کائی زدہ فصیل پر بیٹھا کبوتر اب بھی سوچ رہا ہے کہ جب دل کے پاس کوئی چیز سلگنے لگتی ہے تو درد کا احساس زیادہ ہوتا ہے۔!!
مجتبیٰ خان اپنی چوکھٹ پر بیٹھ کر سوچ رہا ہے۔جن چراغوں کو ہوا سے نسبت ہوجائے اُن کی سرفرازی کا عالم کیا ہوتا ہے اِس کا احساس گذشتہ کل ڈبلواور شمو کی حرکت کو دیکھ کر ہواجب یہ دونوں آنگن میں صنوبر کے نیچے ایک دوسرے کا گریباں پکڑ کر چینخ و پکار کرنے لگے۔
شٹ اَ پ ۔!!
یو شٹ اَپ ۔
تم میری مسجد میں نماز پڑھنے مت جائے گا۔ تم ہندو ہے ہندو…..!!
مجتبیٰ خان نے بیچ بچائو کرتے ہوئے کہا۔
ڈبلوتم نے یہ کیا کہا۔!
’’ ہاں انکل میں نے بالکل ٹھیک کہا ۔یہ ہندو ہے۔ ہندو…..!!‘‘
مجتبیٰ خان نے کہا ۔
’’ابے یہ تمہارا کزن ہے کزن…..!!‘‘
’’تو کیا ہوا انکل۔میری ممی نے کہاہے اِس کی ماں نے ہندو سے شادی کی ہے۔یہ اسی کی اولاد ہے۔!!‘‘
مجتبیٰ خان کے پیرو ںتلے زمین کھسک گئی۔اُس کو اچھی طرح معلوم تھا کہ بسنت کے موسم میں سرداربیگم کے گھرکی چوکھٹ ہولی کے گلال سے سرخ ہوجایا کرتی تھی۔ اُن کے چاہنے والے چوکھٹ پر ابیر گلا ل یہ کہہ کر رکھدیتے کہ سردار بیگم نماز پڑھتی ہیں اور پھر سردار بیگم کی طرف سے عید کے دن اُن کے گھر تمام خوشیاں سمیٹ دی جاتیں۔گریباں درازی کامنظر آنکھوں میںاورڈبلو کے کہے گئے جملے ’’تم میری مسجد میں نماز پڑھنے مت جائے گا۔ تم ہندو ہے ہندو….!!‘‘مجتبیٰ خان کی سماعت میں برسوں گونجتے رہے ۔اِدھر جب سے مجتبیٰ خان لندن سے ایم بی اے کی ڈگری لے کر وطن کو واپس آیا تھاسردار بیگم مجتبیٰ خان سے کچھ کہنے کے لیے بے چین تھیں لیکن ایسا موقعہ ہاتھ نہیں آیا کہ دل کی کتاب کھولی جاسکے۔اسی کشمکش میں برسوں بیت گئے۔
اُس دن کافی گرمی تھی ۔کمرے کادرجہ حررات چالیس ، بیالیس سے تجاوزکررہاتھا۔مجتبیٰ خان آنگن میں صنوبر کے نیچے بیٹھا تھااور سوچ رہا تھاکہ بچپن میں اُس کی دادی نے یہ بات بتائی تھی کہ اِس پیڑ کو اپنی پوتی ماریاکی پیدائش پر سردار بیگم نے گاؤں کی روایت کو مانتے ہوئے اماوس کی رات میں لگایا تھا۔ اُس نے دیکھا۔شاخ صنوبر پر خوش گلو پرندوں نے اُفق پر نگاہیں تان کر عرش بریں پر اپنی صدا پہنچائیں کہ مالک آج کا رزق تیرے رحم کا منتظرہے ۔!! ٹھیک اسی وقت سردار بیگم نے عصر کی نماز پڑھ کراپنے ہاتھوں کو دعا کے لیے اوپر اُٹھایا۔
ــ’’اے پروردگار تیری چوکھٹ پر تمہاری دی ہوئی یہجان آفرین ہے کہ تو اِس کو واپس لے لے یا پھر میری بےرونق زندگی کو واپس لوٹا دےتاکہ اپنوں سےکیئے وعدےکاپاس رکھ سکوں۔!! ‘‘
مجتبیٰ خان نے موقعہ اچھا دیکھا۔ برسوں پہلے اِس صنوبر کے نیچے ڈبلونے اُس کے دل پر جو بوجھ رکھا تھا اُس کو ہلکا کرنے کے لیے اُس نے سردار بیگم سے پوچھا ۔
’’سردار بیگم شمو کس کا لڑکا ہے۔؟‘‘
پہلے تو سردار بیگم ہچکچائیںپھر انہوں نے دعا کے بعد جانماز کے کونے کو موڑتے ہوئے کہا ۔
مجتبیٰ خان تمہارے پر دادا نے اِس کنیز کولاہور کی گلیوں سے دُلہن بنا کر لانے میں بہت بڑا کردار ادا کیا تھا۔ کیونکہ انہوں نے ہی میرے خسرو کو اسلام قبو ل کروانے میں مدد کی تھی۔ان دنوں وقت کے ستم ضریف لمحوں میں کوئی بھی مسلمان اُن کے بیٹے جمعن خان کے ساتھ اپنی لڑکی کی سگائی کرنا نہیں چاہتا تھا۔ اُن کاکہنا تھا کہ جس کا ماضی نہیں اُس کے حال پر یقین کرنا حماقت کے مترادف ہے۔ تب جاکر مقصود خان نے جمعن خان کے لیے مجھے متحدہ ہندوستان کے لاہور سے لانے کا فیصلہ کیا۔اُدھر لا ہور کی جھگیوں میں میرے والدین کی حالت یہ تھی کہ مہینوں اور کبھی کبھی سالوں بھر رمضان کا موسم رہتا۔ عید تو کبھی آئی ہی نہیں۔!میرے والدین نے مقصود خان کو اللہ کا بھیجا ہوا فرشتہ سمجھا اور پھر ایک دن شام کے دُھند لکے میں میرا نکاح جمعن خان سے پڑھا کر والدین نے اپنے سر کا بوجھ ہلکا کیا۔اور میں روتے بلکھتے جمعن خان اور مقصود خان کے ساتھ عظیم آباد چلی آئی۔اِس احسان کا صلہ میں نے یہ دیاکہ مرتے دم تک تمہارے دادا اور پر دادا کو دل کے سائبان میں خسرونہیں باپ سے کم کا درجہ کبھی نہیں دیا اور نہ ہی گز بھر کا گھونگھٹ اُن کے روبرو نکالا!!اتنا کہہ کر سردار بیگم نے اپنے آنسوؤں کے قطروں کو دوپٹے سے پوچھتے ہوئے کہا۔مجتبیٰ خان تم تو سب جانتے ہو۔تمہارے خاندان سے ہمارے سسرال کے رشتے تین پشت پرانے ہیں اور دائی سے کیا پیٹ چھپانا۔ !! میرے بیٹے دِلاورخان کی دو، دو اولادیں ہوئیں ایک بیٹا اور ایک بیٹی لیکن دونوں غلط راہ پر چلے گئے جسکا غم مجھے کھائے جارہا ہے۔!! بات کے سلسلے کوجاری رکھتے ہوئے کہا۔
’’بیٹے۔!تم کیا یہ پورا سماج جانتا ہے کہ شمومیری پوتی ماریا کی سہیلی کا لڑکا ہے۔ لیکن ایسا نہیں ہے۔بلکہ یہ اُس کا اپنا لڑکا ہے۔ !!‘‘
مجتبیٰ خان نے حیرت سے پوچھا۔
’’تو پھر آپ نے سماج سے جھوٹ کیوں بولا۔؟‘‘
سردار بیگم نے کہا۔
’’جھوٹ نہیں بولا بیٹے ۔اِس میں خاندان کی عزت کا سوال تھا۔!!‘‘
کیسی عزت۔؟
تب سردار بیگم نے کہا۔بیٹاماریا کو جب ایر ہوسٹس کی نوکری ملی تو وہ اسی دوران ایک ہندو لڑکے کے دام محبت میں گرفتار ہوگئی۔ پھر اُس سے شادی کرلی ۔جب شموچھ ماہ کا ہوا تو اُس ہندولڑکے نے ماریا کو طلاق دے دی اور بھونرا کسی دوسرے پھول پر جابیٹھا۔ پھر ماریا نے اِس معصوم بچے کو میرے حوالے کردیا کیونکہ شمو کے جسم میں ماریا کاخون بھی تو بہہ رہا تھااور خون کا درد کیا ہوتا ہے یہ کسی سے پوچھنے کی بات نہیں ہے۔!!ساتھ ہی ساتھ اُس نے یہ تاکید بھی کی کہ سماج سے کہنا کہ شمو ماریا کی سہیلی کا لڑکا ہے اورہم نے آج تک سماج سے یہی کہا ہے کہ یہ ماریا کی سہیلی کا لڑکا ہے ۔ اِس راز کو تم بھی اپنے سینے میں دفن رکھنا۔ کیوں کہ یہ خاندان کی ناموس اور عزت کا سوال ہے۔ مجتبیٰ خان نے انگشت اُٹھائی ۔
’’کیاآپ نے ماریا کے بڑھتے قدم کو روکنے کی کوشش نہیں کی ۔!‘‘
سردار بیگم نے کہا۔بیٹے ماریا نے جب خاندانی روایت سے بغاوت کی تو اِس بلڈنگ میں زلزلے ہی نہیں آئے بلکہ بنیاد تک ہل گئی۔ ماریا کی پیدائش پر پرور دگار نے اِس سردار بیگم کے گھر دولت کی جو بارش کی کہ اُس کی بوچھار سے ماریا لاڈو پیار کا گل صنوبر بن گئی۔ اُس کے ہر ناز نخرے کو اِس لیے اُٹھایا گیا کے اسی کے پیچھے اِس گھر میں لچھمی آئی تھی لیکن جب اُس نے بغاوت کے تیور کڑے کیئے تو سردار بیگم کو یہ خیال نہیں رہا کہ بہاروں کے جھونکے اسی کے پیچھے ہوکر آئے تھے۔میں یہ بات بھول گئی کہ میرے لختِ جگر دِلاور خان کے تلوئے میں پڑے چھالے اسی کے چھٹیہار کے دن چھوٹے تھے۔ میں سراپا احتجاج بن گئی اوربے ساختہ کہا کہ ماریا تم چاہے جو کرو لیکن اتنا یاد رکھو کہ ایک ہندو لڑکے کااستقبال بحیثیت اِس خاندان کے داماد کے بلڈنگ کے صدر دروازے پر سردار بیگم کبھی نہیں کرے گی چاہے لچھمی میر ی چوکھٹ سے واپس لوٹ جائے۔!!لیکن ماریا اپنی ضد پر قائم کہ سگائی کی انگوٹھی پہنے گی تو پرکاش کی ورنہ ……!
اِن دنوںمیں نے جس شجر کو نیم کہا ماریا نے اُس میں بوئے حنا تلاش کی۔!!آخر وہ سیاہ ترین رات آئی جب بے لگام جوانی کے جذبے خاندانی عزت کی لچھمن ریکھا کو پار کرلیا۔ اِس کی ماں نرگس بیگم بدحواسی میں میرے پاس آئی اور دھاڑیں مار مار کر روتے ہوئے کہا۔
’’ امّی جان ماریا پرکاش کے ساتھ بھاگ گئی۔!!‘‘
بیٹے اُس وقت چمپئی شام میں فصیل کی سبز بیلوں کی رونقیں ماند پڑتی جارہی تھیں۔شام زینہ بہ زینہ نیچے اُتر رہی تھی اور رات اوپر چڑھ رہی تھی۔ زندگی کے اِس کٹھن موڑ پراِس سردار بیگم نے صبر کیا اور جانماز پر بیٹھ کر تشبیح کے دانے سے کھیلتے ہوئے کہا۔
’’ یا اللہ تمہارے ہر فیصلے مجھے منظور ہے۔ !!‘‘
خاندانی عزت و ناموس کے لُٹ جانے کے بعد دِلاور خان نے اپنا دماغی توازن کھوبیٹھا۔پھر ایسا ہوا کہ اُس کے علاج کے پیچھے گھرکی معاشی زندگی کی کشتی ایسے گرداب میں پھنس گئی کے بادباں نے بھی ساتھ دینا چھوڑدیا۔نسیب وفراز کی اِس زندگی میں انہوں نے بھی انگلیاں اُٹھائیں جن کے جوانی کے دن سیاہ راتوں میں کٹے۔! !اِس کے بعد مت پوچھو مجتبیٰ خان نینوں کے یہ دوکٹورے چھلک چھلک کر خشک ہوگئے۔!!ابھی منجدھار میں پڑی کشتی ہچکولے کھارہی تھی کہ ایک دن آغانسیم خان نے اسی صنوبر کے نیچے بیٹھ کر حساب وکتاب کرتے ہوئے کہا۔
’’ سردار بیگم قرض کی رقم کاسود اصل کے بیس گنا ہوگیا ہے اور ہم کو رقم کی سخت ضرورت ہے۔اب ہم زیادہ دن انتظار نہیں کرسکتے اِس لیے ایک دو دن کے اندر اگر رقم مل جائے تو یہ ہم پر آپ کا احسان ہوگا۔!!‘‘
ایسی حالت میں اِس بلڈنگ اور چھپپن کٹھّازمین کے مالکانہ حقوق اِس کے نام منتقل کرنے کے علاوہ اور کو ئی چارہ نہیں تھا۔ اُس دن میں نے کہا۔
’’ اے پرور دگار تُومیرا اب اتنا بڑا امتحان مت لے۔!!‘‘
اور یہ بات نوکرانی رانو بیگم نے سن لی تھی۔ اسی رات اُس نے مقصود خان کے کانوں تک یہ خبر پہنچائی کہ سردار بیگم آج کہہ رہی تھیں کہ حرم شریف میں بھی میںنے پردے کا اہتمام کیا۔اب کس طرح عدالت میں نقاب اُٹھا کر ایک غیر محرم کے سامنے اپنی جائیداد کی منتقلی کے کاغذات پر دستخط کروں گی۔!!
پھر کیا تھا ۔مرنے والے کو اللہ جنت نصیب کرے۔ انہوں نے اسی صنوبر کے نیچے ڈھلتے سورج کی چھاؤں میں بٹوہ کھول کر آغانسیم خان کا تمام قرض سود کے ساتھ چکادیا۔ بدلے میں جائیداد کی منتقلی کے لیے پہلے تمہاری پر دادی کو عدالت میں کھڑا کرنے کامنصوبہ بنایا پھر نہ جانے کیوں ایک دن انہوں نے کہا۔
’’سردار بیگم اِس بلڈنگ او ر گھاگرا کے کنارے چھپپن کٹھّازمین کی مالک تادمِ مرگ تم ہی رہو گی۔!!‘‘
تب میں نے کہا۔
’’اتنابڑا ظلم مت کیجئے حضور۔ہمیں اللہ کے یہاں منہ بھی دیکھانا ہے۔!!‘‘
کچھ دیر خلائوں کو گھور کر انہوں نے کہا۔
’’میں تمہاری جنت کا حقدار بننے کی راہوں میں آڑے نہیں آؤں گا سردار بیگم لیکن یہ راز کی بات صرف میں تم اور تمہارا شوہرجمعن خان جانے کہ جب میری دوسری پُشت آئے اُس وقت اگر تم حیات رہو تو کوئی بات نہیں ورنہ مرنے سے پہلے اپنے جانشین کو یہ وصیت کردینا کہ وہ میری دوسری پُشت کے سب سے لائق وارث کو اِس بلڈنگ اور چھپپن کٹھّازمین کے مالکانہ حقوق منتقل کردے۔!!‘‘
سردار بیگم نے لمبی سانس لے کر کہا۔
’’مجتبیٰ خان زندگی کے ایک سو پانچ برسوںکے جوار بھاٹا دیکھنے کے بعداب میں قبر میں پاؤں لٹکائے بیٹھی ہوں اور دیکھ رہی ہوں کہ میرے بعد میرے آل اولاد اِس وصیت کا بھرم نہیں رکھے گی ۔اِس لیے میں چاہتی ہوں کہ میں اپنی زندگی میں ہی تمہارے پردادامقصود خان سے کیئے گئے وعدے کو پورا کردوں۔میری نظر میں مقصود خان کی اِس وراثت کا تم سے بہتر حقدار اور کوئی نہیں ہوگا۔! !‘‘
مجتبیٰ خان کے چودہ طبق روشن ہوگئے۔ بہت دیر تک وہ گم سم بیٹھا رہا۔اِس دوران اُس کی آنکھوں کے پردے پر ایک سے ایک منظر آتے اور جاتے رہے کہ اچانک اُس کی آنکھوں کے پردے پرصنوبر کے نیچے دو معصوم بچوں کی تصویر اُبھری جس میں ایک بچہ دوسرے کا گریباں پکڑکرکہہ رہا ہے ۔
’’تم میری مسجد میں مت جانا تم ہندو ہے ہندو…..!!‘‘
مجتبیٰ خان کے دل کے پاس کوئی چیز سلگنے لگی اور درد کا احساس ہونے لگاکہ اتنے میں خاموش فضا کو چیرتی آواز اُس کی سماعت سے ٹکرائی۔
’’بیٹے مجتبیٰ کس سوچ میں ڈوب گئے۔!!فیصلے کی گھڑی آگئی ہے ایسی گھڑی میں زیادہ سوچ بچار ٹھیک نہیں ہے۔چلو کل ہم دونوں کچہری چلتے ہیںتاکہ مرنے سے پہلے نصف صدی سے زائدکا یہ بوجھ میں اپنے دل سے اُتاردوں۔!!‘‘
مجتبیٰ خان اب بھی خاموش بیٹھا رہا اور سردار بیگم کے چہرے کی جھرّیوں میں نصف صدی سے زائدکے کرب کو مچلتے دیکھتا رہا اور یادوں کا دریا چڑھتا رہا۔ چڑھتے چڑھتے سورج ڈھلنے کے قریب آگیا۔ شجر کی شاخوں پر بیٹھے پرندوں کی واپسی اپنے اپنے گھونسلے کی طرف ہونے لگی اور دن کا فرشتہ آہستہ آہستہ رات کے سمندر میں اُترنے لگا۔ کائی زدہ فصیل پر بیٹھا کبوتر اب بھی کچھ سوچ رہا ہے۔ڈوبتے سورج ،دن کے بھیگتے دامن،اور دورجا تے پرندوں کے لمبے ہوتے سائے کو دیکھتے ہوئے مجتبیٰ خان نے آہستہ سے منہ کھولا۔
’ ’سردار بیگم میری رگوں میں مقصود خان کا خون بہتا ہے۔ جس نے زمانے کے بہت سے نسیب وفراز کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔آپ جب کہتی ہیں کہ میں مقصود خان کی اِس ملکیت کا وارث ہوں تو آپ کل کچہری چلیں اور میری اجازت سے میرے پرکھوں کی اِس ملکیت کی منتقلی اِس نام پر کردیں۔ !!‘‘
سردار بیگم نے پلٹ کر قدِآدم کھڑکی سے باہر دیکھا ۔گھاگرا کی موجیں اُپھان پر ہیں۔ دور فضاؤں میں سفید مرغابیوں کے لہراتے پراور شفق پر بکھری سورج کی لالی کے درمیان ایک روشن جگمگاتا ستارہ۔یہ ستارہ شمو کی مقدّر کا ستارہ تھا!!سردار بیگم کی بوڑھی نگاہیں ٹکر ٹکر مجتبیٰ خان کے چہرے کو دیکھتی رہ گئیں جس پر و ہی سرخی سمٹ آئی تھی جس کو انہوں نے مجتبیٰ خان کے پردادا کے چہرے پر آنگن میں صنوبر کے نیچے بٹوے کو کھول کر آغا نسیم خان کے قرض کو چکاتے ہوئے دیکھا تھا۔!!!
٭٭٭

