باغیچے کے سرخ گلاب’
اور ہارسنگھار کی شاخ پہ بیٹھی گوریا
نیلے پانی میں تیرتے اجلے ہنس یکایک
سہم گئے
یہ کس کے قدموں کی آہٹ ہے
سیاہ سائے قریب آنے لگے ہیں
فاختہ نے زیتون کے پتوں میں پناہ لے لی
مہیب اندھیرے نے روشنیوں کو نگل لیا
بحرِ آتش سے دامن ہمکنار ہوا
ایفروڈائٹ کے رخساروں کا گلال
جن سے گلِ احمر زیبائش کرتے ہیں
نمکین سپیدی میں تبدیل ہونے لگا
پلکیں جھپکیں منظر تبدیل ہوا
رنگین منظر فلیش بیک میں بے رنگ ہوا
نارسائی نے فتح کا ذائقہ چکھا
وبائیں جسموں کے بعد دلوں کو کھانے لگیں
خیر وشر دست و گریباں ہیں
خزاں بہار کے نقشِ پا تلاش کرتی ہے
ہیرا اور ایتھینا شکست خوردہ ہیں
کیونکہ ایریڈا نے باغ میں قدم رکھ دیا ہے!!

