ٹرین کے اے سی فرسٹ میں مت پوچھیے کیا کیا دیکھا چین و سکوں کا پہاڑ دیکھا اور سناٹوں کی چیخ…
تخلیقی ادب
-
-
عجب عجب سے مناظر ابھرتے پردے پر عجب عجب سے تماشے دکھائی دیتے ہیں کوئی کتاب ملی ہے کسی کو تحفے میں…
-
وہ پری رو اس قدر شعلہ فشاں ہے بزم میں دل نہیں، خود آتشِ طاقِ فروزاں جل گیا ہائے! ہم جلتے…
-
یونان کا زوال ہو رہا ہے کیونکہ لفظ اپنے معنی کھو رہے ہیں۔(سقراط،۴۶۹۔۳۹۹ق م) اچھا،آج تمہیں لفاظ کی کہانی سناتا ہوں،ایک سچی…
-
لہو میں وہ روانی اب کہاں ہے تمہاری وہ جوانی اب کہاں ہے درونی آگ ٹھنڈی ہو چکی ہے جو تھی…
-
جب رات بہت بیت گئی ،تب وہ آہستہ آہستہ زینے چڑھتے ہوئے چھت پر چلا آیا ۔اس نے لفٹ کا استعمال نہیں…
-
کبھی یوں بھی تو ہو کہ عکس ِ خواب حقیقت کے آئینے میں نظر آۓ دعا ، تقدیر بن جاۓ دعا، تاثیر…
-
"لیکچر” نصراللہ صاحب اپنی شہادت کی انگلی سے ایسا بٹن دباتے ہیں جس سے بلند ہونے والی صدا اساتذہ کو…
-
کسی زمانے میں بہت نایاب تھے۔آج دستیاب ہی نہیں بلکہ افراط بھی ہیں ۔ چونکہ یہ شاعروں کے اجداد ہیں اس لئے…
-
ایک سفید لمبی سی کار گلاب باڑی کی برساتی میں زنّاٹے سے آ کر رکی۔ نوکر باگ سب دوڑے کسی کے ہاتھ…

