’عروس ِ لفظ کا مسکن لکھنؤ‘ [2021ء]میری دانشت میں رضوان احمد فاروقی کی تیسری کتاب ہے۔اس سے پہلے ان کی دو کتابیں ’ تانا پانا فکروں کا‘[2011ء] اور’ لکھنؤ—کچھ ماضی کچھ حال ‘[2012ء] طبع ہوکر قبول خاص و عام ہوچکی ہیں۔ رضوان احمد فاروقی کا قلم یافت اور باز یافت کا قلم ہے۔ان کی نثر میں آمد ہے اور آور بہت ہی کم۔ان کی یکے بعد دیگرے دو کتابیں آجانے سے ان پر زود نویسی کا گمان گذرا، جب کہ سچائی یہ ہے کہ وہ زود نویس نہیں ہیں۔یہ ضرور ہے کہ احمد ابراہیم علوی نے روز نامہ آگ،لکھنؤ کے اپنے ’دور ابراہیمی‘ میں ان سے بہت کچھ لکھوا لیاتھا۔زیر نظر کتاب’ عروس ِ لفظ کا مسکن‘ کی تحریریں بھی اسی ’دورابراہیمی ‘کی ہیں۔یہ سچ ہے کہ احمد ابراہیم علوی کام کرنا اور کام لینا جانتے ہیں، کام آنا بھی جانتے ہیں یا نہیں؟ اس کا ہمیں علم نہیں ہے: کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا! ( یہ بھی پڑھیں عہدرسالت میں طبیب خواتین-ڈاکٹرمحمد رضی الاسلام ندوی)
رضوان احمد فاروقی کی تحریریں مجھے بے حد عزیز ہیں اور اسی لیے وہ بھی عزیز ہیں کہ ان کی تحریریں ان کی فکریات کی آئینہ دار ہیں۔ ان کی مشکل ،ان کے کام کا آسان ہونا ہے،سرگشتۂ حرمانی میں ان کا اشہب قلم خوب نکھرا نکھرا چلتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
’’ مجھ سے ادبی کام عموماً مخالف ماحول اور ناساز گار حالات میں ہی زیادہ بہتر اور مؤثر طور ہوپاتے ہیں‘‘۔
متذکرہ بالا تینوں کتابیں گویا مخالف ماحول اور ناسازگار حالات میں اور ’آتش ابراہیمی ‘میں تپ کر لکھی گئی ہیں۔ رضوان احمد فاروقی اردو لفظیات، صوتیات اور اس کے مختلف سمتوں میں کھلنے والے رجحانات سے واقف ہیں ۔ وہ ’پاسدارِ لفظ و معنی‘ ہیں۔الفاظ کاضیعان ان کے یہاں بڑا جرم ہے۔وہ شخصیت پسند تو ہیں، شخصیت پرست نہیں ہیں۔وہ اپنی تحریروں میں نقد و نظر کے ساتھ ہی تحلیل نفسی کا عمل جاری رکھتے ہیں۔کسی بھی صنف ِادب کے حوالے سے ادیب پر صرف ایک جملہ لکھ کر اس کی شخصیت اور فن کے’ مالہ و ما الیہ‘ بلکہ’ ما علیہ‘ کو بڑی زیرکی اور دانائی سے بیان کردیتے ہیں۔وہ یافت اور بازیافت کے ادیب ہیں، میز سجا کر لکھنے کے عادی نہیں ہیں کہ شاید یہ ان کے مزاج میں نہیں ہے،اسی لیے ان کی تحریروں ’دریافت‘ کے عناصر ذراکم کم ہیں۔کیوں کہ وہ کتبہ لکھے اور پھر پڑھے جانے کا انتظار نہیں کرتے،بلکہ وہ ایسے گم نام لوگوں، بھولے بسرے ادیبوں ، شاعروں کے علمی ،ادبی ،شعری و فکری آثار سے روبرو کراتے ہیں، جن کو نظر کیا جانا معیوب نہیں،بلکہ ہر دور میں مستحسن تصور کیا جاتارہا ہے۔رضوان احمد فاروقی نے اس روایت کو ناپسندیدہ قرار دیا ہے۔
زیر مطالعہ کتاب’ عروس ِلفظ کا مسکن لکھنؤ‘ ان کی سابق دو کتابوں ’ تانا پانا فکروں کا‘ اور’ لکھنؤ—کچھ ماضی کچھ حال ‘ سے مختلف ہے۔تاہم اس میں کچھ نیا کرنے کی کوشش کی گئی کہ ان کے مزاج کی تکوین ہی کچھ اس ڈھب کی ہے کہ گویا پامال راہوں پر ان سے چلا ہی نہیں جاتا۔ وہ اپنے مزاج اور ذوق کے مطابق کچھ نیا تلاش لیتے ہیں اور بے حدسادگی اور سعادت مندی سے اس جدت کا محرک ِ اوّل کسی اور کو بتا دیتے ہیں:
’’ راقم الحروف میں کچھ نیا کرنے کی اہلیت نہ تھی ،لہذا اسے دورِ حاضر کے نیاز فتح پوری ،محترم احمد ابراہیم علوی کے شعر مخالف رویّے اور شعراء بیزاری نے اُکسایا کہ وہ کچھ ایسا لکھے جو کہ روز نامہ آگ میں بھی لائق ِاشاعت ہو۔اسی کوشش میں بزم صفی [جدید] کی جاری کردہ ردیفوں کو عنوان بنا کر ،شعراء کے اشعرار سے عطر کشید کرکے روایتی خبروں کے بجائے مضامین لکھنا شروع کئے۔محنت رنگ لائی، تجربہ کامیاب رہا تو ہر ماہ لکھنے لگا‘‘۔ (یہ بھی پڑھیں درختوں اور پیڑ پودوں کے طبّی فوائد – طفیل احمد مصباحی )
رضوان احمد فاروقی کے ان مضامین کو ادبی حلقوں بے حد پسند کیا گیا۔اردو ادب کے خداؤں اور ناخداؤں نے بھی اسے سراہا اور پھر شاید یہ سلسلہ بھی ’آتش ابراہیمی‘ کی نذر ہوگیا کہ یہ تکوینی امور سے تھا، تاہم :
’’ کہا اور لکھا جاسکتا ہے کہ علوی صاحب نے مجھ سے یہ کام لے لیا ،ورنہ میں عام حالات اور ماحول میں تو یہ مضامین ہرگز نہ لکھتا۔علوی صاحب کے اس مخلصانہ عمل سے ان کے ’ شعر مخالف رویّہ‘ کی تردید بھی ہوگئی‘‘۔
رضوان احمد فاروقی کی اس جدت طراز طبیعت نے بزم صفی[جدید] کے شعراء سے لکھنؤ،زندگی ، بادل، دھوپ، خوشبو، کتاب، ماں،منظر،محبت،ناممکن ،ضرورت اور رمضان کے عنوان سے ایسے پائیدار اشعار کہلا لیے جو موضوعاتی شعری ادبی تاریخ کی اساس میں سما کر اس کو فکری ،لسانی اور تہذیبی استحکام بخشیں گے اور جب بھی موضوعاتی شاعری پر گفتگو ہوگی،بزم صفی [جدید] اور ’ عروس ِ لفظ کا مسکن لکھنؤ‘ کے حوالہ سے پروفیسر ولی الحق انصاری،پروفیسر ملک زادہ منظور احمد، تجسس اعجازی،انجم عرفانی،مشتاق لکھنوی،سعید اختر نظامی،ڈاکٹر معراج ساحل،بشیر فاروقی، سہیل کاکوری،رشید قریشی، سنجے مصرا شوق،رحمت لکھنوی،پنڈت ہنومان پرساد عاجزماتوی، رہبر تابانی،مسلم شبنم نوری،واصف فاروقی، مرزا شارق لاہر پوری،اختر ہاشمی،قمر گونڈوی،خالد فتح پوری،سید انور جمال،اسلام فیصل،حیدر علوی،کمال ادیب،شیدا صدیقی، ساحل عارفی، محمد رضا لکھنوی، ڈاکٹر مخمور کاکوروی، عارف محمود آبادی،مولانا یقین فیض آبادی،وصی جون پوری،حاجی نصیر انصاری،طارق انصاری،عمران الٰہ آبادی،خالد قیصر،گلشن بریلوی، راجیو پرکاش ساحر،ڈاکٹر منصور حسن خاں، سلیم تابش،عقیل ضیاء، تاج رضوی،احسن اعظمی،قمر سیتا پوری،محسن قدوائی،زاہد حسین زاہد لکھنوی،ثروت جمال، قیصر جون پوری،ڈاکٹرہارون رشید، فاروق عادل،رضا تابانی رام پوری،ڈاکٹر حبیب فکری،ڈاکٹر تشنہ عالمی،منظور پروانہ، عمران انواروی،عرفان لکھنوی،قاری شمشیر عالم،کاوش شوکتی،عبد القیوم فرقت، سرور مظفر پوری، عقیل غازی پوری،شارب کوثر علوی،عامر فاروقی، حافظ محمد عمر سندیلوی،اشعر علیگ، مسعود جعفری، سید مہتاب حیدر،منیر عالم،ڈاکٹر حضور نواب،رامانند ساگر، نجمی لکھنوی،زبیر بارہ بنکوی، رضا صفی پوری،ماہر لکھنوی، سلطان شاکر ہاشمی اورنورکرنیل گنجوی جیسے اساتذہ فن، کہنہ مشق، سال خوردہ اور نوزائیدہ شعراء کے کلام اور ان کی فکریات سے روبرو ہوا جاسکتا ہے اور ان سب پر مستزاد رضوان احمد فاروقی یک لفظی،دو لفظی یا سہ لٖفظی تبصرہ،جو قلب کو گرمادے اور گاہے روح کو بھی تڑپادے اور صاحب ِ معاملہ کو رَب جانے کس کس دنیا کی سیر کرادے ۔ (یہ بھی پڑھیں راجیو پرکاش ساحرؔ کا افسانوی مجموعہ ”احتیاط“ – توصیف بریلوی
رضوان احمد فاروقی کے اس ’عروس لفظ کا مسکن لکھنؤ‘ کے متعددشاعر آنجہانی ہوگئے ہیں،بہت کچھ ایں جہانی ہیں اور یقینا چند ایسے بھی ہوں گے شکم کی آگ بجھانے کی فکر میں فکر سخن سے آزاد ہوچکے ہوں گے،لیکن کیا ہی اچھا ہوا کہ بزم صفی[جدید]،محترم احمد ابراہیم علوی اور ہمارے رضوان احمد فاروقی کی جدت طرازی کی وجہ سے ان کی موضوعاتی شاعری کا کچھ حصّہ محفوظ ہوگیا ہے۔
رضوان احمد فاروقی روایتوں کا احترام بھی کرتے ہیں اور اس کے تحفظ کی تدبیریں بھی سوچتے ہیں اورخود بھی روایت کی اساس ڈالتے ہیں۔وہ بزرگوں اور خردوں کی ایک ایسی انجمن سجادیتے ہیں،جس کا ہر فردخود ایک انجمن کے امکانات رکھتا ہے۔
یہ چند سطریں ’ عروس لفظ کا مسکن لکھنؤ‘ کی رسم اجراء کی مناسبت سے لکھی گئی تھیں ۔مگرکووڈ سے تحفظ،متاثرین کی بڑھتی تعداد اور حکومت کی گائڈ لائن کے تناظر میںرسم اجراء کی تقریب ملتوی کردی گئی اور تحریر یوں ہی پڑی رہی،پھر خیال آیا کہ کیوں نہ رضوان احمد فاروقی صاحب کے حوالے کردی جائے کہ!
’تو دانی حساب کم و بیش را‘
رابطہ
حکیم وسیم احمد اعظمی
سی۔96،ابرار نگر،
پوسٹ آفس وکاس نگر لکھنؤ
226022
موبائل:9451970477
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

