موجودہ دور میں کمپیوٹر اور انٹرنیٹ ایک بنیادی ضرورت اور ہماری زندگی کا لازمی جزو بن چکا ہے۔ خیالات کی ترسیل کے لیے پہلے خطوط لکھےجاتے تھے اور کاغذ انسانی ہاتھ کےلمس کی مہک سے معمور ہوتے تھے۔ کاغذ کے دور سے کی بورڈ (Keyboard) ، کتاب کے دور سے ای بک (E-book) اور خط کے دور سے ای میل( email) تک کا سفر انسان نےبہت جلد طےکر لیا۔ یہ سب کچھ جدید ٹیکنالوجی، کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی بدولت ہوا۔ فاصلوں کا جھنجٹ ہی ختم ہو گیا اور جغرافیائی سرحدیں سمٹ کر رہ گئیں۔
اردو کمپیوٹنگ دراصل کمپیوٹر پر اردو استعمال کرنے اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کےمیدان میں اردو کے متعلق اور اردو میں تعلیم و تحقیق کا نام ہے۔ برصغیر میں ٹائیپ رائٹر کی آمد کےتھوڑے عرصے بعد ہی اردو بھی ٹائیپ رائٹر سے لکھی جانے لگی لیکن ٹائیپ رائٹر سے صرف نسخ رسم الخط یعنی نسخ فانٹ میں ہی اردو لکھی جا سکتی تھی۔
نستعلیق رسم الخط تکنیکی لحاظ سے تھوڑا پیچیدہ ہے کیونکہ اگر ہم مشین پر نستعلیق لکھنے کے حوالے سے بات کریں تو جیسے جیسے کسی لفظ میں حروف کا اضافہ ہوتا ہے ویسے ویسے پچھلے حروف نئے لکھے گئے حرف کے مطابق اپنی شکلیں اور جگہیں تبدیل کرتے ہیں۔ نستعلیق کی ایسی پیچیدگیوں کی وجہ سے ماضی میں کئی لوگوں نے یہاں تک کہا تھا کہ اردو کا معیاری رسم الخط فارسی والوں کی طرح نستعلیق سے نسخ کر دینا چاہئے۔ ( یہ بھی پڑھیں اردو شاعری کا آغاز و ارتقاء – ساجد حمید )
کمپیوٹر کا دور شروع ہوتے ہی اردو والوں نے بھی کمپیوٹر کے ذریعے کتابت کرنے کی کھوج لگانی شروع کر دی۔ تقریباً 1980ء میں پاکستان کے ایک بڑے اشاعتی ادارے کے مالک مرزا جمیل احمد نے جنگ گروپ کے تعاون سے کاروباری نکتہ نظر سے ایک نستعلیق فانٹ تیار کروایا۔ جس کو انہوں نے اپنے والد مرزا نور احمد کے نام پر نوری نستعلیق کا نام دیا۔ یہاں سے کمپیوٹر کے ذریعے کتابت کا آغازہوا۔ 2000ء تک کئی ایک اردو کے سافٹ ویئرز بنے۔ ان میں جو سافٹ ویئرز معیاری تھے وہ کاروباری نکتہ نظر سے بنائے گئے تھے اور ان کی قیمت عام صارفین کے بس سے باہر تھی۔ اس کی سب سے بڑی مثال ان پیج (Inpage) ہے جو کہ آج بھی تقریباً دو سے تین سو امریکی ڈالر کا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں ان پیج اپنے وقت کا ایک معیاری سافٹ ویئر تھا لیکن اس کی وجہ شہرت شاید اس کے معیار کی بجائے اس کی چوری تھی۔ ہوا یوں کہ کسی مسٹر ڈونگل نے اس سافٹ ویئر کو کریک کر کے ہر ایک کے لیے مارکیٹ میں پھیلا دیا۔ اب آپ اسے سافٹ ویئر کی چوری کہیں یا کچھ اور۔ شر سے خیر نے جنم لیا یا جرم سمجھیں، لیکن یہ بات حقیقت ہے کہ اس جرم کے نتیجہ میں ہی عام صارف کمپیوٹر پر بہتر انداز میں اردو لکھ پایا۔ شروع میں کمپیوٹر کے آپریٹنگ سسٹمز میں جس طرح انگریزی کی سہولت موجود تھی اس طرح اردو کی سہولت نہیں تھی یعنی جہاں کچھ لکھا جا سکتا تھا وہاں پر انگریزی تو لکھی جا سکتی تھی مگر اردو نہیں لکھی جا سکتی تھی۔ دراصل ان پیج اور تب کے دیگر اردو سافٹ ویئر کا اپنا اپنا ایک الگ نظام تھا اور یہی وجہ تھی کہ ان سافٹ ویئرز میں لکھی ہوئی اردو تحریر صرف انہی سافٹ ویئرز میں ہی دیکھی جا سکتی تھی۔ تب اگر کسی کو تحریر کسی دوسرے سافٹ ویئر یا انٹرنیٹ پر لے جانا پڑتی تو پہلے وہ تحریر کو تصویر میں منتقل کرتے اور پھر اس تصویر کو اپنی مطلوبہ جگہ پر لے جاتے، یعنی تب کمپیوٹر کی اردو نہیں بلکہ تصویری اردو تھی۔
یہ مسئلہ صرف اردو کے ساتھ نہیں تھا بلکہ دیگر کئی ایک زبانوں کے ساتھ بھی تھا۔ اس مسئلہ کو حل کرنے کے لیے کام شروع ہوا اور پھر ایک ایسا نظام بنایا گیا جس میں دنیا کی تقریباً تمام زبانوں کو لکھنے کی سہولت دی گئی۔ اس نظام کا نام یونی کوڈ ہے۔ (یہ بھی پڑھیں اسلام اور دیگر مذاہب میں روزہ کا تصور – ساجد حمید کھوکھر )
گو کہ ونڈوز کے پرانے ورژن میں ہی یونی کوڈ نظام شامل کر دیا گیا تھا لیکن اردو کے حوالے سے یونی کوڈ نظام کو مکمل طور پر ونڈوز ایکس پی میں شامل کیا گیا اس سہولت کے شامل ہونے سے کسی خاص اردو سافٹ ویئر کی ضرورت باقی نہ رہی بلکہ جہاں دیگر کوئی زبان جیسے انگریزی لکھی جاتی تھی وہیں پر اردو بھی بالکل ویسے ہی لکھنے کی سہولت مل گئی اور یہیں سے اصل معنوں میں اردو کمپیوٹر میں شامل ہوئی۔
اردو ہو یا کوئی بھی زبان کمپیوٹر صرف اسے ہی تحریر سمجھتا ہے جو اس کے تحریر لکھنے والے نظام کے تحت لکھی جاتی ہے کیونکہ اب کمپیوٹر پر تحریر لکھنے کا نظام یونی کوڈ ہے لہٰذا کمپیوٹر صرف اسے ہی تحریر سمجھے گا جو یونی کوڈ نظام کے تحت لکھی جائے گی۔
یونی کوڈ نظام سے پہلے کیونکہ ہم براہ راست ہر جگہ اردو نہیں لکھ سکتے تھے اس لیے مجبوری تھی بلکہ واحد راستہ یہ تھا کہ اگر ہمیں انٹرنیٹ پر اردو ڈالنی ہے تو اسے تصویری صورت میں منتقل کر لیں، یعنی تصویری اردو سے کام چلایا جاتا تھا۔ اس تصویری اردو نے جہاں کمپیوٹر پر وقتی طور پر کام چلایا وہیں پر بعد میں وہی تصویری اردو، اردو کی ترویج کے لیے زہر قاتل ثابت ہوئی۔ اب جب ہم جدید تقاضوں کے مطابق بالکل انگریزی کی طرح اردو لکھ سکتے ہیں تو پھر ہمیں تصویری اردو کی کوئی ضرورت نہیں۔ اگر آپ غور کریں تو کمپیوٹر کا سب سے زیادہ استعمال جلد سے جلد اور آسانی سے معلومات کا حصول ہے جس کی سب سے بڑی مثال انٹرنیٹ کی دنیا سے منٹوں میں بہت ساری معلومات حاصل کر لی جاتی ہیں یعنی کمپیوٹر کا سب سے زیادہ استعمال معلومات کی تلاش ہے، لیکن تصویری صورت میں کمپیوٹر اور انٹرنیٹ پر پھیلائی ہوئی اردو میں سے کچھ تلاش نہیں کیا جا سکتا مثال کے طور پر نہ تو آپ گوگل میں تصویری اردو کے ذریعے کچھ تلاش کر سکتے ہیں اور نہ ہی گوگل تصویری اردو سے کچھ تلاش کر کے آپ کو مطلوبہ معلومات فراہم کر سکتا ہے، کیونکہ کمپیوٹر تصویری اردو کو ایک تصویر سے زیادہ کچھ نہیں سمجھتا اور اس تصویری اردو کے نقصانات ہی نقصانات ہیں۔ یونی کوڈ اردو کے فوائد ہی فوائد ہیں۔ جہاں جہاں کمپیوٹر دیگر کسی زبان میں کچھ کر سکتا ہے بالکل وہیں پر یونی کوڈ اردو میں اردو کے لیے وہی سب کچھ کر سکتا ہے جو کسی دیگر زبان کے لیے کرتا ہے یونی کوڈ اردو اور تصویری اردو میں فرق سمجھنا ایک عام کمپیوٹر صارف کے لیے نہایت ہی آسان ہے سیدھی اور سادہ بات یہ کہ جو اردو تصویر کی صورت جیسے GIF یا JPG وغیرہ میں ہو وہ تصویری اردو ہے اور جو عام تحریر جسے ہم منتخب کر کے ایک جگہ سے دوسری جگہ کاپی پیسٹ کر سکیں وہ یونی کوڈ اردو یعنی کمپیوٹر کی اصل اردو ہے۔ مثال کے لیے آپ بی بی سی اردو کی ویب سائیٹ دیکھیں تو وہ یونی کوڈ اردو میں ہے جبکہ ہمارے پاکستانی اخبارات کی ویب سائیٹس تصویری اردو میں ہیں۔ جیسے روزنامہ جنگ کی ویب سائیٹ کا بہت بڑا حصہ آج بھی تصویری اردو کی شکل میں ہے۔ (یہ بھی پڑھیں رن نیتی – ساجد حمید )
ونڈوز ایکس پی میں اردو کی مکمل سہولت شامل تو ہو گئی تھی لیکن اردو کے لیے دیگر کئی قسم کی چیزیں جیسے کی بورڈ لے آؤٹ، سافٹ ویئر اور فانٹ وغیرہ تیار کرنے اردو ویب سائیٹ بنانے اور خاص طور پر اردو بلاگنگ جیسے کام اور کئی دیگر مسائل کا حل خود اردو والوں کو کرنا تھا اور سونے پر سہاگہ یہ کہ انیسویں صدی میں جینے والے یعنی تصویری اردو سے کام چلانے والوں کو بھی سمجھانا تھا کہ جدید طریقوں سے اردو لکھو تا کہ اردو کی ترویج آسانی سے ممکن ہو سکے۔ یہ ساری کوششیں ایک عام صارف کے لیے کرنی تھیں تا کہ وہ آسانی سے کمپیوٹر پر اردو لکھ سکے جبکہ کاروباری لوگ تو بہت پہلے سے کاروباری نکتہ نظر سے اور پیسے کے زور پر اپنے کام چلائے ہوئے تھے۔ ونڈوز آپریٹنگ سسٹم میں اردو کی سہولت شامل ہونے کے بعد ٹیکنالوجی کے میدان میں اردو کی ترویج کے لیے انفرادی طور پر لوگ کام کر رہے تھے جیسے ایم بلال ایم نے تب ہی اردو کی بورڈ لے آؤٹ اور کچھ امدادی اسباق لکھ رکھے تھے اس کے علاوہ ایک ادارہ کرلپ ہے جس نے ادھر ادھر سے امداد لے کر کچھ کام کیاتھا۔
اسی دوران 2002ء میں بی بی سی اردو نے جدید یونی کوڈ نظام کے تحت اپنی ویب سائیٹ بنا دی یہ ویب سائیٹ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے اردو لکھنے لگی اور اس نے بہت شہرت حاصل کی۔ کمپیوٹر میں اردو شامل ہو چکی تھی تو ہر ادارے نے اس طرف دوڑیں لگا دیں۔ 2004ء میں مشہور آن لائن انسائیکلوپیڈیا یعنی وکی پیڈیا نے بھی اردو کو شامل کر لیا اور اب تو گوگل تک اردو میں دستیاب ہے۔ 2005ء تک زیادہ تر انفرادی طور پر کام ہوتا رہا لیکن کمپیوٹر اور انٹرنیٹ پر اردو کی ترویج کا اصل کام تب شروع ہوا جب 2005ء میں چند رضاکاروں نے مل کر اردو ویب ڈاٹ آرگ ویب سائیٹ کی بنیاد رکھی۔ اسی ویب سائیٹ پر ایک فورم تشکیل دیا گیا اور اس کا نام اردو محفل رکھا گیا۔ اس فورم پر تمام رضاکار مل کر تکنیکی اور دیگر حوالوں سے اردو کی ترویج کے لیے کھوج لگانے لگے۔ خاص طور پر جدید نظام کے مطابق اردو میں ویب سائیٹ بنانے اور انٹرنیٹ کے ایک موثر ہتھیار یعنی بلاگ اردو میں بنانے پر کام کیا گیا۔ اردو ویب والوں نے شروعات میں ہی اردو سیارہ کے نام سے ایک بلاگ ایگریگیٹر بنا دیا تھا۔ آج آپ کو انٹرنیٹ پر جو اردو نظر آ رہی ہے اس میں سب سے بڑا ہاتھ اردو ویب ڈاٹ آرگ کا ہی ہے۔ اردو ویب کی بدولت کئی ایک اردو فورم وجود میں آ چکے تھے لیکن ایک اچھے نستعلیق رسم الخط کی کمی ہر جگہ محسوس ہوتی تھی۔ پھر 2008ء میں پشاور کے ایک نوجوان امجد حسین علوی نے علوی نستعلیق بنا کر جیسا انقلاب برپا کر دیا۔ گو کہ آج بہت کم لوگ علوی نستعلیق کے بارے میں جانتے ہیں مگر یہی علوی نستعلیق تھا جس نے فانٹ سازی کو ایک نئی راہ دکھائی۔ پھر اس راہ پر چلتے ہوئے جمیل نوری نستعلیق بنا اور پھر شاکر القادری صاحب نے اردو والوں کو وہ تخفہ دے دیا جو قسمت والوں کو نصیب ہوتا ہے۔ اٹک شہر سے تعلق رکھنے والے شاکر القادری صاحب نے ہمیں القلم تاج نستعلیق کی صورت میں ایک بہت بڑا تخفہ دیا۔ القلم تاج نستعلیق مکمل طور پر مفت ہے اور بلا خوف و خطر استعمال کیا جا سکتا ہے۔
اردو ویب سائیٹ بنانے اور اردو میں بلاگنگ کے مسائل کے حل ہوتے ہی کئی مشہور سافٹ ویئرز کا اردو ترجمہ ہوا۔ یہاں تک کہ ایک نوجوان محمد علی مکی نے لینکس آپریٹنگ سسٹم کا اردو ترجمہ کر ڈالا۔ ٹیکنالوجی کے میدان میں اردو والوں کا قافلہ دن بدن بڑھتا جا رہا تھا۔
لیکن ایک چیز قابل غور تھی کہ اس قافلے میں زیادہ تر ٹیکنیکل لوگ تھے۔ کچھ دوستوں کا خیال تھا کہ کمپیوٹر پر اردو کی سہولت شامل کرنے کا طریقہ تھوڑا لمبا اور مشکل ہے اس وجہ سے عام کمپیوٹر صارف کو مشکلات کا سامنا ہے اور وہ کمپیوٹر اور انٹرنیٹ پر اردو لکھنے میں دقت محسوس کرتے ہیں بلکہ کئی لوگ تو مشکل کی وجہ سے بھاگ ہی جاتے ہیں۔ ان مشکلات کو دور کرنے اور اردو کی زیادہ سے زیادہ ترویج کے لیے ایم بلال ایم نے 2011ء میں پاک اردو انسٹالر کے نام سے ایک ایسا سافٹ ویئر بنایا جس کے ذریعے صرف چند کلک سے کمپیوٹر پر اردو کے متعلق تمام سہولیات خودبخود شامل ہو جاتی ہیں۔ پاک اردو انسٹالر کمپیوٹر اور انٹرنیٹ پر اردو لکھنے کے لیے ایک مفت سافٹ وئیر ہے۔ اس سافٹ وئیر کے خالق ایم بلال ایم ہیں۔ پاک اردو انسٹالر ونڈوز آپریٹنگ سسٹم کے لیے ہے۔ پاک اردو انسٹالر انسٹال کرنے کے بعد کمپیوٹر اور انٹرنیٹ پر جس جگہ کچھ لکھا جا سکتا ہے وہاں پر جدید تقاضوں کے مطابق اردو بھی لکھی جا سکتی ہے اور اردو بہتر انداز میں پڑھنے کے لیے اردو کے چند ضروری فانٹس خودبخود انسٹال ہو جاتے ہیں۔
اردو کی ترویج کے لیے آج کے جدید ہتھیار انٹرنیٹ کو اپنائیے اور زیادہ سے زیادہ معلومات انٹرنیٹ پر ڈالنے کے ساتھ ساتھ دوسرے لوگوں کو بھی اردو کی طرف قائل کریں۔ آج کی دنیا کے جدید ہتھیاروں میں ایک بلاگ بھی ہے۔ اردو میں بلاگ لکھیے۔ فیس بک اور ٹوئیٹر پر اردو لکھیں اور اردو میں اپنا پیغام اور آواز سب تک پہنچا دیجئے۔
ساجد حمید
ایم فل اردو
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

