افسانہ
کوئی بیحد سہانی رت اسکے اندر آ کر رک گئی تھی۔
فضا پہ بھینی بھینی خوشبو کا اثر تھا ۔خنکی مائل ہوا ہولے ہولے چل رہی تھی۔ وہ پونی کی پشت پر سوار بلندیوں کی جانب رواں تھا۔ اس کا پینٹنگ کا سامان پونی والے نے سنبھال رکھا تھا۔
ـ’ ’ صاحب، کیا آپ تصویریں بناتے ہیں ؟ ‘‘ اس نے چلتے چلتے سوال کیا۔
’’ ہاں ‘‘ اس کا جواب مختصر تھا۔ بھلا وہ اسے کیوں بتاتا کہ وہ کس پائے کا مصور تھا اور اس نے رنگوں کو کیا کیا روپ دئے تھے۔
پونی اپنے جانے پہچانے اور آزمائے ہوئے پتھروں پر قدم رکھتا ۔۔۔ پتلے پتلے جھرنوں کا نرمل پانی اڑاتا ۔۔۔ اوپر چڑھ رہا تھا۔ اس کے ہر ہچکولے پر اسے لگتا جیسے اب گرا اور تب گرا۔
’’ میں بیکار تمہاری باتوں میں آگیا ‘‘ اس نے دانستاََ ، پونی والے پر تہمت کشی کی جبکہ وہ جانتا تھا کہ اسے اوپر جانے کے لیے ایک سہارے کی ضرورت تھی اور شاید اس پونی والے کی مجبوری کہ وہ بیحد کم اجرت پر چلنے کو تیار ہو گیا تھا۔
’’ یہ تمہارا پونی مجھے کب گرائے اور کب میری ہڈیاں بج اٹھیںـ ۔‘‘
’’ آپ گھبرائیں نہیں صاحب‘‘ اس نے فخریہ انداز میں کہا تھا ’ــ’ یہ اتنا سدھا ہوا ہے کہ اگ اس کی آنکھوں پر پٹی بھی بندھی ہو تو یہ حفاظت کے ساتھ آپ کو اوپر پہنچا دے۔‘‘
’’ اوپرہی پہنچنے سے تو ڈر رہا ہوں۔‘‘ اس نے جھینپ مٹاتے ہوئے چٹکی لی ۔ وہ بھی ہولے سے مسکرا دیا۔
اوپر زمین مسطح اورہموار تھی۔ وہ بولا۔۔۔’’ یہاں ہماری حدیں ختم ہوتی ہیں اور ادھر ڈھلان پر کانٹے دار تاروں کے گھیرے ہیں ۔ اس علاقے سے آگے ہم نہیں جا سکتے۔‘‘
’’ کیوں ، ادھر کے مناظر تو ادھر دکھ رہے ہیں ۔ ہوائیں تو ادھر سے ادھر آ جا رہی ہیں۔‘‘
’’ یہ سب آپ جانیں صاحب۔‘‘
بہرحال اسے سرحدوں سے کیا لینا تھا۔ وہاں پہنچ کر اس نے چین کا سانس لیا اور ایک مناسب جگہ دیکھ کر ایزل نصب کر دیا۔
سامنے، دیودار کے پیڑوں سے چھن کر نظر آتا ہوا طویل و عریض سبزہ اور تا حد نظر پھیلے ہوئے سبزے پر جگہ جگہ چرتی بھیڑوں کے جھنڈ اور ٹٹووں کے دوڑتے اچھلتے بچے !
یہ نظارہ اور وہ ۔۔۔۔۔ دونوں ایک دوسرے میں کھونے کو ہی تھے کہ درختوں میں ہوا سرسرا کررہ گئی۔ پیڑوں کی اوٹ سے ایک خواب جھلکا اور اوجھل ہو گیا۔ وہی چہرہ ۔۔۔۔۔۔ گلاب! وہی آنکھیں ۔۔۔۔۔جھیل !
۔۔۔۔۔۔آسمان پر اڑتے سفید بادلوں کے ٹکڑے، جھیل کے شفاف پانیوں میں اتر آئے تھے۔۔۔ اور گہرائیوں میں اگے پودوں اور بیلوں سے آنکھ مچولی کھیل رہے تھے۔ ٹھہرے ہوئے پانیوں کا سکون آہستہ آہستہ اس کے اندر گھل رہا تھا کہ تبھی ایک شکارہ اسکے شکارے کے پاس آ لگا۔
۔۔۔۔۔۔ پھول لیں گے صاحب۔
اس شکارے پر دو نوعمر بچے تھے۔ ان میں سے کوئی بولا تھا۔ ان کے پیچھے پھولوں سے بھی حسین وہ تھی۔ اس کی مترنم آواز ابھری ۔۔۔ پھول لے لو صاحب !
اس نے اس کی طرف پھول بڑھا ئے اور اس نے بے ارادہ اپنے پرس سے کچھ نوٹ نکال کر اس کے حوالے کر دئے۔ وہ شکارہ آگے بڑھ گیا۔ وہ پلٹ کر دور تک دیکھتی گئی۔
پہاڑی بہاروں کے پھول اس کی گود میں مہک رہے تھے اور کوئی بیحد سہانی رت اس کے اندر آ کر اتر گئی تھی۔
۔۔۔۔ ہوائیں دوبارہ لہرانے لگیں تھیں ۔ کینوس پھڑپھڑا کر اسے اپنی جانب بلا رہا تھا۔ اس نے اپنے خیالوں کا لمس اس کے حوالے کر دیا ۔۔۔۔۔وہی گلاب ۔۔۔۔ وہی جھیل !
وہ جھیل کے کنارے چہل قدمی کر رہا تھا اور ایک ہائوس بوٹ والا اپنے ہائوس بوٹ میں ٹھہرنے کے لئے اسے رجھانے کی کوششوں میں لگا تھا۔ پھر آہستہ آہستہ اس کے لہجے نے التجا کی صورت اختیار کر لی۔ مانو اسکے اپنے وجود کو مار کر کوئی بھکاری اس کے اندر آ چھپا ہو۔
معاً آہنی گاڑیوں کا قافلہ ادھر سے گذرنے لگا۔ اس نے ہائوس بوٹ والے سے پوچھا ۔۔۔۔ ’’ کیا ہوا ؟‘‘
’’ پوچھتے ہو کیا ہوا۔ جناب، جگ جانتا ہے اور اگر نہ بھی جانے تو ہم تو اتنا جانتے ہیں کہ ہم کہیں کے نہیں رہے۔ ہمارے باغ اجڑ گئے۔ ہماری جھیلیں ِ، ہمارے جھرنے لہولہان ہو گئے۔‘‘
اسکا ارادہ اسے دکھی کرنے کا ہرگز نہیں تھا۔ اسے افسوس ہوا۔
بکتر بند گاڑیوں کا قافلہ گذر چکا تھا۔ وہ شخص افسردہ واپس ہوگیا۔ وہ بھی بچتا بچاتا اپنے ہوٹل کے کمرے میں پہنچ گیا۔
کرفیو نافذ ہو چکا تھا۔
اسے اسکے دوست یاد آ گئے۔ تب دوستوں نے اس کے ارادے کی مخالفت کی تھی ۔۔۔۔۔ہاں مانا، مگر ایسے حالات میں وہاں جانا ۔۔!
۔۔۔۔ درست، مگر حالات کب سازگار ہوںگے ۔ اب دیکھو، میرے اندر جو یہ چاہ جگی ہے تو میں جائوں گا ہی۔
پھر اسے اس کا خیال آیا اور اس نے کینوس کو پھر سے ایزل پر پھیلا دیا۔
وہ اس کے اندر ۔۔۔ کہیں بہت اندر آ چھپی تھی۔ پر وہ تھی کون۔۔۔۔۔کوئی خواب ۔۔ ۔ کہ جسے پرسکون پانیوں پر ہولے ہولے ڈولتے ہوئے ، اس نے اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ ۔۔ یا پھر کوئی حقیقت ! ۔۔۔ تو آخر وہ کہاں کھو گئی۔ کن حدوں سے گذر گئی۔ اس نے اپنے آپ کو کن خاردار تاروں کی باڑھ میں الجھا لیا۔ یا کسی سنسناتی گولی نے اسے چھو لیا۔ یا پھر وزنی بوٹوں نے اس کے حسین وجود کو کچل ڈالا کہ ہزار کوششوں کے باوجود بھی وہ دوبارہ نہیں ملی۔ سوچتے سوچتے ذرا اس نے آنکھیں بند کیں تو وہ ایکدم سے اس کے سامنے آن کھڑی ہوئی اور مسکرادی۔ وہ اپنے باہر بھیتر پوری طرح روشن ہو اٹھا ۔ یوں، جیسے تاریک رات میں ، برفیلی پہاڑیوں پر اچانک چاندنی پھیل گئی ہو۔
آج یہاں اپنی آخری رات اس نے کسی طرح گذاری۔ چھٹیاں ختم ہونے کو تھیں اور واپس جانا تھا۔ ایسے میں اسکی یادیں شدت سے اسے اشارہ کر رہی تھیں۔ چار دنوں سے لگا کرفیو بھی ہٹ چکا تھا۔ وہ اسکی طرف چل پڑا۔
اس کی نظریں اسے ڈھوندتی رہیں اور سورج جھیل میں ڈبکیاں لگاتا رہا۔ پھر رفتہ رفتہ ایک باریک سی لکیر میں تبدیل ہو کر معدوم ہو گیا۔ اس کی سانسیں تھمنے لگیں ۔ ماتھے کی نسیں تن گئیں اور وقت کے چہرے پر مایوس دھندلکا چھا گیا۔ اس نے سوچا۔۔۔ ۔۔۔ تو کیا وہ میرے باہر تھی ہی نہیں !
اس نے شکارے والے کو واپسی کا اشارہ کر دیا۔
سڑک پر آکر وہ ٹیکسی کی جانب بڑھا ہی تھا کہ ایک زبردست دھماکہ ہوا۔ اس کی آنکھوں میں کرچیاں سی چبھ گئیں ۔ ایک پل کو مانو اس کی تصویروں کے سارے رنگ اڑ کر اس کی آنکھوں میں بھر گئے اور پھر ۔۔۔۔ دبیز اور دردناک سیاہی ۔۔۔۔
گہرا، گھٹاٹوپ اور منوں اندھیرا اسکی آنکھوں میں بھر آیا تھا اور ان اندھیروں سے اس کی آنکھیں بھر آئی تھیں کہ اب وہ اس کی تصویر کے دیدار سے بھی محروم تھا۔
بہت منع کرنے کے باوجود ، اس کے دوستوں نے اس تصویر کو بھی آرٹ گیلری کے حوالے کر دیا کہ یہ اب اس کے کس کام کی۔
گلابوں کے کسی دیوانے نے بھاری بولی لگا کر اسے خرید لیا۔ دوستوں نے اسے بتایا کہ اس دیوانے نے اس تصویر کو اپنے سینے سے یوں لگایا مانو اسے اپنے اندر اتار لینا چاہتا ہو۔
۔۔۔۔۔ رتیں بدل گئیں مگر وہ رت کہ جو کبھی اس کے اندر آ کر رک گئی تھی ۔۔۔ دل کے کسی گوشے میں انگڑائیاں لینے لگی۔ باہر بھی بادل زور زور سے گرج رہے تھے اور ا س کی یادوں کے گلاب خوب خوب مہک رہے تھے۔ من کی برفیلی پہاڑیوں پر چاندنی بار بار پھیل رہی تھی۔
دفعتاً باہر سے آنے والی، کسی بچے کی آواز نے اسے چونکا دیا۔ ۔۔۔۔ اسے لگا جیسے کسی نے کہا ہو ۔۔۔۔پھول لو گے صاحب۔
وہ بیساختہ ،کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا پر دوسرے ہی لمحہ یہ خیال آیا کہ کہاں میں اور کہاں وہ ۔ پھر اب تو وہ بچے بھی بچے نہ رہے ہوں گے۔ ان کی آواز کی معصومیت بھی نہ بچی ہوگی اور کیا پتہ ۔۔۔۔ان پھول ہاتھوں نے ہتھیار اٹھا لئے ہوں ۔۔۔ تو کیا وہ گلاب۔۔۔۔۔
یکسر، جلی جلی اور بارود کی سی بو اس کے خیالوں کو چھوتی ہوئی گذر گئی۔ پھر بھی اس نے تیزی سے قدم دروازے کی جانب بڑھائے اور جلدبازی میں وہ سمتوں کا تعین کھو بیٹھا۔ اس کا ہاتھ دروازے کی بجائے دیوار پر ٹنگے ایک فریم پر پڑا اور وہ اس کے پیروں پر آگرا۔ درد کی ایک لہر اس کے پورے وجود میں پھیل گئی۔ پھر بھی اس نے دروازہ کھولا۔
بادل زور سے گرجے اور ہوا کا پھواروں بھرا جھونکا اس کے چہرے سے آ ٹکرایا۔
اس نے پوچھا ۔۔۔۔۔ کون ہے ؟
کوئی جواب نہ پاکر اس نے پھر ایک بار سوال کیا ۔۔۔۔ کون ہو بھائی ؟
سرد جھونکوں کے ساتھ اس کا سوال دوبارہ خاموش لوٹ آیا۔ اس نے ایک کوشش اور کی ۔۔۔ کون ہے۔۔۔مجھے کس نے آواز دی؟
مگر یخ موسم کے گرجتے برستے لمحوں میں اس کا سوال اداس کھڑا بھیگتا رہا ۔۔۔۔۔۔۔
جیسے صدیاں بیتیں ۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔ ایک گمبھیر اور ابائو سی خاموشی اب بھی صاف گونج رہی ہے۔ اس کے زخمی پائوں سے ٹیس اٹھ رہی ہے۔ اسکی بے نور آنکھیں اس کے خون کو نہیں دیکھ پا رہی ہیں مگر سلیپر میں پھیلی چپچپاہٹ یہ بتاتی ہے کہ کچھ لہو ضرور رس رہا ہے۔
( تمام شد)
email : aslamsalazaar@gmail.com
( ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page


2 comments
اسلم سلازار صاحب کا افسانہ بعنوان ادبی میراث پڑھنے کا شرف حاصل ہوا ان کا پہلا افسانوی مجموعہ سنوفال بھی اس وقت میرے زیرمطالعہ ہے کیا زبردست لکھتے ہیں ان کی تحریریں دیگر قلمکاروں سے انہیں انفرادیت بخشتی ہیں میرے کٸی دوستوں نے سنوفال مجھ سے مانگا اور پھر ان لوگوں نے بک امپوریم سبزی باغ سے جاکر خود ہی یہ کہتے ہوٸے مجموعہ کو خرید لیا کہ اسلم سلازار کی کتاب مانگ کر پڑھنے کی نہیں ہے بلکہ خرید کر پڑھنے اور محفوظ رکھنے کی ہے واقعی اب اچھے قلمکاروں کی کمی ہوتی جارہی ہے۔ آپ اسلم سلازار صاحب کے مزید افسانے شاٸع کریں
اسلم سلازار صاحب کا افسانہ بعنوانرکا ہوا موسم پڑھنے کا شرف حاصل ہوا ان کا پہلا افسانوی مجموعہ سنوفال بھی اس وقت میرے زیرمطالعہ ہے کیا زبردست لکھتے ہیں ان کی تحریریں دیگر قلمکاروں سے انہیں انفرادیت بخشتی ہیں میرے کٸی دوستوں نے سنوفال مجھ سے مانگا اور پھر ان لوگوں نے بک امپوریم سبزی باغ سے جاکر خود ہی یہ کہتے ہوٸے مجموعہ کو خرید لیا کہ اسلم سلازار کی کتاب مانگ کر پڑھنے کی نہیں ہے بلکہ خرید کر پڑھنے اور محفوظ رکھنے کی ہے واقعی اب اچھے قلمکاروں کی کمی ہوتی جارہی ہے۔ آپ اسلم سلازار صاحب کے مزید افسانے شاٸع کریں
REPLY