احسن امام احسنؔ اُردو ادب میں جدیدیت کے بعد ابھرنے والے شاعر و ادیبوں میں ایک ایسانام ہے۔جس نے بہت ہی قلیل مدّت میں اردو دنیا میں اپنی ایک الگ شناخت قائم کرلی ہے۔اگر چہ موصوف کا نام بہت مشہور نہیں تو غیر معروف بھی نہیں ہے۔ جس رفتار سے یہ اپنی فتوحات کے جھنڈے دنیائے شعروادب پر گاڑتے جارہے ہیں یہ ان کے تابناک مستقبل کی ضمانت ہے۔ احسن امام احسن کی شاعری ہو یا نثری تخلیقات یہ سب قابلِ توجہ ہیں اور قارئین کو اپنی طرف مبذول کراتی ہوئی نظرآتی ہیں۔احسن شعروسخن میں جدید لب ولہجے کے مالک ہیں وہ اپنے ہم عصروں اور ہمسفروں میں منفرد آواز اور بے باک طرز اداکے سبب بہ آسانی پہچان لئے جاتے ہیں۔احسن امام کی ابھی تک چار کتابیں منظرِ عام ہو چکی ہیں ۔ جن میں ’’سمندر شناس‘‘ ۲۰۱۳، غزلوں کا مجموعہ ،’’خواب کا سمندر‘‘(نظموں کا انتخاب)۲۰۱۹ ،’’مہاراشٹر کے قلم کار‘‘مضامین کا مجموعہ ۲۰۱۷، ’’جھارکھنڈ کے قلم کار‘‘۲۰۱۹ ، تأثراتی مضامین کا مجموعہ ہے۔ ان کے علاوہ بھی موصوف کی دیگر کتابیں زیر طبع ہیں۔ان کی شاعری حقیقت کی غماز نظرآتی ہیں ۔
احسن صاحب کے سینے میں ایک حساس شاعرکا دل دھڑکتا ہے جو اپنے ملک میں ہو رہے فرقہ ورانہ فسادات کو بھی ہدف نشانہ بناتے ہیں۔ جیسے کلیم عاجزؔ کا’’ وہ جو شاعری کا سبب ہوا‘‘۔پروفیسر مناظر عاشق ہرگانوی کا’’ آنکھوں دیکھی ‘‘کا مطالعہ کرنے کے بعد یہ اندازہ ہوتا ہے کہ کس طرح سے بے گناہ اور مظلوم انسانوں کے خون کی ہولی کھیلی گئی۔اسی طرح احسن امام احسن بھی جمشیدپور،بھاگل پور، رانچی ،وغیرہ کے فسادات کے واقعات پڑھ کر خاموش نہیں رہے اور اس تعلق انہوں نے سے اپنی رائے کا اظہار کیا۔شاعر ایسے حالات و حادثات کو جب رونماں ہوتے ہوئے دیکھتا ہے تو پھر وہ خاموش نہیں رہ سکتا کیونکہ وہ بھی اسی معاشرہ کا ایک ذمہ دارشہری ہے۔ اور وہ بھی ایک حساس دل کا مالک ہے۔اس قبیل کے چند اشعار ملاحظہ فرمائیں ؎
فساد ہو گا نہ جانے کہاں کہاں اب کے
یہی تو فکر مجھے روز و شب ستاتی ہے
خون ہی خون نظر آیا جدھر بھی دیکھا
سرخ ہی سرخ رہا میرے وطن کا موسم
اب یہی ہوتی ہیں خبریں روز کے اخبار میں
قتل خوں غارت گری ہے شہر میں بازار میں
فرقہ وارانہ فساد ہمارے ملک کا ایک ایسا المیہ ہے جو تقسیم ہندسے شروع ہوا اور اس میں بتدریج اضافہ ہی ہو تاگیا۔ ابھی حال کے دنوں میں دلّی اور بنگلورکے اندر ہوئے دنگے اس کی تازہ مثال ہیں۔ جس میں بارود، شعلوں ، انسانی چیخوں ،گولیوں کی گونج، خون اور لاشوں سے نکلی ہوئی ایک ایسے حقیقت ہے جو پڑھنے یا سننے کے بعد انسان کا ضمیر پوری طرح سے گھائل ہوجاتا ہے۔ جس میں کتنے ہی بے گناہ معصوم بچوں کو ہمیشہ کی نیند سلا دیا گیا، کہیں بے قصور انسانوں کے خون کی ہولی کھیلی گئی تو کہیں کتنی ہی ماؤں اور بہنوں کا سہاگ اجاڑ دیا گیا اور ان کی عصمت کو پامال کردیاگیا۔ ایک شاعر اپنے معاشرے کا حساس فرد ہوتا ہے ۔وہ فرقہ ورانہ فسادات کو بھی اپنی شاعری میں بہ آسانی فنی اعتبارسے جگہ دیتا ہے تاکہ آئندہ پھر ایسی ظلم و بربریت اس ملک کے باسیوں کو دیکھنے کو نہ ملے ۔مگر افسوس کہ ہمارے ملک کے سیاسی رہنما اپنے فائدہ کے لئے بے گناہ شہریوں کا خون تک بہانے میں دریغ نہیں کرتے۔(یہ بھی پڑھیں جنگ آزادیٔ ہند میں علمائے اہلحدیث کا کردار – امام الدین امامؔ )
احسن امام احسن کی غزل گوئی کے تعلق سے اردو کے مشہور ادیب پروفیسر علی احمد فاطمی کا خیال ملاحظہ فرمائیں :
’’احسن امام احسنؔ کے کلام کا سرسری مطالعہ کرنے کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ وہ بھی آج کے جدید شعرا کی طرح زندگی کو ہی مختلف حوالوں و زاویوں سے دیکھتے ہیں۔‘‘ (سمندر شناس ، ص ۹)
احسن امام احسن کی شاعری اپنے وقت کے صداقت کی ترجمانی کرتی ہوئی نظرآتی ہے۔اردو غزل ہمیشہ سے تنگیٔ داماں کا شکار رہی ہے۔ اسی وجہ سے کسی نے اس کو نیم وحشی صنف سخن کہا تو کسی نے اس کو بے وقت کی راگنی۔مگر اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ اُردو غزل غالبؔ اور سرسیّد سے پہلے صرف دل والوں کی ہی دنیا تھی ۔مگرغالب ؔ نے اس کو دل اور دماغ دونوں عطا کیا ۔ اس کے بعد سے اس میں ہر قسم کے موضوعات کو رقم کیاجانے لگا۔بقول بشیر بدر ؎
غزلیں پہلے شراب پیتی تھیں
نیم کا رس پلا رہے ہیں ہم
احسن امام احسن کی غزلیں جہاں ان کے جذبات و احساسات کی ترجمانی کرتی ہیں، وہیں اپنے ملک سے بے پناہ محبت کا بھی سبق دیتی ہیں۔ ایک شاعر اپنے ملک سے کس طرح کی محبت کرتا ہے اور کیا چاہتا ہے ۔یہ اشعارملاحظہ فرمائیں ؎
اب کبھی کوئی غلط کام نہ ہونے دیں گے
اے وطن ہم تجھے بدنام نہ ہونے دیں گے
جان دے دیں گے مگر دیش کی عظمت احسنؔ
ہم کسی حال میں نیلام نہ ہونے دیں گے
عجب ہے حال زمانے کو اِک نظر دیکھو
’’لہو لہو ہے زمینِ وطن جدھر دیکھو‘‘
فساد میں جو تباہی ہوئی ہمارے یہاں
اس کا آج بھی اِک ڈر ہماری آنکھ میں ہے
مذکورہ اشعار شاعر کی اپنے ملک سے والہانہ عقیدت و محبت کی دلیل ہے کہ کیسے ایک شاعر اپنے وطن سے بے پناہ محبت کرتا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں جمیل اختر شفیقؔ کی شاعری : ایک مطالعہ – امام الدین امامؔ )
اگرچہ ہر فنکار وشاعر اپنے دور کا آئینہ دار ہوتا ہے۔وہ اپنے مشاہدات کو رقم کر کے عوام الناس کے سامنے پیش کرتا ہے اور انسان اس کو پڑھ کر عش عش کرتا ہے۔موصوف کی شاعری سادہ ، سلیس،رواں اور آسان زبان میں ہوتی ہے ۔جس کو عام قاری بھی بہ آسانی سمجھ سکتا ہے۔ احسن امام کی غزل گوئی کے تعلق سے علی منیر کی رائے ملاحظہ ہو :
’’احسن امام احسن اپنی غزلوں میں پیکر تراشی تو ضرور کرتے ہیں لیکن زبان کی سلاست اور سادگی کے ساتھ کہ ابہام کاکوئی پہلونظر نہ آسکے۔یہی سادگی ان کی غزلوں کو انفرادیت بخشتی ہے۔‘‘ (قلم لکھ، از علی منیر،ص ۴۳)
احسن امام کی شاعری میں خود اعتمادی کا درس ملتا ہے۔وہ اپنے معاشرے میں ہورہے ظلم وزیادتی ،غربت و استحصال کی سچی عکاسی کرتے ہیں۔احسن صاحب کی شاعری فنی اور فکری دونوں لحاظ سے قابلِ قدر ہے۔ان کی یہی خوبی انہیں اپنے ہم عصر شعراء میں ممتاز و منفرد کرتی ہے۔ اشعار ملاحظہ ہو ؎
آدمیت کا تقاضا ہے کہ تم راہوں سے
جب کبھی گزرو تو بکھرے ہوئے کانٹے چن لو
دردِ ماضی ، فکر حاضر اور فردا کی خوشی
وقت کا طوفان مجھ سے ہر نشانی لے گیا
الجھنیں ہیں میری ساتھی غم بھی میرا دوست ہے
جانتا ہوں واقعی میں زندی کا ذائقہ
خوف دریا اسے نہیں ہوتا
جو سمندر شناس رہتا ہے
کام آئیں گے یہی زیست کی تاریکی میں
اپنے اجداد کی قدروں کے اجالے چن لو
شاعر نے زندگی کو بہت قریب سے دیکھا اور پرکھا ہے۔ اور اپنے تجربات اور مشاہدات کو لوگوں کے سامنے پیش کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔شاعر جہاں اپنی موجودہ زندگی سے خوش نظرآتا ہے وہیں اپنے بچپنے کو بھی تلاشنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ گاؤں کی پگڈنڈیا،وہ کھیت وہ کھلیان وغیرہ کو اپنے اشعار میں ڈھونڈنے کی کاوش کرتا ہے۔اس تعلق سے اشعار ملاحظہ فرمائیں ؎
ہمارے گاؤں میں بچپن ہمارا چھوٹ گیا
تو اس کا غم ہی نہیں اضطراب بھی ہوگا
ان کی شاعری آپ بیتی کو جگ بیتی بنانے میں کامیاب نظرآتی ہے اور یہ ایک اچھے ،منجھے ہوئے قلم کارکی علامت ہے کہ جب اس کی کوئی تخلیق قاری کے سامنے سے گزرے تو وہ اس کو آپ بیتی سمجھے اور سردھننے پر مجبور ہو۔احسن صاحب کی شاعری کے بارے میں ابراہیم اشک کا خیال بھی ملاحظہ فرمائیں :
’’احسن امام احسن ؔ اسی رفتار سے شعر کہتے رہیں وقت ایک دن سب کا مقام اور مرتبہ طے کر دیتا ہے اس کے لئے جھوٹے سچے ناقد کی ضرورت نہیں ہوتی۔‘‘
(سمندر شناس، ص ۱۵)
یہ بات روز روشن کی طرح بالکل عیاں ہے کہ جو شاخ با ثمر ہوتی ہے وہ خود بہ خود لچکتی ہے اس کو کسی دوسرے وزن اورتیز ہوا کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ ہلکی سی بھی ہوا چلتی ہے اور وہ شاخ لچکنے لگتی ہے۔ یہی حال موصوف کی شاعری کا ہے جو شاخ با ثمر کے مترادف ہے۔ کیونکہ احسن امام نے اپنے جذبات و احساسات کو پیش کرنے میں جن اسلوب، اور لہجے کو چنا ہے وہ قابلِ غور و فکر ہے۔ ان کا سب سے بڑا امتیاز اُن کی سادہ اور سلیس زبان ہے۔ جو اپنی تمام تر سادگیوں کے باوجود اپنے اندر بڑی تہہ داری اورجاذبیت رکھتی ہے۔ (یہ بھی پڑھیں انسانی زندگی پر موبائل کے منفی اور مثبت اثرات – امام الدین امامؔ )
احسن امام احسن ایک ایسے شخص کا نام ہے جو نثر و نظم دونوں پر یکساں مہارت رکھتے ہیں۔ہم یہ بات پورے وثوق کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ سمندر شناس کی غزلیں اپنے عہدکی بہترین ترجمانی کرتی ہیں اور ساتھ ہی ساتھ اس سے شاعر کے ظاہر و باطن سے بھلی بھانتی روشناس بھی کراتی ہے۔ جو ایک دردمند دل کا مالک ہے۔احسن صاحب اپنی غزلوں میں بہت کامیاب نظرآتے ہیں اور یہ ان کے ایک اچھے شاعر ہونے کاثبوت ہے۔اللہ کرے زور قلم اور زیادہ ۔
Imamuddin Imam
S/o. Md. Salahuddin
Vill. Damodari
P.O.- Bishundattpur
Distt.- Muzaffarpur – 843 113
Bihar
Mob.- +91 62061 43783
مضمون نگار جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں ایم اے کے طالب علم ہیں۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


1 comment
عمدہ مضمون ہے