ماں کیسی ہوتی ہے؟
ماں ایسی ہوتی ہے
ہر وہ کام کرنے والی
جو ناممکن سا لگتا ہے
وہ جذبات کی دیوی ہوتی ہے
لب صرف دعاؤں سے پر
نفرت کا نام و نشان نہیں
دل پیار،محبت، عشق
ان تینوں الفاظ سے لبریز
ماں ایسی ہوتی ہے
………………………… ………
نہ اس کا کوئی مول ہے
نہ اس سے کوئی انمول ہے
کڑی دھوپ میں ساۓ کی طرح
پریشانی میں دعائیں خنجر کی مانند
ہر آن، ہر لمحہ، ہر وقت
اپنے بچوں کو دعائیں دینے والی
ماں ایسی ہوتی ہے…
………………..
نہ کسی سے کوئی غرض
دار فانی سے کوچ کرتے وقت بھی
لب پر صرف اور صرف
بچوں کی سلامتی کے الفاظ
بچوں کے کچھ کہ دینے پر بھی
ان سے بیر نہ کرنے والی
نادانی کہ کر ٹال دینے والی
صبر کا ایسا پیمانہ
جو کبھی نہ چھلکے
ماں ایسی ہوتی ہے
……………….
بچپن سے بڑا کرنے والی
پودوں کی طرح سینچ کر
درخت کی مانند بنانے والی
نہ کسی چیز کی شکایت کرنے والی
خود بھوکی رہ کر
بچوں کا پیٹ بھرنے والی
اپنا وجود، اپنی خواہشیں، اپنے خواب
پس پشت ڈالنے والی
صرف اور صرف
ان ننھے اور بڑے پیڑوں کے لۓ
ماں ایسی ہوتی ہے.
……………………..
ہما علیگ
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

