"کہاں بھاگ رہے ہو؟”
کون ہے؟ کس نے پوچھا زاہد چونکتے ہوئے کہا۔
میں ہوں۔ میں زاہد۔۔۔۔۔ کیا تم مجھے نہیں جانتے؟
زاہد پر خوف طاری ہوگئی وہ سہمے ہوۓپھر کہا” زاہد تو میں ہوں تم کون ہو "سامنے کیوں نہیں آتے؟
ایک زور دار قہقہے کی آواز سنائی دیتی ہے
تو مجھے نہیں دیکھ سکتا اس لئےمیں سامنے نہیں آتا۔ میرے تیرےساتھ ساتھ ہی پیدا ہوا تیرے ساتھ ہی پرورش پائی اور میری پرورش تو نے ہی کی۔
دیکھو مجھے حیران مت کرو میں ویسے ہی بہت پریشان ہوں۔ تمہیں پتہ نہیں حالات کیسے ہیں؟ ایسے وقت پہیلیاں کیوں بجھا رہے ہو؟
ہاں میں بہت اچھی طرح جانتا ہوں۔
تم کیا جانتے ہو کچھ نہیں تمہاری آواز بھی پہچانی نہیں جاتی تم سامنے آتے بھی نہیں ہو۔
نہیں نہیں تمہارے لگاۓ یہ الزامات غلط ہیں میں تمہیں روز آواز دیتا ہوں۔ کیا کل جب تم اپنے پڑوس میں رہنے والے اس کلیم کے خلاف سازش کررہے تھے تو کیا میں نے آواز نہیں دی ؟کیا تم جب اپنی عبادت ختم کرکے اطہر کے کردار کی تو نہیں بلکہ غیر ضروری باتوں کا حوالہ دے کر بد نام کررہے تو کیا میں نے آواز نہیں دی؟ کیا جب تم اپنی دولت کے بل پر اس غریب کی زمین ہڑپ کر رہے تھے تو میں نے آواز نہیں دی کیا جب تم خوبصورت لباس پہن کر اپنے کردار کی گندگی چھپا رہے تھے تو میں نے آواز نہیں دی؟جھوٹ میں نے ہر بار تمہیں آواز دی ہے۔مجھے حیرانی تو اس وقت ہوئی جب تم ان مقدس باتوں کو کس علمیت سے بیان کررہے تھے جس کا ایک لفظ بھی نہ تم میں ہے نہ تمہارے کردار میں۔تم بھیس مت بناؤ ایک بار اپنے کو دیکھو۔کیا تم جو بات دوسروں میں دیکھنا چاہتے ہو وہ تم میں ہے؟حقوق العباد کی دھجیاں اڑانے والے میں تیری تنہائی جانتا ہوں۔میں تیری ذہنیت جانتا ہوں۔یہ لباس اور پارسائی دنیا کو دکھا میں سب دیکھتا ہوں۔
تو جانتا نہیں میں کون ہوں؟میرے پاس بہت علم ہے بہت دولت ہے تو ضرور کوئی بھکاری ہوگا جو مجھ سے حسد رکھتا ہے۔
ہمت ہے تو سامنے آ۔
ایک بار پھر قہقہے کی آواز آئ ۔
لیکن زاہداب بے خوف ہوگیا تھا اسے اس بات کا کوئی خوف نہیں کہ وہ کیوں بھاگ رہا تھا؟ اب وہ یہ سوچنے لگا کہ پوری طاقت سے وہ اس آواز کو ہی ختم کر دے گا۔ اس نے للکارا "ارے اوجاہل بھکاری سامنے آ”
میں تیرے سامنے کیسے آؤں؟
کیوں ڈر لگ رہا ہے ؟زاہد نے رعب دار آواز میں کہا۔
نہیں نہیں ڈر تو ابھی تم رہے تھے میں ان کیفیات سے آزاد ہوں۔
تم اپنی بکواس بند کرو اور آواز بھی۔معتبر ہوں میں تمہاری طرح نہیں ہوں۔
اچھا میں اپنی آواز بند کر لو تو تم کیسے بولو گے ؟
تم نے میرا دماغ خراب کر دیا ہے تم ہو کون؟ زاہد نے جھنجھلاتے ہوئے بولا۔
میں تیری ہی صورت ہو تیری ہی آواز ہوں۔
اب وقت بھاگنے کا نہیں رکنے کا ہے۔
زاہد کے چہرے پر پسینے کی بوندیں تاروں کے مانند ابھرائیں اس کے قدم جم گئے اور وہ اپنے پورے جسم پر ہاتھ پھیرنے لگا۔
نسیم اشک
ہولڈنگ نمبر10/9گلی نمبر3
جگتدل 24 پرگنہ مغربی بنگال
فون۔9339966398
e-mail : nasimashk78@gmail.com


1 comment
بہت عمدہ۔۔۔۔۔۔ماشاء االلہ۔۔۔۔اللہ آپکو اور ترقی عطا کرے۔۔۔۔۔جنابِ نسیم اشک سر۔