جب حکومت نے اُس علاقے میں انتہائی پسماندہ اور انتہائی غریب طبقے کے لئے ایک ایک کمرے کے چھوٹے چھوٹے آشیانوں والی کالونی تعمیرکروائی تھی، تب یہ علاقہ شہر سے دور اُجاڑ اور بیابان ہوا کرتا تھا۔لیکن اب حالات ایسے نہیں تھے۔میٹرو پولیٹن کی تمام رونقوں کی جگمگاہٹ ان آشیانوں تک پہنچنے لگی تھی۔ یوں تو دلالوں کی معرفت ان کواٹروں میں کچھ ایسے لوگ بھی قابض ہو گئے تھے جو اس فلاحی اسکیم کے قطعی حق دار نہیں تھے۔لیکن اکثریت ایسے ہی مکینوں کی تھی جو خوش حال تو ہرگز نہیں تھے مگر دانے دانے کو محتاج بھی نہیں کہے جا سکتے تھے۔کالونی کے پہلو میں نزول کی زمینوں پر ناجائزجھوپڑ پٹّیاں، جو ظاہر ہے،غریبی کی لکیروں سے بھی نیچے تھیں،حسب معمول آباد تھیں۔نام نہادMiddle class, ، Lower middle class اور below povertyl ine کے اس سنگم میں شراب خانے بھی تھے اور ایک عدد شادی گھر بھی تھا۔دراصل ایک تاجرانہ سوچ کے دبنگ نے پارک کے لئے چھوڑی گئی زمین پرزبردستی قبضہ کر کے شادی گھر بنا لیا تھا اور اب اس شادی گھر سے اس دبنگ کی خوب کمائی ہو رہی تھی۔شادی گھر بے حد معمولی قسم کا تھا۔مہنگے عالیشان رزورٹس،میرج لان اور ہوٹلوں کے مقابل شادی گھر بس تاج محل کا کوئی سستامدّہ سا ماڈل ہی تھا۔مگر پھر بھی یہاں شادیاں پوری دھوم دھام سے ہوتی تھیں اور شادیوں سے متعلق سبھی شوشے بازیاں یہاں انجام دی جاتی تھیں۔مسئلہ حیثیت،معیار یا ضرورت کا نہیں تھا۔مسئلہ زمانے کے ساتھ ساتھ چلنے کاتھا۔ (یہ بھی پڑھیں راجیو پرکاش ساحرؔ کا افسانوی مجموعہ ”احتیاط“ – توصیف بریلوی )
جسے جسے جیٹھ بیساکھ کی شدت میں اضافہ ہو ا تھا،ویسے ویسے شادیوں کے لئے مبارک تاریخیں منظرعام پر نمایاں ہو رہی تھیں۔ یعنی شادیوں کا طوفان تھا۔ وہ شام بھی کیا گرم سلگتی شام تھی۔دن تنور کی طرح تپا تھااورشام کے چہرے پرگرم راکھ مل کر چل دیا تھا۔شادی گھر جشن میں تپتی ایک اور رات کا منتظر تھا۔بارات ناچتی گاتی شادی گھر کی طرف دھیرے دھیرے گامزن تھی۔جھبّوبار اتیوں اور بینڈ والوں کے بیچ ناچتے ناچتے نیوچھاور لوٹنے میں مشغول تھا۔نوٹ تو بینڈ والے لپک لتے تھے مگر جھبّو کے لئے ریزگاری بٹورنے کا موقع بہرحال تھا۔حالانکہ اس کوشش میں جھبّو کو گالیوں،تھپڑوں اورٹھوکروں سے بھی دد چار ہونا پڑ رہا تھا۔مگر ان نااتفاقیوں کے باوجود اس کے حوصلے بلند تھے۔یہ شادیوں کا سیزن تھا اور سیزن میں وہ بزدلی سے کام نہیں لے سکتاتھا۔ کیونکہ یہی چند روز کے مواقع تھے جب اس کے ہاتھ کچھ پیسے لگ سکتے تھے اور کبھی کبھی عمدہ دعوت یا عمدہ جھوٹن کا بھی وہ لطف لے سکتا تھا۔یہاں تک کہ کبھی کبھی جھبّو کے بے ڈھنگے اول جلول حرکتوں والے رقص کا مزہ لیتے لیتے باراتی جھبّو کو اپنی دارو بازی میں بھی شامل کر لیتے تھے اورخوش ہو کرتھوڑی بہت بخشش بھی دے دتے تھے۔جھبّو جھوپڑ پٹّیوں کاباشندہ تھا اور بن بلائے مہمان کی حیشیت سے کالونی کی باراتوں میں شرکت کرتا تھا اور اس شرکت کے سبب اکثرجو اس کی جارحانہ خاطر داری کی جاتی تھی،اس کی اسے عادت تھی۔گالی گلوچ اور مار سے جھبّو کا رشتہ پراناتھا۔بارہ تیرہ سال کی زندگی میں پتلے دبلے کالے کلوٹے جھبّو کے نصیب میں اب تک بالغوں کا تشدد ہی آیا تھا۔مفلسی میں پیدا ہوئے جھبّو نے چلنا ہی باپ کی مار کھا کھا کر سیکھا تھا۔بچپن میں تو ماں جھبّو کو باپ کی مار سے بچانے کے لئے دوڑ پڑتی تھی پراب جب کی وہ اُٹھنے تک کے قابل نہیں رہ گئی تھی،تو بھلا جھبّو کو بچانے کے لئے کیا ددڑتی؟اب تو وہ بس چپ چاپ پڑی ہوئی سونی سونی آنکھوں سے جھبّو کو پٹتا ہوا دیکھتی رہتی تھی۔باپ نے جہاں جہاں جھبّو کو مزدوری پر لگایا،وہاں مزدوری تو باپ لے گیا اور جھبّو کے حصے میں آئی صرف گالی گلوج اور مار۔ادھر کچھ دنوں سے جھبّو کا باپ بیمار رہنے لگا تھا جس کی وجہ سے باپ کی پکڑجھبّوپر کمزور پڑتی جا رہی تھی لہٰذا جھبّو نے بھی آوارہ گردی کی راہ پکڑ لی تھی۔اب اللہ مالک تھا اورزندگی رام بھروسے تھی۔ ( یہ بھی پڑھیں اب تو کچھ کرو نا – راجیو پرکاش ساحر )
شیام پرساد بارات کے استقبال کے لئے ناتے رشتے داروں کے ساتھ شادی گھر کے سجے ہوئے مین گیٹ پر ہاتھوں میں پھولوں کی مالائیں لئے کھڑے ہوئے تھے۔شادی گھر بجلی کے قمقموں سے روشن تھا۔شیام پرساد ایک پٹری دکان دار تھے۔سالوں پہلے قریب کے ایک قصبے میں ان کی پرچون کی دکان ہوا کرتی تھی۔پھر ایک وقت ایسا آیا کہ ترقی کی دوڑ میں ان کی دکان قصبے کی سڑک چوڑی کر نے میں کام آ گئی۔ معاوضے کی رقم بھائیوں میں بٹتے بٹتے بس اتنی رہ گئی کہ کسی طر ح بیوی بچوں کے ساتھ شہر چلے آئے۔اب ہفتہ وار بازاروں میں دکان لگا کر گزر بسر کر رہے تھے۔آج جہاں دل میں بٹیا کے ہاتھ پیلے ہونے کی خوشی تھی وہیں من میں شادی کے لئے لیے گئے قرض کی فکر بھی تھی۔آخر بیٹی کی شادی میں عزت کاسوال تھا۔ شیام پرساد جی نے اپنی طرف سے کوئی کور کسر نہیں باقی رکھی تھی۔سر پر پگڑی باندھے منسا رام جی کاسینہ دد گنا ہو رہا تھا۔گھوڑی پرسوار ددلہا بنے اپنے صاحبزادے کو دیکھ کر وہ پھولے نہیں سما رہے تھے۔کئی سال پہلے گاؤں پیچھے چھوڑ آئے تھے۔پشتینی گھر اور چھوٹا سا کھیت دشمنی اور رنجشوں کی وجہ سے کورٹ کچہری کی نذر ہو چکے تھے۔جان کی حفاظت کے لئے ضلع انتظامہ نے بندوق کا لائسنس منظورکر دیا تھا۔منسارام جی نے بیوی کے زیور بیچ کراک،ایک نالی بندوق خرید لی تھی۔مجبوراً گاؤں سے ہجرت کر کے شہر آنا پڑا۔شہر میں بندوق ہی ان کی روزی روٹی کا وسیلہ بنی۔ددنوں باپ بیٹے ایک سکیورٹی کمپنی میں گارڈ تھے اور باری باری سے ایک ہی بندوق کے سہارے رات دن کی ڈیٹی کر تے تھے۔منسا رام بیٹے کی شادی میں دل کھول کرخرچ کر رہے تھے۔ کالونی میں قرض دینے والے سود خوروں کی کمی جو نہیں تھی۔منسا رام جی نے بیٹے کی شادی میں باراتیوں کے لئے شراب کا بھی بندوبست کیا تھااور خود بھی نشے میں چور تھے۔انکی بندوق انکے ایک ساتھی کے ہاتھ میں تھی جو دنا دن کارتوس داغ رہا تھا۔بارات کے آگے آگے آتشباز بھی بم اور پٹاکھے داغ رہے تھے۔بارات شادی گھرکے قریب آپہنچی تھی۔باراتیوں کا ناچ گانا پاگل پن کی حدوں کو پار کر رہا تھا اور اس پاگل پن میں خواتین بھی شامل تھیں۔پسینہ پسینہ ہو رہے بینڈ والے پوری طاقت کے ساتھ بجا رہے تھے۔جشن کے اس ہنگامے میں جھبّو بھی جنون کی کیفیت میں ناچ رہا تھا۔تبھی منسارام جی کے ساتھی سے ان کے کسی ددسرے ساتھی نے بندوق چھیننے کی کوشش کی۔ شاید وہ بھی فائر کرنا چاہتا تھا۔ اس چھینا جھپٹی میں بندوق کی نال تھوڑا جھُک گئی اور فائر ہو گیا۔کارتوس نے جھبّو کی کھوپڑی کے پڑخچے اُڑا دیے۔جھبّو نہ چیخ سکا اور نہ تڑپ سکا۔ اس کا بے جان جسم سڑک پر جا گرا اور اس کا خون سڑک پر دھبّے بنا تا بناتا ٹھنڈا ہو گیا۔ماحول پر تاری سناٹے کو جھبّو کے خون کے دھبّے مضطرب کر رہے تھے۔
راجیو پرکاش ساحرؔ
2O/84 رنگ روڈ اندرا نگر، لکھنئو۔9839463095

