بھوک کی جبلت نے ان دونوں کو ایک کروڑ بیس لاکھ کی گنجان آبادی والے بڑے شہر میں ایک چھت کے نیچے…
تخلیقی ادب
-
-
میں تمھارا واٹس ایپ نمبر بند کرنے جارہاہوں شائستہ! یہ ہماری واٹس ایپ پر آخری ملاقات ہے۔تم نے مجھے پچھلے دو سال…
-
برف کی سیلوں کے درمیان شوکت میاں کی نعش رکھی تھی۔ پنکھا تیزی سے چل رہا تھا۔ برف کے گھلنے سے پانی…
-
’’تیرے ماتھے پہ یہ آنچھل بہت ہی خوب ہے لیکن ،تو اس آنچل سے ایک پرچم بنالیتی تو اچھاتھا‘‘۔مجاز کایہ شعرنصیبن نے…
-
اُس نے دیوار پر لگی ہوئی گھڑی پر نظر ڈالی تو ساڑھے چار بجنے والے تھے ،حالانکہ دفاتر میں اوقاتِ کار چار…
-
خاکہ
ایک شریف مگر ظریف انسان (عادل صدیقی کا خاکہ) – ڈاکٹر فاروق اعظم قاسمی
by adbimirasby adbimirasہائے چند مہینوں میں کیسے کیسے لعل و گوہر ہم سے چھن گئے ۔کتنے آسمانوں کو بڑی بے رحمی سے زمیں کھا…
-
صبح سویرے فجر اذان کی مدھر اور میٹھی آواز سنتے ہی آنکھیں کھل گئی اور میں فوراً وضو کرکے مسجد چلا گیا۔…
-
ہمیں جن سے محبت تھی انہیں ہم سے شکایت تھی کیا ہم کو اگر رسوا زمانے کی رعایت تھی خدا نے بخش…
-
ہاتھ سردتھا شاعرکا پتلیاں بےجان تھی آنکھوں کی اور۔۔۔۔۔ ایک لمبی قطار چیونٹیوں کی جارہی تھی اُس کےمنھ میں
-
باغیچے کے سرخ گلاب’ اور ہارسنگھار کی شاخ پہ بیٹھی گوریا نیلے پانی میں تیرتے اجلے ہنس یکایک سہم گئے یہ کس…

