مری ماں جو ہوتی،
تو میں اس طرح در بہ در مارا مارا نہ پھرتا
میں انگلی کو تھامے، کڑی دھوپ میں بھی
سفر کرتا اور راستے میں،
مری منزلِ زندگی آکے بچھتی
مری ماں جو ہوتی۔۔۔۔۔۔
میں اپنے پرائے کے طعنے نہ سنتا
سجیلے سنہرے سے میں خواب بنتا
میں بیمار ہوتا کبھی جب
سرہانے مری ماں مرا سر دباتی
کہ خود جاگتی اور مجھے پیار سے وہ سلاتی
میری ماں جو ہوتی۔۔۔
صبا جب بھی روتی، وہ آکر اسے گود اٹھاتی
کبھی کھیلتے میں جو فرحان گرتا
اسے آکے چمکارتی اور سہلا کے کہتی:
’’ ترا باپ بالکل ترے جیسا ہی تھا
کہ جب بھی ذرا چوٹ آئی
تو سات آسماں اپنے سر پر اٹھایا
کبھی کچھ دکھایا، کھلایا کہ تب یوں منایا‘‘
مرا بیٹا فرحان چُپ ہوکے تکتا
مری ماں کہ یہ ہمکلامی مجھے میرا بچپن دکھاتی
مری ماں جو ہوتی۔۔۔
تو کہتی کہ بیٹے!
’’ذرا اپنی صحت تو دیکھو
تمہارا یہ چہرہ تھا شاداب منظر
کڑی دھوپ میں اس طرح بھی نہ نکلو
کہ مارے تمازت کے خوں جل ہی جائے‘‘
وہ آنچل سے اپنے، پسینے کی بوندوں کو رخسار سے پونچھ دیتی
مری ماں کے لب مسکراتے
سبک جان ہوکے میں خود مسکراتا!
مری ماں جو ہوتی۔۔۔
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

