"لیکچر”
نصراللہ صاحب
اپنی شہادت کی انگلی سے ایسا بٹن دباتے ہیں
جس سے بلند ہونے والی صدا اساتذہ کو متحرک کر دیتی ہے
استاد اپنے داخلی خارجی و دکھوں پریشانیوں اور الجھنوں کو اپنے باطن کی ڈسٹ بِن میں گراتا ہے
اور چہرے پر شائستگی شگفتگی اور متانت کا ماسک چڑھا کر کلاس روم میں داخل ہوتا ہے
طلبہ کا بے کیف شور
جو اُن کی رگوں میں دوڑتے گرم خون کی غمازی کر رہا ہے
اچانک قبرستان جیسی خاموشی چھا جاتی ہے
کل ہم نے کیا پڑھا تھا
میر تقی میر کی غزل
فورس’ ایکسلریشن اور نیوٹن تھرڈ Law آف موشن
برصغیر میں برطانوی نظامِ تعلیم
مسٹر چپس کے question answer
ڈیفی نیشن آف الیکٹران’ پروٹان اینڈ نیوٹران
سٹرکچر آف DNA اینڈ سرکولیٹری سسٹم
فٹ بال کو کِک مارنے کا طریقہ
ایم ایس ورڈ ایم ایس آفس اینڈ USE آف Mouse اینڈ keyboard
ڈیبٹ کریڈٹ اور کسٹمر ڈیلنگ
قائداعظم کے 14 نکات اور 1973 کے آئین کی خصوصیات
ایکسرسائز 4.2 integration
ڈپریشن تشویش اور ہیجان کی اقسام
Mean, Median, Mod
حدیث نمبر 4 الراشی والمرتشی کلا ھما فِنار
دائیں جانب سے آواز آتی ہے
سر آج آپ بہت خوبصورت لگ رہے ہیں
بائیں جانب سے آواز آتی ہے
سر آج پڑھنے کا بلکل دل نہیں ہے آج ویسے ہی باتیں کر لیتے ہیں
اچھا سنیں
دنیا میں پیسہ اور علم دو بڑی طاقتیں ہیں
سر آج جمعہ ہے…. نہ پڑھائیں کوئی اچھی بات بتا دیں
خاموش
ہمیں خدا کی عبادت اس کے عشق میں ڈوب کر کرنی چاہیے
سر ہم صبح سے پڑھ پڑھ کر بہت تھک گئے ہیں
اس بات کی تائید میں متعدد آوازیں سنائی دیتی ہیں
دفع ہو جائیں کلاس سے
سر آج موسم بہت خوشگوار ہے نہ پڑھائیں
میں نے پہلے کبھی پڑھایا ہے میں تو گپ شپ کرنے آتا ہوں
سر آج ہمارا فزکس کا ٹسٹ ہے نہ پڑھائیں
کسی کی فزکس کی کتاب نہ کھلی ہو
سر آج بہت سردی ہے پڑھنے کو دل نہیں کر رہا
کالج کیا دھنیا لینے آتے ہو
سر آج تو کسی ٹیچر نے بھی نہیں پڑھایا پلیز آپ بھی نہ پڑھائیں
آج صِرف آپکو دو نمیریکل سمجھا نے ہیں
سر آج نہ پڑھائیں ویسے بھی سمجھ تو آتی نہیں آپ کی
کل سے انگلش آپکو میڈم ارم پڑھائیں گی
پیچھے سے آواز آئی
سر آپ ان سے تو اچھا ہی پڑھا تے ہیں
سر آج نہ پڑھائیں آج تو ہمارے پاس کتابیں بھی نہیں ہیں
نہیں پڑھنا تو نہ پڑھیں
عاصم علی
جی سر
ایک گلاس پانی لاؤ
سونیل عباس
جی سر
ایک Chair سامنے رکھ دو
استاد اپنے داخلی کرب کا خارج کی متعلقہ صورتحال سے باہم تصادم دیکھتا ہے
اور تخیلاتی طور پرماضی کی بے کراں وادیوں پر محوِپرواز…… کرسی پر ساکن پایا جاتا ہے
نصراللہ صاحب
اپنی شہادت کی انگلی سے ایسا بٹن دباتے ہیں
جس سے بلند ہونے والی صدا
استاد کو متحرک کر دیتی ہے
(محمد آصف)

