیدی یا تحقیقی جائزہ لیتے وقت بنیادی سوال لغت کے مشمولات کا ہوتا ہے۔ یعنی لغت کے واسطے کس قسم کے الفاظ کو ترجیح دی گئی ہے ۔ اندراجات کی ترتیب میں مولف کس قاعدے پر کاربند ہے۔ املا و تلفظ کے سلسلے میں اس کا کیا طرز عمل ہے۔ معنی لکھتے وقت اس کا طریقۂ کار کیا ہے۔ صرف مترادفات لکھے ہیں یا معنی بھی، یا صرف معنی اور اگر دونوں ہیں تو ان کی ترتیب کس طرح قائم کی گئی ہے۔ اگر کسی لفظ کے لغوی معنی اور رائج معنی میں اختلاف ہے تو مولف نے کس معنی کو ترجیح دی ہے۔ اگر دونوں معنی لکھے ہیں کس کو مقدم رکھا ہے۔ الفاظ کی اصل (Etymology) سے بحث ہے یا نہیں۔ قواعدی نوعیت، یعنی قواعد کی رو سے لفظ کی کیا حیثیت ہے یہ مسائل اگرچہ بادی النظر میں مختصر اور معمولی معلوم ہوتے ہیں لیکن ان میں اتنی بارکیاں ، پیچیدگیاں اور اختلافات ہیں کہ ان مسائل سے باآسانی عہدہ برآہونا ممکن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے لغات ان تمام اصولوں کی پابندی کرنے کے بجائے ان میں سے بعض اجزاء پر اپنی نظر مرکوز کرنے میں کامیاب نظر آتے ہیں۔
دنیا کے ہر ادب پر تین عناصر مذہب، تجارت اور ثقافت کی چھاپ ہمیشہ رہی ہے۔ اور یہی عناصر ادبی سرمائے میں اضافے کا باعث رہے ہیں۔ تجارت کے لحاظ سے ہندوستان مستشرقین کا منظور نظر رہا ہے۔ ہندوستان میں ابتدائی لغت نویسی کے پس پشت بھی کاروباری مقاصد کارفرما تھے۔ کیوں کہ وہ یہاں تجارت سے حسب دل خواہ اسی وقت فائدہ اٹھا سکتے تھے جب یہاں کی مقامی زبان سے آشنائی پیدا کرلیں۔ ان کی اس کوشش کو مزید تقویت عیسائی مبلغین کی تبلیغی سرگرمیوں سے ملی۔ جن کے لیے مقامی زبان کا جاننا اتنا ہی اہم تھا جتنا تاجرین کا بلکہ اس سے کہیں زیادہ۔ بعد میں اس میں سیاسی مقاصد بھی شامل ہوگئے۔ ان کی یہ ضرورت ہندوستانی انگریزی لغت نویسی کا محرک بنی۔ان لغات میں مقاصد کے لحاظ سے بول چال کی زبان اور محاورات کو شامل کرنا ضروری تھا۔
فارسی ذو لسانی لغت کی تدوین کا مقصد فارسی محاورات کی اردو شکلوں کو محفوظ کرنا یا عام استعمال کے اردو الفاظ و محاورات کی تشریح فارسی میں کرنا تھا۔ تاکہ اردو سے ناواقف فارسی داں طبقہ بھی ان سے واقف ہوجائے۔ مستشرقین کی بہ نسبت اردو فارسی لغات کے ذخیرۂ اندراجات میں اضافہ اس لیے ہوا کہ ان میں شعری استعمالات بھی شامل تھے۔مہذب اللغات کے اندراجات کا مقابلہ اگر سابقہ لغات (فرہنگ آصفیہ، امیر اللغات، نوراللغات) سے کریں تو معلوم ہوگا کہ ان تمام لغات کے سرمایۂ الفاظ کو مہذب نے جمع کیا ہے اور اس میں خود بھی اضافہ کیا ہے۔ مہذب اللغات سے قبل نثری تصانیف مثلاً داستان وغیرہ سے الفاظ و سند جمع کرنے کی روایت بہت کم تھی۔ لیکن مہذب نے داستانوی ادب سے بھی الفاظ و محاورات اور اسناد جمع کیے۔ سابقہ لغات کے الفاظ ہی نہیں معنی بھی مہذب نے با لاعلان مستعار لیے ہیں۔ خواہ وہ معنی مہذب کی نظر میں غلط ہی کیوں نہ ہوں۔ ہاں اتنا ضرور ہے کہ لفظ یا معنی اگران کے لحاظ سے غلط ہے تو قول فیصل کے ذیل میں اس کی وضاحت کردی ہے۔ اس طرح لغت تنقید لغت کے میدان میں داخل ہوگیا ہے۔ مسعود ہاشمی نے درست ہی لکھا ہے کہ ’’یہ لغت دراصل ایک اعتبار سے ان دونوں ( فرہنگ آصفیہ،نوراللغات) کا ایک محاکمہ بھی قرار دی جاسکتی ہے۔‘‘ ۳؎ میرا خیال ہے کہ اس میں امیر اللغات اور فرہنگ اثر (اگرچہ فرہنگ اثر مستقل لغت نہیں) کو بھی شامل ہونا چاہیے۔ تنقید لغت اگرچہ مہذب کا منصب نہیں لیکن ان کے پورے لغت پر یہ رجحان حاوی ہے۔ اردو کے تمام لغات پر شعری غلبہ خاص طور پر نمایاں ہے۔ اسناد تو زیادہ تر شعرا کے کلام سے جمع کیے ہی گئے ہیں فصیح وہ غیر فصیح کے لیے بھی شعرا کے کلام کو مدار بنایا جاتا ہے۔ مولوی عبدالحق نے مہذب اللغات کے سلسلے میں لکھا ہے:’’فصاحت کا معیار لکھنوی ہے، جس کا مدار شعرا کا کلام ہے۔‘‘۴؎ شعری تراکیب اور محاوروں کی بھی افراط ہے ایک لغت نگار کو چاہیے کہ لغت میں غیر ضروری محاورات و تصرفات سے اجتناب برتے اور اگر ایسی روایت موجود ہو تو نقطۂ اعتدال کی تلاش کرے۔ہمارے لغت نگار نقطۂ اعتدال کی تلاش تو کیا کرتے ایک دوسرے سے سبقت لینے میں افراط و تفریط کا شکار ہوئے ہیں۔ مہذب لکھتے ہیں :
’’چند ماہ کا عرصہ ہوا جوش ملیح آبادی کراچی سے لکھنؤ آئے ہوئے تھے۔۔۔ آپ نے مہذب اللغات کے ۔۔۔ بارے میں استفسار فرمایا ۔۔۔ موصوف الصدرکا ایک بیان مقامی اخبار قومی آواز میں شا یع ہوا جس میں ظاہر کیا گیا کہ پاکستان کے زیر ترتیب لغت میں لفظ’’ اللہ ‘‘ کا صرف اسّی طریقوں سے جمع کیا گیا ہے۔ نیز ’’آنکھ ‘‘کا صرف دو سو پچھتر صورتوں میں مرقوم ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔ اس مضمون پر نظر کرنے کے بعد ہم نے اپنے عمل کا جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ مہذب اللغات کے مطبوعہ حصوں میں ایک ’’اللہ‘‘ ایک سو اٹھائیس متعلقہ تصرفات کے ساتھ قلم بند ہیں اور ’’آنکھ‘‘ ۔۔۔چھو سو پچھتر راہوں میں ضو فگن ہے۔‘‘ ۵؎
کچھ اردو لغت نویسی کی روایت اور کچھ اردو میں محاورات کی کثرت ہمارے لغت نگار کو مجبور کرتی ہے کہ وہ ان اضافوں کو طوعاً و کرہاً برداشت کرے، لیکن اس میں سہل انگاری اور تلاش توازن کی کمی کو بھی دخل ہے۔ چنانچہ اللہ کے ذیل میں اللہ بخشے، اللہ توکلی، اللہ جانتا ہے، اللہ کی پناہ، اللہ کانور وغیرہ بھی داخل لغت ہے۔ ہمارے لغت نگار غالباً اس فکر میں تھے کہ زیادہ سے زیادہ الفاظ کا خزانہ جمع کردیں۔ آیندہ لغت نگار تحقیق و تخریج کا فریضہ انجام دیتے رہیں گے۔ محاوروں اور کہاتوں کی غیر ضروری کثرت پر تبصرہ کرتے ہوئے مسعود حسین خاں نے اس گوشے کی طرف اشارہ کیا تھا: (یہ بھی پڑھیں ماہر غالبیات مالک رام اور تلامذئہ غالب – محمد شاداب شمیم )
’’میں سمجھتا ہوں کہ ذیلی اندراجات کے نقطۂ نظر سے یہ اردو لغت نویسی کا بڑا سقم ہے، جس کی مثال انگریزی کے لغات تو کیا ہندی کے شبد ساگر اور مانک کوش میں نہیں ملتی، ان کے یہاں بھی آنکھ کا عام لفظ موجود ہے لیکن محاورات کی وہ بہتات نہیں ملتی ۔ اردو لغت نویسی کی روایت اور غالباً اردو زبان میں محاورات کا بہ کثرت استعمال اس بات پر ہمیں مجبور کرتا ہے کہ ہمارے لغت میں محاوروں اور کہاوتوں کی تعداد بہ مقابلہ ہندی لغات کے زیادہ ہو لیکن نہ اس قدر کہ ہر استعمال اور ہر صرف کو ہم محاورہ تسلیم کریں۔ ‘‘ ۶؎
املا اور تلفظ بھی لغت کے نہایت اہم جز ہیں اور بعض اوقات صحیح املا کی تلاش کے لیے بھی لغت کا سہارا لیا جاتا ہے۔ اس لیے لغت نگار کو نہایت درستگی کے ساتھ املا اور تلفظ کا التزام کرنا چاہیے۔ لغت استناد کا اہم ذریعہ ہے اس لیے لغت نگار کو اس امر پر غور کرنا چاہیے کہ لفظوں کے کس املے کو ترجیح دے۔ جن الفاظ میں اختلاف نہیں ان کا تو کوئی مسئلہ نہیں لیکن جن الفاظ کا املا اختلافی ہے اس میں لغت نگار کے سامنے رائج کو ترجیح دینے کے سوا چارہ نہیں۔ ڈاکٹر ابو امحمد سحر نے بالکل صحیح لکھا ہے:
’’ایک کامیاب لغت میں مروجہ املا اور زبان کو اختیار کرنے کے سوا چارہ نہیں، خواہ لغت نگار کو اس میں کتنی ہی خامیاں کیوں نہ دکھائی دیتی ہوں لغت کو املا اور زبان کی اصلاح کا ذریعہ سمجھنا یا بنانا ایک بہت بڑی بھول ہوگی۔ ہاں اصلاح کا فریضہ اتنا ہی عزیز ہے تو لغت میں املا اور زبان کے اختلافات کو قلم بند کرنے کے بعد ترجیحی راے کا اظہار کیا جاسکتا ہے۔ اس سے زیادہ اصلاح اور اجتہاد کے چکر میں پڑنا لغت کی ناکامی کا سامان فراہم کرنے کے مترادف ہوگا۔‘‘ ۷؎
اردو میں املا کے مسائل پر کافی تاخیر سے توجہ کی گئی۔ اس کے سبب اختلافات بدستور قائم رہے۔ املا کو باقاعدہ موضوع کے طور پر پروفیسر گوپی چند نارنگ اور رشید حسن خاں نے اختیار کیا اور مسائل پر سنجیدگی سے غور کر کے اصول وضع کیے۔ جزوی طور پر اختلاف باقی ہیں تاہم ان کی روشنی میں لغت نگار کے لیے اپنی ترجیحی راے متعین کرنا آسان ہوگیا ہے۔ لیکن یہ سہولت ہمارے قدیم لغت نگاروں کوکب میسر تھی لہٰذا ان کا ذہن ہمیشہ اس مخمسے سے دو چار رہتا کہ درست املا (یعنی جو قواعداور منطق کی رو سے درست ہو) کو ترجیح دیں یا رائج املا کو۔ اس لیے کہیں تو وہ رائج املا کو ترجیح دیتے اور کہیں اس املا کو جس کو قواعدو منطق درست کہتے ہوں اور کہیں دونوں کو اختیار کرتے ۔ یہ واقعہ ہے کہ لسانی گروہ اپنے رسم خط کے بارے میں قدامت پرست ہوتے ہیں اور ان کے پاس بھی اکثر اپنے دعوے کے لیے دلائل رہتے ہیں اگر ایسا نہ ہوتا تو ہمزے کا معاملہ آج تک اختلافی نہ بنا رہتا۔ دوسرے ادیب تو آسانی سے یہ کہہ کر چھوٹ سکتے ہیں کہ میں اسی کو ترجیح دیتا ہوں یا میں نئے قواعد کا پابند نہیں۔ لیکن لغت نگار درست املا کی پابندی کے ساتھ املا ہی کی رعایت سے الفاظ کی فصلیں بھی قائم کرتا ہے۔شاید اسی وجہ سے ہمارے لغات دو عملی کا شکار ہوئے ہیں۔ (یہ بھی پڑھیں نقد غزل اور ابوالکلام قاسمی – پروفیسر کوثر مظہری )
ہاے مختفی جو ہمیشہ لفظ کے آخرہوتی ہے۔یہ صرف عربی وفارسی الفاظ سے مخصوص ہے ۔انگریزی،ہندی اور دوسری زبان کے الفاظ میں اس کے استعمال سے احتراز لازم ہے۔لیکن بعض اردوالفاظ میں بھی اس کا استعمال ہونے لگا ،اس غلط عادت یا بے احتیاطی نے رواج کی حیثیت حاصل کار لی۔
مہذب اس قاعدے سے واقف تھے اور اس کو درست تسلیم بھی کرتے تھے۔کہ اردو الفاظ میں ہائے مختفی کا استعمال نہ ہو لیکن رواج کی پابندی کا بھی انھیں خیال تھااسی وجہ سے ان کے یہاں دو عملی ظاہر ہوئی ہے ۔چنانچہ ــــ’’پسینا‘‘ کو ’’پسینہ‘‘ (ہاے مختفی کے ساتھ)درج کیا ہے لیکن ذیل میں یہ وضاحت بھی کر دی ہے کہ ’’چونکہ یہ لفظ اردو ہے لہٰذا اس کا املا الف کے ساتھ ہونا چاہیے لیکن زیادہ رواج ہائے مختفی کے ساتھ ہے۔‘‘ ایک دوسرا لفظ مارکا(وہ نشان جو کمپنی والے اپنی پہچان کے لیے بناتے ہیں) کو درست املا یعنی الف کے ساتھ لکھ کر ذیل میں یہ وضاحت کی ہے کہ اس کا املا عام طور پر ’’مارکہ‘‘ (ہائے مختفی کے ساتھ ) ہے۔ ’’ملیدا‘‘ یہ فارسی لفظ ’’مالیدہ‘‘ کا مخفف ہے۔ بہتر ہے کہ اس کو بھی الف کے ساتھ ’’ملیدا‘‘ لکھا جائے۔ مہذب نے اس کو ہائے مختفی کے ساتھ ’’ملیدہ‘‘ لکھا ہے اور یہاں کوئی وضاحت نہیں کی۔ زیادہ تر الفاظ مثلاً اڈا، ڈبا، بھوسا، رکشا، ڈراما، دسپنا کو صحیح املا (الف کے ساتھ ) مندرج کیا ہے۔ لیکن ان کے اس عمل سے یہ تو ظاہر ہوگیا کہ وہ اپنے عمل میں یکسانیت قائم نہ کرسکے کہیں رائج املا کو ترجیح دی کہیں (قواعد کی رو سے ) صحیح املا کو، اختلاف کی وضاحت کی کہیں بنا اختلاف کا ذکر کیے آگے بڑھ گئے۔ آج اردو املا کے مسائل جزوی اختلاف کے علاوہ بہت حد تک طے ہوچکے ہیں۔ لہٰذا ہم اس موضوع پر با آسانی گفتگو کرسکتے ہیں۔ لیکن ہمارے قدیم لغت نگاروں کو یہ سہولت میسر نہ تھی مسائل اپنی جگہ برقرار تھے۔ ایسے میں ان سے یہ توقع کرنا کہ وہ بعد میں حل ہونے والے مسائل پر کاربند ہوں ناانصافی ہوگی لیکن اس روشنی میں ہم یہ تو دیکھ سکتے ہیں کہ ان کا نقطۂ نظر کیا تھا۔ اختلافی مسائل میں انھوں نے کس کو ترجیح دی اور اپنے عمل میں یکسوئی و یک عملی قائم کی یا نہیں۔ اردو املا اور اس کے رسم خط کو آسان بنانے کی ضرورت کو شدت سے محسوس کیا جاتا رہا ہے۔اور وقتاً فوقتاً اس سمت میں قدم بھی اٹھائے گئے ہیں۔ مثلاً یہی کہ مرکب الفاظ کو ملا کر لکھنے کے بجائے علاحدہ علاحدہ لکھا جائے مثلاً ’’نیکبخت‘‘ کے بجائے ’’نیک بخت‘‘ لکھنا زیادہ مناسب ہے۔ اردو پر فارسی زبان کے اثرات کس درجہ حاوی رہے ہیں یہ بتانے کی ضرورت نہیں۔ چونکہ فارسی میں الفاظ کو ملا کر لکھنے کا طریقہ زمانۂ قدیم سے آج تک رائج ہے۔ اردو والوں نے بھی اسی روایت کو اپنایا۔ لیکن جب املا اور رسم خط کے مسائل پر سنجیدگی سے غور کیا گیا توارباب حل و عقد نے اس ضرورت کو شدت سے محسوس کیا کہ اردو میں شوشے ، جوڑ، نقطے، مختلف الصورت چھوٹے چھوٹے ٹکڑے سب اس طرح ہیں کہ ان کو ملا کر لکھنے سے مزید پیچیدگی پیدا ہوجاتی ہے۔ یہ ایک اچھے خاصے پڑھے لکھے شخص کے لیے خواہ زحمت کا باعث نہ ہو لیکن ایک ایسے شخص کے لیے جو اردو سے کم واقفیت رکھتا ہوایک زحمت اور الجھائو کا سبب ضرور ہے۔اس کوآسان بنانے کا صرف یہی طریقہ ہے کہ مرکب الفاظ کو علیحدہ علیحدہ لکھا جائے اس سے لکھاوٹ میں سادگی اور پڑھنے میں آسانی پیدا ہوگی۔ ۸؎
ظاہر ہے کہ مہذب اللغات کی اشاعت سے قبل ہی یہ سفارشات سامنے آچکی تھیں لیکن ابھی ان سفارشات کا دائرۂ نفاذ نہایت محدود تھاکیوں کہ پرانی عادت بدلنے اور نئے رجحان کو قبول کرنے کے لیے ایک مدت درکار ہوتی ہے۔اس لحاظ سے یہ رجحان ابھی نیا تھالیکن سوال یہ ہے کہ مولف مہذب اللغات ان سفارشات کو کس طرح دیکھتے تھے۔ اور انھیں آیندہ قبول کرنے کے لیے آمادہ بھی تھے یا نہیں۔ اس کا پتا مہذب اللغات کے اندراجات سے نہیں ہوسکتاکیوں کہ پھر وہی مسئلہ آئے گا کہ مولف نے تو اپنے عہد کے رائج املا اور رسم الخط کی پابندی کی اور اس سے زیادہ کی اس سے توقع کرنا بے جا ہے۔ ایک نیا رجحان جو نقد و تبصرے کے عمل سے ابھی نہیں گزرا کو اگر قبول نہ بھی کیا تو قابل گرفت نہیں۔ لیکن مہذب اللغات جلد ہفتم کے اخیر میں ایک اطلاع من جانب مولف شایع ہوئی تھی جس کو پڑھ کر یہ اندازہ ہوا کہ مہذب نہ صرف یہ کہ نئے سفارشات پر عامل نہیں تھے بلکہ ان کو ناپسند بھی کرتے تھے۔ذیل میں یہ اطلاع من وعن نقل کی جاتی ہے:
اطلاع
’’کاتب صاحبان کی جدت پسندی نے قدیم اصول کے خلاف عالیشان کو (عالی شان) سنگسار کو (سنگ سار) صفدر کو (صف در) شرمسار کو (شرم سار) وغیرہ لکھدیا تھا۔ انتہائی کوشش کی یہ غلطی دور ہوجائے پھر بھی بعض مقامات پر جو لغت ملا کر لکھنا چاہیے تھا وہ ممکن ہے رہگیا ہو ناظرین صحت فرمائیں۔ مولف لغت قدیم املا کا پابند ہے لہٰذا مطلع کردیا۔ مہذب لکھنوی۔‘‘ ۹؎
اس اقتباس سے ظاہر ہے کہ مہذب نا تو مرکب الفاظ کو علاحدہ لکھنے پر تیار تھے اور نہ اس روش کو صحیح سمجھتے تھے بلکہ انھوں نے اس روش کو غلطی سے تعبیر کیا ہے۔ وہ خود اس قدر غلو کرتے ہیں کہ ’’لکھدیا‘‘، ’’رہگیا‘‘ تک کو ملا کر لکھتے ہیں۔
تلفظ لغت کا نہایت اہم جز ہے اس کے بغیر کسی لفظ کا صحیح تلفظ متعین نہیں ہوپاتا اہل زبان کے لیے بعض خاص الفاظ کو چھوڑ کر زیادہ تر الفاظ میں کوئی دقت نہیں ہوتی مثلاً ان کو معلوم ہے کہ ’’شمع‘‘ ، ’’صحیح‘‘، ’’بالکل‘‘ کا تلفظ مکتوبی شکل سے مختلف ہے لیکن ایک ایسے شخص کے لیے جو اردو سے زیادہ واقفیت نہیں رکھتا اس قسم کے الفاظ کا تلفظ ایک اچھا خاصا مسئلہ ہوسکتا ہے۔ تلفظ کے تعین کے بعد دوسرا مسئلہ اس کو بیان کرنے کا ہوتا ہے۔ اگر اعراب ، تشدید، جزم وغیرہ صحیح طریقے سے لگائے جائیں تو لفظ کا تلفظ کافی حد تک واضح ہوجاتا ہے۔ لیکن اردو کے الفاظ اس طرح ملے جلے ہوتے ہیں کہ اکثر اعراب ہی گنجلک ہوجاتے ہیں۔ یائے معروف و مجہول ، وائو معروف و مجہول کا بھی ایک مسئلہ ہے کہ ان کو کس اعراب کے ساتھ ظاہر کیا جائے۔ لہٰذا اعراب کو صراحت کے ساتھ بیان کرنے کی ضرورت پڑی جس میں کافی جگہ صرف ہوتی ہے،لیکن اس طرح اعراب کی وضاحت بہتر ڈھنگ سے ہوجاتی ہے اور تلفظ کی ادائیگی کا مسئلہ صاف ہوجاتاہے ۔ تلفظ کی وضاحت کے لیے ہمارے لغات میں ایک اور طریقہ بھی رائج ہے کہ مشہور ہم وزن لفظ کے ذریعہ تلفظ کی وضاحت کی جاتی ہے۔ یہ طریقہ بھی مناسب ہے لیکن یہ خیال رکھنا لازمی ہے کہ ہم وزن لفظ ایسا ہو کہ جس سے عموماً ہر شخص واقف ہو۔ ورنہ تلفظ کی ادائیگی نہیں ہوسکتی۔ بہرحال کون سا طریقہ سب سے بہتر ہے اس کا تعین لغت نگار کو ہی کرنا ہوتا ہے ۔ اس کو چاہیے کہ ہر لفظ کا تلفظ پوری صحت کے ساتھ واضح کرے خواہ لفظ کتنا ہی عام فہم کیوں نہ ہو۔ (یہ بھی پڑھیں امیر خسرو کی جمالیات – پروفیسر شکیل الرحمٰن )
ان مسائل کی روشنی میں جب ہم مہذب اللغات کا جائزہ لیتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ مولف نے لغت کے اس پہلو کو زیادہ توجہ کا مستحق نہیں سمجھا ۔ لہٰذا بہ کثرت ایسے الفاظ مل جائیں گے جن کے تلفظ کے بارے میں وہ خاموش ہیں۔ اور کہیں یہ بھی تجربہ ہوتا ہے کہ لفظ کے کسی ایک حرف کا اعراب بتانے پر اکتفا کی گئی ہے۔ مثلاً ’’تمکین‘‘ کے بارے میں صرف اتنا لکھا ہے ’’بہ یائے معروف‘‘۔ کہیں اعراب صراحت سے بتائے ہیں مثلاً ’’اقامت‘‘ (بہ کسر اول و فتح چہارم) یہ اس وجہ سے کہ مذکورہ لفظ میں حرف اول و چہارم کے اعراب میں ہی اختلاف ممکن تھا۔ یہاں تو ان کی روش کا جواز قائم کیا جاسکتا ہے لیکن بعض ایسے الفاظ بھی ہیں جن کے درمیانی لفظ میں اختلاف ہے یا ہوسکتا ہے۔لیکن اس جگہ بھی مہذب نے پہلے لفظ کا اعراب بتانے پر اکتفا کی ہے مثلاً ’’لہر‘‘ ، ’’قہر‘‘ کے لیے صرف بالفتح لکھا ہے ۔ اس صورت میں ایک عام طالب علم کا ذہن الجھن میں پڑ سکتا ہے کہ وہ درمیانی لفظ کو کس طرح ادا کرے۔ اس طرح کی مثالیں مہذب اللغات میں بہ کثرت موجود ہیں۔ یہ کوئی ایسا مسئلہ نہ تھا جس کا تعلق جدید رجحان سے ہو جس کا شعور ہمارے لغت نگاروں کے یہاں بعد میں پیدا ہوا ہو۔ دراصل ان کی نظر میں عمومی مسائل کی خاص اہمیت نہ تھی نہ انھوں نے لغت لکھتے وقت اس کا خیال کیا کہ اس کا مطالعہ ایسا شخص بھی کرسکتا ہے جس کی مادری زبان اردو نہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ انھوں نے تلفظ کی ادائیگی کے سلسلے میں ایسے طریقے کو بھی بروئے کار لیا جس کو قطعی عام فہم نہیں کہا جاسکتا اور وہ تھا عروضی وزن پر تلفظ کی ادائیگی۔مثلاً ’’کیجے‘‘(بروزن فعلن) کیجئے (بروزن فاعلن) ہر شخص جانتا ہے کہ علم عروض صرف حرکت و سکون سے تعلق رکھتا ہے حرکت فتح ہے کسرہ یا ضمہ اس سے عروض کو بحث نہیں۔ حالانکہ تلفظ میں حرکت کی نوعیت کا ظاہر ہونا ضروری ہے ۔ کہیں کہیں اعراب علامات کے ذریعہ (زبر، زیر، پیش) سے بھی بتائے گئے ہیں لیکن یہاں بھی بے احتیاطی کو خاصہ دخل ہے۔’’بزم ‘‘ کے (ب)پر زبر لگایا گیا ہے (ز) کا اعراب کیا ہو مہذب اللغات سے مطلق معلوم نہیں ہوتا۔ ’’بزرگ‘‘ کے تلفظ کی ادائیگی کس طرح ہو یہاں مہذب اللغات خاموش ہے۔
ان معروضات کی روشنی میں یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اردو میں لغت نگاری کا کام تو ہوا ہے لیکن علم اللغات پر ابھی خاطر خواہ توجہ نہیں کی گئی۔ متفرق مضامین کے طور پر کچھ مواد ضرور بکھرا ہوا ہے جس کو یکجا کرنے کی ایک کامیاب اور مستحسن کوشش ڈاکٹر رؤف پارکھ نے ’’اردو لغت نویسی ، تاریخ مسائل اور مباحث‘‘ کی شکل میں کی ہے لیکن اس سلسلے میں باضابطہ کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ایک ایسی کتاب منظر عام پر آجائے جو تمام مسائل کا احاطہ کرتی ہو۔ اردو لغت نگاروں نے اگرچہ بعض پہلوئوں سے بڑی تحقیق ، تلاش اور جستجو کا ثبوت فراہم کیا ہے لیکن بعض ایسے پہلو ہیں جن کی طرف یا تو ان کی نظر نہیں گئی یا جس حد تک وہ عامل ہوئے وہ ناکافی تھا۔
مہذب لکھنوی نے تلاش الفاظ و محاورات ان کی تذکیر و تانیث اور اس سلسلے میں اختلافات کو بڑی حد تک جمع کردیا ہے خصوصاً ابتدائی جلدوں میں ۔ لیکن لغت نگاری کے دیگر تقاضوں کی طرف انھوں نے خاطر خواہ توجہ نہیں کی۔ ایک تو وہ تنہا اس خدمت کو انجام دے رہے تھے انھیں شدت سے اس کا بھی احساس تھا کہ یہ لغت ان کی زندگی میں مکمل ہوجائے ورنہ اس کا حال وہی ہوگا جو امیر اللغات اور لغت کبیر کے منصوبے کا ہوا۔
٭٭٭
حواشی:
۱: اردو لغت نویسی کا تنقیدی جائزہ، ڈاکٹر مسعود ہاشمی، ص۔۶۹، ترقی اردو بیورو، دہلی، ۱۹۹۲
۲ فرہنگ آصفیہ، سید احمد دہلوی، جلد اول، ص۔۴۲، قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، دہلی، ۱۹۹۸
۳: اردو لغت نویسی کا تنقیدی جائزہ،ص۔۱۶۱
۴: اردو لغت نویسی ، تاریخ، مسائل اور مباحث، ڈاکٹر رئوف پارکھ، ص۔۱۲۴، مقتدرہ قومی زبان پاکستان، ۲۰۱۰
۵: مہذب اللغات، مہذب لکھنوی، جلد پنجم، ص۔۳، انجمن محافظ اردو ، لکھنؤ
۶: مقالات مسعود، مسعودحسین خاں، ص۔۱۹۲، ترقی اردو بیورو، نئی دہلی، ۱۹۸۹
۷: زبان و لغت، ابو محمد سحر، ص۔۱۵۹۔۱۵۸، مکتبۂ ادب بھوپال، ۱۹۸۳
۸: روداد کمیٹی اصلاح رسم الخط،رسالۂ اردو، جنوری ۱۹۴۴
۹: مہذب اللغات، مہذب لکھنوی، جلدہفتم، ص۔۵۰۰،انجمن محافظ اردو لکھنؤ، ۱۹۸۰
Dr. Mahzar Raza
Mob: +91 9910907110
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


3 comments
[…] تحقیق و تنقید […]
[…] تحقیق و تنقید […]
[…] تحقیق و تنقید […]