شعبۂ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے زیر اہتمام توسیعی خطبے کا انعقاد
۱۷؍فروری (نئی دہلی) شعبۂ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے زیر اہتمام ہر سال کی طرح امسال بھی توسیعی خطبے کا انعقاد کیا گیا۔ معروف اسکالر پروفیسر ریاض احمد نے ’’قومی تعلیمی پالیسی (NEP 2020) کے ترجیحی نکات‘‘ کے موضوع پر گراں قدر خطبہ پیش کیا۔ انھوں نے تعلیمی پالیسی کا تاریخی جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کی تہذیب جتنی قدیم ہے یہاں کا تعلیمی نظام بھی اتنا ہی قدیم ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہندوستان میں جدید تعلیم اور نئے تعلیمی نظام کو فروغ دینے اور رجحان سازی میں راجا رام موہن رائے اور سرسید احمد خاں کا کردار ناقابل فراموش ہے۔ اس کے بعد قومی تعلیمی پالیسی میں قابل ذکر تنظیم نو کا کام کوٹھاری کمیشن نے کیا۔ نئی تعلیمی پالیسی ۲۰۲۰ میں روبہ عمل آئی جس میں ابتدائی تعلیم، اعلیٰ تعلیم، پیشہ ورانہ تعلیم اور تعلیم بالغان پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ ابتدائی تعلیم میں دلچسپ تدریسی عمل پر زور دیا گیا ہے تاکہ طلبہ اپنی تعلیم درمیان میں ہی ترک نہ کردیں۔ اعلی تعلیم میں تدریسی عمل کو کارآمد بنانے کے لیے کلاس روم کی تکثیری فضا کو پیش نظر رکھنے کی ضرورت پر اصرار کیا گیا ہے۔ اسی طرح یکے بعد دیگرے مہمان مقرر نے نئی تعلیمی پالیسی کے ترجیحی نکات کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا۔ صدر شعبۂ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ پروفیسر احمدمحفوظ نے صدارتی تقریر میں موضوع پر مہمان مقرر کی گرفت اور موضوع کے قابل فہم اظہار کی ستائش کی۔ صدر شعبہ نے کہا کہ یہ موضوع نہایت اہم اور وقت کی بڑی ضرورت ہے۔ خطبے کی افادیت کو اجاگر کرتے ہوئے انھوں کہا کہ یہ موضوع نہ صرف طلبہ بلکہ اساتذہ کے لیے بھی اہم اور مفید ہے کیونکہ اس پالیسی کا اولین سروکار انھیں سے ہے۔ خطبے کی نظامت کنوینر ڈاکٹر سید تنویر حسین نے انجام دی۔ شعبے کے استاد ڈاکٹر شاہ نواز فیاض کی تلاوت کلام پاک سے پروگرام کا آغاز ہوا۔ آخر میں ڈاکٹر نوشاد منظر نے تمام حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔
اس خطبے میں پروفیسر شہزاد انجم، پروفیسر کوثر مظہری، پروفیسر خالد جاوید، پروفیسر ندیم احمد، پروفیسر عمران احمد عندلیب، پروفیسر سرورالہدیٰ، ڈاکٹر شاہ عالم، ڈاکٹر خالد مبشر، ڈاکٹر سید تنویر حسین، ڈاکٹر مشیر احمد، ڈاکٹر محمد مقیم، ڈاکٹر محمد آدم، ڈاکٹر جاویدحسن، ڈاکٹر ثاقب عمران، ڈاکٹر روبینہ شاہین، ڈاکٹر راہین شمع، ڈاکٹر غزالہ فاطمہ، ڈاکٹر خوشتر زریں ملک کے علاوہ بڑی تعداد میں شعبے کے ریسرچ اسکالر اور طلبہ و طالبات موجو د تھے۔
(دائیں سے بائیں: پروفیسر ریاض احمد، ڈاکٹر سید تنویر حسین، پروفیسر احمد محفوظ)
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

