باغیچے کے سرخ گلاب’ اور ہارسنگھار کی شاخ پہ بیٹھی گوریا نیلے پانی میں تیرتے اجلے ہنس یکایک سہم گئے یہ کس…
نظم
-
-
شرافت کے سپوتوں کی عبائیں چاک کس نے کیں؟ اخوت کے میناروں کی ردائیں چاک کس نے کیں؟ بڑےبن کے جو پھرتے…
-
"اُمید” اِبنِ آدمؑ نے کہا! مَیں تھک چکا ہوں جواب آیا نا اُمید نہ ہونا خدا کی رحمت سے! کیونکہ وہ رحیم…
-
کہتا ہے وہ آکر مجھ سے صورت اس کی بھولی بھولی پیشانی ہے سورج جیسی ابرو اس کی تلواروں سی آنکھیں اس…
-
جب سے ہم نے سنبھالا ہے ہوش و خرد آہ و نالے فلسطیں کے کانوں میں ہیں اور ہم ہی نہیں ہم…
-
پرومیتھیس زمین کا خوبصورت سڈول جسم زخموں سے چور درد سے کراہ رہا ہے زمینی خداؤں کی سنگ دلی دیکھ کر آسمانوں…
-
ہائے ! یہ بھی گئے ہائے !وہ بھی گئے ایسے ویسے گئے کیسے کیسے گئے وقت کے جو تھے شہسوار ِقلم نہ…
-
آکہ پھر لوٹ چلیں ہم اسی منزل کی طرف جس نے بخشی تھی کبھی عزت و توقیر ہمیں اب بھی روشن ہیں…
-
بہت نازک سا اک پودا تھا گندم خدا نے جس کو کھا لینے سے آدم خاکی کو جنت سے نکالا تھا بڑی…
-
دنیا کے بکھیڑوں سے الجھتے ہوئے کل اچانک میری نظر پڑی تو دیکھا کہ زندگی کی ہتھیلی سے ساری لکیریں غائب ہوگئی…

