بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
صغیر ہند میں سیرتِ نبوی کے مختلف پہلوؤں پر مختلف جہات سے کام ہوا ہے اور ہر سطح اور ہر معیار کی تصانیف وجود میں آئی ہیں۔تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو اگر چہ یہاں اسلام کی آمد کے بعدسے تقریباً ایک ہزار سال تک سیرتِ نبوی کے موضوع پر کوئی قابلِ ذکر کام نہیں ہوا ہے ،بلکہ یہاں کی علمی روایت عموماً عقلیات و لفظیات کے گرد گھومتی رہی ہے ،لیکن گزشتہ دو صدیوں میں یہاں کے اصحابِ علم نے ماضی کی کوتاہی کی کما حقّہ تلافی کر دی ہے اور اس عرصہ میں سیرتِ نبوی پر مختلف پہلوؤں سے بڑا معیاری کام ہوا ہے۔اس سلسلے میں ممتاز دانش ور ڈاکٹر محمود احمد غازی(م۲۰۱۰ء) کی شہادت کافی ہے:
’’گزشتہ دو سو سال کے دوران برِّ صغیر میں سیرتِ پاک کے موضوع پرکمّاً و کیفاً اتنا وقیع کام ہوا ہے کہ اس پر برِّ صغیر کے مسلمان باشندوں کو نہ صرف بارگاہِ ربّ العلیٰ میں سجدۂ شکر ادا کرنا چاہیے،بلکہ برِّ صغیر میں جو کام ہوا ہے اس پر ہمیں کسی حد تک احساسِ تفاخر بھی ہونا چاہیے‘ ‘۔ ۱؎
آگے مزید فرماتے ہیں:
’’انیسویں صدی کے وسط سے مطالعۂ سیرت کی جو غیر معمولی سرگرمی برِّ صغیر میں دیکھنے میں آئی،اس کی مثالیں دنیائے اسلام میں کم ملتی ہیں‘‘۔ ۲؎
برِّ صغیر ہند میں آخری زمانے میں سیرت نگاری کا ایک نیا رجحان یہ ابھرا ہے کہ چھوٹے بچوں کے لیے آسان زبان میں مختصر کتابیں تالیف کی جائیں۔تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو اس رجحان کا سراغ انیسویں صدی عیسوی کے اواخر سے ملتا ہے، پھر بیسویں صدی کے نصف اوّل میں اس سلسلے میں مزید پیش رفت ہوئی۔بعد میں تقسیمِ ہند کے بعد بیسویں صدی کے نصف آخر میں ہندوستان اور پاکستان دونوں ملکوں میں اس موضوع پر بڑے پیمانے پر کام ہوا ہے۔لیکن افسوس کہ اس قابلِ قدر اور معرکہ آرا کام کا تجزیہ اور تحلیل تو دور کی بات ہے،علمی و دینی حلقوں میں اس کا تعارف بھی نہیں کرایا جا سکا ہے۔چنانچہ تلاشِ بسیار کے با وجود راقمِ سطور کو اس موضوع پر کوئی مواد نہ کسی کتاب میں مل سکا،نہ کوئی مقالہ اس کی نظر سے گزرااورنہ علمی مجلات میں شائع ہونے والے،سیرت کی کتب و مقالات کے اشاریوں کے ذریعے اس موضوع پر کسی کام کا سراغ لگ سکا۔راقم کا یہ مقالہ غالباً نقشِ اوّل ہے۔ امید ہے کہ بچوں کے ادب اور خاص طور پر سیرتِ نبوی سے دل چسپی رکھنے والے اہلِ علم اس جانب پیش قدمی کریں گے اور اس موضوع پر ہونے والے کام کے تعارف و تذکرہ کے ساتھ اس کا تجزیہ کرنے اور اس کی قدر و قیمت آنکنے کی خدمت انجام دیںگے۔
انیسویں صدی عیسوی میں سیرتی ادب اطفال
(قاضی محمدسلیمان منصورپوری کی ’مہر نبوت‘)
انیسویں صدی میں بچوں کے لیے سیرت کی کتابیں تالیف کرنے والوں میں ایک اہم نام قاضی محمد سلیمان منصورپوری (۱۸۶۷۔۱۹۳۰ء) کا ہے۔ علمی دنیا قاضی صاحب کو ’رحمۃ للعالمین‘ کے مؤلف کی حیثیت سے جانتی ہے۔ اس کتاب کی شہرت علامہ شبلی نعمانی (۱۸۵۷-۱۹۱۴ء) کی سیرۃ النبی سے کم نہیں ہے۔ مولانا سید سلیمان ندوی نے لکھا ہے:
’’مولانا شبلی مرحوم نے اپنی سیرۃ النبی کی تجویز اہل ملت کے سامنے پیش کی تھی۔ اس کے جواب میں ہرطرف سے تائید کی آوازیں بلند ہوئیں۔ صرف ایک آواز مخالفت میں اٹھی۔ یہ مولوی انشاء اللہ خاں مرحوم ایڈیٹر ’وطن‘ کی آواز تھی۔ انھوں نے لکھا کہ قاضی محمد سلیمان صاحب چوںکہ اس کے لکھنے کا ارادہ کررہے ہیں، اس لیے مولانا شبلی کو تکلیف کی ضرورت نہیں۔ اس کے بعد خاموشی سے بیس برس گزر گئے اور دونوں مصنفوں کی تصنیفوں کی کئی جلدیں ارباب شوق کے سامنے پیش ہوئیں اور دونوں نے قبولیت کی عزت پائی‘‘۔ ۳؎
قاضی منصورپوری سرکردہ اہل حدیث علماء میں سے تھے۔ انھوں نے متعدد اہل حدیث کانفرنسوں کی صدارت کی ہے۔ دارالعلوم ندوۃ العلماء کی مجلس منتظمہ کے بھی رکن تھے۔ ریاست پٹیالہ (پنجاب) میں سیشن جج کے عہدہ پر فائز تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں جوش خطابت سے بھی نوازا تھا ۔ متعدد آریہ سماجی لیڈروں سے ان کے کامیاب مناظرے ہوئے۔ انھیں تصنیف و تالیف کا بھی بہت اچھا ذوق اور ملکہ تھا۔ ان کی تفسیر سورۂ یوسف مسمی بہ الجمال والکمال شہرت رکھتی ہے۔ اس کے علاوہ الصلاۃ والسلام ، برہان، استقامت، معراج المومنین اور سبیل الرشاد (سفرنامۂ حج) بھی ان کی تصانیف ہیں۔۴؎ انھوں نے سیرت نبوی پر تین کتابیں لکھنے کا منصوبہ بنایا تھا: مختصر، متوسط اور مطوّل۔ مطوّل کتاب کی تالیف کی تو انھیں توفیق نہیں ملی، البتہ ان کی مختصر اور متوسط، دونوں کتابیں شائع ہوکر مقبول ہوئیں۔ مختصر کتاب کی اشاعت ’مہر نبوت‘ کے نام سے ۱۸۹۹ء میں ہوئی ہے۔ متوسط کتاب (رحمۃ للعالمین) تین جلدوں پر مشتمل ہے۔ اس کی جلد اول ۱۹۱۲ء میں اور جلد دوم ۱۹۲۱ء میں طبع ہوئی۔ جلد سوم کی اشاعت منصف کی وفات کے بعد ۱۳۵۲ھ/۱۹۳۴ء میں ممکن ہوسکی۔ رحمۃ للعالمین کو علمی و دینی حلقوں میں غیر معمولی مقبولیت حاصل ہوئی اور ملک کے طول و عرض کے متعدد مدارس اسلامیہ، مثلاً جامعہ عثمانیہ دکن، دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ، دارالعلوم دیوبند، جامعہ عباسیہ بہاول پور، حمایت الاسلام لاہور وغیرہ کے نصابِ درس میں داخل کی گئی۔
’مہر نبوت‘ سیرتِ نبوی پر ایک مختصر سی کتاب ہے۔ مصنف کی حیات ہی میںاس کے متعدد ایڈیشن منظر عام پر آئے تھے۔۵؎ بعد میں بھی یہ برابر شائع ہوتی رہی۔ ۲۰۰۶ء کی اشاعت ۳۸؍ صفحات پر مشتمل ہے۔ اس میں انتہائی اختصار کے ساتھ سیرت نبوی بیان کی گئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا نام و نسب، نبوت، مکی زندگی، ہجرت حبشہ و مدینہ، مدنی عہد کی دعوتی سرگرمیاں ، ازواج و اولاد وغیرہ۔آخر میں اخلاق و تعلیماتِ نبوی کا بیان کسی قدر تفصیل سے ہے۔ غزوات کا تذکرہ صرف چھ سطروں میں ہے۔ کتاب کے پیش لفظ میں مصنف نے لکھا ہے:
’’یہ مختصر رسالہ سیدنا نبی ﷺ کے محاسن و فضائل اسی قدر دکھلا سکتا ہے جس قدر آفتاب کی روشنی کو ذرّہ۔ لیکن میں نے دیکھا کہ لوگ مستند فاضلوں کی بڑی بڑی کتابوں کو نہیں پڑھتے اور ناواقفیت کی وجہ سے تاریکی میں پڑے رہتے ہیں۔ امید ہے کہ اس مختصر کو پڑھ کر مسلمانوں کے دلوں میں آں حضرت ﷺ کی محبت اور ذوقِ اطاعت ترقی پذیر ہوگا اور ناواقفوں کی بے خبری کے حجاب کسی قدر اٹھ جائیں گے۔ رسالہ کاہر فقرہ صحیح روایت سے لیا گیا ہے اور بڑے بڑے مطالب کو چھوٹے چھوٹے فقروں میں ادا کرنے کی سعی کی گی ہے‘‘۔ ۶؎
بیسویں صدی کے نصف اول میں بچوں کے لیے کتبِ سیرت
(الف) جامعہ ملیہ اسلامیہ کی خدمات
بیسویں صدی کے نصف اول میں بچوں کے لیے سیرت نگاری کے میدان میں مسلمانانِ ہند کی مشہور دانش گاہ جامعہ ملیہ اسلامیہ اور اس کے موقر اساتذہ کی خدمات زرّیں حروف سے لکھے جانے کے قابل ہیں۔ اس کی تاسیس ۱۹۲۰ء میں علی گڑھ میں عمل آئی تھی،پھر ۱۹۲۵ء میں وہ دہلی منتقل ہوگئی۔ اس کے بانیان نے ابتداہی سے بچوں کی دینی و اخلاقی تربیت کو اپنا مطمح نظر بنایا اور اس کے لیے مختلف تدابیر اختیار کیں۔ ان میں سے ایک تدبیر یہ تھی کہ ۱۹۲۶ء سے ’پیامِ تعلیم‘ کے نام سے بچوں کے لیے مخصوص ایک ماہ نامہ کا اجرا کیا گیا۔ اس میں دل چسپ کہانیاں، سائنسی اور مذہبی معلومات، کارٹون، لطیفے اور مزاحیہ مضامین، تاریخ اور جغرافیہ سے متعلق مواد، بچوں کی ذہنی سطح اور نفسیات کو پیش نظر رکھتے ہوئے بہت آسان زبان میں شائع کیا جاتا تھا۔ ساتھ ہی ’مکتبہ پیام تعلیم‘ قائم کیا گیا، جس سے بچوں کے لیے اخلاقی و تربیتی کہانیاں اور دینی معلومات پر مبنی کتابیں بڑے پیمانے پر شائع کی گئیں۔ دینی کتابیں قرآن و حدیث کی تعلیمات، قصص الانبیاء ، ارکان اسلام، عقائد اسلام، سیرت نبوی، ازواج مطہرات ، بنات النبی، سیرت خلفائے راشدین، سیرت صحابہ، بزرگوں کے سوانح اور تاریخ اسلام کے مضامین پر مشتمل ہوتی تھیں۔ موضوع کی مناسبت سے یہاں صرف سیرت نبوی سے متعلق کتابوں کا تعارف کرایا جارہا ہے۔
(۱) سرکار کا دربار: اس کے مصنف جناب الیاس احمد مجیبی ہیں۔ مجیبی صاحب نے سیرت نبوی اور سیرت صحابہ پر متعدد کتابیں لکھی ہیں۔ سیرت صحابہ پر ان کی دو کتابیں ’چار یار‘ اور ’دس جنتی‘ شائع ہوئی ہیں۔ اول الذکر خلفائے راشدین پراور مؤخر الذکر عشرۂ مبشرہ پر ہے۔ ’سرکار کا دربار‘ سب سے پہلے ۱۹۲۸ء میں شائع ہوئی تھی۔ جامعہ ملیہ اور محکمۂ تعلیمات سرکار عالی حیدرآباد دکن نے اسے اپنے تمام مدارس میں داخل نصاب کیا اور اسے خوب قبول عام حاصل ہوا۔ متعدد اکابر نے اس کی پذیرائی کی اور مصنف کو کلماتِ تحسین سے نوازا۔ مثلاً علامہ سید سلیمان ندوی (م۱۹۵۳ء) نے یہ تاثرات پیش کیے:
’’سرکار کا دربار جس قلم نے سجایا ہے، جی چاہتا ہے یہ کہوں کہ اللہ تعالیٰ ہی نے اس کی آبیاری کی تھی، کہ اس کو یہ سرسبزی نصیب ہوئی۔ مجھے توقع ہے کہ مسلمان بچے اس سے پوری طرح فیض یاب ہوں گے۔ یہ رسالہ نہ صرف ایک مذہبی سچی تاریخ کی حیثیت سے قابل قدر ہے، بلکہ اس لیے بھی کہ اس میں بچوں کی نفسیات کو خاص کر پیش نظر رکھ کر لکھا گیا ہے اور زبان اور طریقۂ ادا میں بھی اس حیثیت کو فراموش نہیں کیا گیا ہے‘‘۔ ۷؎
مولانا ابوالکلام آزاد (م۱۹۵۸ء) نے ان الفاظ میں مصنف کی ستائش کی:
’’تعلیم اور عام مطالعہ کے لیے ضرورت تھی کہ آسان اور صاف زبان میں آںحضرت ﷺ اور صحابہ و اکابر اسلام کی سیرت پر چھوٹے چھوٹے رسالے سلیقہ اور صحت کے ساتھ لکھے جاتے۔ ’سرکار کا دربار‘ کے نام سے مولوی الیاس احمد صاحب مجیبی نے جو رسالہ لکھا ہے وہ اس غرض کے لیے نہایت مفید اور موزوں رسالہ ہے‘‘۔۸؎
یہ کتاب ۱۰۶؍ صفحات پر مشتمل ہے۔ اس میں مصنف نے ابتدا میں عرب کے جغرافیہ اور تاریخ پر مختصر روشنی ڈالی ہے۔ پھر رسول اللہ ﷺ کے خاندان، نام و نسب اور مکی و مدنی زندگی کے حالات تاریخی ترتیب سے بیان کیے ہیں۔ آخر میں بیس صفحات میں آںحضرت ﷺ کے اخلاق و عادات اور دوسروں کے ساتھ معاملات کا تذکرہ کیا ہے اور بہ طور خاتمہ چالیس اکتالیس مختصر احادیثِ نبوی درج کی ہیں۔
(۲) آںحضرت ﷺ
(۳) آخری نبی
یہ دونوں کتابیں بھی جناب الیاس احمد مجیبی کے قلم سے ہیں۔ بچوں کے مشہور ادیب اور سابق صدر جمہوریہ ہند ڈاکٹر ذاکر حسین نے مجیبی صاحب کے ان رسائل کو بچوں کے لیے ’پاکیزہ تحفے‘ اور’ نعمت‘ قرار دیا ہے: فرماتے ہیں:
’’مجیبی صاحب ایک صاحبِ دل اور خوش عقیدہ نوجوان ہیں۔ ۔۔۔ خدا نے ان کو سلیقہ، خوش مذاقی، شیریں زبانی اور شگفتہ بیانی کا بھی امتیازِ خاص بخشا ہے۔ ان کے حرارت بخش اور پاکیزہ تحفے انہی خصوصیات کے حامل اور بچوں کے لیے تو خاص کر ایک نعمت ہیں ۔۔۔ یہ رسالے مدرسوں میں رائج ہونے کا پورا اور بجا حق رکھتے ہیں ‘‘۔ ۹؎
(۴) سرکارِ دوعالم: مولانا محمد حسین حسّان ندوی جامعی سابق ایڈیٹر پیام تعلیم کی یہ کتاب سب سے پہلے ۱۹۳۲ء میں شائع ہوئی تھی۔ اسے بھی بہت مقبولیت حاصل ہوئی، چنانچہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے علاوہ اسے میسور وغیرہ میں بھی نصاب میں شامل کیا گیا۔ تقسیم ہند سے قبل بھی اس کے بہت سے ایڈیشن شائع ہوئے اور بعد میں بھی۔
اس کتاب کی ضخامت ۱۴۸؍ صفحات ہے۔ مصنف نے ابتدا میں سرزمین عرب کے جغرافیہ ، تاریخ و تمدن، خانۂ کعبہ کی تعمیر، قریش کے احوال اور عہد جاہلیت کی مذہبی حالت بیان کی ہے۔ پھر ’آخری نبی‘ کے عنوان سے رسول اللہ ﷺ کی ماقبل نبوت زندگی، ’نبوت‘ کے عنوان سے عہد مکی کے حالات، ’ہجرت‘ کے عنوان سے سفر ہجرتِ مدینہ کے احوال اور ’مدینے کی زندگی‘ کے زیر عنوان عہدِ مدنی کا مفصل تذکرہ کیا ہے۔ آخر میں ۳۴ ؍ صفحات (ص۱۱۵-۱۴۸) میں اسوۂ حسنہ کے عنوان سے آپؐ کے اخلاق و اوصاف کا بیان ہے۔
(۵) رسول پاکؐ: اس کتاب کے مصنف جناب عبدالواحد سندھی ہیں۔ انھوں نے بچوں کے لیے دینی موضوعات پر متعدد کتابیں لکھی ہیں، مثلاً اسلام کیسے شروع ہوا؟ قرآن پاک کیا ہے؟ ۔ سیرت کی یہ کتاب، جو ۸۰؍ صفحات پر مشتمل ہے، اسے مصنف نے تین مرکزی عنوانات میں تقسیم کیا ہے۔ پہلا حصہ ’رسول پاک کون تھے؟‘ کے عنوان سے ہے۔ اس میں بہت اختصار کے ساتھ آپ کی سیرت بیان کی گئی ہے۔ دوسرے حصے کا عنوان ہے: ’رسول پاکؐ کیسے تھے؟ اس میں آپؐ کے اخلاق حسنہ کا بیان ہے۔ تیسرا حصہ ’رسول پاکؐ نے کیا سکھایا؟، کے عنوان سے ہے۔ اس میں ارکانِ اسلام کا مختصر بیان ہے۔ اس کتاب کی خوبی یہ ہے کہ مصنف نے بہت آسان زبان استعمال کی ہے۔ اس کا اندازہ ان کے مختصر پیش لفظ سے لگایا جاسکتا ہے۔ انھوں نے بچوں کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا ہے:
’’میں نے یہ کتاب تمھارے لیے لکھی ہے اور اسے تمھارے ہی نام سے منسوب کرتا ہوں۔ رسول پاکؐ سب سے زیادہ تم بچوں کو چاہتے تھے اور تم بھی اپنے پیارے رسولؐ سے ضرور محبت کرتے ہوگے۔ مگر میاں، پیارے رسول سے محبت کرنے کا مطلب بھی سمجھے؟ آؤ ہم بتائیں۔ ان کے پیارے اسلام کو دنیا میں پھیلاؤ۔ خدا تمھاری مدد کرے۔ آمین‘‘۔ ۱۰؎
(۶) ہمارے رسول: اس کتاب کے مصنف خواجہ عبدالحئی فاروقی ہیں۔ خواجہ صاحب نے علی گڑھ اور دیوبند دونوں دانش گاہوں سے کسبِ فیض کیا تھا۔ مدت تک جامعہ ملیہ اسلامیہ میں تفسیر کے استاد اور شعبۂ دینیات کے ناظم رہے۔ آخر میں پاکستان چلے گئے تھے۔ وہاں علماء کا ایک بورڈ بناکر درس قرآن کے نام سے پورے قرآن مجید کی متعدد جلدوں میں تفسیر لکھی۔۱۱؎ انھوں نے بچوں کے لیے اسلامیات کی متعدد کتابیں تصنیف کی ہیں ۔ان میں سے ایک’ خلفائے اربعہ‘ ہے۔ ’ہمارے رسول‘ میں چھوٹے چھوٹے ذیلی عناوین کے تحت بہت آسان زبان میں اختصار کے ساتھ پیارے نبی ﷺ کی سیرت بیان کی گئی ہے۔ ۷۲؍ صفحات کی اس کتاب میں ۸۲؍ ذیلی عناوین ہیں، جن میں سے آخری ۲۳؍ صفحات میں آپؐ کے اخلاق و عادات اور اہم تعلیمات کا بیان ہے۔ اس کتاب کو بہت مقبولیت حاصل ہوئی۔اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ۱۹۷۵ء تک اس کے ۲۲؍ ایڈیشن شائع ہو چکے تھے۔
(۷) پیارے رسولؐ: یہ کتاب سب سے پہلے جولائی ۱۹۴۷ء میں شائع ہوئی تھی۔ اسے محترمہ سلطانہ آصف فیضی نے تصنیف کیا ہے۔ لائق مصنفہ نے بچوں کی نفسیات اور ان کی ذہنی سطح کی بھرپور رعایت کرتے ہوئے بہت ہلکے پھلکے انداز میں رسول اللہ ﷺ کی سیرت بیان کی ہے اور صرف ان پہلوؤں کو نمایاں کیا ہے جن میں بچوں کو دل چسپی ہو اور وہ ان سے متاثر ہوں۔ اس کتاب کا تعارف کراتے ہوئے ناشر نے لکھا ہے:
’’یہ کتاب مسلمان بچوں، بچیوں کے لیے ایک بہترین تحفہ ہے، جسے پڑھ کر وہ اپنے کو پیارے رسولؐ سے بہت قریب محسوس کرنے لگیں گے۔ جو کچھ لکھا گیا ہے وہ اس انداز سے کہ بات بچوں کے دل میں اترتی چلی جائے۔ حضور کی محبت و عظمت تو ہر مسلمان کے دل میں موجود ہے، لیکن کتنے ہیں جو آپؐ کی شخصیت اور پیغام کو اچھی طرح سمجھتے ہیں؟ یہ کتاب اس کمی کو پورا کرنے کی غرض سے لکھی گئی ہے۔ لایق مصنفہ نے سرکار دو عالم کو ایک کامل انسان کی حیثیت سے پیش کیا ہے، اس لیے معجزات کا ذکر کہیں نہیں کیا گیا اور نہ کوئی ایسا ذکر ہے جو قرینِ عقل نہ ہو۔ اس کتاب کی ساری باتیں بچہ آسانی سے سمجھ سکتا ہے ۔ وہ حضور کو بہت قریب سے دیکھتا ہے اور آپ کی زندگی کے جو پہلو بھی پیش کیے کئے ہیں وہ بچے کو بہت متاثر کرتے ہیں۔ اس طرز کی کتاب غالباً اس سے پہلے شائع نہیں کی گئی‘‘۔ ۱۲؎
(۸) رسول پاکؐ کے اخلاق: اس کتاب کے مصنف جناب خلیل احمد جامعی ہیں۔ انھوں نے بچوں کے لیے اسلامیات کی متعدد کتابیں تصنیف کی ہیں۔ ’اللہ کے خلیل‘ نامی کتاب میں انھوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سیرت بیان کی ہے۔ ان کی ایک دوسری کتاب ’اللہ کا گھر‘ کے نام سے ہے، جس میں خانۂ کعبہ کی تعمیر کی تاریخ بیان کی گئی ہے۔
سیرت کی اس کتاب میں رسول اللہ ﷺ کے اخلاق حسنہ کا بیان ہے۔
(ب) پروفیسر سید نواب علی کی کتاب ’ہمارے نبی‘
پروفیسر سید نواب علی(۱۸۷۸۔ما بعد۱۹۶۰ء) کی کتاب ’ہمارے نبی‘ کو اگر چہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ’مکتبہ پیام تعلیم ‘نے شائع کیا تھا،لیکن کتاب اور صاحبِ کتاب کی اہمیت کے پیش نظر اس کا تذکرہ الگ سے کیا جا رہا ہے۔
جناب سید نواب علی رضوی کی ولادت لکھنو میں ہوئی۔ایم اے کرنے کے بعد دو سال انھوں نے ایم اے او کالج علی گڑھ میں بہ حیثیت استاد گزارے،پھر بڑودہ کالج گجرات کے پروفیسر مقرر ہوئے،جہاں ۲۶ ؍ سال تک تدریسی خدمات انجام دیں۔اس کے بعد ریاست جونا گڑھ کے بہاء الدین کالج کے پرنسپل اور وزیر تعلیمات و اوقاف ہوگئے۔تقسیم ملک کے بعد پاکستان چلے گئے۔
نواب علی صاحب نے اسلامیات میں متعدد کتابیں تصنیف کی ہیں۔ان میں معارج الدین،قصص الحق،شہیدِ حق اور دینِ حق کے علاوہ تاریخِ صحفِ سماوی بہت اہمیت کی حامل ہے۔سیرتِ نبوی میں ان کی متعدد تصانیف ہیں۔’تذکرۃ المصطفیٰ‘ سیرت پر دس مقالات کا مجموعہ ہے۔اس کی اولین اشاعت ۱۳۲۵ھ؍۱۹۰۷ء کی ہے۔دوسری مرتبہ مطبع انسٹی ٹیوٹ علی گڑھ سے ۱۹۱۵ء میں شائع ہوئی تھی۔دوسری کتاب’ سیرۃ رسول اللہ ﷺ‘ ہے۔اس کی اشاعت سیرت بک ڈپو لاہور سے ہوئی ہے۔یہ دونوں کتابیں سیرت کے موضوع پر بڑی قدر و قیمت کی حامل ہیں۔ان میں اسلام اور پیغمبرِ اسلام پر اعتراضات کرنے والوں کا بھرپور رد کیا گیا ہے۔۱۳؎
سیرت کے موضوع پر تیسری کتاب ’ہمارے نبی‘ کے نام سے انھوں نے بچوں کے لیے تصنیف کی تھی۔
(ج) علامہ راشد الخیری کی ’آمنہ کا لال‘
بیسوی صدی کے نصف اول میں بچوں کے لیے تالیف کی جانے والی کتبِ سیرت میں ’آمنہ کا لال‘ (لعل) کو بھی شمار کیا جاسکتا ہے۔ علامہ راشد الخیری کو عورتوں کی فلاح و بہبود اور لڑکیوں کی تعلیم و تربیت سے بہت دل چسپی تھی۔ اس کے لیے انھوں نے کئی رسائل جاری کیے، جن میں ماہ نامہ ’عصمت‘ کو بہت شہرت ملی۔ لڑکیوں کا ایک اسکول بھی قائم کیا۔ انھوں نے لڑکیوں کی دینی و اخلاقی تربیت کے لیے بہت سے اصلاحی ناول لکھے۔ ان میں انھوں نے متوسط مسلمان گھرانوں کی لڑکیوں اور عورتوں کی خستہ حالی کا ذکر ایسی دل سوزی کے ساتھ کیا ہے کہ ’مصوّر غم‘ کے لقب سے شہرت پائی۔ ۱۴؎
’آمنہ کا لال‘ کا سنۂ تصنیف ۱۹۲۹ء ہے۔ اس کا جو نسخہ راقم سطور کے پیش نظر رہا ہے وہ مرکزی ادارۂ تبلیغ دینیات دہلی سے شائع ہوا ہے اور چھوٹے سائز کے ۹۴؍ صفحات پر مشتمل ہے۔ اُس زمانے میں میلاد شریف کی محفلیں عام تھیں۔ راشد الخیری نے اس کتاب کو اس طرح تصنیف کیا ہے کہ عورتیں اور بچیاں بہ آسانی اسے ان محفلوں میں پڑھ کر سنا سکیں۔ چنانچہ کتاب کے اندرونی ٹائٹل پر کتاب کے نام کے ساتھ یہ بھی تحریر کیا گیا ہے: ’’عورتوں کی مجالسِ میلاد شریف میں پڑھنے کی لاجواب کتاب‘‘۔ کتاب کے دیباچہ میں مصنف نے ایک طرف میلاد کی مجلسوں میں مبالغہ آمیز بیانات پر نقد کیا ہے اور دوسری طرف ان لوگوں کے نقطۂ نظر سے بھی اتفاق نہیں کیا ہے جو ان مجلسوں کے انعقاد کو خلافِ شرع قرار دیتے ہیں۔ انھوں نے کتاب کا تعارف کراتے ہوئے لکھا ہے:
’’مولود شریف کی سیکڑوں کتابیں شائع ہوچکی ہیں اور ہورہی ہیں، مگر میری رائے میں مسلمان لڑکیوں کے واسطے ایک ایسی کتاب کی ضرورت تھی جو رطب و یابس سے بالکل پاک ہو ۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ تمام کتاب میں ایک واقعہ بھی ایسا نہیں ہے جس کے یقین میں قیاس تأمّل کرسکے‘‘ ۱۵؎
اس کتاب میں رسول اللہ ﷺ کے خاندان، ولادت با سعادت، پرورش، جوانی، احوال قبل نبوت، وحی اور مکی دور کا تذکرہ کسی قدر تفصیل سے ہے۔ مدنی دور کا بیان بہت مختصر ہے۔ غزوات کا تو کچھ بھی ذکر نہیں۔ آخر میں ازواج مطہرات اور اخلاق نبوی کا مختصر بیان ہے۔
(د) علامہ سید سلیمان ندوی کی ’رحمت عالم‘
برصغیر ہند میں سیرت نگاری کا ذکر ہو تو ناممکن ہے کہ اس میں علامہ سید سلیمان ندوی (م۱۹۵۳ء) کا نام نامی نہ آئے۔ ان کی اصل شہرت اس اعتبار سے ہے کہ انھوں نے علامہ شبلی نعمانی(م۱۹۱۴ء) کی سیرۃ النبی کو پایۂ تکمیل تک پہنچایا اور ان کی دو جلدوں پر پانچ جلدوں کا اضافہ کیا۔ متعدد پہلوؤں سے اس کتاب کو سیرت کے جدید لٹریچر میں اہم مقام حاصل ہے۔ سیرت نگاری کے میدان میں سید سلیمان ندوی کی شہرت ان کی دوسری کتاب ’خطبات مدراس‘ کی وجہ سے بھی ہے۔ یہ کتاب اصلاً ان آٹھ خطباتِ سیرت پر مشتمل ہے جو سید صاحب نے مدراس میں ۱۹۲۵ء میں دیے تھے۔ اس کتاب کی قدر و اہمیت کا اندازہ کرنے کے لیے ڈاکٹر محمود احمد غازی کا ایک جملہ نقل کردینا کافی ہے کہ ’’یہ چھوٹی سی کتاب بیسویں صدی کے ادبِ سیرت میں نہیں، بلکہ پورے ادبِ سیرت میں ایک بڑا منفرد مقام رکھتی ہے‘‘۔ ۱۶؎
لیکن ان دوکتابوں کے علاوہ علامہ سید سلیمان ندوی کے قلم سے سیرت کے موضوع پر بچوں کے لیے بھی ایک کتاب نکلی ہے، جو کم اہمیت کی حامل نہیں ہے۔اس کا نام ہے ’رحمت عالم‘۔ سید صاحب کے سوانح نگاروں نے اس کی اہمیت و مقبولیت پر روشنی ڈالی ہے۔ پروفیسر خورشید نعمانی ردولوی نے لکھا ہے:
’’رحمت عالم کو سیرت نبوی کا پاکٹ ایڈیشن کہا جاسکتا ہے ۔۔۔ اس کتاب کے اجمال میں وہ تفصیل ملے گی جو سیرۃ النبی کی سات جلدوں پر حاوی ہے‘‘۔ ۱۷؎
سید صباح الدین عبدالرحمن فرماتے ہیں:
’’بچوں اور عورتوں کے لیے بہت ہی سلیس اور آسان زبان میں رسول اللہ ﷺ کی سیرت ’رحمت عالم‘ کے نام سے لکھی، جو ایسی مقبول ہوئی کہ معلوم نہیں اس کے اب تک کتنے ایڈیشن نکل چکے ہیں‘‘۔ ۱۸؎
ڈاکٹر محمد الیاس الاعظمی نے اس کی مقبولیت کا تذکرہ ان الفاظ میں کیا ہے:
’’سیرت پر یہ مختصر کتاب بے حد مقبول ہوئی اور محض ایک ماہ میں اس کا پہلا ایڈیشن ختم ہوگیا، طلبہ کی افادیت کے پیش نظر مسلم یونی ورسٹی نے دینیات کے شعبے میں علامہ شبلی کے رسالہ بدء الاسلام کی جگہ اسے نصاب میں شامل کیا ، اس وقت سے اب تک اس کے سیکڑوں ایڈیشن دارالمصنفین اور ملک کے بعض دوسرے اداروں سے شائع ہوچکے ہیں۔ ہندوستان و پاکستان کے بعض مدارس کے نصاب تعلیم میں بھی یہ کتاب داخل ہے‘‘۔۱۹؎
مولانا شاہ معین الدین احمد ندوی نے لکھا ہے کہ ’’ہندوستان کی مختلف زبانوں میںاس کا ترجمہ ہوا‘‘۔ ۲۰؎
مصنف نے کتاب کے پیش لفظ میں اس کا تعارف ان الفاظ میں کرایا ہے:
’’ایک زمانے سے دوستوں کا اصرار تھا کہ چھوٹے لڑکوں اور معمولی لکھے پڑھے لوگوں کے لیے سیرت کی ایک ایسی چھوٹی سی کتاب لکھوں، جس کا پڑھنا اور سمجھنا سب کے لیے آسان ہو اور پھر اس میں کوئی اہم بات چھوٹنے نہ پائے۔ دوستوں کی اس فرمائش کی تعمیل میں یہ مختصر کتاب لکھنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ اس میں عبارت کی سادگی، طرز ادا کی سہولت اور واقعات کے سلجھاؤ کا خاص خیال رکھا گیا ہے ، تاکہ چھوٹی عمر کے بچے اور معمولی سمجھ کے لوگ بھی اس سے فائدہ اٹھا سکیں اور اسکولوں اور مدرسوں کے کورسوں میں رکھی جاسکے ‘‘ ۔ ۲۱؎
کتاب کے مشتملات کا اندازہ اس کے ذیلی عناوین سے کیا جاسکتا ہے ، جن میں سے چند یہ ہیں: عرب کا جغرافیہ، خدا کے قاصد، پیغمبروں کا سلسلہ، حضرت ابراہیم ؑ کی نسل، خانۂ کعبہ ، آںحضرتؐ کا گھرانہ، آپ کا بچپن، کعبہ کی تعمیر، حضرت خدیجہؓ سے شادی، ازواج مطہرات، رسول ہونے تک ، وحی، اسلام، فرشتے، ہجرت، لڑائیوں کا حال، ارکان اسلام، وفات، اخلاق و عادات وغیرہ۔
تقسیم ملک کے بعد ہندوستان میں بچوں کے لیے سیرت نگاری
بچوں کی نفسیات کو پیش نظر رکھ کر ان کے لیے آسان زبان میں سیرت نبوی پر تصنیف و تالیف کا خاصا کام بیسویں صدی کے نصف آخر میں ہوا ہے۔ بر صغیر ہند کی تقسیم (اگست ۱۹۴۷ء) کے بعد ہندوستان اور پاکستان دونوں ممالک میں متعدد اصحاب علم کو یہ اہم، ضروری اور نئے رجحان کا حامل کام انجام دینے کی سعادت حاصل ہوئی ہے۔ ہر ملک کے بعض سیرت نگاروں کی تالیفات دوسرے ملک میں شائع ہوئی ہیں۔ اس سلسلے میں پاکستانی مصنفین میں حکیم محمد سعیدؒ کی کتاب ’نقوش سیرت‘ اور جناب طالب ہاشمی کی کتاب ’ہمارے رسول پاکؐ‘ کا نام لیا جاسکتا ہے کہ ہندوستان میں ان کے بہت سے ایڈیشن شائع ہوئے ہیں او روہ بہت مقبول ہیں۔ اسی طرح ہندوستانی مصنفین میں سے جناب مائل خیرآبادی کی کچھ کتابیں بعض پاکستانی اشاعتی اداروں سے شائع ہوئی ہیں۔ پاکستان میں سیرت کے موضوع پر بچوں کے لیے اور بھی بہت سی کتابیں لکھی گئی ہوں گی ، لیکن چوںکہ راقم سطور کی معلومات پاکستان کے بارے میں تقریباً صفر ہیں، اس لیے اس نے اپنے مطالعہ کو صرف ہندوستان تک محدود رکھا ہے اور وہ بھی صرف اردو زبان کی حد تک ، کہ دیگر زبانوں میں سیرت نبوی پر بچوں کے لیے ہوئے والا کام اس کی پہنچ سے باہر ہے۔
ہندوستان میں بچوں کے لیے سیرت نبوی اور اس کے متعلقات پر لکھی جانے والی کتابوں کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ یہاں اللہ کے رسول ﷺ کی حیات طیبہ پر لکھی جانے والی مستقل کتابوں کے علاوہ آپؐ کی ازواج مطہرات، صاحب زادیوں، خلفائے راشدین اور صحابۂ کرام پر بھی مستقل کتابیں لکھی گی ہیں۔ ان کتابوں میں بھی رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی مرکزی کردار کی حیثیت سے جلوہ گر نظر آتی ہے۔ لیکن موضوع کو محدود کرنے کے لیے اس مقالہ میں ان کتابوں کا تذکرہ نہیں کیا گیا ہے۔ اسی طرح ہندوستان میں بچوں کے لیے اسلامیات پر جو درسی اور غیر درسی بہت سی کتابیں تصنیف کی گئی ہیں ان میں بھی سیرت نبوی کا باب (Chapter) ضرور ہوتا ہے، لیکن اس مقالہ میں ان سے بھی تعرض نہیں کیا گیا ہے۔ اس میں صرف ان کتابوں کا تعارف کرایا گیا ہے جو مستقل طور سے سیرت نبوی کے موضوع پر لکھی گئی ہیں۔ البتہ اگر ان کے مصنفین نے دیگر متعلقاتِ سیرت پر بھی کام کیا ہے تو ان کا تذکرہ ضمناً کردیا گیا ہے۔
(الف) جماعت اسلامی ہند کی خدمات
تقسیم ملک کے بعد جماعت اسلامی ہند نے بچوں کے لیے سیرت نگاری کے میدان میں اہم خدمات انجام دی ہیں اور اس کے وابستگان کی تصانیف سے دوسرے حلقوں میں بھی بڑے پیمانے پر فائدہ اٹھایا جا رہا ہے۔اس لیے یہاں اس کے بارے میں کسی قدر تفصیل سے اظہارِ خیال مناسب معلوم ہوتا ہے۔
مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی(۱۹۰۳۔۱۹۷۹ء) نے اسلامی نظریۂ تعلیم کے مطابق تعلیم کا جو تفصیلی خاکہ پیش کیا تھا،اس کو سامنے رکھ کر ایک ابتدائی درس گاہ کے قیام کی ضرورت تقسیمِ ملک سے پہلے ہی محسوس کی جا رہی تھی۔تقسیم کے بعد جماعت اسلامی ہند کی تشکیل عمل میںآئی تو اس کی مجلسِ شوریٰ کے پہلے ہی اجلاس(منعقدہ ۲۷؍ تا ۲۹؍ اگست ۱۹۴۸ء) میں اس مسئلے پر غور ہوا اورطے پایا کہ اگلے سال کے شروع میں یہ درس گاہ قائم کر لی جائے۔چنانچہ یکم جنوری ۱۹۴۹ء سے ملیح آباد(لکھنؤ) میں، جہاں جماعت کا مرکز تھا،’ مرکزی درس گاہ جماعت اسلامی ہند ‘ کے نام سے یہ درس گاہ قائم ہو گئی۔پھر چند ماہ کے بعد جولائی ۱۹۴۹ء میں رام پور منتقل کر دی گئی اور جناب افضل حسین صاحب(۱۹۱۸۔۱۹۹۰ء) کو،جو اس وقت ضلع جھانسی (یو پی) کے ٹیچرس ٹریننگ کالج میں وائس پرنسپل تھے،بلاکر درس گاہ کا ناظم مقرر کر دیا گیا۔۲۲؎
جماعت اسلامی ہند نے یہ بھی محسوس کیا کہ اس طرح کی درس گاہ چلانے کے لیے ایک الگ ہی نصاب کی ضرورت ہے،جس میں ابتداء ہی سے بچوں کو تمام علوم کی اس طرح تعلیم دی جائے کہ ان کا ذہن اسلامی رنگ میں رنگتا چلا جائے۔اس مسئلے پر جماعت نے اپنی مجلسِ شوریٰ(منعقدہ ۱۰۔۱۱؍ جنوری۵۱ ۱۹ء) میں تفصیل سے غور وخوض کیا۔نصاب کے مطابق درسیات اور معاون کتب کی تیاری کی تجویز منظورہوئی اور طے پایا کہ اس کام کے لیے افضل حسین صاحب کو فارغ کر دیا جائے۔۲۳؎
جناب افضل حسین نے اس کام کا بیڑا اٹھایا۔انھوں نے اردو،ہندی،تاریخ،جغرافیہ،عام معلومات،سماجی علوم،اسلامیات اور ریاضی وغیرہ کی تقریباً۶۵؍ درسی کتابیں تیار کردیں۔ درسیات کے علاوہ انھوں نے بچوں کے لیے منّی کہانیاں،آسان کہانیاں،اخلاقی کہانیاں، اور موتیوں کا ہار(لڑکیوں کے لیے کہانیاں) نامی کتابیں تیار کیں۔ان کتابوں کی خصوصیت یہ ہے کہ ان میں جہاں اسلامی نقطۂ نظر کو کلیدی حیثیت دی گئی ہے وہیں زبان و بیان اور مواد کو سلیس،آسان،سادہ اور دل چسپ بنا کر بچوں کے ذوق و رجحان اور ان کی نفسیات کا پورا پورا لحاظ رکھا گیا ہے۔تعلیم کی جدید تکنیک اور تدریج کے تقاضوں کو بھی ہر قدم پر ملحوظ رکھا گیاہے۔ان سب چیزوں نے ان درسیات کو دوسری مروّجہ درسی کتابوں میں کافی مقبول بنا دیا ہے اور ان کتابوں کے بے شمار ایڈیشن اب تک شائع ہو چکے ہیں۔ ۲۴؎
افضل حسین صاحب کے اس علمی کام کو قدر و عظمت کی نگاہ سے دیکھا گیا۔ جماعت اسلامی ہند کے پہلے امیر مولانا ابواللیث اصلاحی ندوی نے اس کا تذکرہ ان الفاظ میں کیا ہے:
’’جناب افضل حسین صاحب نے درسیات کی تیاری کی طرف خصوصی توجہ مبذول کی،جس کے نتیجے میں بہ حمد اللہ اس کا ایک ایسا وقیع ذخیرہ تیار ہو گیا جو اپنی گوناگوں دینی و فنی خصو صیات کی بنا پر اپنی مثال آپ ہے‘‘۔۲۵؎
اور جماعت کے موجودہ امیر مشہور عالمِ دین مولانا سید جلال الدین عمری نے اسے یوںخراجِ تحسین پیش کیا ہے:
’’یہ اپنے انداز کی بالکل منفرد کوشش تھی۔یہ نصاب اپنی زبان،بیان،طلبہ کی نفسیات اور ان کی تعلیمی ضروریات کی بہترین تکمیل کرتا تھا۔اپنی ان خصوصیات کی بنا پر یہ نصابِ تعلیم بہت مقبول ہوا۔درسیات پر اسلامی نقطۂ نظر سے کسی بھی فرد نے ہمارے اس دور میں اتنا بڑا کام نہیں کیا۔‘‘۲۶؎
یوں تو افضل حسین صاحب نے بچوں کے لیے درسیات اور کہانیوں کی جو کتابیں لکھی ہیں ان میں بھی سیرت نبوی کے بہت سے واقعات بیان کیے گئے ہیں،لیکن انھوں نے اللہ کے رسول ﷺ کی سیرت پر ایک مستقل کتاب ’ پیارے رسول ﷺ‘ کے نام سے لکھی ہے۔اس میں انھوں نے بہت اختصارکے ساتھ آں حضرت ؐ کے خاندان،پیدائش،بچپن،جوانی،نبوت،اور مکی و مدنی زندگی کے احوال بیان کیے ہیں۔ آپ کے اخلاق اور معمولات کا تذکرہ کیا ہے۔ایک جگہ تفصیل سے بیان کیا ہے کہ آپؐ بچوں سے بہت پیار کرتے تھے۔آخر میں ’ پیارے رسول کی پیاری باتیں‘ کے عنوان سے چالیس مختصر احادیث ذکر کی ہیں۔یہ کتاب ۳۲؍ صفحات پر مشتمل ہے۔اس کی ایک خوبی یہ ہے کہ اس میں بیش تر ذیلی عناوین کے بعد بچوں کے لیے سوالات بھی درج کر دیے گئے ہیں۔اس سے بچوں کے لیے مضامین کو ذہن نشین کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔
مرکزی درس گاہ کے لیے تیار کردہ نصابی کتب میں سے ایک کتابِ سیرت’ہادیٔ اعظم‘ ہے۔اس کے مصنف جناب ابوخالد ایم اے ہیں۔۲۷؎ کتاب چھوٹی تقطیع میں دو حصوں میں شائع ہوئی ہے۔ حصۂ اول میں رسول اللہ ﷺ کی ’پیدائش سے ہجرت‘ تک کا بیان ہے۔ یہ ۴۸؍صفحات پر مشتمل ہے۔حصۂ دوم میں ’ہجرت اور اس کے بعد‘ کا بیان ہے۔اس کی ضخامت ۸۰؍ صفحات ہے۔ کتاب کے مختصر ترین پیش لفظ میں( جس کا عنوان’بچوں سے‘ ہے)افضل حسین ساحب نے بچوں کو مخاطب کرتے ہوئے لکھاہے:
’’پیارے بچو!تمھارے ایک چچا میاں ابو خالد صاحب ہیں۔ سیرتِ پاک پر ان کی کتاب تمھارے ہاتھ میں ہے۔کتاب ہم نے بھی پڑھی۔بہت اچھی لگی۔ خدا کرے تمھیں بھی پسند آئے اور حضور ؐ کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق نصیب ہو‘‘۲۸؎
پیش لفظ پر تاریخ۲۲؍ رمضان ۷۳ھ[مئی۱۹۵۴ء] درج ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی اوّلین اشاعت ۱۹۵۴ء کی ہے۔
مرکزی درس گاہ جماعت اسلامی ہند کے ایک اور استاد جناب عرفان احمد خلیلی صفی پوری(م۱۹۹۶ء) کو بچوں کے لیے سیرتِ نبوی پر کئی کتابیں لکھنے کی سعادت حاصل ہوئی ہے۔عرفان خلیلی کا تعارف یوں تو مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی کی تفسیر ’تفہیم القرآن‘ کے اشاریہ بہ عنوان’موضوعات ِقرآنی‘ اور اس کے بعض اہم مباحث کے انتخاب بہ عنوان’نکاتِ قرآنی‘ کے مرتب کی حیثیت سے ہے، لیکن اصلاً وہ بچوں کے ادیب ہیں۔ان کی تصانیف:آبگینے،اچھے لوگ،پیاسی روحیں، اور بیت بازی بچوں کی دینی و اخلاقی تربیت کے لیے بہت مفید ہیں۔ انھوں نے’پیارے نبی کے چار یار‘(چار حصے) کے عنوان سے بہت آسان زبان میں خلفائے راشدین کی سیرت لکھی ہے۔ اس کے علاوہ ان کی تین کتابیں سیرتِ نبوی پرہیں۔ایک کتاب’ کیا مسافر تھے‘ کے عنوان سے ہے،جس میں انھوں نے ادبی زبان اور افسانوی خاکوں کے انداز میں اسلامی تاریخ کے پندرہ سبق آموز اور عبرت ناک واقعات بیان کیے ہیں۔ان میں سے سات واقعات عہدِ نبوی سے متعلق ہیں۔۲۹؎
دوسری کتاب ’ہمارے حضور ؐ ‘ ہے۔ اسے بچوں کے لیے سادہ اورعام فہم زبان اور دل چسپ اسلوب میں اور بے جا طوالت سے پرہیز کرتے ہوئے مرتب کیا گیا ہے۔ اس کا تعارف کراتے ہوئے مولانا سید احمد عروج قادری(م۱۹۸۶ء) نے لکھاہے:
’’رفیق محترم جناب عرفان احمد خلیلی صفی پوری کی کتاب’ہمارے حضورؐ ‘میں نے پوری پڑھی اور متاثر ہوا۔۔۔۔بچوں کی کتابوں میں سیرتِ نبوی کے واقعات منتشر طور پرموجود ہیں،لیکن ضرورت تھی کہ ایسی کوئی کتاب ان کے لیے مرتب کر دی جائے جس میں نبی ﷺ کی زندگی کا ایک اجمالی خاکہ سامنے آجائے۔’ہمارے حضورؐ ‘ نے یہ ضرورت پوری کی ہے۔زبان سادہ،بچوں کے لیے قابلِ فہم استعمال کی گئی ہے اور واقعات’سیرت‘ کی مستند کتابوں سے لیے گئے ہیں‘‘۔ ۳۰؎
عرفان خلیلی کی تیسری کتابِ سیرت’آپ کیسے تھے؟‘ کے عنوان سے ہے۔اس میں مصنف نے بڑا انوکھا انداز اختیار کیا ہے۔اس میں آں حضرت ؐ کے اخلاق وعادات اور روز مرّہ کے معمولات بہت اختصار کے ساتھ آسان زبان میں بیان کیے گئے ہیں۔مصنف نے کتاب کا تعارف کراتے ہوئے لکھا ہے:
’’یہ خواہش بہت دنوں سے تھی کہ اسوۂ حسنہ کا کوئی ایسا مجموعہ مرتب ہو جائے جس سے ہر کس و ناکس فائدہ اٹھا سکے۔۔۔۔ذہن میں ایک خیال ابھرا’’ کیوں نہ سیرت کے ان واقعات کو مرتب کردوں جو ہماری روزمرّہ زندگی سے بہ راہ راست تعلق رکھتے ہوں‘‘۔ اس خیال کے آتے ہی میری آنکھیں جگمگا اٹھیں، دل خوشی سے لب ریز ہو گیا، منھ مانگی مراد مل گئی۔ اسی بہانہ سے ایک بار پھر اپنے آقا کی خدمت کا موقع نصیب ہو گیا۔دماغ آسمان پر اڑنے لگا۔ قلم نے اپنا کام کرنا شروع کر دیا۔یہ مختصر سا مجموعہ مرتب ہو گیا،جو حجم میں چھوٹا ضرور ہے،مگر ہے بہت قیمتی۔اس کی خصوصیت یہ ہے کہ ہر عنوان ایک ہی صفحہ پر ختم ہو جاتا ہے اور زبان آسان ہے‘‘۔۳۱؎
کتاب کے مباحث کا اندازہ اس کے ذیلی عناوین سے بہ خوبی کیا جا سکتا ہے،جن میں سے چند یہ ہیں:آپ گفتگو کیسے کرتے تھے؟۔آپ ہمیشہ سچ بولتے تھے۔آپ وعدے کے پکے تھے۔آپ بد زبانی سے پرہیز کرتے تھے۔آپ کو غیبت سے نفرت تھی۔آپ میٹھے بول بولتے تھے۔آپ مذاق بھی کرتے تھے۔آپ کس طرح کھاتے پیتے تھے؟۔آپ بہت شرمیلے تھے۔آپ بہت رحم دل تھے۔آپ سلام کرنے میں پہل کرتے۔آپ نفاست پسند تھے۔وغیرہ
تقسیم ملک کے بعد ہندوستان میں بچوں کے لیے اسلامی ادب کی تخلیق کرنے والوں میں سے ایک نمایاں نام ،بلکہ غالباً سب سے نمایاں نام جناب محمد اسحاق مائل خیرآبادی (۱۹۱۰۔ ۱۹۹۸ء) کا ہے۔ انھوں نے درس و تدریس کی سرکاری ملازمت ترک کرکے جماعت اسلامی ہند سے وابستگی اختیار کی۔۱۹۵۲ء تا ۱۹۷۰ء مولانا محمد عبد الحئی (م ) کے مشہور ادارۂ الحسنات رام پور کے تحت مختلف رسائل: نور، الحسنات،ہادی، بتول کی ادارت کی۔پھر اس ادارہ سے الگ ہو کر ذاتی طور سے خواتین و طالبات کے لیے ’حجاب‘ کے نام سے ایک ماہ نامہ نکالنا شروع کیا۔بچوں کے اسلامی ادب پر ان کی کتابوں کی تعداد سو سے متجاوز ہے، جو ہندوستان میں مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز نئی دہلی،کریسنٹ پبلشنگ کمپنی نئی دہلی،مکتبہ الحسنات رام پوراور پاکستان میں اسلامک پبلی کیشنز لمیٹڈ لاہور،ادارۂ الحسنات لاہور اور ادارۂ بتول لاہور وغیرہ سے شائع ہوئی ہیں۔ہر کتاب کی کئی کئی اشاعتیں منظر عام پر آئی ہیں۔مائل خیر آبادی کی مجموعی خدمات پر ڈاکٹر تو حید انصاری نے ان الفاظ میں تبصرہ کیا ہے:
’’اردو ادب میں جن ادیبوں نے بچوں اور خواتین یا طلبہ و طالبات کے لیے اسلامیات پر چھوٹی بڑی کتابیں مرتب یا تصنیف کی ہیں،ان میں موجودہ دور میں مائل خیر آبادی کا نام سر فہرست ہے۔ اسلامیات پر مائل کی لکھی ہوئی کتابیں نہایت عام فہم اور آسان زبان و بیان میں ہیں،جنھیں ایک عام قاری یا کم پڑھے لکھے لوگ بہ آسانی پڑھ اور سمجھ سکتے ہیں۔۔۔۔اسلامیات کے موضوع پر مائل کا امتیاز دو بنیادوں پر ہے۔پہلی چیز مقصد ہے اور دوسری مخاطبت۔۔۔۔مقصد محض اصلاح حال اور اصلاحِ عقائد نہیں ہے،بلکہ ایک نظامِ فکر کی ترسیل و تبلیغ ہے۔ اسلام کے چند احکام کی تشریح و تفصیل نہیں ہے،بلکہ اس کے بنیادی اور حقیقی تصور کو اجاگر کرنے کی کوشش ہے۔مخاطبت کے تحت زبان و بیان کا معیار متعین ہوتا ہے۔ مائل کے مخاطبین بچے اور خواتین ہیں۔لہٰذا وہ اسی کی مناسبت سے موضوع و مواد اور اسلوب کا تعین کرتے ہیں۔بچوں اور خواتین کی سیرت سازی کے لیے انبیاء ، صلحاء،صحابہ و صحابیات کی زندگی کے چھوٹے بڑے واقعات و حالات نہایت عام فہم اور آسان زبان میں سمجھنے اور سمجھانے کے انداز میں بیان ہوئے ہیں۔۔۔۔مائل کے یہاں علم الکلام اور فلسفہ و منطق کی پیچیدگی کا انداز نہیں ہوتا اور نہ عالمانہ اور پر شکوہ انداز ہے،بلکہ تدریسی و تفہیمی انداز ہے۔انبیاء، صحابۂ کرام و صحابیات و صلحاء کی زندگی کے چھوٹے چھوٹے واقعات و حالات نہایت وضاحت و صراحت کے ساتھ بیان کیے گئے ہیں‘‘۔ ۳۲؎
مائل خیرآبادی نے انبیاء کرام کی سیرت پر بھی لکھا ہے،رسول کریم ﷺ کی سیرت طیبہ پر بھی اور صحابہ و صحابیات کی پاکیزہ سیرتوں پر بھی۔حضرت ابراہیم علیہ السلام پر ان کا ایک مستقل کتابچہ ہے۔ان کی کتابوں:جاں باز ساتھی(دو حصے)،پیارے نبی کے پیارے ساتھی، بڑوں کا بچپن،پیارے خلیفہ، صحابہ و صحابیات (باب اول) میں صحابۂ کرام کی سیرتیں ہیں تو خدیجۃ الکبریٰؓ، ام المومنین حضرت عائشہؓ، خاتونِ جنت(حضرت فاطمہؓ)،چٹانیں،ہم ایسی بنیں،صحابہ و صحابیات(باب دوم) میں صحابیات کی ایمان افروز زندگی اورکارناموں کا بیان ہے۔سیرتِ نبوی کے متفرق واقعات یوں تو ان کی دیگر کتابوں میں بھی ملتے ہیں، لیکن اللہ کے رسول ﷺ کی سیرت پر ان کی مستقل چار کتابیں ہیں:
(۱) ’نورِ محمدی‘ میں پیارے نبی ﷺ کے حالاتِ زندگی بچپن سے وفات تک نہایت آسان زبان اور تدریسی انداز میں لکھے گئے ہیں۔اس کا اندازہ چند ذیلی عناوین سے کیا جا سکتا ہے:پیارا نام،گھرانہ اور وطن،پیدائش اور پرورش،بچپن،جوانی اور شادی، زید منھ بولے بیٹے،مکہ اور کعبہ،حضورؐ کا نبی ہونا،دین پھیلانے کا کام،پیارے نبی کو لالچ دینا،مسلمانوں کو ستانا،ہجرت،بدر کی لڑائی، احد کی لڑائی، اسلامی حکومت، جنگ موتہ، وفات۔ یہ کتاب ۷۲؍ صفحات پر مشتمل ہے اور اسے نیو کریسنٹ پبلشنگ کمپنی نئی دہلی نے شائع کیا ہے۔
(۲) ’پیارے نبی ﷺ ایسے تھے‘ (۳۲؍ صفحات) میں نبی اکرم ﷺ کے اخلاق حسنہ اورآپؐ کی حیاتِ طیبہ کے مختلف پہلوؤں کو بیان کیا گیا ہے۔اس کے ذیلی عناوین یہ ہیں: حضورؐ کی غذا، صفائی اورستھرائی،صبح سے شام تک،شام سے صبح تک، بات چیت،پیارا مذاق،آپؐ ہنس پڑے، خدا پر بھروسہ، خاطر داری،برابری کا برتاؤ،شرم و حیا،گھمنڈ نہ تھا، بہادری، آپؐ سچے تھے، امانت داری، وعدے کے سچے، برائی کے بدلے بھلائی،بچوں سے پیار،نرم دلی،معاف کر دینے کی عادت،وغیرہ۔
(۳) ’پیشین گوئیاں‘ نامی کتاب میں رسول اللہ ﷺ کی پندرہ سبق آموز پیشین گوئیوں کو بہت دل چسپ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
(۴) ’رسول کریم ﷺ‘ قدرے ضخیم کتاب ہے۔پہلے اس کی اشاعت ماہ نامہ حجاب کے خاص نمبر (نومبر، دسمبر ۱۹۸۳ء) کی صورت میں ہوئی تھی۔بعد میں نیو کریسنٹ پبلشنگ کمپنی نئی دہلی سے کتابی صورت میں اشاعت پذیر ہوئی۔یہ کتاب بڑے بچوں،نو جوانوں اور کم پڑھے لوگوں کے لیے ہے۔اس کی اہمیت یہ ہے کہ جو لوگ ضخیم اورعالمانہ انداز میں لکھی گئی سیرت کی کتابوں کو نہیں پڑھ سکتے وہ اس سے بہ آسانی استفادہ کر سکتے ہیں۔ اس کی دوسری اہمیت یہ ہے کہ اسے غیر مسلموں کے ذہن کو سامنے رکھ کرلکھا گیا ہے۔
جماعت اسلامی ہند کے اشاعتی ادارہ مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز نئی دہلی سے بچوں کے لیے ایک کتاب’بزمِ پیغمبر ﷺ‘ بھی شائع کی گئی ہے۔اس کے مصنف مولانامقبول احمد سیوہاروی ہیں۔وہ بچوں کے معروف ادیب ہیں۔انھوں نے بچوں کے لیے متعدد کتابیں(مثلاً دو مسافر،اچھی کہانیاں) لکھی ہیں۔’بزمِ پیغمبر‘ میں انھوں نے آسان ،عام فہم اور دل کش انداز میں زندگی کے مختلف معاملات کے تعلق سے آں حضرت ؐ کے ارشادات جمع کر دیے ہیں۔ اس کتاب کی غخامت ۱۴۲؍ صفحات ہے۔
(ب) بچوں کے لیے سیرت نگاری اورحلقۂ دیوبند
حلقۂ دیوبند کے مصنفینِ سیرت برائے اطفال میں سے خواجہ عبدالحئی فاروقی کا تذکرہ پہلے آچکا ہے۔ اس میدان کی دوسری اہم شخصیت قاضی زین العابدین سجاد میرٹھی(۱۹۱۰-۱۹۹۱ء) کی ہے۔۳۳؎ انھوں نے ۱۳۴۶ھ/۱۹۲۷ء میں دارالعلوم دیوبند سے دورۂ حدیث کیا۔ ۱۹۵۷ء میں جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ناظم دینیات کے منصب پر فائز ہوئے۔ ان کی تصانیف: قاموس القرآن،بیان اللسان(عربی اردو ڈکشنری)،انتخاب صحاح ستہ اور شہیدِ کربلا کو علمی حلقوں میں کافی مقبولیت حاصل ہے۔ انھوں نے سیرتِ نبوی پر مختلف جہات سے کام کیا ہے۔ ان کی ایک تصنیف ’سیرت طیبہ‘ (۴۴۴؍صفحات) کے نام سے ہے،جو یونی ورسٹی کی سطح کے طلبہ اور جدید تعلیم یافتہ حضرات کے لیے لکھی گئی ہے۔ایک دوسری تصنیف’نبی عربی ‘(۱۶۴؍صفحات) ہے،جو ہائی اسکول کے بچوں کی ضرورت پوری کرتی ہے۔یہ اصلاً ان کی مشہور تصنیف’تاریخِ ملت‘ (۳ جلدیں) کی پہلی جلد ہے۔(دوسری جلد خلافت راشدہ پر اور تیسری جلد خلافتِ بنی امیہ پر ہے۔) ملک کے مشہور اشاعتی ادارہ’ندوۃ المصنفین‘دہلی سے اس کے متعدد ایڈیشن طبع ہوئے ہیں۔ اسے مشہور عالمِ دین مفتی عتیق الرحمٰن عثمانی ناظم ندوۃ المصنفین کی خواہش پر تصنیف کیا گیا تھا۔ اس کتاب کی خصوصیات مصنف نے درج ذیل بیان کی ہیں:
’’ ۱۔ سیرۃ طیبہ سے متعلق تمام اہم واقعات اختصار کو مدّ نظر رکھتے ہوئے بیان کر دیے گئے ہیں۔
۲۔ واقعات کے بیان میں تاریخی ترتیب کا لحاظ رکھا گیا ہے،مگر ربط و تسلسل کا دامن بھی کسی صورت ہاتھ سے نہیں
چھوڑا گیا۔
۳۔ جہاں کہیں ضرورت محسوس ہوئی ہے وہاں واقعات کے اسباب و علل سے بھی سہل انداز میں بحث کی گئی ہے۔
۴۔ زبان آسان و سلیس رکھی گئی ہے اور بیان میں سادگی و شگفتگی کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔
۵۔ تمام مضامین عربی کی بعض قدیم اور بیش تر جدید سیرۃ کی معتبر و مستند کتابوں سے لیے گئے ہیں‘‘۔۳۴؎
نصابی مقصد سے سیرت نبوی پر شائع ہونے والی ایک کتاب’سیرت النبی محمد رسول اللہﷺ‘ کے نام سے ہے۔اس کے مصنف مولانا سید راحت ہاشمی فاضل دیوبند و سابق استاد سینیر سیکنڈری اسکول جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی ہیں۔انھوں نے نویں سے بارہویں جماعت کے بچوں کے لیے دینیات کی ایک کتاب تیار کی تھی ،جو ’اسلامی نصاب‘ کے نام سے شائع ہوئی۔سیرت نبوی کی یہ کتاب اصلاً اسی کتاب کا دوسرا حصہ ہے۔(پہلا حصہ عقائد و عبادات پر اور تیسرا حصہ خلفائے راشدین پر ہے۔)کتاب کا تعارف کراتے ہوئے ڈاکٹر محمد سعود عالم قاسمی نے لکھا ہے:
’’اسکولوں میں تمام مضامین کے ساتھ دینیات کا جتنا عنصر شامل کیا جا سکتا ہے،اس کے مطابق مفید اور معقول مواد مصنف نے فراہم کیا ہے۔نصابی کتابوں میں تین باتوں کا لحاظ رکھنا ضروری ہوتا ہے:اول یہ کہ مواد کا معیار اور اعتبار کم نہ ہو،دوم یہ کہ ابہام سے پاک ہو،اور سوم یہ کہ زبان و بیان سادہ اور سلیس ہو۔مجھے خوشی ہے کہ مصنف نے ان تینوں باتوں کا لحاظ رکھا ہے۔۔۔مباحث میں وضاحت اور تسہیل ملتی ہے اور اندازِ بیان سادہ اور پر کشش ہے۔۔۔ان مضامین سے نہ صرف کلاس کے طلبہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں،بلکہ عام مسلمان بھی مستفید ہو سکتے ہیں‘‘۔۳۵؎
کتاب کی ضخامت۱۸۵؍ صفحات ہے۔اسے فرید بک ڈپو دہلی نے شائع کیا ہے۔
(ج) حلقۂ ندوہ کی کتبِ سیرت برائے اطفال
دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنو کے فارغین نے بچوں کے لیے سیرت نبوی پر جو کتابیں تیار کی ہیں،ان میںسے مولانا محمد حسین حسان ندوی کی کتاب’سرکارِ دو عالم‘ اور مولانا سید سلیمان ندوی کی کتاب’رحمتِ عالم‘ کا تذکرہ پہلے گزر چکا ہے۔ان کے علاوہ ایک مختصر سی کتاب مولانا مجیب اللہ ندوی (۱۹۱۸-۲۰۰۶ء) نے تصنیف کی ہے۔اس کا نام ہے’بچوں کے لیے سیرت نبوی‘۔مولانا مجیب اللہ علامہ سید سلیمان ندوی کے ارشد تلامذہ میں سے ہیں۔ دار العلوم ندوۃ العلماء سے فراغت کے بعد انھوں نے بائیس سال (۱۹۴۴- ۱۹۶۶ء)بر صغیر کے مشہور علمی و تحقیقی ادارے ’دار المصنفین‘ اعظم گڑھ میں گزارے۔ ان کی تصانیف میں اہلِ کتاب صحابہ و تابعین، تبع تابعین حصۂ اول، فتاویٰ عالم گیری اور اس کے مؤلفین،خدمتِ حدیث میں خواتین کا حصہ، اسلام کے بین الاقوامی اصول و تصورات،اسلام میں قانونِ اجرت، اجتہاد اور تبدیلی احکام، فقہ اسلامی اور دورِ جدید کے مسائل اور اسلامی فقہ علمی و دینی حلقوں میں مقبول ہیں۔۳۶؎
اس کتابچہ میں مولانا مجیب اللہ ندوی نے بہت اختصار کے ساتھ اور بہت آسان زبان میں واقعات سیرت بیان کیے ہیں۔کتابچہ کی ضخامت۳۶ ؍صفحات ہے۔
بچوں کے لیے تیار کی جانے والی کتب سیرت میں سے ایک اہم کتاب محترمہ امۃ اللہ عائشہ تسنیم صاحبہ کی’ہمارے حضور‘ ہے، جو مکتبہ اسلام لکھنوسے شائع ہوئی ہے۔محترمہ مشہور مورخ اور ادیب مولانا سید عبد الحی حسنی (۱۸۶۹-۱۹۲۳ء) کی صاحب زادی اور مفکر اسلام مولانا سید ابو الحسن علی ندوی (۱۹۱۳-۱۹۹۹ء) کی ہمشیرہ ہیں۔ امام نووی (م۶۷۶ھ/۱۲۷۷ء) شارح صحیح مسلم کی مقبول کتاب ’ریاض الصالحین‘ کا، ’زادِ سفر‘ کے نام سے ان کا کیا ہوا ترجمہ مع ضروری حواشی و تشریحی عنوانات علمی حلقوں میں مقبول ہے۔ وہ خواتین اور لڑکیوں کے ماہ نامہ ’رضوان‘ کی مدیرہ بھی تھیں۔۳۷؎
مولانا علی میاں نے بچوں کے لیے عربی زبان میں انبیاء کرام کی سیرت پر ایک سلسلۂ کتب ’قصص النبیین‘ کے نام سے تصنیف کیا تھا۔اس کا پانچواں حصہ،جو اللہ کے آخری رسولﷺ کی سیرت پر ہے،الگ سے بھی’سیرۃ خاتم النبیین‘ کے نام سے شائع ہوا ہے۔تسنیم صاحبہ نے قصص النبیین کو سامنے رکھ کر اپنے الفاظ میں آسان اور سادہ زبان اور دل نشین اسلوب میں’بچوں کی قصص الانبیاء‘ تصنیف کی۔مولانا عبد الماجد دریابادیؒ (۱۸۹۲۔۱۹۷۷ء)نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے:
’’کتاب ترجمہ نہیں،ترجمہ سے بڑھ کر ہے۔زبان کی خوبیاں دیکھنے سے تعلق رکھتی ہیں۔’مشک آں است کہ خودببو دید ‘۔ جو لڑکے اور لڑکیاں اسے پڑھیں گے وہ ساتھ ساتھ اردو بھی سیکھتے جائیں گے‘‘۳۸؎
اس کتاب کے ابتدائی چار اجزاء میں دیگر انبیاء کی سیرت بیان کی گئی ہے۔پانچواں حصہ ’ہمارے حضور‘ کے نام سے شائع ہوا ہے۔ کتاب کے پیش لفظ میں مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ نے کتاب کی خوبیوں پر ان الفاظ میں روشنی ڈالی ہے:
’’تسنیم صاحبہ نے ’ہمارے حضور‘ کے نام سے جو کتاب مرتب کی ہے وہ سیرت کے صحیح اور مستند واقعات پر مبنی ہے۔زبان نہایت ہی شیریں ہے۔واقعات کا انتخاب بہت اچھا ہے۔کتاب موثر اور دل آویز ہے۔یہ محض واقعات کی بے جان فہرست نہیں ہے،بلکہ اس میں دینی و اخلاقی تربیت کا سامان بھی ہے۔ان کا قلم بچوں اور بچیوں کے لیے کتابیں تحریرکرنے میں مشّاق ہو گیا ہے۔اس لیے کتاب اپنی زبان کے اعتبار سے بھی اور اپنے مضامین اور طرز ِ بیان کے اعتبار سے بھی ان کی سطح سے بلند نہیں ہے۔مضامین کو انھوں نے مختلف ہلکے پھلکے عنوانات میں تقسیم کر دیا ہے اور ہر مضمون یا واقعہ کو اس طرح بیان کیا ہے کہ ان کا پڑھنا اور یاد رکھنا کم سن طالب علموں کے لیے دشوار نہیں ہوگا۔‘‘۳۹؎
لائق مصنفہ نے کتاب کی ابتداء شہر مکہ کی ابتدائی تاریخ سے کی ہے،پھر عہدِجاہلیت کی سماجی اور مذہبی زندگی کا نقشہ کھینچا ہے۔اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کے خاندان،آپ کی ولادت،پرورش،ماقبل نبوت زندگی،اعلانِ نبوت، مکی زندگی، ہجرت اور مدنی زندگی پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔موصوفہ چوں کہ شعری ذوق کی بھی حامل ہیں،اس لیے انھوں نے موضوع کی مناسبت سے جابہ جا خواجہ الطاف حسین حالی اور دیگر شعراء کے اشعار بھی درج کیے ہیں۔آخر میں آپؐ کے اخلاق و عادات کا بیان ہے۔کتاب ۱۴۴؍ صفحات پر مشتمل ہے۔
(د) کوئز کے طرز پر لکھی جانے والی کتب ِ سیرت
بچوں کو اللہ کے رسول ﷺ کی سیرت سے مانوس اور قریب کرنے اور اس کی جزئی اور تفصیلی معلومات فراہم کرنے کے مقصد سے سیرتِ نبوی اور متعلقاتِ سیرت پر ایک نئے انداز سے کام کیا گیا ہے۔اور وہ ہے سوال و جواب(Quiz) کی شکل میں کتابوں کی تالیف۔ چنانچہ سیرتِ نبوی کے علاوہ امہات المومنین، خلفاء راشدین اور صحابۂ کرام پر بھی بہت سی کتابیں کوئز کی شکل میں تیار کی گئی ہیں۔ پاکستانی سیرت نگار جناب علی اصغر چودھری کی کتاب ’حیاتِ رسول‘ ہندوستان میں بہت متداول ہے اور متعدد اشاعتی اداروں سے شائع ہوئی ہے۔یہاں خاص سیرتِ نبوی پر تیار کی جانے والی چند کتابوں کا تذکرہ کیا جا رہا ہے:
ایک کتاب ’سیرۃ النبی کوئز‘ ہے،جسے فیروس ایجوکیشنل فاؤنڈیشن کے اشاعتی ادارہ’فیروس پبلی کیشنز‘ نے شائع کیا ہے۔فاؤنڈیشن کی نگرانی میں گزشتہ ایک دہائی سے علاقہ کوکن کے اسکولوں میں عصری تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ایک انوکھی اسکیم شروع کی گئی ہے۔ اس کے تحت مسلم منتظمہ کے تحت چلنے والے اسکولوں میں معلّمینِ دینیات فراہم کیے جاتے ہیں۔ ساتھ ہی فاؤنڈیشن کی جانب سے پرائمری درجات کے لیے ’ابتدائی اسلامیات‘(پانچ حصے)اور سیکنڈری درجات کے لیے’اسلامیات‘(چھ حصے) کے نام سے سیریز بھی شائع کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ ہر سال بچوں کے درمیان کوئز کے مقابلے بھی کرائے جاتے ہیں۔اس کے لیے فاؤنڈیشن نے کئی کتابیں شائع کی ہیں،مثلاًقرآن کوئز،حدیث کوئز،اخلاقیات کوئز، ارکانِ اسلام کوئز،انبیائے کرام کوئز،خلفائے راشدین کوئز، اورسیرۃ النبی کوئز۔موخر الذکر کتابچہ کا تعارف کراتے ہوئے فاؤنڈیشن کے چیرمین جناب عبد الغنی اطلس والا نے لکھا ہے:
’’ دشمنانِ اسلام خوب محسوس کر رہے ہیں کہ نئی نسل کو گم راہ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ سیرت نبوی کی تصویر بگاڑ دی جائے۔چنانچہ وہ سازش کے تحت اس مہم پر لگے ہوئے ہیں۔ایسے میں سیرتِ نبوی کی صحیح تصویر سے نئی نسل کو آگاہ کرنا اور اسی رنگ میں رنگنے کی کوشش کرنا وقت کی بڑی اہم ضرورت ہے۔اسی ضرورت کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے سوال و جواب کے جدید اسلوب(کوئز) کی شکل میں ’سیرۃ النبی کوئز‘ کتابچہ تیار کیا گیا ہے۔ سیرۃ النبی کا موضوع تو بہت وسیع ہے،لیکن ضرورت کو سامنے رکھتے ہوئے صرف بنیادی اور لازمی گوشوں کا ہی احاطہ کیا گیا ہے۔ سمجھنے میں آسانی کے لیے پیارے نبیؐ کی مکی و مدنی زندگی کی تقسیم کو ملحوظ رکھا گیا ہے،البتہ عمومی باتوں کو متفرقات کے عنوان سے یکجا کر دیا گیا ہے‘‘۔۴۰؎
کتابچہ کی ضخامت۴۰؍ صفحات ہے۔یہ ۵۸۰؍ سوالات و جوابات پر مشتمل ہے۔اسے فاؤنڈیشن کے اساتذہ مولانا اختر سلطان اصلاحی، مولاناسید حسن کمال ندوی اور مولاناشفیع الرحمٰن عمری نے مرتب کیا ہے۔
دوسری کتاب ’سیرت نامہ‘ کے نام سے ہے۔اس کے مصنف مولانا محمد یٰسین ذکی جامعۃ الفیصل بجنور(یو پی) کے استاد اور بچوں کے ماہ نامہ ’اچھا ساتھی‘ کے معاون مدیر ہیں۔ یہ کتاب ملّت اکیڈمی بجنور نے شائع کی ہے۔کتاب اور مرتب کا تعارف کراتے ہوئے اکیڈمی کے چیرمین مولانا سراج الدین ندوی نے لکھا ہے:
’’سرکارِ دو عالم کی حیاتِ طیبہ کے ایک ایک پہلو اور گوشہ پر مفصّل کتابیں موجود ہیں،مگر مولانا محمد یٰسین ذکی صاحب کی یہ مختصر سی کتاب اس حیثیت سے منفرد ہے کہ اس میں سیرت رسول اللہ ﷺ کا جامع مگر مختصر تعارف سوال و جواب کے انداز میں کرایا گیا ہے۔مولانا موصوف چوں کہ بچوں کی تعلیم و تربیت کا طویل اور عملی تجربہ رکھتے ہیں،انھیں بچوں کی نفسیات و جذبات کا گہرا شعور حاصل ہے،اس موضوع پر ان کا عمیق مطالعہ بھی ہے،اس لیے اس کتاب کی ترتیب و تالیف،اسلوب و اندازِ بیان فطری طور پر بچوں کے مزاج اور افتاد طبع کے مطابق ہے‘‘۔۴۱؎
۶۴؍صفحات کی یہ کتاب ۳۱۶؍ سوالات اور ان کے جوابات پر مشتمل ہے۔مضامین کے ذیلی عناوین یہ ہیں: خاندان، پیدائش و پرورش، مکی زندگی اور نبوت،سفر معراج اور ہجرتِ مدینہ، اسوۂ حسنہ کے مختلف پہلو، آخری وقت، غزواتِ رسول اللہ ﷺ اور صحابۂ کرام،پاک بیویاں،اولاد۔کتاب میں مدنی زندگی کا کوئی عنوان نہیں ہے۔اس سے متعلق مختصر معلومات جابہ جا مذکور ہیں۔
مختصر تجزیہ
راقم سطور کا احساس ہے کہ برصغیر میں بچوں کے لیے تالیف کی جانے والی کتبِ سیرت کا یہ جائزہ بہت ہی نامکمل ہے۔ اس میں صرف چند ہی مؤلفین سیرت اور چند ہی کتابوں کا تذکرہ آسکا ہے، جن تک آسانی سے راقم کی رسائی ہوسکی ہے۔ ملک کے طول و عرض میں یقیناً اور بھی بہت سی کتابیں لکھی گئی ہوں گی۔ یہ تو صرف اردو زبان کا معاملہ ہے۔ ورنہ انگریزی ، ہندی اور دیگر علاقائی زبانوں میں ہونے والے کاموں کو بھی شامل کرلیا جائے تو اس موضوع کی وسعت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ اس کا احاطہ کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر ’لٹریچر سروے‘ کی ضرورت ہے۔
پھر یہ کہ راقم نے دست یاب کتبِ سیرت برائے اطفال کا جو تذکرہ کیا ہے وہ بڑا سرسری ہے۔ اس سے ان کتابوں کی ماہیت، حجم اور مشتملات کا ہلکا سا اندازہ ہی لگایا جاسکتا ہے۔ ضرورت ہے کہ ان میں سے ہر کتاب کا بھرپور تجزیہ کیا جائے، اس کا تنقیدی مطالعہ کیا جائے، بچوں کے لیے اس کی افادیت جانچی جائے اور دیکھا جائے کہ وہ کتاب ادبِ اطفال کے معیار پر کس حد تک پوری اترتی ہے۔ اس موضوع پر کام کرنے کے لیے محققین کو صلائے عام ہے۔
یہاں ، مذکورہ کتابوں کے مطالعہ سے جو چند باتیں راقم سطور کے ذہن میں آئی ہیں انھیں نکات کی شکل میں پیش کیا جاتا ہے:
۱- ادبِ اطفال ادب کا ایک مخصوص گوشہ ہے۔ بچوں کی ذہنی سطح پر اترکر ان کے لیے کتاب تصنیف کرنا ایک دشوار کام ہے۔ یہ ہر مصنف کے بس کی بات نہیں۔ اللہ کا شکر ہے کہ ہندوستان میں بچو ں کے اسلامی ادب پر قابل قدر کام ہوا ہے اور خاص طور سے ان کے لیے سیرتِ نبوی کے موضوع پر بھی بہت عمدہ کتابیں تصنیف کی گئی ہیں۔
۲- بچوں کے لیے کتبِ سیرت تالیف کرنے والے تمام مصنفین نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے بچوں کی نفسیات اوران کی ذہنی سطح کی رعایت کی ہے، زبان بہت آسان استعمال کی ہے اور اندازِ بیان بہت سادہ رکھا ہے۔ راقم کااحساس ہے کہ ان کا یہ دعویٰ حقیقت سے قریب تر ہے۔
۳- کتبِ سیرت برائے اطفال کو دو زمروں (Categories) میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ کچھ کتابیں بہت چھوٹے بچوں کے لیے لکھی گئی ہیں اور کچھ ہائی اسکول اور انٹر کے طلبہ اور نو عمروں کے لیے ہیں۔ اس لحاظ سے ان کتابوں کے حجم، مشتملات اور اسلوب میں بھی فرق ہے۔
۴- بچوں کی رعایت سے مؤلفینِ سیرت نے رسول اللہ ﷺ کے اسوۂ حسنہ اور اخلاق و عادات کے پہلو کو خوب نمایاں کیا ہے اور اس پر تفصیل سے لکھا ہے اور غزوات و سرایا کے بیان میں اختصار و اجمال سے کام لیا ہے۔ بعض مؤلفین نے تو غزوات کا بالکل تذکرہ نہیں کیا ہے، بعض نے صرف غزوات کے نام گنادیے ہیں، بعض نے صرف غزوۂ بدر، غزوۂ احد اور فتح مکہ کا تذکرہ کیا ہے۔ چند ہی مصنفین نے دیگر غزوات کا تذکرہ کیا ہے۔ یہ صحیح بھی ہے۔ عموماً کتبِ سیرت میں غزوات کا بیان اتنا مفصل ہوجاتا ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی پوری مدنی زندگی پر حاوی دکھائی دتیا ہے۔ بچوں کے لیے تالیف کی جانے والی کتبِ سیرت میں ان کے مصنفین نے بچوں کے ذہنوں کو اس تاثر سے بچانے کی شعوری کوشش کی ہے۔
۵- مؤلفینِ سیرت نے بچوں کے لیے معانی و مفاہیم کی ترسیل کو اہمیت دی ہے۔ چنانچہ انھوں نے اسلامی اصطلاحات کی، برموقع اندرون عبارت ہی یا حاشیہ میں، تشریح ضروری سمجھی ہے۔ مثلاً:
حلیف: ’’دو قبیلوں میں آپس میں دوستی اور معاہدہ ہوجائے تو یہ دونوں ایک دوسرے کے حلیف کہلاتے ہیں‘‘۔ ۴۲؎
مالِ غنیمت: ’’لڑائی کے بعد ہاری ہوئی فوج کا مال اسباب ’مالِ غنیمت‘ کہلاتا ہے اور اسے لوٹنا لڑائی کے قانون کے مطابق جائز ہے‘‘۔ ۴۳؎
ہجرت: ’’اپنا ایمان بچانے کے لیے اپنے وطن کو چھوڑ کر کسی ایسی جگہ چلے جانا، جہاں مسلمان اپنے دین کے مطابق زندگی بسر کرسکیں، ’ہجرت‘ کہلاتا ہے‘‘۔ ۴۴؎
فدیہ: ’’لڑائی میں جو لوگ قید کیے جاتے ہیں ان کو کچھ رقم وصول کرکے چھوڑ دیا جاتاہے۔ اسی رقم کو’ فدیہ‘ کہا جاتا ہے‘‘۔۴۵؎
۶- بچوں کی جو ذہنی سطح ہوتی ہے اس کی رعایت سے بعض باتوں کو مجمل اور مبہم رکھنا ہی زیادہ موزوں ہوتا ہے۔ اگر ان باتوں کو کھول دیا جائے تو بچے انتشار ذہنی کا شکار ہوں گے۔ مؤلفینِ سیرت برائے اطفال نے عموماً اس کی رعایت کی ہے۔ مثلاً عہد نبوی کا ایک مشہور واقعہ ہے کہ ایک صحابی جنسی جذبات سے مغلوب ہوکر ماہ رمضان المبارک میں دن میں اپنی بیوی سے مباشرت کر بیٹھے۔ بعد میں ندامت ہوئی تو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر مسئلہ دریافت کیا۔ چھوٹے بچوں کو ’جنسی جذبہ‘ اور ’مباشرت‘ جیسی باتیں سمجھانا دشوار تھا۔ چنانچہ اس واقعہ کو مائل خیرآبادی نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے:
’’ایک بار آپؐ کے ایک پیارے ساتھی گھبرائے ہوئے آپؐ کے پاس آئے۔ آپؐ نے حال پوچھا، بولے: ’’مجھ سے بڑا گناہ ہوگیا، کیا کروں؟ ‘‘۴۶؎
۷- بچوں کے لیے تالیف کی جانے والی کتبِ سیرت میں سب سے اہم اور قابلِ لحاظ پہلو یہ ہے کہ ان تک صحیح اور مستند معلومات پہنچائی جائیں۔ عموماً مؤلفین سیرت نے اس کا اہتمام کیا ہے۔ البتہ کہیں کہیں ان کے بیانات معیارِ صحت پر پورے نہیں اترتے۔ مثلاً جناب افضل حسین نے ’حلف الفضول‘ کے بارے میں لکھا ہے:
’’آپؐ مکہ والوں کا ظلم و ستم دیکھ کر کڑھتے، خرابیاں دوٗر کرنے کی فکر کرتے، آپؐ نے نوجوانوں کو سمجھایا، سب نے مل کر انجمن بنائی‘‘ ۔۴۷؎
یہ بیان پورے طور پر صحیح نہیں۔ رسول اللہ ﷺ حلف الفضول میں شریک ضرور تھے، لیکن انجمن کی تشکیل قریش کے دیگر سرکردہ لوگوں کی تحریک کا نتیجہ تھی، جن میں سے ایک آپؐ کے چچا جناب زبیر بن عبدالمطلب بھی تھے۔۴۸؎
اسی طرح مائل خیر آبادی نے لکھا ہے:
’’ہبار بن اسود حضورؐ کا کٹر دشمن تھا۔ حضورؐ کی پیاری بیٹی حضرت زینبؓ مکے سے مدینے کو ہجرت کرنے لگیں تو ہبار دوڑا اوران کو اونٹ سے گرادیا۔ حضرت زینب کے اتنی چوٹ آئی کہ وہ زندہ نہ رہ سکیں‘‘ ۔۴۹؎
اس اقتباس کا آخری بیان (کہ وہ زندہ نہ رہ سکیں) صحیح نہیں، اس لیے کہ سوانح نگاروں کے مطابق حضرت زینب کا انتقال ہجرت کے فوراً بعد نہیں، بلکہ ۸ھ میں ہوا تھا۔ ۵۰؎
حواشی و مراجع
۱؎ ڈاکٹر محمود احمد غازی،محاضراتِ سیرت،اریب پبلی کیشنز نئی دہلی،۲۰۱۰ء،ص۵۸۵
۲؎ حوالۂ بالا،ص۵۸۶
۳؎ قاضی محمد سلیمان منصور پوری، رحمۃ للعالمین، فرید بک ڈپو دہلی، ۱۹۹۹ء، تقدمہ از سید سلیمان ندوی، ص۷
۴؎ قاضی صاحب کے تفصیلی حالات کے لیے ملاحظہ کیجیے مشہور سوانح نگار جناب محمد اسحاق بھٹّی کی کتاب’قاضی محمد سلیمان منصور پوری‘،ناشر:مکتبہ سلفیہ لاہور۔ان کا مختصر تذکرہ بھٹّی صاحب نے اپنی دوسری کتاب’ برِّ صغیر کے اہلِ حدیث خدّامِ قرآن‘ میں بھی کیا ہے۔ناشر: المنار پبلیکیشنز،دہلی،۲۰۰۸ء،ص۵۷۴۔۵۸۳
۵؎ مصنف کے بیان کے مطابق ۱۹۲۱ء میں اس کا چوتھا ایڈیشن منظر عام پر آیا تھا۔ ملاحظہ کیجیے قاضی محمد سلیمان منصورپوری ، مہر نبوت، مکتبہ ترجمان دہلی، ۲۰۰۶ء، مقدمہ، ص۹
۶؎ حوالہ بالا، مقدمہ، ص۹
۷؎ الیاس احمد مجیبی، سرکار کا دربار، مکتبہ پیام تعلیم، نئی دہلی، ۱۹۹۷ء، ص۶، ’پیام‘ از علامہ سید سلیمان ندوی
۸؎ حوالہ بالا، ص۷، بہ عنوان ’انعام‘
۹؎ حوالہ سابق، ص۸
۱۰؎ عبدالواحدسندھی، رسول پاکؐ، مکتبہ پیام تعلیم، نئی دہلی، ۱۹۹۸ء، ص۳، پیش لفظ بہ عنوان’مسلمان بچوں کے نام‘
۱۱؎ خواجہ صاحب کے حالات زندگی کے لیے ملاحظہ کیجیے: سید محبوب رضوی ، تاریخ دارالعلوم دیوبند، طبع دیوبند، جلد دوم، ص۱۱۰-۱۱۱
۱۲؎ سلطانہ آصف فیضی، پیارے رسولؐ، مکتبہ پیام تعلیم، نئی دہلی، ۲۰۰۵ء، ص۵-۶
۱۳؎ سید نواب علی کے حالات اور علمی کاموں کے لیے ملاحظہ کیجیے ان کی کتابیں:تاریخِ صحفِ سماوی،مکتبہ افکار کراچی،۱۹۶۰ء، طبع دوم،ص۲(تعارف مصنف)،تذکرۃ المصطفیٰ،طبع علی گڑھ،۱۹۱۵ء ،کے آخر میں تقریظ و قطعاتِ تاریخ،سیرۃ رسول اللہ، سیرت بک ڈپو لاہور،ص ۱۵(پیش لفظ)
۱۴؎ علامہ راشد الخیری کے حالاتِ زندگی اور علمی خدمات کے لیے ملاحظہ کیجیے خوش حال زیدی کی کتاب راشد الخیری ، طبع علی گڑھ
۱۵؎ راشد الخیری، آمنہ کا لال، مرکزی ادارۂ تبلیغ دینیات، دہلی، سنہ طبع درج نہیں، ص۴
۱۶؎ محاضراتِ سیرت، ص۶۷۴
۱۷؎ پروفیسر خورشید نعمانی ردولوی ،دارالمصنفین کی تاریخی اور علمی خدمات ، دارالمصنفین شبلی اکیڈمی ، اعظم گڑھ، ۲۰۰۳ء، طبع اول، جلد اول ، ص۲۰۱-۲۰۲
۱۸؎ سید صباح الدین عبدالرحمن، مولانا سید سلیمان ندوی کی دینی و علمی خدمات پر ایک نظر، دارالمصنفین شبلی اکیڈمی اعظم گڑھ، ۲۰۰۲ء، ص۳۳
۱۹؎ ڈاکٹر محمد الیاس الاعظمی، عظمت کے نشان، ادب کدہ ، اعظم گڑھ، ۲۰۰۵ء، ص۶۹-۷۰ ، مضمون ’مولانا سید سلیمان ندوی کی تصانیف کے تراجم‘
۲۰؎ ماہ نامہ معارف ، اعظم گڑھ، سلیمان نمبر، ۱۹۵۵ء، ص۱۸۵۔ مضمون ’حضرۃ الاستاذ کی علمی و دینی خدمات‘ از شاہ معین الدین احمد ندوی۔ ڈاکٹر محمد الیاس الاعظمی نے اپنے مضمون میں ہندی اور گجراتی زبانوں میں اس کے ترجمہ کا ذکر کیا ہے ( حوالہ بالا) اس کے دو مزید ہندی ترجموں اور ایک انگریزی ترجمہ کی خبر مولانا عبدالرشید ندوی ایڈیٹر ماہ نامہ بانگ حرا لکھنؤ نے اپنے ایک مراسلہ میں دی ہے۔ (ماہ نامہ معارف اعظم گڑھ، اگست ۲۰۱۰ء، ص۱۵۲-۱۵۳) ہندی میں اس کا چوتھا ترجمہ ابھی حال میں خود ڈاکٹر محمد الیاس الاعظمی کے قلم سے دارالمصنفین سے شائع ہوا ہے۔
۲۱؎ سید سلیمان ندوی ،رحمت عالم، مطبع دارالمصنفین شبلی اکیڈمی ، اعظم گڑھ، ۱۹۳۹ء، ص۱ (دیباچہ)
۲۲؎ محمد شفیع مونس،مختصر تاریخ جماعت اسلامی ہند،مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز نئی دہلی،۲۰۰۵ء،ص۷۷،۱۱۳
۲۳؎ روداد مجلس شوریٰ جماعت اسلامی ہند،طبع دہلی ،ص۴۷۔۵۳
۲۴؎ شعبۂ تنظیم مرکز جماعت اسلامی ہند،جماعت اسلامی ہند کی تعلیمی خدمات ،مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز نئی دہلی، ۲۰۰۵ء، ص۱۰-۱۵۔ جناب افضل حسین کے حالاتِ زندگی اور تعلیمی میدان میں ان کی خدمات کے لیے ملاحظہ کیجیے: ماہ نامہ رفیق منزل کا خصوصی شمارہ بہ عنوان ’مولانا افضل حسین۔حیات و خدمات‘،جلد۳،شمارہ۱۰،ستمبر۱۹۹۰ء
۲۵؎ مولانا ابو اللیث اصلاحی ندوی، تشکیل جماعت اسلامی ہند-کیوں اور کیسے؟، مرکزی مکتبہ اسلامی دہلی، ۱۹۹۰ء، ص۱۰۱-۱۰۲
۲۶؎ ماہ نامہ زندگی نو نئی دہلی،جلد۱۲،شمارہ۱،جنوری ۱۹۹۰ء،ص۴(مولانا افضل حسین پر مولانا سید جلال الدین عمری کا تاثراتی مضمون)
۲۷؎ جناب ابو خالد کے سوانحی حالات کا علم نہیں ہو سکا۔کتاب کے پیش لفظ میں جناب افضل حسین نے بچوں کو مخاطب کرتے ہوئے انھیں ’چچا میاں‘ لکھا ہے۔مرکزی درس گاہ کے استاد کو بچے چچا میاں کہا کرتے تھے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مرکزی درس گاہ میں استاد تھے۔
۲۸؎ ابو خالد،ہادیٔ اعظم،مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز نئی دہلی،۲۰۰۴ء،ص۴
۲۹؎ ملاحظہ کیجیے اس کتاب پر تبصرہ بہ قلم مولانا سید احمد عروج قادری،ماہ نامہ زندگی رام پور،دسمبر ۱۹۷۶ء،ص۵۶
۳۰؎ عرفان خلیلی، ہمارے حضور،مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز نئی دہلی،۲۰۱۰ء،ص۳ (پیش لفظ از سید احمد عروج قادری)
۳۱؎ عرفان خلیلی،آپ کیسے تھے؟،مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرزنئی دہلی، ۲۰۱۰ء،ص۵
۳۲؎ توحید انصاری،محمد اسحاق مائل خیرآبادی۔ حیات اور نثری کارنامے،مقالہ برائے پی،ایچ ،ڈی،زیر نگرانی ڈاکٹر احمد سجاد، شعبۂ اردو رانچی یونی ورسٹی،بہار۔۱۹۹۰ء(غیر مطبوعہ)
۳۳؎ قاضی صاحب کے حالاتِ زندگی کے لیے ملاحظہ کیجیے:سید محبوب رضوی،تاریخ دار العلوم دیوبند،۲؍۱۵۷۔۱۶۰، نور احمد میرٹھی، شخصیاتِ میرٹھ، ادارۂ فکر نو، کراچی، ۲۰۰۳ء
۳۴؎ قاضی زین العابدین سجاد میرٹھی،نبی عربی(تاریخ ملت،جلد اول)،ندوۃ المصنفین دہلی،۱۹۸۴ء،طبع دوم،ص ۶۔۷
۳۵؎ سید راحت ہاشمی،سیرت النبی محمد رسول اللہ( اسلامی نصاب حصہ دوم)، فرید بک ڈپو،صIX (تقریظ از ڈاکٹر محمد سعودعالم قاسمی)
۳۶؎ مولانا مجیب اللہ ندوی کی حیات و خدمات کے لیے ملاحظہ کیجیے ڈاکٹر محمد الیاس الاعظمی کی کتابیں:عظمت کے نشان،ادب کدہ اعظم گڑھ ،۲۰۰۵ء،ص۱۹۹۔۲۱۶،مطالعات و مشاہدات،ادبی دائرہ اعظم گڑھ،۲۰۱۰ء،ص۱۹۰۔۱۹۵
۳۷؎ ملاحظہ کیجیے:مولانا سید ابو الحسن علی ندوی،حیات عبد الحی،اردو مراٹھی پرکاشن،پونہ،۱۹۸۸ء،ص۲۳۹
۳۸؎ بہ حوالہ محمد رضوان القاسمی و خالد سیف اللہ رحمانی[مرتبین]،ادب اسلامی۔ایک مطالعہ،سہ ماہی صفا حیدرآباد، شمارہ ۲۴ تا ۲۶، ربیع الثانی تا ذو الحجہ ۱۴۱۷ھ کی خصوصی پیش کش،ص۲۹۱(مضمون’اردو میں بچوں کا اسلامی ادب ازمولانا محمد شہاب الدین انیس سبیلی)
۳۹؎ امۃ اللہ تسنیم،ہمارے حضور(بچوں کی قصص الانبیاء،حصۂ پنجم)،مکتبہ اسلام لکھنؤ،۲۰۰۵، ص۹
۴۰؎ اختر سلطان اصلاحی،سید حسن کمال ندوی،شفیع الرحمٰن عمری(مرتبین)،سیرۃ النبی کوئز، فیروس پبلی کیشنز ممبئی،۲۰۰۸ء،ص۲
۴۱؎ محمدیٰٰسین ذکی،سیرت نامہ،ملت اکیڈمی بجنور،۲۰۱۰ء،ص۴(مقدمہ از مولانا سراج الدین ندوی)
۴۲؎ سرکار دوعالم (محمد حسین حسان ندوی) ،ص۸۶
۴۳؎ حوالہ بالا، ص۷۵
۴۴؎ نور محمدی (مائل خیر آبادی)، ص۵۹
۴۵؎ حوالہ بالا، ص۶۶
۴۶؎ پیارے نبی ﷺ ایسے تھے (مائل خیر آبادی) ،ص۱۲
۴۷؎ پیارے رسول (افضل حسین) ، ص۱۱
۴۸؎ حلف الفضول کے بارے میں تفصیلی معلومات کے لیے ملاحظہ کیجیے راقم سطور کا مقالہ: ’حلف الفضول- عصری معنویت‘ شائع شدہ در سہ ماہی تحقیقات اسلامی، علی گڑھ، جلد۲۱، شمارہ۲، اپریل-جون ۲۰۰۲ء، ص۶۱-۸۲۔ یہ مقالہ راقم کی کتاب ’سیرت نبوی کے دریچوں سے‘ میں شامل ہے۔ ناشر: اریب پبلی کیشنز، نئی دہلی، ۲۰۱۱ء
۴۹؎ پیارے نبی ﷺ ایسے تھے (مائل خیر آبادی)، ص۳۱
۵۰؎ ابن الاثیر الجزری، اسدالغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ، دارالشعب، ۷/۱۳۰؛ ابن حجر العسقلانی، الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ، تحقیق خلیل مامون ، دارالمعرفۃ بیرت، ۲۰۰۴ء، ۴/۱۵۱۶
٭٭٭
محمد رضی الاسلام ندوی
معاو ن مدیر سہ ماہی تحقیقات اسلامی علی گڑھ
وسکریٹری تصنیفی اکیڈمی جماعت اسلامی ہند نئی دہلی
mrnadvi@gmail.com
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

