فقیرانہ آئے صدا کر چلے کہ میاں خوش رہو ہم دعا کر چلے جو تجھ بن نہ جینے کو کہتے تھے ہم…
تخلیقی ادب
-
-
۔۔۔۔ اور پھرچہار اطراف کھڑی ہوئی بلند فصیلیں ۔۔۔۔ نا قابل عبور ۔۔۔۔۔ اور انکے درمیان ،دھرتی پہ پھوڑوں سمان اگے ہوئے…
-
ارم رحمن۔۔۔لاہور عورت کیا چاہتی ہے ؟ کیا سوچتی ہے ؟ صرف جسم اور جنس تک محدود نہیں کیا…
-
(افسانہ) یہ جون کی ایک حبس بھری رات تھی کہ اچانک موسلا دھار بارش شروع ہو گئی۔ بارش کے قطرے کھڑکیوں پر…
-
خوب ہنگامہ ہوا ہے چاند پر ہر کوئی جانے لگا ہے چاند پر نقش قدموں کے ہمارے درج ہیں ہم نے پاؤں…
-
افسانہ کوئی بیحد سہانی رت اسکے اندر آ کر رک گئی تھی۔ فضا پہ بھینی بھینی خوشبو کا اثر تھا ۔خنکی مائل…
-
اپنے وطن کو آؤ سجائیں دیش کی آزادی کو منائیں آج کے دن ہم شاد ہوئے تھے آج ہی ہم آزاد ہوئے…
-
کلکتے کو کولکتا ہوئے عرصہ گزر گیا مگر شہر؍نشاط کا یہ نیا نام نہ آنکھوں میں بسا اور نہ ہی زبان…
-
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے پر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہے قدسی الاصل ہے رفعت پہ نظر…
-
کیوں زیاں کار بنوں سود فراموش رہوں فکر فردا نہ کروں محو غم دوش رہوں نالے بلبل کے سنوں اور ہمہ تن…

