اٹھا کے طاق پہ رکھ دو ابھی سفر سارے ابھی تو خواب بھی پھرتے ہیں در بدر سارے تمہارا مشقِ ستم…
تخلیقی ادب
-
-
بلڈنگ کا نصف حصہ ایک زور دار آواز کے ساتھ گرا ہی تھا کہ فلک شگاف چیخیں گونج اٹھیں۔ اس بلڈنگ میں…
-
میں مسجد کی سیڑھیوں سے نیچے اترہی رہا تھا کہ ایک بوڑھی عورت کو دیکھ کر کچھ ٹھٹک سا گیا۔وہ عورت یہ…
-
یوکرین اور روس کی جنگ زوروں پر تھی گھر ،نگر، بستیاں تباہ ہو رہے تھے۔ سائرن کی آواز کے سوا کچھ بھی…
-
پس یہی تو ہوتا آیا ہے کہ جب کبھی ہوا کے جھونکے سی کوئی خوشی مرے گرد طواف کرتی گویا بہاروں کا…
-
تم نے کھول رکھے ہیں بے رخی کے دروازے بن کے سانپ ڈستے ہیں اب گلی کے دروازے خودکشی پہ آمادہ ہو…
-
آئے دن سوشل میڈیا پر نئے نئے چینل کا آغاز ہورہا ہے۔ اور کچھ سیاسی رسوخ والے بھی اپنے کئی کئی چینل…
-
ماں کیسی ہوتی ہے؟ ماں ایسی ہوتی ہے ہر وہ کام کرنے والی جو ناممکن سا لگتا ہے وہ جذبات کی دیوی…
-
مری ماں جو ہوتی، تو میں اس طرح در بہ در مارا مارا نہ پھرتا میں انگلی کو تھامے، کڑی دھوپ میں…
-
سنتے ہیں وفا کے رستے میں ہم تم کبھی منزل پانہ سکے اک ڈور جو پہلے الجھی تھی ہم آج تلک سلجھا…

