صدام حسین (مضمرَؔ علیگ)
ریسرچ اسکالر شعبئہ اردو ،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ
smhusaineditor@gmail.com
گذشتہ دنوں شہلاؔ کلیم کا شعری مجموعہ بعنوان ’’برگ سخن‘‘ منظر عام پر آیا ہے اور فی الحال ادبی حلقوں میں موضوع ِگفتگو بنا ہوا ہے۔ شہلا ؔکلیم اس وقت جے این یو، دہلی میں ریسرچ اسکالر کی حیثیت سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری کے لیے تحقیقی کام انجام دے رہی ہیں ۔ پچھلے چند برسوں سے سوشل میڈیا پر ان کا کلام قائرین سے دادو تحسین وصول کرتا رہا ہے ۔ ان کا یہ اولین مجموعہ غزلیہ اور نظمیہ شاعری پر مشتمل ہے جس میں انھوں نے ساٹھ غزلوں اور انتیس نظموں کا انتخاب پیش کیا ہے ۔ غزلوں کی پیش کش اور ترتیب میں شہلاؔ نے باعتبار ردیف حروف تہجی کو بنیا د بنایا ہے ۔نظموںمیں موضوع کے اعتبار سے ،سلام،مناجات اور ہیئت کے اعتبار سے آزاد اور معری، طویل و مختصر نظمیں شامل ہیں۔مجموعوں کے مقدمے اور انتساب عام طور پر نثر میں پیش کیے جاتے رہے ہیں شہلاؔ نے اس روایتی ڈگر کے برخلاف اپنے مجموعے کا انتساب اور مقدمہ نظمیہ ہیئت میں پیش کیا ہے جو اس مجوعے کے اختصاص میں اضافے کا ذریعہ ہے ۔
شاعری کو بنیادی طور پر جذبات و احساسات ،خارجی و داخلی تجربات و مشاہدات وغیرہ کی ترجمانی کا بہترین ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔شاعری کے لیے مختلف زمانوں میں مختلف اصول و ضوابط بھی قائم ہوتے رہے ہیں لیکن تمام اصول و ضوابط کے باوجود شاعری کے رشتے کو انسان کی زندگی سے الگ نہیں کیا جا سکا ہے ۔یعنی اس میں بیان ہونے والے تمام تر داخلی و خارجی مسائل و میلانات بہر طور انسان ہی کی زندگی سے استوار نظر آتے ہیں ۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب ہمیشہ سے شاعری کا رشتہ انسانی زندگی سے استوار رہاہے تو پھر بار بار انہیں کہی ہوئی باتوں کو دہرانا اور انھیں شعری پیکر میں ڈھال کر پیش کرتے رہنا چہ معنی دارد؟جواب یہ ہے کہ انسانی زندگی سے منسلک مسائل و میلات تو یقینا وہی ہوتے ہیں البتہ زمانے کے لحاظ سے ان کی نوعیت میں تبدیلیاں ضرور رو نما ہوتی رہتی ہیں ۔مثلاً عشق و محبت ظاہری طور پر دو لفظ ہیں ، ہماری کلاسیکی وجدید شاعری میں عشق و محبت پر ہزاروں اشعار موجود ہیں لیکن کیا اس زمانے کے عشق و محبت اور دورحاضر کے عشق و محبت میںکوئی تبدیلی رونما نہیں ہوئی ؟ یقینا ہوئی ہے ۔یہی تبدیلی شاعر کو بار بار اس قدیم موضوع پر جدیدشعر کہنے کے لیے مواد فراہم کرتی ہے ۔ غاؔلب و میرؔ کے زمانے کا دکھ مختلف تھا، آج کے زمانے کے دکھ،دردو غم مختلف ہیں ۔ہرگزرا ہوا زمانہ سماجی،معاشرتی و تہذیبی قدروں کے لحاظ سے منفرد حیثیت کا حامل ہوتا ہے، اس کے مقابلے ہر آنے والاکل سماجی و معاشرتی سطح پر اپنی خارجی و داخلی حیثیت کے اعتبار سے کچھ نہ کچھ نیا لے کر وجود پذیر ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسانی مسائل و میلانات کی نوعیت قدیم ہونے کے باوجود شاعری میں ہر زمانے اور عہد کے لحاظ سے نئی نظر آتی ہے ۔ اسی لیے بسا اوقات ہماری نگاہ ’’ کیا کہا گیا ہے ‘‘ سے زیادہ ’’ کیسے کہا گیا ہے‘‘ پر ٹھہر جایا کرتی ہے ۔ شہلا ؔکلیم کا یہ مجموعہ قارئین کی نگاہ کو ’’ دونوں صورتوں میں کچھ دیر ٹھہر کو غوروفکر کی دعوت دیتا ہے ۔ آئیے ان کے اس مجوعئہ کلام کی شاعری بطور خاص غزلوں پر دو نو ںزایوں سے غور وفکر کی کوشش کرتے ہیں۔
عشق و محبت ہماری قدیم و جدید شاعری کا محبوب ترین موضوع رہا ہے ۔میرؔ تقی میر نے کہا تھا کہ :
کیا کہوں تم سے میں کہ کیا ہے عشق
جان کا روگ ہے بلا ہے عشق
عشق ہی عشق ہے جہاں دیکھو
سارے عالم پھر رہا ہے عشق
گویا یہ وہ کارو بارِ بازار ِدنیا ہے جسے بقائے دوام حاصل ہواور جوازل سے لے کر ابد تک بدستور جاری رہنے والا ہو۔ شعرا نے اس کاروبار کے ہر پہلو کی پیش کش میں پنجہ آزمائی کی کوشش کی ہے ۔دور حاضر کا شاعر بھی خواہ وہ دیگر کتنے ہی مسائل و میلانات اور مشاہد ات کا ترجمان کیوں نہ ہو عشق کی دنیا میں قدم رکھے بغیر اپنے فن کی تکمیلیت کے احساس سے گویا خود کو محروم محسوس کرتا ہے۔شہلاؔ کلیم نے بھی اس دنیا میں بڑے زوروشور کے ساتھ قدم رکھا ہے جس کی آواز ان کے مجموعئہ کلام کی ورق گردانی کرتے وقت اول تا آخر بدستور سنائی دیتی ہے۔ یہ آواز بسا اوقات شیریں و دل گداز تو کبھی تلخ اور دردو غم کی چاشنی میں ڈوبی ہوئی محسوس ہوتی ہے ۔ عشق اور اس کی متعدد واردات و کیفیات کی ترجمانی سے شہلاؔ کو گیا ایک طرح کا عشق ہے اوروہ عشق کے اس سمندر میں ڈوب کر عشق کی مختلف واردات و کیفیات پر خامہ فرسائی کرتی نظر آتی ہیں ۔محبوب کے حسن وجمال کا ذکر ہو یا پھر دل بے تاب کی کیفیت کا اظہار ،فرقت کے لمحوں کی ترجمانی ہو یا وصل کی خواہش کا اظہار،چارہ گر کی چارہ گری کی عکاسی ہو یا محبوب کے تغافل کی شکایت ،شہلاؔ کا قلم پوری روانی کے ساتھ اپنے فن کا رانہ جوہر دکھاتا نظر آتا ہے ۔مثلاً کچھ اس طرح کہ:
باخدا اس شخص کی روشن جبیں کے سامنے
رنگ پھیکا پڑ گیا تھا عارض مہتاب کا
موضوع جس قدر پرانا ہے انداز بیان اسی قدر نیا دکھائی پڑتا ہے ۔یعنی شاعر نے محبوب کی خوبصورتی کے بیان میں اس کی جبیں کو مہتاب یا چاندسے نہ تو تشبیہ دی ہے اور ن ہی اسے استعارتی انداز میں چاند کہہ کر پکارا ہے بلکہ عارضِ مہتاب اور محبوب کی روشن جبیں کا موازنہ کر کے ایک مروجہ موضوع کو نیا پیرہن عطا کرکے پیش کیا ہے ۔ عارض مہتاب کے استعمال سے غیر مرئی شے کو تجسیم کاری کے عمل سے گزارنے کا عمل اوراس کے رنگ کو’ ہلکا‘ نہ کہہ کر ’پھیکا‘ کہ دینے کا ہنر شعر کی فنی خوبیوں میں اضافے کاسبب ہے۔ یہی وہ شعری ہنر ہے جس کے ذریعے شاعربار بار کہی گئی باتوں کو نئے سانچے میں ڈھال کر پیش کرتا رہتا ہے۔
کلاسیکی عشقیہ شاعری میں عاشق کا کردار محبو ب کے تغافل،اس کی بے رخی اور بسا اوقات اس کی بد زبانی وغیرہ کے عمل پر گلے شکوے کرتا دکھائی دیتا ہے۔بعض اوقات یہ کردار محبوب کے حضور فریاد کی حد تک بھی پہنچ جا تا ہے اور کبھی کبھی بے جا خفا ہونے کی صورت میں محبوب کو کھری کھوٹی بھی سنا بیٹھتا ہے ۔ہماری جدید شاعری میں محبوب سے گلے شکوے کی روایت یا اس سے فریاد وغیرہ کا عمل گناہ کے مترادف ہے۔جب کہ دور حاضر کی شعری صورت حال بالکل مختلف ہے کچھ اس طور کہ اس میں نہ تو روایت کی مکمل طور پر پاس داری کے عمل کو ترجیح دی جاتی ہے اور نہ ہی اس سے مکمل انحراف کا راستہ اختیار کیا جاتا ہے بلکہ ایک درمیانی راہ نکالی گئی ہے جو اس دور کی شاعری کوایک الگ پہچان عطا کرتی ہے شہلاؔ بھی اسی راہ پر گامزن نظر آتی ہیں کچھ اس طور ، کہ:
چپ چاپ سہہ گئے ترے لہجے کی تلخیاں
ہم نے اے دوست کوئی بھی شکوہ نہیں کیا
شعر کی فضا اگرچہ روایتی محسوس ہوتی ہے لیکن محبوب کی تلخیوں اور اس کے نا مناسب لہجے پر خاموشی اور صبر کے عمل نے شعر کے فکری اور معنوی نظام کو وسعت فراہم کرنے کا کام انجام دیا ہے ۔یہ خاموشی وہ نہیں جسے جرم سے تعبیر کیا جاتا ہے بلکہ یہ وہ خاموشی ہے جو مخاطب کے ذہن و دل پر لب کشائی کے مقابلے کہیں زیادہ شدید اور کاری ضرب لگانے اور اس کے اندرون کو جھنجھوڑنے کا کام انجام دیتی ہے ۔شعر اپنے معنوی نظام کے تحت جس قدر گہرا اور تہہ دار ہے ،انداز بیان کے لحاظ سے اسی قدر سادہ،آسان اور عام فہم۔
روایتی شاعری میں محبوب کے تغافل اور اس سے شکوے شکایتوں کے ساتھ ساتھ ناصح و چارہ گر کا کردار بھی بزبان عاشق شاعروں کے لعن طعن کا شکار رہا ہے ۔نئے عہد کا نیا شاعر روایت کی پاس داری کاخیال رکھتے ہوئے ناصح و چارہ گر کو اپنی شاعری کا موضوع بناتا ہے تو کچھ یوں کہ :
خنجر بدست قافلہ دیکھو جدھر گیا
آخر اسی طرف کو مرا چارہ گر گیا
ہر دم اے ناصحا وہی وعظ و نصیحتیں
کچھ دائرہ بڑھائیے آپ اپنی سوچ کا
طور اچھا یہی ہے ناصح جی
رکھیے بس آپ اپنے کام سے کام
یعنی الفاظ تو وہی روایتی ہیں لیکن اندازنیا اورفکر الگ ہے ، شاعرنے روایتی طور پر چارہ گر و ناصح کو براہ راست اپنے لعن طعن کا شکار نہیں بنایاہے بلکہ پہلے شعر میں چارہ گر کو خنجر بدست قافلے کی راہ پر گامزن دکھانے کا عمل اور ناصح کو اپنی سوچ کا دائرہ بڑھانے کا مشورہ شاعر کے تخلیقی ذہن اور اس کی وسعت فکر کا پتہ دیتا ہے ۔شہلاؔ کا کلام کچھ اسی طور روایتی انداز کے ساتھ اپنے نئے پن کا مسلسل احساس دلاتا ہے ۔
شہلاؔ کے یہاں عشق و محبت کی دنیا جس طور آباد ہوئی ہے اس میں دل لگی سے زیادہ دل کی لگی کے بیان کو خاص اہمیت حاصل رہی ہے ۔مثلاً ان کے یہ اشعار میری اس بات کو ثابت کریں گے کہ :
جاتے ہوئے اے دوست نہ آواز دے ہمیں
پتھر نہ کردے ہم کو کہیں مڑ کے دیکھنا
دل ہے حسین شغل میں مصروف ان دنوں
بس اس کا نام جپنا اور اس کو ہی سوچنا
وائے قسمت ہجوم دنیا میں
مجھ سے اک شخص کھو گیا صاحب
کوئی آہٹ ہے کوئی چاپ نہ سایہ کوئی
پھر بھی دل کو یہ گماں رہتا ہے کہ آیا کوئی
یہ عمل ان کے کلام کو کلاسیکی شعری روایت سے مزید استوار کرتا دکھائی پڑتا ہے۔ورنہ دل لگی کے اس زمانے میں دل کی لگی کا ذکر چہ معنی دارد۔یہ اس بات کی دلیل ہے کہ برگ سخن کی شاعرہ اپنے کلاسیکی ادب سے پوری طرح وابستہ ہیں اور اسی کے پیش نظر اپنا شعری سفر طے کرر ہی ہیں ۔
دل کی لگی کا یہ سلسلہ جب طول پکڑتا ہے تو اضطرابی ،بے چینی اور بے قراری کی صورتیں نمایاں ہونے لگتی ہیں ۔اور جب اضطرابی و بے قراری کا عالم اپنے عروج کو پہنچتا ہے تو وہاں سے وحشت کی دنیا وجود پذیر ہونی شروع ہوتی ہے ۔بسا اوقات یہ اضطرابی کی کیفیت حرکت و عمل کا ذریعہ بھی بنتی ہے جو انسان کو طرح طرح کے تجربات و احساسات سے روشناس کرانے اور فلسفئہ اقبال کی رو سے دیکھیں تو انسان کے وجود کی بقا اور اس کے لیے کامیابی و کامرانی کاسبب بھی بنتی ہے ۔شہلا ؔکے یہاں یہ صورت حال مختلف شعری سانچوں میں ڈھل کر سامنے آئی ہے جس کی چند مثالیں پیش خدمت ہیں:
آنکھ لگنے نہیں دیتا یہ صداؤں کا ہجوم
شور کرتی ہے بہت ٹوٹے ہوئے خواب کی دھن
کوئی صحرا نورد ہی جانے
لطف کتنا ہے لا مکانی میں
پھر رہا ہوں ہر ایک سے بے زار
وحشت دل کا مبتلا ہوں میں
زندگی باعث وحشت ہے مجھے
سو مرے حال پہ حیرت نہ کریں
چشمِ بیدار کہ ہے محو تماشائے جنوں
آنکھ لگ جائے تو پھر خواب ڈراتے ہیں مجھے
دشت ہجراں کی خاک چھانتے ہیں
ہم سفر ہوتی ہے تمھاری یاد
شہلاؔ کے کلام میں یہ صورت حال دل کی لگی سے شروع ہوکر اضطرابی ،بے چینی و بے قراری کی راہوں کو عبور کرتی ہوئی وحشت کی منزل تک پہنچتی ہوئی نظر آتی ہے ۔اس سفر میں ٹوٹے ہوئے خواب،صحرا نوردی،لامکانی ،وحشت دل ،چشم بیدار اور آنکھ کے لگ جانے پر ڈراؤنے خوابوں کا سلسلہ وغیرہ ایسی لفظیات ہیں جو قدیم و جدید اور حالیہ زمانے میں بھی استعمال ہو رہی ہیں البتہ ان کا مفہوم زمانے کے لحاظ سے بدلتا رہا ہے ۔ان لفظوں کے استعمال سے شہلانے ؔ دل کی لگی کے اظہار کے ساتھ ساتھ دور حاضر کی صورت حال کی ترجمانی کو بھی شامل کر دیا ہے یہ عمل ان کے کلام کو مزید خصوصیات سے ہمکنار کرتاہے۔
عشقیہ واردات کی کیفیات بیانی میں شہلاؔنے اپنی شاعری میں ان تمام موضوعات کو جگہ دی ہے جو ہماری قدیم شاعری میں بڑے پیمانے پر بیان ہوتے رہے ہیں ۔انہی موضوعات میں ہجر و وصال کی کیفیات کا بیان بھی شامل ہے ۔قدیم غزلیہ شعری روایت میں عشقیہ کردار کو وصل کے مقابلے ہجر کا زیادہ سامنا رہا ہے اور اس کے لیے رنج و الم ،حزن ملال اور یاس و نا امیدی کا سبب بنتا رہا ہے ۔ وصال یار کی آرزو میں دردرکی ٹھوکریں کھاناگویا اس کی قسمت میں ازل سے شامل ہے اور فراق یار میں خود کو ہلکان رکھنااس کامقبول ترین مشغلہ ۔شہلاؔ کے یہاں بھی ہجرو وصال کی کچھ ایسی ہی صورت نظر آتی ہے البتہ انداز بیان کی صورت نئی اور دل کش ہے ۔ہجر کی کیفیات کی ترجمانی کی کچھ شکلیں پیش نظر ہیں ملاحظہ کیجیے:
لے اڑیں عشق کا آشیاں
ہجر کی سخت پروائیاں
ہجر کے نغمے گاتے گاتے
پھٹ جائے گا سینہ پاگل
کسی کے ہجر سے ہلکان ہیں ہم
کسی کی یاد میں جاگے ہوئے ہیں
درد شب فراق کا قصہ سناؤں میں
گزری ہے دل پہ کیا تمھیں کیا کیا بتاؤں میں
مذکورہ اشعار ہجر کا عالم بپا ہونے کی سند تو فراہم کرتے ہیں البتہ رونے دھونے، غیر ضروری وایلا مچانے اور سینہ کوبی وغیرہ کی یہاں کوئی گنجائش نہیں ہے ۔شہلا ؔنے ہجر اور اس کی کیفیات کا بیان سطور میں کم بین السطور میں زیادہ کیا ہے یہی عمل ان کے اشعار کو نیا اورمزید دل کش بنانے میں مددگار ثابت ہوتا دکھائی پڑتا ہے ۔وہ دردشب فراق کا قصہ سنانے کی بات تو کرتی ہیں لیکن دل پر کیا گزری ہے کیا کیا بتاؤں کہہ کہ کر سارا کام قاری کے شعور و فہم اور اس کے احساسات پر چھوڑدیتی ہیں، اب یہ قاری پر منحصر ہے کہ وہ شب فراق کے قیامت خیز لمحوں کو کس طور محسوس کرتا ہے ۔شہلا ؔنے ہجر کی کیفیت کی ترجمانی میں شدت بیانی سے بھی کام لیا ہے لیکن کچھ اس طور کہ :
میں آتش فراق میں جلتا ہوا چراغ
پروانے کو فنا کا سلیقہ سکھاؤں میں
آتش ،فراق،چراغ،پروانہ،فنا،تمام الفاظ اگرچہ کلاسیکی ہیں لیکن چراغ جومظلوم عاشق کی علامت ہے یہاں روایتی عاشق کی طرح مظلوم نظر نہیں آتا بلکہ اس کے برعکس ہجر کے اس مقام پر پہنچ چکا ہے جہاں سے وہ پروانے کو ،جو خود شمع کے عشق میں اس کے ارد گرد گھوم کر فنا کو پہنچتا ہے ،فنا کا سلیقہ اور شعور سکھا رہا ہے ۔بات صرف اتنی سی ہے کہ فنا کے لیے شمع کے اردگرد گھومنے کی خاک ضرروت نہیں بلکہ یہ کام توفراق میں بھی بخوبی پایئہ تکمیل کو پہنچ سکتا ہے لیکن بے وقوف پروانے کو اس کا بات شعور ہی نہیں ۔یہی انداز ِدگر شہلاؔ ؔکے کلام کو روایتی ہونے کے باوجود نئے فکرو احساس سے ہم کنار کرتا ہے اسی کو مضمون آفرینی یا معنی آفرینی کے عمل سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے ۔یہ شعر بھی اسی قبیل کا ہے ۔
جب بھی شب فراق کی للکار آئے گی
بن کے سہارا چشم گہر بار آئے گی
وصل اور اس کی خواہش کے حوالے سے چند اشعار ملاحظہ کیجیے :
شام وصال ہو، ترا شانہ نصیب ہو
پھر دیکھ چشمِ صحرا سے دریا بہاؤں میں
جب درِ دل پہ اترتی ہے کوئی وصل کی رت
موسم ہجر کے اندیشے ستاتے ہیں ہمیں
اسی آس پر گزرے کتنے زمانے
وہ اب آ رہے ہیں وہ اب آ رہے ہیں
بیٹھ پائیں کبھی تمھارے قریب
یار ایسے کہاں ہمارے نصیب
اور جب وصال یار کی خواہش حد سے تجاوز کرنے لگے تو شاعر براہ راست کاتب تقدیر کے در پر دستک دیتا ہے کچھ ایسے کہ :
اے داستاں نویس بس اب ایک کام کر
جیسے بھی ہو یہ ہجر کا قصہ تمام کر
شاعر بار ہا وصل کی خواہش کا اظہار تو کر رہا ہے لیکن اس کو اس کا نتیجہ بھی معلوم ہے جس کا اظہار اس نے کچھ یوں کیا ہے :
خواہشِ قرب تری خیر کہ ہم جانتے ہیں
سانس تھم جائے گی جوں ہی وہ قریں آئے گا
شعرا نے کائنات اور اپنے وجود کی تخلیق کے حوالے سے خدا کے حضور بسا اوقات شکایت ، کبھی غم وغصے اور کبھی اس سے بڑھ کر ایک طرح کی ناراض گی کا اظہا ر بھی کیا ہے، کچھ نئے شعرا کے یہاں یہ معاملہ مزید طول پکڑتا بھی دکھائی دیتا ہے ۔شہلاؔ کے یہاں بھی اس قبیل کے اشعار دیکھنے کوملتے ہیں جن میں وہ اپنی ذات کے حوالے سے عدم تکمیلیت کے احساس سے دوچار نظر آتی ہیںانھوں نے بھی خدا کے حضور اس عدم تکمیلیت کی شکایت کی ہے اور توازن سے کام لیتے ہوئے اس شکایتی اظہار میں حد سے تجاوز نہیں کیا ہے، نہ تو وہ بے حد شدت پسندنظر آتی ہیں اور نہ ہی خدا کی ذات سے بے زار بلکہ اپنے اس مسئلے کو خدا کی عدالت میں سوالیہ انداز میں پیش کرتی ہیں کچھ اس طرح کہ:
بکھر رہا ہے ٹوٹ کر یہ نقش ناز کوزہ گر
بنا کے شاہ کار اب سنبھال کیوں نہیں رہا؟
خدایا دیکھ درد سے چٹخ رہا ہے میرا دل
تو دل کو اس عذاب سے نکال کیوں نہیں رہا؟
اک پیکر نے دکھ جھیلا
خالق کی بے دھیانی کا
کرنے کو تونے دنیا میں کیا کیا نہیں کیا
کیوں اے خدا وہ شخص ہمارا نہیں کیا
بس یوں ہی ڈھل گیا تھا پیکر میں
اتفاقی سا حادثہ ہوں میں
اے نقش گر یقین کر اچھا نہیں بنا
لا پھر سے کائنات کا نقشہ بناؤں میں
شکایات کا مرحلہ طے ہونے پر وہ حرف کن کے معجزے بھی دیکھنے کی کوشش کرتی ہیں ،اس کے لیے وہ کبھی تو اپنے وجود کو چاک پر دھر دیتی ہیں اور کبھی خود کو آئینہ کرکے پتھروں پر دے مارتی ہیں ۔کچھ اس طور کہ :
چاک پر دھر دیا شکستہ وجود
کوزہ گر حرفِ کن ہو اب ارشاد
معجزئہ دست کن دیکھنا تھا سو ہم نے
پتھروں پہ دے مارا خود کو آئینہ کرکے
یہ محض حقیقی معجزئہ دست کن دیکھنے کی خواہش کا ہی اظہار نہیں ہے بلکہ یہ ایک ضد ہے ،ایک تیور ہے ،ایک جذبہ ہے،ایک جرأت ہے جس کی بدولت شاعر اس پورے نظام سے بر سر پیکارہونے کی جسارت کر تا دکھائی پڑتا ہے جس میں ہزاروں خداؤں کی خدائی کا غلبہ ہے ۔انداز بیان کے حوالے سے یہ اشعار بالکل منفرد نظر آتے ہیں جس میں دردو غم کی لہر بھی ہے اورجرأت مندی کا مادہ بھی۔زبان بالکل سادہ اور آسان ہے نہ کوئی مشکل لفظ نا کوئی دور دراز کی علامت اورنہ کوئی ایسا استعارہ و تشبیہ جو قاری کے ذہن پر گرانی کا سبب بنے۔
شہلاؔ کے کلا م کا دائرہ یہیں تک محدود نہیں ہے بلکہ اس دائرے میں عصری حسیت ،نئی فکر و آگہی ،خیالات کا تنوع ،انسان کے عروج و زوال کے عکس وغیرہ بھی دکھائی پڑتے ہیں ۔مضامین و موضوعات کا یہ دائرہ اگرچہ بہت زیادہ طویل نہیں ہے لیکن اتنا کم بھی نہیں کہ قاری کو مایوسی کااحساس ہونے لگے ۔مضمون پہلے ہی خاصا طویل ہو چکا ہے باوجودیکہ ان کے کلام میں موجودگذشتہ موضوعات کے علاوہ چند متعدد موضوعات پربھی ایک سرسری سی نظر ڈالتے چلیں۔
عصری حسیت اور زمینی حقائق کے حوالے سے چند شعر ملاحظہ کیجیے:
جنوں تو ٹھیک ہے مگر جیب میں بھی دھیلا ہے ؟
جناب قیس یہ تازہ صدی کی لیلٰی ہے
منزلیں دور ہوتی جاتی ہیں
جانے کیسی شکستہ پائی ہے
کدھر کو جائیں خدایا ہم ایسے سادہ مزاج
چہار سمت نفاق و ریا کا میلہ ہے
دیکھو فٹ پاتھ پر کوئی مزدور
اوڑھ کر رات سو گیا صاحب
دور حاضر کا انسان اپنی زندگی کو خوش گوار بنانے کی تگ و دو میں دن رات مصروف بہ عمل ہے ،دولت و شہرت کا نشہ اس کے سر چڑھ کر بول رہاہے ،چین و سکون اور رونق آرائی کی تمنا اسے موت کے دہانے تک پہنچا دیتی ہے ،اس ہوس بھری دنیا میںعیش و عشرت کے حصول کی خاطروہ اپنا فطری چین و سکون بھی گنوا بیٹھتا ہے شہلاؔ نے اس تلخ سچائی کا نقشہ اپنے اس شعر میں کچھ یوں کھینچا ہے ۔
رونق آرائی کی تمنا میں
کتنی ویران زندگی کرلی
قدروں کے زوال اور رشتوں کے درمیان بڑھتی دوری بھی اس عہد کی ایک تلخ حقیقت ہے شہلا ؔنے اس صورت حال کابھی نقشہ کھینچا ہے اور رشتوں کی بقا و تحفظ کی جانب بھی قارئین کی توجہ مبذول کرائی ہے ۔ان کے یہ دو شعر اس بات کا ثبوت فراہم کرتے ہیں:
نقشہ دکھا کے صحن کا معمار سے کہا
دیکھو! یہاں پہ، بیچ میں، دیوار آئے گی!
پاؤں پڑ جانا لپٹ جانا گلے سے اس کے
چھوڑ کے جانے لگے گر تجھے تیرا کوئی
مخصوص فکرو آگہی کی چند مثالیں ملاحظہ کیجیے:
موت کہتی ہے جس کو یہ دنیا
زیست کی قید سے رہائی ہے
چشم دل کا لہو نچڑتا ہے
تب کہیں جاکے خواب بنتا ہے
بعد خدا کے اس دنیا میں
صرف محبت لافانی ہے
بس یوں ہی ڈھل گیا تھا پیکر میں
اتفاقی سا حادثہ ہوں میں
زبان و بیان اور موضوعات کے حوالے سے شہلاؔ نے اپنے کلام کو تین رنگوں سے مزین کرکے پیش کیا ہے ،یعنی کلاسیکی،جدید اور مابعد جدید ۔ان تینوں رنگوں میںان کے یہاں سب سے زیادہ گہرا کلاسیکی رنگ نظر آتا ہے ۔انھوں نے کلاسیکی موضوعات کو جدید اسلوب میں ڈھال کر پیش کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے ۔ان کے اس اسلوب اور انداز بیان میں ان لفظیات کا استعمال بھی کافی ہوا ہے جنھیں ہم کلاسیکی لفظیات کی نظر سے دیکھتے ہیں اور ایسے استعارات و علامات کا استعمال بھی خوب ہوا ہے جو جدیدیت کے زمانے میں پنپنے والی شاعری میں دیکھنے کو ملتے ہیں ۔تیسرا رنگ وہ ہے جس میں دور حاضر کے زمینی حقائق کی ترجمانی کی جھلکیاں دکھائی پڑتی ہیں ۔
انداز بیان کے حوالے سے ان کے یہاں مشکل ، آسان اور علامتی تینوں رنگ بیک وقت جمع ہو گئے ہیں ،بہت سے اشعار سہل ممتنع کی عمدہ مثال ہیں تو بہت سے اشعار میں علامتی اسلو ب کی وجہ سے ذرا پیچیدگی بھی در آئی ہے ،اسی طرح شہلانےؔ محاوروں کا بھی خوب صورت استعمال کیا ہے ۔خیال بندی اور معنی آفرینی کی مثالیں بھی ان کے کلام میں دیکھنے کو ملتی ہیں ، بہت سے اشعار کی پیش کش میں تجسیم کاری کا ہنر بھی آزمایا گیا ہے جس میں وہ پوری طرح کامیاب نظر آتی ہیں ۔اولاً خیال بندی کے حوالے سے یہ چند اشعار ملاحظہ کیجیے :
کشت ویراں میں کسی لمس نے بودی ہے بہار
ابر بن کر مرے اعصاب پہ چھایا کوئی
کچھ اس لیے بھی شفق رنگ دل کو بھاتے ہیں
افق پہ معجزہ سارا مرے لہو کا ہے
ابھی اڑا کے جو گزرا مرے وجود کی خاک
کسی کی یاد کی باد صبا کا ریلا ہے
محاوروں کا استعال دیکھیے :
ایسے ویسوں کو اذن نطق ملا
بس ہماری ہی بات کاٹی گئی
آپ کس طرح بھٹک آئے یہاں کا رستہ
دل ویراں میں تو صدیوں سے نہ آیا کوئی
اگر میں چاہوں بس اک چال میں الٹ دوں بساط
مجھے خبر ہے کہاں کس نے داؤ کھیلا ہے
انگلی اٹھا رہے ہیں ہماری وفا پہ آپ
فرصت ملے تو اپنے گریباں میں جھانکنا
تجسیم کاری کی مثال میں یہ چند اشعار ملاحظہ کیجیے:
ہچکیاں لینے لگی وحشت یہ منظر دیکھ کر
چشم ویراں سے لپٹ کر رو رہا تھا ایک خوا ب
آخر کار درد بھی تھک کر
میرے پہلو میں سو گیا صاحب
یہ کیسے تھپیڑے لگائے ہوا نے
کہ پھول اپنے رخسار سہلارہے ہیں
چشم سوزاں کی دیکھ کر حالت
دل ندامت سے ہاتھ ملنے لگا
رات بھی لے رہی ہے انگڑائی
چاند بھی کروٹیں بدلنے لگا
مشکل پسندی اور سہل ممتنع کی چند مثالیں :
خواب کے واسطے ہی آنکھیں تھیں
خواب کی ہی کمی ہے آنکھوں میں
سچ مچ ہی وہ تو پہلو سے اٹھ کر چلا گیا
ہم تو خفا ہوئے تھے فقط جھوٹ موٹ کے
کتنی بے دردی سے ٹوٹا
ہر اک خواب جوانی کا
تیری ذات سے وابستہ ہے
میرا جینا مرنا پاگل
اور فقط تین شعر یہ کہ:
برف سی روشن ہوئی اک سینئہ دم ساز میں
کیا قیامت پنہاں تھی ساز لب اعجاز میں
اک شخص کا سبوچئہ مژگاں نہیں بھرا
سیلابِ گریہ زار میں اپنا تو گھر گیا
دشت امکاں کی خواب گاہوں میں
مثل تعبیر یاس تھا وہ شخص
یہ ہنر ہے ،یہ فنکاری ہے ،یہ وہ شعور ہے جوسالہا سال کی ریاضت اور مشق سخن کے بعد بھی بہتوں کے ہاتھ نہیں آتا ،کلام ِ شہلا کے اس طویل مطالعے سے یہ بات تو مکمل طور پر واضح ہو جاتی ہے کہ ان کو’ کیا کہنا ہے‘ اور ’کیسے کہنا ہے ‘ دونوں باتوں کا ہنر بخوبی آتا ہے البتہ ان کا زیادہ زور’ کیسے کہنا ہے‘ پر ہی صرف ہوتا دکھائی پڑتا ہے ۔انھیںیہ فکر ہرگز نہیں ستاتی کہ وہ مضمون پرانا باند ھ رہی ہیں یا نیا ،لیکن یہ فکر انھیں ضرور ستاتی ہے کہ مضمون کو کس طور نیا اور خوب صورت بناکر پیش کیا جائے ۔شہلاؔ کو زبان و بیان پرمضبوط گرفت حاصل ہے۔تجسیم کاری کا ہنربھی انھیں خوب آتا ہے، علامتوں اور استعاروں کے استعمال میں بھی وہ اپنی فن کا ری کے تمام جوہر دکھاتی نظر آتی ہیں۔محاوروں کے برجستہ استعمال پر بھی انھیں قدرت حاصل ہے ۔ موضوعات کو آسان سے آسان ترین انداز میں کہنے کا ہنر بھی وہ خوب جانتی ہیں اور مشکل سے مشکل تر اسلوب میں بات کہنے کا سلیقہ بھی انھیں خوب آتاہے ۔ یہ تما م باتیں وہ ہیں جو ان کے گہرے مطالعے اور زبان وبیان پر ان کی مضبوط گرفت کا پتہ دیتی ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ وہ اپنی شعری کائنات کے موضوعاتی دائرے کوبھی مزید وسعتوں سے ہم کنار کرنے کی کوشش کریں گی ۔اس طویل مطالعے میں کہیں کہیں کچھ اشعار میں لفظوں کے تکرار کی صورتیں بھی نظر آئی ہیں یہ ایسی غلطی ہے جو عام طور پر سخنوران نو آموز کے قلم سے سرزد ہو جایا کرتی ہے۔شہلاؔ ابھی نو آموز ہیں اس کے باوجود ان کا فن پوری طرح پختہ اور تمام فکری و فنی خوبیوں سے آراستہ ہے ۔انھوں نے طویل غزلیں بھی خوب کہیں ہیں ایک غزل جس کی ردیف پاگل ہے اس مجموعے کی سب سے طویل غزل ہے شہلاؔنے اس غزل میں خوب اشعار نکالے ہیں جن کی تعداد چالیس ہے چھوٹی بحر کی یہ غزل قاری کو خوب متاثر کرتی ہے۔ اس مجموعے میں شہلاؔ نے نظمیں بھی شامل کی ہیں جن پر گفتگو کرنا اس وقت نا مناسب معلوم ہوتا ہے ۔ اس لیے کہ مضمون پہلے ہی کافی طویل ہو چکا ہے ۔ہم صاحبئہ مجموعہ کے روشن مستقبل کے لیے خدا کے حضور دست بستہ دعا گو ہیں کہ خدا انھیں اور ان کے قلم کو مزید تابناکی اور ہنرمندیوں سے سرفراز فرمائے۔آمین۔اپنے اس شعر پر گفتگو تمام کہ :
برگِ حنا کی بات پہ مرضی ہے آپ کی
برگِ سخن کی بات ہے دل تھام لیجیے
صدام حسین مضمرؔ علیگ
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

