”سونیا بیٹی!“ ”لاؤ، وہ بیس ہزار روپے مجھے دے دو۔“ سونیا کے سوتیلے باپ نے اُسے پیار سے پھُسلاتے ہوئے کہا۔لیکن سونیا…
تخلیقی ادب
-
-
تاریخ اچھی طرح جانتی ہے یہ وہ شہر ہے جسے اجڑ کر بسنے کا فن خوب آتا ہے۔ اس شہر نے تیمور…
-
"کہاں بھاگ رہے ہو؟” کون ہے؟ کس نے پوچھا زاہد چونکتے ہوئے کہا۔ میں ہوں۔ میں زاہد۔۔۔۔۔ کیا تم مجھے نہیں جانتے؟…
-
میں نے جب اپنے خریدے ہوئے خوبصورت کھلونوں کو ڈھیر کی شکل میں لاپرواہی سے ایک کونے میں پڑا ہوا دیکھا تو…
-
شرافت کے سپوتوں کی عبائیں چاک کس نے کیں؟ اخوت کے میناروں کی ردائیں چاک کس نے کیں؟ بڑےبن کے جو پھرتے…
-
"اُمید” اِبنِ آدمؑ نے کہا! مَیں تھک چکا ہوں جواب آیا نا اُمید نہ ہونا خدا کی رحمت سے! کیونکہ وہ رحیم…
-
ایک گاؤں میں ایک شکاری رہتا تھا۔ایک دن وہ شکار کے لئے پاس والے جنگل میں گیا۔ وہ اکیلا تھا۔ سنسان جنگل…
-
داستان گو اوّل: نئے طرز کی اک کہانی سنو نئی ایک سحرالبیانی سنو حقیقت بیانی تو سنتے رہے ذرا اب…
-
گونگے نے بڑی بے چینی سے پہلو بدلا۔ دوسروں نے شاید اس کی بے چینی محسوس نہیں کی یا اس کی بے…
-
کہتا ہے وہ آکر مجھ سے صورت اس کی بھولی بھولی پیشانی ہے سورج جیسی ابرو اس کی تلواروں سی آنکھیں اس…

