افسانہ نگاری بنیادی طور ادب کے زمرے میں آتی ہے’ یعنی یہ ایک فنی کام ہے جو مخصوص ہیئتی اور تکنیکی لوازمات کا حامل ہے۔بیشتر افسانے سماجی موضوعات اور مسائل کی تخلیقی عکاسی کرتے ہیں جس کی وجہ سے یہ افسانے کسی بھی سماج کی سیاسی’ سماجی’معاشی اور ثقافتی نشیب وفراز کی ادبی تاریخ بن جاتے ہیں اور اگر کوئی افسانہ نگار اپنے خطے یا اپنے سماجی ماحول کو افسانوی فن کے قالب میں ڈالتا ہے تو وہ اس خطے یا سماج کی ایک جیتی جاگتی کہانی بیان کرتا ہے اور ایک باشعور و ذمہ دار فرد کا ثبوت بھی فراہم کرتا ہے۔ راقم افسانہ لکھنے کے دوران ان باتوں کا خاص رکھتا ہے اس لئے میرے بیشتر افسانے کشمیر کی داستان سناتے ہیں۔ جس کی وجہ سے کشمیر سے باہر کے لوگ انہیں پسند بھی کرتے ہیں افسانہ نگاری ادب کا ایک ایسا جز بن چکا ہے جس سے اب فرار کی راہ تلاش کرنا معیوب لایعنی کام ہے افسانہ نگاری کا یہ سفر انسانی کی فکر و افکار کے ساتھ پروان چڑھتا ہے جس بھی سماج سوسائٹی معاشرے سے افسانہ نگار وابستہ ہو اسی طرح کے افسانہ اس کے نوک قلم سے منصئہ شہود پر آتے رہتے ہیں فن افسانہ نگاری ایک الگ بات ہے مجھے اس سے بحث نہیں کرنی ہاں ہم ضرور اس بات کی اور توجہ دے سکتے ہیں کہ افسانہ نگاری کیونکر وجود میں آئی یا آتی ہے یہ ایک تخیل ہے جو انسان کی سوچوں کے ساتھ محو پرواز ہوکر انسانی معاشرے کی عکاسی کرتا ہے اور انسانی معاشرے کے لئے افسانہ نگار افکار و نظریات کی آبیاری کرتا ہے میں نے مختلف افسانے پڑھئے آج تک جن میں افسانہ نگاروں کی مختلف تخلیقات نے مجھے بے حد متاثر کیا جن میں عہد حاضر کے کشمیری افسانہ نگار نور شاہ جناب نذیر مشتاق پرویز مانوس طارق شبنم راجہ یوسف وغیرہ قابل ذکر ہیں جو پوری علمی و ادبی قوت سے اپنے فن میں رنگ بھرتے رہتے ہیں اور وادی کشمیر کے ادبی افق کے یہ پیارے تخلیق کار ایک درخشاں مستقبل کے لئے کوشاں و متفکر ہیں جو ان کی تخلیقات سے مترشح ہے ان کے علاوہ بھی بہت سے ایسے اصحاب علم و ادب کے موتی ہیں جو اپنی افسانہ نویسی سے امید سحر کی نوید سناتے ہیں
سفیر مسکراہٹ
سوشل میڈیا پر ایک بار کسی پوسٹ پر ایک جناب نے خوبصورت انداز میں کومنٹ کرکے نیچے مسکراہٹ لفظ لکھا ہوا تھا ان کے اس انداز سے میں متاثر ہوئے بنا نہ رہ سکا ان سے دوستی کی خواہش کا اظہار کیا تو انہوں نے بڑے دل کے ساتھ قبول کرلیا ان کی اکثر تخلیقات سوشل میڈیا پر اسی لفظ پر اختتام ہوجاتی ہیں ہر لمحہ لبوں پر مسکراہٹ لئے یہ صاحب کوئی اور نہیں ہماری وادی کشمیر کے ایک خوبصورت علاقہ جسے ہندواڑہ کے نام سے ہم سب واقف ہیں کہ ایک خوبصورت بستی وڑیپورہ کے مکین ہیں ان کی نشو و نما جس زرخیز بستی میں ہوئی ہے وہ ازخود قابل ستائش ہے (میری مراد ان ہواؤں اور ان بہتے پانی کے پیارے چشموں سے ہے جو اس بستی کے لئے قدرت کا انمول تحفہ ہے میں اکثر ان علاقوں سے بے حد محبت و عقیدت رکھتا ہوں جو قدرت کے حسین نظارے پیش کرتے ہیں اور جنہیں قدرت نے خوب سنوارا ہے ایسی ہی بستیوں سے اکثر صاحب قلم و ادب اٹھتے ہیں کیوں کہ ان بستیوں کی مٹی یا پانی میں کوئی ملاوٹ نہیں ہے ) تو ایسی ہی حسین و دلکش بستی سے ہم سب کو اپنی مسکراہٹ کا تحفہ دینے والے ڈاکٹر ریاض توحیدی کا تعلق ہے جو اردو ادب کے تئیں کافی متحرک اور ممتاز مقام کے ساتھ مشغول سفیر ادب بنئے ہوئے ہیں ان سے تعلق کا اصل سبب سوشل میڈیا ہی بنا پھر کبھی کبھی ان سے ملاقاتیں بھی ہوئی جو مختصر ہی تھیں ۲۴ اگست ۲۰۱۹ کو ان کی طرف سے دو کتابوں کا ایک تحفہ ملا مجھے اس تحفہ سے بے حد خوشی و مسرت کا احساس ہوا جس کے لئے میں ان کا بے حد ممنون و مشکور ہوں ان دو کتابوں میں ایک افسانوی مجموعہ بھی ہے جس پر تھوڑی سی روشنی ڈالنے کا خواہستگار ہوں۔
ڈاکٹر ریاض توحیدی صاحب کی افسانہ نگاری پر تصنیف ہوئی کتاب:
وادی کشمیر سے ہم سب واقف ہیں یہاں کے حالات یہاں کی غربت یہاں کی مجبوریاں تو ایسے میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ جو لوگ علم و ادب کے فروغ کے لیے کوشاں رہتے ہوں وہ بلا کیونکر ان حالات سے لاتعلق رہیں ایسے ہی ادبی افق میں سے افسانہ نگار بھی ہیں جو اپنی تخلیقات کے ساتھ اپنی قوم و ملت کی خیر خواہی کے ہی متمنی ہوتے ہیں اور یہ ہمیشہ سے دیکھنے میں آیا ہے کہ ادبی دنیا سے تعلق بنائے رکھنے والے اصحاب علم نے ہمیشہ اپنی قوم و ملت کے غم اور خوشی کو تخلیق کیا اسی تناظر میں جس کی قوم و ملت کو حاجت تھی ایسے ہی ہمارے پیارے اور ہر دل عزیز نے اپنی تخلیقات میں کوشش کی ہے کتاب کا نام کالے پیڑوں کا جنگل کالے دیوؤں کا سایہ دراصل یہ دو الگ الگ کتابیں ہیں جن مارکیٹ میں آنے کی تاریخ اور سنہ اشاعت بھی الگ الگ ہیں کتابوں کی مارکیٹ میں عدم دستیابی کے سبب اور ارباب علم اور شائقین ادب کے اسرار پر ڈاکٹر ریاض توحیدی نے دونوں کتابوں کو ایک ساتھ شائع کیا مطلب ایک ہی کتاب کی صورت اور یوں یہ کتاب مارکیٹ میں آئی اور چھا گئی کتاب کی آپ جوں ہی ورق گردانی شروع کرین گئے تو صفحہ نمبر چھ پر جلی حروف میں لکھا انتساب پڑھنے کو ملے گا میرے خیال سے مصنف محترم نے پوری کتاب کا تعارف انتساب میں ہی پیش کیا ہے گر کوئی صاحب ادب اس جانب تھوڑی سی بھی توجہ دے تو بہ آسانی پوری کتاب کے مضامین جو افسانوں پر مشتمل ہیں سمجھنے میں آسانی ہوگی
انتساب کتاب کچھ یوں ہے
وادی گلپوش کے ان ریشم مزاج بلبلوں کے نام
جو کالے پیڑوں کے جنگل کے درمیان
کالے دیوؤں کے سایوں میں بھی چہچہاتے رہتے ہیں
میں ان الفاظ کو سوچتا رہا کچھ سمجھ نہ آیا میں سوچ رہا تھا کہ پریوں کی کہانیاں ہو گئیں یا دیؤؤں کے قصے تخیل میں میری سوچیں محو پرواز تھیں کہ مصنف کی تخلیق انہیں کہانیوں کے آس پاس گھومتی ہوں گئیں جو ہم بڑے زمانے سے اپنے بڑوں سے سنا کرتے تھے جہاں پریوں کے گیت اور دیؤؤں کا جبر ہوا کرتا تھا اور اک مظلوم انسان ان کے ہاتھ آکر اپنی دنیا کو ویران پوتے دیکھا کرتا تھا پر کتاب کی ورق گردانی کرتے ہوئے جوں ہی پہلے افسانے ماں کو پڑھا تو نگاہ کے کناروں پر نمی سی آگئی پر میری سوچ پر وہی مہیب چھایا ہوا تھا جسے میں نے اپنے تخیل میں بسائے ہوئے رکھا تھا پر اچانک سے کتاب کے ابتدائیہ جو ریاض توحیدی صاحب کے نوک قلم کا ہی کمال ہے اس پر لکھا ہوا تھا پہلے
مجھے پریوں کی یہ جھوٹی کہانی مت سناؤ تم
میں اپنی آنکھ کے اندر کئی کوہ قاف رکھتا ہوں
مجھے اس ایک شعر نے کتاب کا ہلکا پھلکا موضوع اور افسانوں کا موضوع بتا دیا کہ موصوف پریوں یا دیؤؤں کی نہیں بلکہ اپنی وادی کشمیر کے ان بلبلوں کی باتیں ان پر بیتے ستم ان کی مجبوریاں ان کی بے بسی کو تخلیقی پیرائے میں پیش کررہے ہیں اپنے پڑھنے والوں کے سامنے جہاں خوشیاں اور غم ایک ساتھ رقص کر رہی ہیں جہاں مسکراہٹیں تو دم توڑ رہی ہیں پر ہچکیاں محو پرواز ہیں جہاں آہوں اور ہچکیوں کی اک بڑی دنیا آباد ہوکر بھی ویرانے کا تصور پیش کر رہی ہے میرے لئے اس کتاب کے مطالعے کے دوران عجب احساس یہ تھا کہ یہ تمام کہانیاں معاشرے کے آس پاس ہی ہورہے حالات کے عکاس ہیں اس کتاب کے جن افسانوں نے مجھے بے حد متاثر کیا مندرجہ ذیل ہیں
گلوبل جھوٹ گمشدہ قبرستان قتل قاتل مقتول کشمیر نواز کالے پیڑوں کا جنگل ہائی جیک کالے دیوؤں کا سایہ زہریلے ناخدا وطن کی عصمت جن کے پڑھنے کے دوران آپ یقین کریں آپ کی نگاہیں بھیگ جائیں گئیں کتاب کے بقیہ افسانے بھی بہت ہی اعلی ہیں جو ہمارے لئے ایک تحریک کا سبب بن سکتے ہیں اس کتاب کے مطالعے کے لئے ہم ملتمس ہیں کہ اس ادبی روشنی کو بکھیرنے کے لئے آپ کوشش کریں تاکہ آپ اپنے سماج اور سوسائٹی کے لئے خدمت کرسکیں ضروری نہیں ہے کہ آپ قلم اٹھا کر لکھنے بیٹھ جائیں بلکہ ہم بہترین کوششوں کا استقبال بھی کرسکتے ہیں اور یہ کارہائے نمایاں ہم کبھی انجام دے سکتے ہیں جس کے لئے اصحاب علم و ادب کی تخلیقات کو عام کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ آئندہ نسلوں تک بھی صحیح کتابوں کے ذریعہ پہنچا جائے
افسانہ نگاری یا حرام کاری
ادب کی دنیا سے منسلک ارباب علم و ادب بخوبی جانتے ہیں کہ ادب افسانہ نگاری یا شاعری ہو ہر صنف کے نام پر بے حیائی بے شرمی اور بدی کو عام کیا جارہا ہے نئے ادیب جو مغربی افکار و نظریات کی چکا چوند سے متاثر ہیں وہ آئے روز کچھ نہ کچھ تخلیق کر ہی لیتے ہیں یا سرقہ بازی کرکے مختلف ادیب و دانشور حضرات کے ادبی شہہ پارے چرا کر نوجوان نسل کو تباہی کی اور لے جارہے ہیں ان کے افسانوں میں اکثر محبوب و معشوق ہی نکلتے ہیں سوائے اس کے انہیں سماج میں کیا کچھ ہورہا ہے نظر نہیں آتا ہمیں اس بلا سے چھٹکارا پانے کے لئے لازم ہے کہ بہتر ادب اور ادیب کی حوصلہ افزائی کی جائے تاکہ صالح اور پاکیزہ ادب ہی منصئہ شہود پر پر آتا رہے
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

