دنیا جسے کہتے ہیں جادو کا کھلونا ہے مل جائے تو مٹی ہے کھو جائے تو سونا ہے اچھا سا کوئی…
تخلیقی ادب
-
-
چورے لمبے لمبے قدموں سے ڈھابے کی طرف بڑھ رہا تھا رامو چائے کے بھگونے میں چائے ابال رہا تھا صبح کے…
-
سُلگتی ہوئی مٹی کے سیاہ دھبوں پہ ،لاکھوں لاشے خون سے لت پت آدھے اُدھورے شریر کے ساتھ زمین پر پڑے ہوئے…
-
عہدِ حاضر میں نہایت منظم طریقہ سے اُردو زبان کو مسلمانوں سے منسوب کئے جانے کی کوشش کی جارہی ہے اور یہ…
-
نظم
وسخر لکم مافی السموات و مافی الارض (عالمی یوم ماحولیات کے موقع پر) – قمر جہاں
by adbimirasby adbimirasتن نازک پہ اس کے پیرہن ہے سبز اور دھانی کہیں پر لاجوردی، سرمئی اور نقرئی زیور طلائی نگ جڑے ہیں جابجا…
-
بساط پر پھر گرا پیادہ تو جشن برپا ہے فتح کا یوں کہ گویا شہ مات ہوگئی ہے مجاہدان عصر نو کی…
-
اک دشتِ خار زار ہے میرے وجود میں مجنوں! ترا دیار ہے میرے وجود میں شعلہ ہے یا شرار ہے میرے وجود…
-
اٹھا کے طاق پہ رکھ دو ابھی سفر سارے ابھی تو خواب بھی پھرتے ہیں در بدر سارے تمہارا مشقِ ستم…
-
بلڈنگ کا نصف حصہ ایک زور دار آواز کے ساتھ گرا ہی تھا کہ فلک شگاف چیخیں گونج اٹھیں۔ اس بلڈنگ میں…
-
میں مسجد کی سیڑھیوں سے نیچے اترہی رہا تھا کہ ایک بوڑھی عورت کو دیکھ کر کچھ ٹھٹک سا گیا۔وہ عورت یہ…

