آوازیں(غزلیں)/ نوشاد احمد کریمی – امتیاز احمد علیمی
نوشاد احمدکریمی کا تعلق صوبہ بہار کے ایک علمی و ادبی گھرانے سے ہے جہاں انھیں علمی ،ادبی اور شعری ذوق وراثت میں ملی۔ان کی ادبی زندگی کا باقاعدہ آغاز مابعد جدید عہد میں 1984کے بعد صنف افسانہ اور شاعری سے ہوا۔ان کی نثری و شعری تخلیقات ملک اور بیرون ملک کے موقر ادبی رسائل و جرائد میں تواتر کے ساتھ شائع ہوتے رہے۔انھوں نے کچھ تنقیدی مضامین بھی تحریر کئے لیکن شاعری کی طرف زیادہ رغبت اور جھکائو نثری فن پاروں کی تخلیق میں آڑے آنے لگی چنانچہ انھوں نے نثری تخلیقات سے اپنے آپ کو دور رکھا اور اپنے ما فی الضمیر کی ادائیگی اور جذبات و احساسات اور تجربات و مشاہدات کو پیش کرنے کے لئے صنف شاعری میں غزل کو وسیلہ اظہار بنایا۔حالانکہ انھوں نے نظمیں بھی کہی ہیں لیکن غزلوں کی طرف ان کا جھکائو زیادہ رہا۔یہی وجہ ہے کہ انھوں نے نظمیں کم اور غزلیں زیادہ کہی ہیں۔ان کی غزلوں کا پہلا مجموعہ’’انفراد‘‘ کے نام سے 1999ء میں شائع ہو کر منظر عام پر آچکا ہے۔زیر تبصرہ مجموعہ ’’آوازیں‘‘ ان کی غزلوں کا دوسرا مجموعہ ہے جو 2017ء میں ایجوکیشنل پبلشنگ ہائوس نئی دہلی کے زیر اہتمام منظر عام پر آچکا ہے۔اس مجموعہ میں تقریباً 90 غزلیں شامل ہیں جو مختلف موضوعات کا احاطہ کرتی ہیں۔اس مجموعہ میں شامل غزلوں کے مطالعہ سے یہ بات واضح طور پر سامنے آتی ہے کہ یہ ان کے ذاتی تجربات و مشاہدات پر مبنی ہیں۔انھوں نے اپنی غزلوں میں روداد زندگی کے انھیں پہلوئوں کو موثر انداز میںپیش کیا ہے جسے اپنے آس پاس کی زندگی میں دیکھا اور محسوس کیا ہے۔ان کی غزلوں کو پڑھتے ہوئے اکثر یہی محسوس ہوتاہے کہ ان میں بے چینی،بے رخی،بے وفائی اورہجر کی کیفیت غالب ہے۔جس کے نتیجے میں مایوسی اور قنوطیت کا عکس صاف طور پر نظر آتا ہے۔اس کے علاوہ عدم تحفظ،زمانے کی ناقدری اور ناسپاسی کا گلہ،قید وبند کی زندگی،صاحب نظر اور صاحب بصیرت سے گلہ و شکوہ،موت و حیات کا فلسفہ،عدم فرصتی،فلیٹ کلچر سے پیدا شدہ مسائل،ملک میں امن وامان نہ ہونے کی شکایت،عشق ومحبت میں ہجر کی کیفیت،مدحت اجداد سے پیدا ہونے والے مسائل،وفا، خلوص، مروت جیسے الفاظ کی کھوتی ہوئی عصری معنویت کی نوحہ گری،خارجی زندگی کے مسائل،زمانے کے نشیب و فراز سے بدلتے ہوئے تہذیبی و ثقافتی منظر نامے وغیرہ سبھی کچھ ان کی غزلوں میں تلاش کیے جا سکتے ہیں۔مثال کے طور پرچند اشعار ملاحظہ کیجیے:
عجب طرز رہائش ہوگئی ہے ان دنوںسب کی
یہاں تو دو دلوں کے درمیاں دیوار چلتی ہے
کسی کی سر بلندی دیر تک قائم نہیں رہتی
ہمارے شہر میں تو قیمت دستار چلتی ہے
اک نظر ڈالی نہ اس نے مری بدحالی پر
خیریت تک نہ پوچھی خبر ہوتے ہوئے
وفا،خلوص، مروت پرانی باتیں ہیں
خزاں کی زد میں ہر اک شاخ آرزو ہے ابھی
مرے خلاف زمین وزماں نہیں ہے کیا
تمہارے عشق میں جی کا زیاں نہیں ہے کیا
اک زمانہ ہوا دیکھے ہوئے صورت اپنی
خود سے ملنے بھی نہیں دیتی ضرورت اپنی
امیر شہر سے خلق خدا اب
تحفظ کی ضمانت چاہتی ہے
اس طرح اور بھی بہت سارے اشعار ہیں جن میں ملک کی عصری صورتحال کا نقشہ کھینچا ہے اور اپنے کرب کا خوبصورت اظہار کیا ہے جو صرف ان کا ذاتی کرب نہ رہ پورے ملک کا کرب بنتا دکھائی دیتا ہے۔مذکورہ صفات کے علاوہ ان کے کلام میں معشوق کی کج ادائی،اس کی بے رخی اور بے وفائی کا ذکر بار بار مختلف لب و لہجہ میں کیا ہے۔ہجر کی کیفیت کا بیان جو ہماری کلاسیکی شاعری کا امتیازی وصف ہے وہ نوشاد کریمی کی غزلوں میں زیادہ نظر آتا ہے۔وصل کی کیفیت کا اظہارجو جدید غزل کی اہم خصوصیت ہے وہ ان کی غزلوں میں شاذ ہی نظر آتا ہے۔انھیں خصوصیات کی بنیاد پر ان کی غزلوں میں مکمل طور نہ سہی بلکہ جزئی طورپرہی سہی کلاسکی رنگ و آہنگ کا عمل دخل ہے جو مکمل مجموعہ کو پڑھتے ہو ئے تلاش کیا جا سکتا ہے۔ یہاں صرف تین شعر دیکھئے:
میں جانتا ہوں کہ ہجرت نصیب ہے میرا
مکاں کی حد سے نکلنا ہے لا مکاں کے لئے
کس کو تھا معلوم کہ نوشاد میرا ہمسفر
چھین کر مجھ سے مری شام و سحر لے جائے گا
اک صحیفے کی طرح پڑھتی ہے دنیا مجھ کو
اور اس نے مجھے اوراق دریدہ سمجھا
نوشاد کریمی کی غزلوں کا بیشتر حصہ ہجر کی کیفیت ہر مشتمل ہے جس میں کہیں کہیں یک رنگی کی کیفیت نظر آتی ہے۔انھوں نے ہجر کے مختلف پہلوؤں کو مختلف زاویوں سے شعری قالب میں ڈھالا ہے جسے پڑھتے ہوئے قاری مختلف تجربات سے خود کو ہم آہنگ کرتا ہے۔نوشاد کریمی کے کلام کی خوبی یہ ہے کہ انھوں نے اپنی غزلوں کو ثقیل،بھاری بھرکم اور نامانوس ڈکشن سے حتی الامکان گریز کیا ہے اور مشکل تراکیب اور بہت زیادہ صنائع بدائع سے بوجھل نہیں بنایا ہے بلکہ سہل اور رواں اسلوب میں اپنی آپ بیتی کو جگ بیتی بنانے کی کوشش کی ہے۔ان کا کلام ایسا ہے جسے عام اور خاص دونوں طرح کے قارئین لطف اندوز ہو سکتے ہیں کیونکہ وہ تفہیم میں بہت زیادہ رکاوٹ پیدا نہیں کرتیں بلکہ وہ ان کی تفہیم و تعبیر دو چار بار کی قرأت کے بعد خود سے کر سکتا ہے۔وجہ یہ ہے کی ان کی غزلوں میں پیش کردہ مسائل و موضوعات سامنے کے ہیں جو ہم سب کے تجربات و مشاہدات کا بھی حصہ ہیں۔نوشاد کریمی کی خوبی یہی ہے کہ انھوںنے ان مسائل و موضوعات کو خوبصورت شعری پیرہن عطا کرکے اپنی خلاقانہ صلاحیت اور شعری و ادبی ذوق کا بہترین نمونہ پیش کیاہے۔یہی تمام باتیں ان کی غزلوں کی بنیادی خصوصیات ہیں۔مذکورہ صفات کے علاوہ اور بھی کئی ایسے اوصاف ہیں جو آپ کو مجموعہ کے مطالعہ کے دوران نظر آئیں گے۔ بطور نمونہ مزید تین شعر دیکھیے:
سبھی کھڑے تھے وہاں اپنی داستان لیے
جہاں جہاں گئے قصہ کوئی سنانے ہم
حیات و موت میں دوری تو کچھ نہیں لیکن
حصار جسم میں کتنے زمانے رہتے ہیں
تمہاری یاد کی خوشبو ہے خانۂ دل میں
تمہارا عکس بھی دیوار و در میں دیکھا ہے
آخر میں اس مجموعے کے مطالعے کے بعد یہ کہہ سکتے ہیں کہ نوشاد کریمی کا یہ مجموعہ ہر اعتبار سے اچھا ہے اور پڑھے جانے کے لائق ہے۔اس میں متعدد دلوں کی آوازیں ہیں جو پڑھتے ہوئے قارئین کو سنائی دیں گی اور ہجر کے درد وکرب کو محسوس بھی کریں گے اور اس سے نکلنے والی سوز و ساز کی کیفیت سے خود کو ہم آہنگ کریں گے۔امید قوی ہے کی علمی و ادبی حلقوں اور شعری محفلوں میںنوشاد احمد کریمی کی ’آوازیں‘ ضرورگونجے گی اور اس کی پذیرائی بھی ہوگی۔

