دنیا کے بکھیڑوں سے الجھتے ہوئے کل اچانک
میری نظر پڑی تو دیکھا کہ
زندگی کی ہتھیلی سے ساری لکیریں غائب ہوگئی ہیں
سوائے ایک لکیر کے
نہ چھوٹی لکیریں نہ بڑی
نہ مدھم نہ گہری
نہ مدور اور نہ مستقیم
نہ دونوں ہتھیلیوں کو جوڑ کر بنتا کوئی چاند
نہ ان لکیروں کی اوٹ سے جھانکتا کسی سوہنی کا چہرہ
اور نہ ہی ان میں الجھتا کسی مہیوال کا دل
یہ کیسی ہتھیلی ہے
بالکل سپاٹ
بے رنگ
تتلیوں کا کوئی رنگ نہیں ان پہ
اور یکلخت
میں نے دیکھا کہ ہتھیلی کے صحرا میں کھڑی عمر کی تنہا لکیر بھی مٹتی جارہی تھی
اور زندگی!
زندگی کے اداس چہرے پہ میں نے املتاس کی زردی اترتے دیکھی
ناکردہ جرم کے بوجھ تلے سر جھکائے نظریں چراتی ہوئی
دبے پاؤں کھسکنے کی تیاری کرتی ہوئی
اس کی آنکھوں کی چمک لمحہ بہ لمحہ پھیکی پڑتی جارہی تھی
اور تب میں نے ساری قوتیں جمع کرکے بلیک مارکر اٹھایا
اور زندگی کی خالی ہتھیلی پہ آڑی ترچھی بے ڈھنگی لیکن بامعنی اور پکی لکیریں کھینچنے کی ٹھان لی
زندگی!
میں اچھی مصور نہیں لیکن کوشش کرنے میں حرج ہی کیا ہے
– قمرجہاں


1 comment
ادب سے جڑا ہر شخص زندگی کے ہر پہلو کی لکیر پڑھنے میں ماہر ہوتا ہے آپ جیسے ادبی دنیا کے کوہ نور دنیا کے وہ واحد مصور ہیں جو ہر پہلو کی منظر کشی احسن انداز سے کرنا جانتے ہیں خواہ وہ تنقید ہو یا تعریف محض لفظی حوصلہ افزائی آپ جیسے ناقابلِ فراموش مصوروں کے شایان شان نہیں