ایک گاؤں میں ایک شکاری رہتا تھا۔ایک دن وہ شکار کے لئے پاس والے جنگل میں گیا۔ وہ اکیلا تھا۔ سنسان جنگل میں چلتے چلتے وہ اچانک ایک کنواں میں گر گیا۔ کنواں بہت پرانا تھا اور اس کے اوپر سوکھی لکڑیاں اور پتے تھے۔ اس وجہ سے شکاری کو نظر نہیں آیا کہ وہ اپنا پاؤں ایک خطرناک جگہ پر رکھ رہا تھا۔ کنواں تقریباً پانچ میٹر گہرا تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس کا پانی سوکھ گیا تھا۔ شکار نے اندھیرے میں پتھر کی دیواروں پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے باہر جانے کا راستہ تلاش کرنے کی کوشش کی لیکن اسے کچھ نظر نہیں آیا۔ وہ مایوس ہوگیا۔ ڈر کے مارے اس کی انکھوں سے آنسو نکلنے لگے۔ وہ زور زور سے مدد کے لئے چلانے لگا۔
ایک تاجر وہاں سے گزر رہا تھا۔ وہ اپنے گاؤں سے صبح سویرے نکلا تھا۔ جنگل کے راستے سے ہوتے ہوئے وہ دوسرے گاؤں تک جلدی پہنچنا چاہتا تھا۔ تاجر اپنا سامان جلدی بیچ کر منافع کما نا چاہتا تھا۔ اس تاجر نے شکاری کی آواز سنی۔
”کوئی ہے جو میری مدد کرسکے؟ میں کنواں میں گر گیا ہوں۔ خدا کے لئے مجھے باہر نکالو۔ کوئی ہے؟ میری مدد کرو۔“
تاجر اپنے راستے چلتا گیا۔ وہ کنواں کی طرف نہیں گیا۔ اسے اپنے کام کی فکر تھی۔ دراصل وہ بے حس تاجر ہر وقت اپنے فائدے اور نقصان کے بارے میں سوچتا تھا۔ شکاری کا بھلا کرنے میں تاجر کو منافع نہیں ملتا بلکہ اس کا وقت ضائع ہوجاتا۔ وہ دیر سے گاؤں پہنچتا اور وہ کم آدمیوں میں اپناسامان فروخت کرپاتا۔ اسے کم پیسے ملتے۔ چنانچہ تاجر نے تیزی سے گاؤں کی طرف اپنے قدم بڑھائے۔
کچھ دیر بعد ایک ماہی گیر اس کنواں کے پاس سے گزرا۔ اس نے شکاری کی آہ و زاری سنی۔
”کوئی ہے جو میری مدد کرسکے؟ میں کنواں میں گرگیا ہوں۔ خدا کے لئے میری مدد کرو۔ یہاں بہت اندھیرا ہے۔ مجھے باہر جانے کا راستہ نظر نہیں آرہا۔ میں بہت اکیلا ہوں۔“
(یہ بھی پڑھیں قسمت سے کوئی نہیں بچ سکتا۔۔۔ – آبیناز جان علی )
ماہی گیر دوڑتا ہواکنواں کے پاس پہنچا۔ اس نے کنواں کے اندر دیکھا اور شکاری کو آواز دی:
”آہ میرے بھائی۔ یہ کیا ہوگیا؟ تم کنواں میں گر گئے۔ اللہ یہ کیسا غضب ہوگیا۔“
شکاری کی حالت دیکھ کر ماہی گیر کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ وہ کنواں کے اور قریب چلا گیا۔ وہ مدد کے لئے ہاتھ بڑھانا چاہتا تھا۔ اچانک وہ اپنا توازن کھو بیٹھا اور وہ بھی کنواں میں گر گیا۔
اب شکاری اور ماہی گیر ایک ہی مصیبت میں پھنس گئے۔ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر زار زار رونے لگے اور مدد کے لئے چلانے لگے۔
کچھ دیر بعد ایک لکڑہارا اس کنواں کے پاس سے گزر رہا تھا۔ اس نے دونوں کی آوازیں سنیں۔ وہ پاس پہنچا تو دیکھا کہ شکاری اور لکڑہارا ایک دوسرے کو گلے لگا کر رورہے تھے اور مدد کے لئے پکار رہے تھے۔ لکڑہارا سب کچھ سمجھ گیا۔ اس نے دونوں کو تسلی دی۔
”گھبراؤ مت۔ میں تم دونوں کو اس مشکل سے نکالوں گا۔ میرے پاس ایک رسی ہے۔ میں اس رسی کو ایک درخت کے ساتھ مضبوطی سے باندھ رہا ہوں۔ تم دونوں ایک ایک کر کے رسی کو اپنی کمر کے گرد باندھ دو۔ میں تمہیں اوپر کی طرف کھینچتا ہوں۔“
لکڑہارے کی بات سن کر شکاری اور ماہی گیر کے دل کو سکون ملا۔ لکڑہارے کی باتوں پر عمل کرتے ہوئے دونوں کنواں سے باہر نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔
جب کوئی مشکل میں ہوتا ہے تو اس کی پریشانی کو سمجھ کر اس کی مدد کرنا اچھی بات ہے۔ اس سے دوسروں کی تکلیف کم ہوجاتی ہے۔ لیکن ہم دوسروں کی پریشانی کو اپنے سر پر نہیں لے سکتا۔ ورنہ ہم خود مشکل میں آجائیں گے۔
آبیناز جان علی
موریشس

