اردو شاعری میں اولیت کا تاج تو امیر خسرو (1325-1253)کے سرہے لیکن اردو شاعری کا باوا آدم ولی (1725-1668) کو کہا گیاہے اور ان کی شاعری کا مطالعہ بتاتا ہے کہ ان کو یہ خطاب بجا طور پر دیا گیا ہے۔ کیونکہ ولی سے پہلے اردو شاعری تقریباََ تین سو سال کا سفر طے کر چکی تھی لیکن اسے وہ عروج میسر نہ آسکاتھا جو ولی کے بعد ملا۔ ولی کی شاعری کا امتیازِ خاص یہ ہے کہ وہ اردو کے ان معدودے چند شعراء میں سے ہیں جن کی غزل پڑھ کر غم کی کیفیت کے بجائے طبیعت پر شگفتگی طاری ہوجاتی ہے۔انھوں نے تمام اصناف سخن میں طبع آزمائی کی ہے لیکن غزل نے انھیں بقائے دوام عطا کیاہے۔ ان کے کلام میں ایک خاص طرح کی رنگینی اور دلکشی پائی جاتی ہے۔ان کی شاعری کا تعلق براہ راست ان کے جذبات و احساسات اور تجربات سے ہے۔ ان کی غزل میں کوئی تکلف و بناوٹ نہیں اور نہ ہی حسن وعشق کے بیان میں وہ مبالغہ آرائی سے کا م لیتے ہیں۔ انھوں نے اپنی غزلوں میں عشق کی واردات و کیفیات کی ترجمانی بڑے والہانہ اندازمیں کی ہے۔ ان ہی کی اردو غزل سے متاثر ہو کر شمالی ہند کے فارسی گو شعراءنے اردو غزل گوئی کی طرف توجہ کی، اسی بناء پر انھیں اردو کا امام المتغزلین کہا گیا ہے ۔
ولی نے اپنی غزلوں میں نئی تشبیہوں اور استعاروں کا خوب استعمال کیا ہےاوران میں پاکیزگی اور شائستگی کو بھی ملحوظ رکھا ہے۔ چونکہ انھوں نے فارسی شعرو ادب کی بھی خوشہ چینی کی ہے اور ہندی الفاظ و محاورات کابھی دلکش اندازمیں استعمال کیا ہے۔اس لیےان کی غزل گوئی میں بانکپنے کا ایک مخصوص رنگ پایا جاتا ہے۔ اس کے باوجود یہ محسوس ہوتا ہے کہ ان کی شاعری میں فلسفیانہ فکر و نظر کی رفتار کمزور ہے۔ کائنات کے اسرار و رموز سے متعلق مواد ان کی شاعری میں کم ملتے ہیں اور دنیا کی بےثباتی کے مضامین کی تکرار پائی جاتی ہے۔ بنیادی طور پر ان کی شاعری میں مضمون آفرینی محبوب کے جسمانی حسن کے بیان تک محدود ہے۔ اس میں تخیل کی کارفرمائی میں تنوع کا رنگ ناپید ہے جو غزل کا طرۂ امتیاز سمجھا جا تاہے۔لیکن ان کے اس کارنامے سے کس کو انکار ہو سکتا ہے کہ انھوں نےاردو شاعری کو گیت کی فضا سے نکال کر غزل کے مزاج سے قریب تر کرنے کی کوشش کی ہے۔ تشبیہ و استعارے کے رنگ کو ملاحظہ کیجئے:
اے کعبہ رو کھڑا تو ہواجوں ادا کے ساتھ
بولے مکبران کہ قدقامت الصلوٰۃ
یو تل تجھ مکھ کے کعبہ میں مجھے اسود حجر دستا
زنخداں میں ترے مجھ چاہ زمزم کا اثر دستا
ولی کی غزل گوئی میں فکر کے عناصر کا فقدان تو ضرور پایا جاتا ہے تاہم ان کے یہاں نظامیاتی اسالیب کے وسیع استعمال میں غزل کی حرکیت میں بصارت کے عمل دخل کو صاف محسوس کیا جا سکتا ہے ۔ یہی وہ رجحان ہے جو تشبیہات و استعارات کے استعمال اور قوت باصرہ کی محرکات پر مبنی ہے۔کیونکہ اس اسلوب کو برتنے میں لامسہ، سامعہ اور شامہ سے زیادہ باصرہ کی کارفرمائی زیادہ محسوس ہوتی ہے۔چنانچہ ولی کا محبوب ایک نور کا پیکر ہے جس کو وہ سورج،شعلہ، آئینہ،روشنی و رنگ سے تعبیر کرتے ہیں۔ ان کے یہاں ساری مسرتوں کا راز تاریکی کے چھٹنے اور روشنی کے پھیل جانے میں مضمر ہے۔ ولی کی حسِ کی تیزی کا اندازہ ان کے اس شعر سے لگایا جا سکتا ہے:
مکھ تیرا آفتابِ محشر ہے
نور اس کا جہاں میں گھر گھر ہے
صنم مجھ دیدہ و دل میں گزر کر
ہوا ہےباغ ہے آب رواں ہے
ولی کی کائنات میں روشنی و رنگ کے عکس کے مظاہر تاباں ہیں ۔ انھوں نے ان میں اشیاء کی تشریح و تفہیم روشنی کی زبان میں کی ہے۔ انھوں نے محبوب کی پرستش کے جذبے کو ترک نہیں کیا بلکہ ایک آتش پرست کی صورت میں ظہور کی سعی کی ہے،اسی لیے ولی کا محبوب سورج کی مانند کشش ثقل کا حامل سیارہ صورت ہے اور شاعر ہر صبح بیدار ہوتے ہی اس کی پرستش کو ایک فریضے طور پر انجام دیتا ہے۔ شاعر کی اس روش کی توضیح ان اشعار سے ہوتی ہے:
دیکھنا ہر صبح تجھ رخسار کا
ہے مطالعہ مطلع انوار کا
ٹک ولی کی طرف نگاہ کرو
صبح سوں منتظر ہے درشن کا
عجب کچھ لطف رکھتا ہے، شبِ خلوت میں گل روسوں
خطاب آہستہ آہستہ، جواب آہستہ آہستہ
مذکورہ اشعار میں شاعر نے حسن و عشق کی خاص کیفیتوں کو جس سادگی کے ساتھ پیش کر دیا ہے،وہ قابل داد ہے۔ کہتے ہیں کہ محبوب سے تنہائی میں بات کرنے میں جو لطف ملتا ہے، وہ کچھ الگ ہی نوعیت کا ہوتا ہے ۔ محبوب جب بہت بے تکلف نہیں ہوتو وہ دھیمے دھیمے لہجے میں مختصر سوال و جواب والی گفتگو سے عاشق کے آتشِ شوق کو مہمیزیت سے دوچار کرتا ہےاور خود بھی سرشاری کی کیفیت میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ ولی نے بھی اپنے محبوب سے کچھ اسی نوعیت کا تعلق روا رکھا ہے۔دراصل حسن و جمال کو انھوں نے اپنے محبوب کی اداؤں میں دیکھا اور وصل کی لذتوں کے خیالات کو شعری پیرہن عطا کیا۔اسی لیے محسوس ہوتا ہے کہ ولی کا محبوب محض خیالی پیکر نہ ہو کر ایک مکمل اور زندہ دلی کی حامل ہستی ہے اور وہ دکنی یا گجراتی حسن کا مجسمہ ہے۔ولی کا محبوب مہرباں، محبت آشنا اور وفا پرست ہے، نہ کہ سفاک ، ظالم اورجفا و جور کا مترادف۔ شعر ملاحظہ کریں:
عیاں ہے ہر طرف عالم میں حسن بےحجاب اس کا
بغیر از دیدۂ حیراں نہیں جگ میں نقاب اس کا
ہو تا ہے جیوںمرا شاد اس کی ہنسی سوں
اگر جو ہنس کے نہ کہے بات گلِ عذار چہ حظ
تجھ گھر کی طرف سمندر آتا ہے ولی دائم
مشتاق درس کا ہے ٹک درس دکھاتی جا
ولی کی غزلوں میں عشق کے نشاطیہ پہلو کی ترجمانی اتنی شدید نظر آتی ہے کہ اس کے درد و غم کا پہلو بڑی حد تک پس پشت چلا جاتا ہے۔ مگر یہ ترجمانی کبھی تعیش پسندی یا لذت پسندی کی سرحدوں میں داخل نہیں ہوتی:
رات دن تجھ جمال روشن سوں
فضلِ پروردگار شامل ہے
رشک سوں تجھ لباں کی سرخی پر
جگر لالہ داغ داغ ہوا
نہ جاؤں صحنِ گلشن میں کہ خوش آتا نہیں مج کوں
بغیر از ماہ رو ہرگز تماشا ماہتابی کا
ولی کے یہاں محبوب کے حسن کی جو تصویر ملتی ہے، وہ یقیناََ ان کی تخیل طرازی کا نمونہ نہ ہوکر ان کے اپنے مشاہدات کے بیانیہ عنصر کی مثال ہے۔ محبوب کے جسم کو یوں لفظوں کے لبادے سے تراشتے ہیں کہ ان کا پیکر قاری کی آنکھوں میں اس طرح رچ بس جاتا ہےکہ اس کی ایک خاص شکل نمودار ہو کر سامنے آجاتی ہے۔ ولی کا محبوب اسی فانی دنیا کی مخلوق ہے جو ان کی آنکھوں میں بسی رہتی ہے۔ وہ جب چاہے اپنے محبوب کے دیدار سے اپنی آنکھوں کو روشن کر لیتاہے:
ترے دو نین دیکھوں جب نظر بھی
مجھے تب نرگستاں یاد آوے
تجھ چشم سیاہ مست کے دیکھے ستی، زاہد
تجھ زلف کے کوچے منیں ایماں بسر آوے
ولی کے یہاں سراپا نگاری بدرجۂ اتم موجود ہے۔ انھوں نے اپنی اردو شاعری میں محبوب کا پیکرجس انداز میں تراشا ہے اور اس کا بیان شیریں انداز میں کیا ہے ، وہ اردو غزل کی روایت میں ان کی ایک امتیازی وصف ہے۔ اس سے پہلے اور بعد میں اس نوعیت کی پیکر تراشی پھر کسی کے یہاں دیکھنے کو نہیں ملتی۔انھوں نے واقعیت اور تخیل کے بل بوتے اپنے محبوب کو اس قدردلکش صورت عطا کیا ہے کہ اس کے سامنے دنیا کا تمام حسن ہیچ نظر آتا ہے۔ وہ اپنے محبوب کی تعریف کرتے ہوئے نہایت ہی حظ و انبساط کا بھی احساس کرتے ہیں:
ہے حسن ترا ہمیشہ یکساں
جنت سے بہار کیوں کے جاوے
ابروکے نزک یہ خال موزوں
خوش مصرعۂ مستزاد دستا
وہ نازنیں ادا میں اعجاز ہے سراپا
خوبی میں گل رخاں سوں ممتاز ہے سراپا
اے شوخ تجھ نین میں دیکھا نگاہ کر کر
عاشق کے مارنے کا انداز ہے سراپا
ولی کے محبوب کے حوالے سے یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ان کے یہاں ہندی الفاظ سے اپنے محبوب کو پکارا گیا ہے اور خطابیہ میں ایک روح کی کیفیت منتقل کرنے کی راست سعی کی گئی ہے، ان کے اس اندازِ تخاطب کو اس شعر میں ملاحظہ کیجئے:
راست کیشاں سوں، اے کماں ابرو!
کج ادائی نہ کر ! خدا سوں ڈر
نرگس نمن رہی نہیں پل مارنے کی طاقت
آ دیکھ اپس انکھیاں کے بیمار کا تماشا
ولی کی غزلیات کے اس مختصر سے مطالعے سے واضح ہوتا ہے کہ ان کے یہاں محبوب کاایک واضح تصور تھا۔ وہ جہاں محبوب کی پرستش کے قائل تھے، وہیں محبوب سے وفا اور محبوب کی خود سپردگی کے بھی طالب تھے۔ اس کے برخلاف اردو شاعری میں ہجر کی کیفیتوں کے بیان پر مشتمل شاعری کو زیادہ جگہ ملی ہے اور مقبولیت بھی۔ لیکن ولی کے یہاں عشق کا تصور یک طرفہ نہ ہوکر گاڑی کے دو پہیوں کے مانند برابری کے درجے کی مانگ پر اصرار سے عبارت تھا۔ عشق کے اس فطری تقاضے کو جب جب پس پشت ڈالا گیا تو معاشرے میں بے راہ روی کی فضا پائی گئی ، اسی لیے ولی نے اسے محسوس کیا اور محبوب سے وصل کے مضامین کو اپنی شاعری کاموضوع بنایا اور ان کا یہ موضوع اپنی نوعیت کی منفرد کوشش ہے اور قابلِ صد تحسین بھی۔
کتابیات:
1۔کلیات ولی، مرتب : نورالحسن ہاشمی ، قومی اردو کونسل، سن اشاعت: 2008
2۔اردو غزل ولی تک، مرتبہ: ڈاکٹر سید ظہیر الدین، مکتبہ جامعہ لمیٹڈممبئی، سن اشاعت: 1961
3۔ دکن میں اردو : نصیرالدین ہاشمی، ترقی اردو بیورو نئی دہلی، سن اشاعت : 1985
WAQAR TAOHEED
Dept. of Education (M.Ed),
Acharya Nagarjuna University, Gunutur- 522510 (A.P).
Mob. 9334540656 , waqartaoheednadwee@gmail.com
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

