بیسویں صدی کے نصف اول تک عالمی ادب کی اصطلاح کا مطلب عموماً یوروسینٹر ادب ہی تھا جسے نظریاتی سطح پر مابعد جدید مفکرین نے چیلنج کیا تو یورپ سے باہر کے(خاص کر افریقی اور لاطینی امریکی )لکھاریوں کو بھی اعتماد سے پڑھا جانے لگا جس کا بین ثبوت ان مصنفین کے دیگر زبانوں میں تراجم ہیں۔بیسیویں صدی میں تیسری دنیاکے فکشن کو جن چند مصنفین نے متاثر کیا ان میں فرانز کافکا اور بورخیس سر فہرست ہیں۔
خورخے لوئیس بورخیس 24 اگست 1899 (تا14۔ جون 1986)کو ارجنٹینا کے شہر بیونس آئرس میں پیدا ہوئے حصول تعلیم کے بعد کچھ عرصے کے لیے بیونس آئرس یونیورسٹی میں انگریزی ادب پڑھایا ازاں بعد نیشنل پبلک لائبریری کے ڈائریکٹر مقرر ہوئے جہاں انھوں نے اپنی زندگی کابیش تر حصہ گزارا اور بہ طور مضمون نگار، شاعر، افسانہ نویس اور مترجم شہرت قائم کی۔ بورخیس کے خاندان میں نابینا پن وراثتی تھا جنم لیا تو ننھے بورخیس کی آنکھیں خاندان کے بقیہ افراد کی طرح بھوری ہونے کے بہ جائے نیلی تھیں جس پر خوشی کا اظہار کیا گیا کہ خوش قسمتی سے یہ اندھے پن سے بچ گیا ہے مگر یہ خوشی دیرپا ثابت نہ ہو سکی اور بدقسمتی سے اپنی زندگی کی چھٹی دہائی کے اختتام تک بورخیس بینائی سے محروم ہوگئے۔ بورخیس نے اپنی محرومی کو کمزوری نہ بننے دیا اور پاپولر ادب سے صحائف تک ہر چیز کا نہ صرف ان تھک مطالعہ کیابلکہ اس مطالعے کو اپنے شعور کا حصہ بنا کر تخلیقی اظہار بھی کیا۔(یہ بھی پڑھیں لغت نگاری کے چند مسائل اور مہذب اللغات – ڈاکٹر محضر رضا )
بورخیس نے لائبریری سے وابستگی اور انتھک مطالعے کو اپنے فکشن اور شاعری کا موضوع بناتے ہوئے کہانی کےرویتی سانچوں(حقیقی زندگی کی عکاسی، پلاٹ، کردار، کہانی پن ) کو چیلنج کر کے نئی طرح کی کہانی کی بنیاد رکھی، جس میں صرف نیا پن ہی نہیں غائر مطالعہ اور غور فکر بھی ہے(جو قارئین روایتی کہانی کے رسیا ہیں انھیں بورخیس کامطالعہ ٹائم کلنگ سے زیادہ کچھ نہیں دے سکے گا)۔مثلاً ان کی ایک کہانی "ابن رشد کی تلاش” ہے جس میں بارھویں صدی کے ابن رشد (1126 _1198)کو ایک عجیب لسانی معمے میں گرفتار دکھایا گیاہے۔ ابن رشد عربی نژاد سپینش مفکر ہیں جو ارسطو کی کتاب "پوئیٹکس” کی عربی زبان میں شرح لکھنے میں مصروف ہیں، مگر دو اصطلاحات ان کے لیے شدید مشکل کا باعث ہیں۔ یہ دو اصطلاحات "ٹریجڈی” اور "کامیڈی” ہیں جن کا ذکر وہ ارسطو کی کتاب "بلاغت” میں بھی پڑھ چکے ہیں مگر ان کا ٹھیک ٹھیک مفہوم متعین کرنے میں خود کو قاصر پاتے ہیں۔ ابن رشد اپنا مسودہ چھوڑدیتے ہیں اور ماقبل مصنفین (ابن سینا اور الجاحظ)کی کتب سے رجوع کرتےہیں کہ شاید وہ مفید ثابت ہوں مگر بے سود۔ اسی دوران میں انھیں ایک محفل یاد آتی ہے جس میں سیاح ابوالحسن العشری (جس کا دعوا ہے کہ وہ اپنی سیاحت کے دوران چین کی سرحدوں کو جا پہنچا) ایک قصہ سناتا ہےکہ اس نے کچھ لوگوں کو دیکھا جو ایک کہانی کو بیان کرنے کے لیے عجیب حرکات کر رہے ہیں: وہ قیدی بن جاتے ہیں مگر کوئی زندان نہیں ، گھڑ سواری کرتے ہیں پر کوئی گھوڑا نہیں رکھتے، جنگیں لڑتے ہیں اور تلواریں بانس کی ہیں، مگر العشری کے اس قصے کو محفل کےسب شرکاء ایک مزاحیہ کہانی سمجھتے ہیں اور کہانی کے کرداروں کو پاگلوں جیسا قرار دیتے ہوئے فخریہ اظہار کرتے ہیں کہ کہانی جتنی بھی ہمہ جہت ہو اسے بیان کرنے کے لیے ایک شخص کافی ہے کیوں کہ عربی زبان میں اتنی وسعت ہے کہ وہ کوئی سی کیفیت ہو بیان کر سکتی ہے۔محفل کے باقی شرکاء کی طرح ابوالحسن ان تمام شعراء کے کلام کو رد کرتا ہے جو قرطبہ یا دمشق میں بیٹھ کر بدوی محاکات اور لفظیات سے چمٹے ہوئے ہیں ان کے برعکس وہ زہیر کے معلقہ کی تعریف کرتا ہے کہ اس نے تقدیر کو اندھے اونٹ سے اس لیے تشبیہ دی کے اس نے عمر بھر دیکھا کہ تقدیر اندھے اونٹ کی طرح لوگوں کو روند دیتی ہے۔اسی ادھیڑ بن میں ابن رشد رات سے صبح کرتےہیں اور اپنے مسودے میں ایک سطر کا اضافہ کرتے ہیں”ارسطو قصیدے کو ٹریجڈی کہتا ہے اور ہجو کو کامیڈی، قران اور سبع معلقات میں کئی تریجڈیاں اور کئی کامیڈیاں ہیں”۔ ابن رشد ٹریجڈی کے مترادف قصیدہ اور کامیڈی کے مترادف ہجو کو اس لیے بھی سمجھتےہیں کہ ایک مسلم عرب کے لیے جس کے ذہن میں ڈرامے کا سرے سے کوئی تصور نہیں مذکورہ بالا دونوں اصطلاحوں کا درست مطلب سمجھنا قریباً ناممکن ہے۔
ابن رشد کا دونوں اصلاحوں کو سمجھنےسےقاصر رہنا اتنا سادہ معاملہ نہیں ہم اسے برطانوی فلاسفر لڈوک وٹگنسٹائن (1889_1951) کے اس جملے: "میری دنیا وہیں تک محدود ہےجہان تک میری زبان کی وسعت ہے” کی مدد سے بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں۔ابن رشد کا پس منظر عربی ہے جس میں ڈرامے کا وجود نہیں لہذا اس کے لیے ڈرامے کو سمجھنا نامکنات میں سے ہے۔ کہانی میں بورخیس نے ناکامی اور شکست کو گرفت میں لینے کے لیے جہاں ابن رشد کا انتخاب کیا جو اپنے سے لگ بھگ سولہ صدیوں کے فاصلے ہر موجود ارسطو (384 ق۔م _ 322 ق۔م)کی تفہیم میں سر گرداں ہے وہیں خود کو بھی ایک کردار بنایا کہ بیسویں صدی کا لاطینی امریکی مصنف خورخے لوئیس بورخیس بارھویں صدی کے ابن رشد کو چند شذرات کی مدد سے سمجھے میں اسی نوع کی ناکامی کا سامنا کرتا ہے جیسی بارھویں صدی کے ابن رشد کو ساڑھے تین سو سال قبل از مسیح کے ارسطو کو سمجھنے میں درپیش ہے۔مختصراً یہ سلسلہ لامتناہی ہے اور یہ کہانی ہم سب کی ہے جس کا خمیر خالص مطالعے سے اٹھایا گیا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں ماہر غالبیات مالک رام اور تلامذئہ غالب – محمد شاداب شمیم )
بورخیس کی کہانی "باغ ہزار پیچ ” ایک چینی پروفیسر کی روداد ہے جو پہلی جنگ عظیم میں نازی جرمنی کے جاسوس کی حیثیت سے برطانیہ میں رہ رہا ہے مگر ایک دن اسے پتا چلتا ہے کہ خفیہ ایجنسی ایم آئی فائیو کا آئرستانی اہلکار کیپٹن رچرڈ میڈن اس کے رابطہ کار تک پہنچ چکا ہے اور اب کسی وقت بھی وہ اسے گرفتار کر سکتا ہےمگر اپنی یقینی گرفتاری اور موت سے پہلے اسے ایک آخری کام توپ خانے کے اسحلے کے ایک ذخیرے کے بارے میں جرمن دوستوں کو آگاہ کرنا ہے۔جہاں اسلحے کا ذخیرہ ہے اس کے قریب ہی ماہر چینیات ڈاکٹر سٹیفن البرٹ کا گھر ہے ۔ چینی پروفیسر اپنے فلیٹ سے ایک پسٹل جس میں صرف ایک بولٹ ہے اور چند ضروری اشیا اٹھا کر جلدی میں سٹیشن سے ٹرین پکڑتا ہے اور چلتی ٹرین سے دیکھتا ہے کہ رچرڈ میڈن اس کا تعاقب کر رہا ہے مگر اسے یقین ہے کہ میڈن کو مجھ تک پہچنے میں کم از کم ڈیڑھ گھنٹہ لگ سکتا ہے کیوں کہ دوسری ٹرین کو ڈیڑھ گھنٹے کی تاخیر ہوتی ہے۔ بلآخر وہ ڈاکٹر البرٹ کے گھر پہنچ جاتا ہے جو اسے بتاتا ہے کہ تم ہزار پیچوں والا باغ اور بھول بھلیاں دیکھنے آئے ہو جو تمھارے پردادا تسوئی پین نے بنائی تھیں جو دینی کتابوں کاشارح،شطرنج کازبردست کھلاڑی،مشہور شاعر اور خطاط تھا جس نے صوبے کے گورنر کی ملازمت اور مراعات تج کر تیرہ سال اس کام میں لگادیے ۔ اس نے ایک بار کہا ہوگا ” میں کتاب لکھنے کے لیے گوشہ نشین ہو رہا ہوں ، ایک اور موقعےپر کہا میں بھول بھلیاں بنانے کی لیے گوشہ نشین ہو رہا ہوں، سبھی نے سوچا یہ دو کام ہیں کسی کو خیال نہیں آیا کتاب اور بھول بھلیاں ایک ہی ہیں”۔ سٹیفن البرٹ اپنی تحقیق سے اس نتیجے ہر پہنچتا ہے کہ بھول بھلیاں اور ناول لکھنا ایک ہی کام ہے مگر عجیب اتفاق کی بات ہے کہ تسوی پین یہ کام مکمل کرنے سے قبل پر اسرار طریقے سے قتل ہو جاتا یے اور کام ادھورا چھوڑ جاتا ہے۔ سٹیفن البرٹ اپنی اس بات سے چینی پروفیسر کو مزید حیرت میں ڈال دیتا ہے کہ اس کا پردادا چینی ناول نگار اپنی کہانی میں ہر واقعے کے ایک سے زائد نتائج پیش کرتا چلا جاتا ہےمگر ان نتائج سے برامد ہونے والے مختلف راستے کہیں آگے چل کر ایک ہونے کا امکان بھی رکھتے ہیں اور ناول میں ملنے آنے والے چینی ہروفیسر کا بھی ذکر ہے جو اسے ملنے بیک وقت دو راستوں سے آیا ہے:ایک راستے سے دوست بن کر اور ایک راستے سے دشمن۔ چینی پروفیسر دو راستوں (دوست اور دشمن) میں سے دشمن کا انتخاب کرتا ہے اور اپنے پسٹل سے جس میں صرف ایک ہی بولٹ ہے سٹیفن البرٹ کو قتل کر دیتا ہے۔کہانی اسی حیرت انگیز موڑ ہر ختم ہو جاتی ہے۔
بورخیس نے اس کہانی میں وقت کی لامتناہیت کو چھیڑا ہے جس میں ہمارے پاس ہرواقعے کے کئی امکانات ہوتے ہیں ایک وقت میں جن میں سے کسی ایک کا انتخاب ہم کر سکتے ہیں اسی ایک امکان کا انتخاب ہمارا فیصلہ ہے اور آنے والے فیصلوں کا پیش خیمہ ثابت ہوتا ہے۔ بورخیس کی یہ کہانی وقت کے بے کنار پھیلاو،لکھے ہوئے لفظ کی سچائی، ناول میں کئی امکانات کی بیک وقت موجودگی، شطرنج کے کھیل میں چالوں کے تنوع اور بھول بھلیوں کی مدد سے حقیقت کے مابعد جدید تصور کو پیش کرتی ہے جس میں کسی حتمی یا واحد حقیت کا وجود نہیں سو ہمارے پاس متنوع راستے ہیں جن میں سے ایک وقت میں کسی ایک کا انتخاب ہی ہماری آزادی اور مجبوری ہے۔ اس پیراڈکس کوواضح کرتی یہ کہانی عام چینی پروفیسر کے قصے سے کہیں زیادہ آفاقی مسئلے کو پیش کرتی ہے، جس کےپس پشت بورخیس کاانتھک مطالعے واضح نظر آتا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں اکبر الٰہ آبادی ، نفسیاتی استعماریت ، توپ اور پروفیسر کی طاقت” – پروفیسر ناصر عباس نیّر )
"مرقس کی انجیل” میں ایک بتیس سالہ جوان بلتا زار ایسپی نوزا کا واقعہ بیان کیا ہے جو اسے لاس ایلاموس کی چراگاہ میں پیش آتا ہے۔ کہانی کچھ یوں ہے کہ ایسپی نوزا اپنے عم زاد ڈینیئل کی دعوت پر اس کے پاس گرمیوں کی چھٹیاں گزارے ایلاموس چراگاہ جاتا ہے ، تھوڑے دنوں بعد ڈینیئل کو اپنی کاروباری ضرورت سے دوسرے شہر جانا پڑتا ہے مگر ایسپی نوزا چند کتابوں کے ہمراہ اسی چراگاہ میں رہنا پسند کرتا ہے۔ کچھ دنوں بعد علاقے میں سیلاب آجاتا ہے اور ایسپی نوزا اپنے عم زاد کے مویشیوں کے رکھوالے گوترے خاندان کو اپنی مکان میں رہنے کی اجازت دے دیتا ہے اور یوں وہ ایسپی نوزا کی مدد سے اپنے مویشی سیلاب سے بچانے میں بھی کامیاب ہو جاتے ہیں۔ ایپسی نوازا اپنی تنہائی کو ختم کرے کے لیے گھر میں پہلے سے موجود انجیل کے نسخے کے مطالعے میں گم کر دیتا ہے وہ روزانہ شام کے کھانے کے بعد گوترے خاندان (جو تین افراد، باپ ،بیٹا اور ایک بیٹی ہر مشتمل اور ان پڑھ ہیں) کو بائبل کا ایک حصہ پڑھ کر سناتا ہے اور ان کی مدد کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ گوترے خاندان کی لڑکی کا میمنا ایسپی نوزا کے علاج کرنے سے ٹھیک ہو جاتاہے جس کے سبب ان میں ممنونیت، اعتماد اور اپنائیت فروغ پانے لگتے ہیں یہاں تک کہ مرقس کی انجیل کا مطالعہ مکمل ہو جاتاہے اور ایسپی نوزا بقیہ تین انجیلوں کی طرف رجوع کرنا چاہتا ہے مگر گوترے خاندان کا باپ باز قرأت کا مطالبہ کرتاہےتاکہ وہ اچھی طرح سمجھ سکیں۔
ایک رات گوترے خاندان کی لڑکی سخت سردی میں ایسپی نوزا کے دروازے ہر دستک دیتی ہے اور دروازہ کھولنے پر کمرے میں داخل ہو جاتی ہے اور رات وہیں بسر کرتی ہے مگر دونوں میں کوئی جسمانی اختلاط نہیں ہوتا ایسپی نوزا اس واقعے کو نظر انداز کر دیتا ہے یہاں تک کہ اگلے دن کا آغاز بالکل عام دنوں کی طرح ہوتا ہے اور گوترے خاندان کا باپ ایسپی نوزا سے سوال کرتاہے "کیا یسوع مسیح نے خود کو اس لیے مصلوب ہونے دیا کہ وہ باقی انسانیت کو بچا سکے؟” ایسپی نوزا ذاتی طور پرآزاد خیال ہونے کے باوجود انجیل میں لکھے الفاظ کا دفاع کرنے پر خود کو مجبور پاتے ہوئے ہاں میں جواب دیتاہے۔ یہاں تک کہ وہ یہ سوال کرتا ہے "کیا جن لوگوں نے کیلیں ٹھونکی تھیں وہ بھی بچا لیے جائیں گے؟” ایسپی نوزا کی دینیات کمزور تھی پھر بھی اس نے اس خوف سے کہ کہیں رات والے واقعے کا پول نہ کھل جائے سوال کاہاں میں جواب دیا۔ آخری رات ایپی نوزا نے مرقس کی انجیل کے آخری دوابواب پڑھ کر سنائے اور بشارت دی کہ اب طوفان اتررہاہے اور زیادہ دیر نہیں، گوترے خاندان نے اس کے الفاظ ہوبہو دہرائے”اب زیادہ دیرنہیں” اور اگلے دن اسے مصلوب کر دیا۔اس کہانی کا انجام بھی قاری کو چونکا دیتا یے مگر نہیں جس نے مرقس کی انجیل پڑھی ہے اس کے لیے کہانی کوسمجھنا زیادہ مشکل نہیں۔
مرقس کی انجیل چار انجیلوں میں سے ایک ہے جس میں مرقس نے اس نقطے کو فوکس کیاہے کہ یسوع کو زمین پر اس لیے بھیجا گیاکہ وہ اپنی جان کی قربانی دے کر لوگوں کو گناہوں سے آزاد کرائے۔ مرقس نے یسوع مسیح کی تعلیمات کو کم اور عملی کارناموں پرزیادہ زور دیا ہے آخری ابواب میں حضرت یسوع کی زمینی زندگی کے آخری ہفتے کے حالات اور تصلیب کا ذکر ہے۔ گوترے خاندان نے وہی کیا جو انھوں نے مرقس کی انجیل میں سنا نیز ایسپی نوزا اور یسوع مسیح میں کچھ باتیں مشترک ہیں جیسے دونوں کی مصلوب ہوتے وقت بتیس سال کی عمریں اور انسانیت کی بھلائی کےلیے کام کرنا۔ مجموعی طور پر لکھے ہوئے لفظ کی حرمت کو بورخیس نے موضوع بنایا ہے جو موجود کی عکاسی سے بہت مختلف نوعیت کی حقیقت ہے۔
کتاب میں بورخیس کے افسانوں کے علاوہ مضامین اور نظمیں بھی ہیں جن میں صرف ایک مضمون "کافکا اور اس کےپیش رو” کا مختصر تجزیہ مقصود ہے۔
اس مضمون میں بورخیس نے بیسویں صدی کے فکشن پر سب سے زیادہ اثر انداز ہونے والے جرمن مصنف فرانز کافکا کے انداز تحریر کو موضوع بناتے ہوئے اس سے ملتی جلتی مثالوں کی ماضی میں موجودگی کی نشان دہی کی ہے۔ جن میں سرفہرست یونانی فلسفی زینو کا حرکت کا پیراڈاکس ہے جس میں زینو کا استدلال ہے کہ کوئی وجود نقطہ الف سے ب تک حرکت کر ہی نہیں سکتا جب تک وہ الف اور بے کے درمیان فاصلے کا نصف نہ طے کر لے، اور اس سے پہلے اس نصف کا نصف اور پھر اس نصف کے نصف کا نصف۔ تنصیف کا یہ سلسلہ لامتناہی ہےاور کوئی ثابت نہیں کر پائے گا کہ کوئی وجود الف سے ب تک سفر کر سکتا ہے۔اس کی دوسری مثال وہ ایک چینی مصنف یان ہیو کی حکایت میں تلاش کرتےہیں۔جو ایک جانور یونیکورن کی مثال دیتا یے جو نہ بیل کی مانند ہے نہ بھیڑیے جیسا نہ ہرن جیسا۔ ان حالات میں یونیکورن سامنے آبھی جائے تو اسے کوئی پہچان نہیں پائے گا۔ تیسری مثال کیرکے گاڈ کی تحریروں اور چوتھی مثال براوننگ کی نظم "فیئرز اینڈ سکروپلز ” کی ہے۔جس کا مرکزی کردار ایک ایسا شخص ہے جو کسی دوسرے آدمی کا اپنا دوست سمجھتا ہے مگر ان کی کبھی ملاقات نہیں ہوتی ۔ وہ لوگوں کو خطوط دکھاتاہے کہ یہ اس دوست نے لکھے ہیں مگر کچھ لوگوں کو خطوں کے انتساب میں شبہ ہے کہ یہ جعلی ہیں۔ پوچھنے پر وہ آدمی یوں وضاحت کرتا ہے کہ "اگر یہ دوست خدا ہو تو پھر؟”اور سب کو لاجواب کردیتا ہے۔
یہ چند مثالیں ویسی ہی دنیا کو پیش کرتی ہیں جسے میلان کنڈیرا نے "کافکائیت” کا نام دیا ہے اور یہ سب مصنفین کافکا سے قبل کے ہیں۔ کافکا کی تحریروں کے اپنے غیر مانوس پن کی وجہ اے ایک وقت تک مبہم اور لایعنی سمجھا گیا مگر جلد ہی وہ موجود دنیا کی تفہیم میں معاون ثابت ہونے لگیں جس سے کافکا کی فنّی عظمت قارئین پر کھلنے لگی۔بورخیس کے اس جملے "ہر مصنف اپنے پیش رو پیدا کرتا ہے” کی جتنی داد دی جائے کم ہے ، اور بلاشبہ ہر بڑا مصنف اپنے پیش رو پیدا کرتا ہے، وہ کچھ ایسا لکھ جاتاہے کہ اپنے پیش رووں کو بھی قعر گمنامی سے نکال باہر کرتا ہے۔آخری حصے میں بورخیس کی کچھ نظموں کے تراجم شامل ہیں افسانوں اور مضامین کی طرح نظموں میں بھی وقت کا بہاؤ،لامتناہی کائنات میں انسان کی حیثیت اور لائبریری کی سیال دانش ہلکورے لیتی نظر آتی ہے۔ بورخیس کسی اچھوتے لفظ کے استعمال یا نئے استعارے کی تلاش میں مغز ماری نہیں کرتے بلکہ سہولت سے اپنی بات قارئین کے سپرد کرنےکاہنر جانتے ہیں۔ ان کی ایک نظم کا ترجمہ پیش خدمت ہے جو ان کے آخری دنوں کی تخلیق ہے جب وہ بصارت سے محروم ہو چکے تھے۔ نظم ملاحظہ فرمائیں:
اندھا پن
پکی عمر میں
میں چاہوں نہ چاہوں
اک تاباں، مسلسل کہر مجھے گھیرے رکھتی ہے
جو چیزوں کو توڑ کر ایک کر دیتی ہے
بے رنگ، بے شکل، تقریباً خیال کی طرح
بسیط، وسیع رات اور دن
لوگوں سے اٹا اٹ
اس کہر میں ڈھل گئے ہیں
آزمائشی روشنی کی مستقل کہر، جو ماند نہیں پڑتی
اور صبح دم گھات لگائے بیٹھی رہتی ہے
مجھے تڑپ ہے
صرف ایک بار کوئی چہرہ دیکھنے کی
کوئی اجنبی چہرہ
بند انسائیکلو پیڈیا
خوبصورت ڈراما
ان جلدوں میں جنھیں میں صرف ہاتھ سے پکڑ سکتا ہوں
ننھے اڑان بھرتے پرندے، سونے کے چاند
دوسروں کے پاس دنیا ہے، بری یا بھلی
میرے پاس یہ نیم تاریکی
اور شاعری کی مشقت
بورخیس اپنے انتھک مطالعے، غور فکر اور پامال راستوں سے بچ کر تخلیقی راہ خلق کرنےکے باعث میرے محبوب لکھاریوں میں سے ہیں وہ لکھاری جن کی تعداد انگلیوں پر بآسانی گنی جا سکتی ہے۔
(نوٹ: "باغ ہزار پیچ” کا ترجمہ زیف سید نے کیا ہے اس سے قبل وہ "بھول بھلیاں” کےعنوان سے بورخیس کےپندرہ افسانوں کےتراجم شائع کر چکے ہیں زیر نظر کتاب میں بھول بھلیاں کے پندرہ افسانے، دس مضامین اور گیارہ نظموں کے تراجم شامل ہیں جنھیں پہلی بار اشعر نجمی کے اشاعتی ادارے اثبات پبلی کیشنز نے اور دوسری بار سٹی بک پوائنٹ (کراچی) نے شائع کیا ہے)
قمر عباس علوی/لاہور
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


2 comments
اچھے مواد کی فراہمی آپ کا امتیاز ہے
[…] متفرقات […]