فیڈ این جی او کی جانب سے فاضل پور مکتب میں زیر تعلیم بچوں کے درمیان حجاب، اسٹال اور ٹوپی تقسیم کیا گیا۔
سمستی پور (نامہ نگار ): آج جس طرح مسلم قوم کو عالم دین، مفتی، قاضی کی ضرورت ہے اسی طرح، ڈاکٹرس، انجینئرس، وکیل، سول سرونٹ، سائنس داں، اساتذہ اور پروفیسرس وغیرہ کی ضرورت ہے تاکہ وہ مسلمانوں کے خلا کو پرسکیں۔ یہ باتیں فیڈ این جی او کے سربراہ و کانگریس اقلیتی سیل کے کارگزار صدر غضنفر شکیل نے تاج پور بلاک کی پنچایت شاہ پور بگھو نی کے فاضل پور مکتب میں بچوں کے درمیان انعام تقسیم کرنے سے قبل اپنے خطاب میں کہیں۔انہوں نے کہا کہ اسکول اور مدرسہ آج کے دور میں دو مختلف نہج کے تعلیمی ادارے مانے جاتے ہیں۔ اسکول سے مراد عصری تعلیم کا ادارہ لیا جاتا ہے اور مدرسہ کا مطلب جہاں صرف دینی تعلیم دی جاتی ہے اور یہ حقیقت بھی ہے ۔ اس طریقہ تعلیم نے دینی اور دنیوی تعلیم کے درمیان ایک دیوار کھڑی کردی ہے جس سے اسکول میں تعلیم حاصل کرنے والے بچے دین سے اور مدرسہ میں پڑھنے والے بچے عصری تعلیم سے محروم رہ گئے ہیں۔ ہم اگر اپنے ماضی کی طرف دیکھیں تو مدرسہ ہی حصول علم کا واحد ذریعہ ہوا کرتا تھا اور اس دور میں ڈاکٹرز ، انجنیئرز آرکیٹکٹ ، ماہرین ریاض ، طبعیات و کیمیا، فلسفی، مفکر وغیرہ وغیرہ سب ان ہی مدارس کے فارغ ہوتے تھے۔ موجودہ وقت میں اسکولی تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کے لیے تعلیمی تعلیمات کے لیے کوئی مستقل ادارہ نہیں ہے۔اس لئے مکتب کا قیام انتہائی ضروری ہے۔ ہر محلہ اور گلی میں مکتب کا قیام کشتی وقت کی ضرورت ہے۔ سماجی کارکن کاشف الہدی سبنو نے کہا کہ چھوٹے بچوں کو اگر ہم اپنے دین کے بارے میں سکھائیں گے تو وہ دیندار بنیں گے۔ اور اپنے نو نہالوں کو یوں ہی چھوڑ دیا تو یہ بچے دین سے نا آشنا پریشان حال دنیا میں بھی رہیں گے اور آخرت میں بھی نقصان اٹھانا ہوگا۔ اس لیے آپ لوگ اس۔ جانب توجہ دیں۔

اسکول میں تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کے درمیان دینی تعلیم حاصل کرانے کا عزم لیں۔ مولانا انظر ندوی نے اس موقع پر کہا کہ اسلام نے علم نافع اور علم غیر نافع کی تقسیم کی ہے۔ جس علم سے اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل ہو اور پوری انسانیت کو فائدہ پہنچے تو وہ علم نافع ہے۔اس کے برعکس جو علم انسان کو گمراہی اور فسق و فجور میں ملوث کر دے اور خلق خدا کے لئے ضرر رساں ہو تو وہ علم غیر نافع ہے۔
یہ مسلم امر ہے کہ اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے ۔دین و دنیا کی رہنمائی اس میں ہے۔ اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اس تیز زمانہ میں موجودہ دور کی جدت کو محسوس کیاگیا ہے۔ آغاز اسلام سے لے کر آج تک اسلامی تعلیم کے ساتھ عصری علوم کو حاصل کرنے کی تہذیب مسلمانوں میں مسلسل موجود رہی ہے۔اس کسی بھی تعلیم کے حصول پر اس بات کا خیال رہے کہ ہمارا اسلام، ہمارا دین، ہمارا ایمان تو متاثر نہیں ہو رہا ہے۔ دوستوں حصول تعلیم کو اپنے لیے فرض کریں۔ موقع پر عباد منظر ، نوشاد عثمانی، محمد نیاز ، احاب مبین، ہشام مبین وغیرہ موجود تھے۔ فیڈ این جی او کی جانب سے مکتب میں زیر تعلیم تمام بچوں اور بچیوں کے درمیان، ٹوپی، اسٹال، حجاب تقسیم کیا گیا۔ مولانا انظر ندوی کی دعا پر پروگرام اختنام پذیر ہوا۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

