ڈاکٹر ابوا للیث صاحب سے خبر ملی کہ فرخ جعفری صاحب کا لکھنؤ میں انتقال ہوگیا۔ ساری عمر انھوں نے الٰہ آباد میںگذاری اور آخر وقت میں اپنی بیٹی داماد کے پاس لکھنؤ چلے گئے۔ گھر باہر وہ کہیں بھی ہوتے تو پتہ نہ ملتا۔ وہ ایک گمشدہ آدمی تھے، زندگی میں بھی اور موت میں بھی۔بہت عرصے بعد یہ بات معلوم ہوئی کہ وہ اب الٰہ آباد میں نہیں بلکہ لکھنؤ میں ہیں۔ لکھنؤ میں کس جگہ رہتے ہیں، یہ مجھے کبھی معلوم نہیں ہوسکا۔
یہ پچیس تیس سال کے عرصے پر پھیلی ہوئی ایک طویل داستان ہے جس کا بیشتر حصہ اب یادداشت میں موجود نہیں ہے۔ ’شب خون‘ اردو ماہ نامے کا پتہ تھا: ۳۱۳ رانی منڈی، الہ آباد ۳۔ وہیں فرخ صاحب سے پہلی ملاقات غالباً ۱۹۷۳میں ہوئی۔ دفتر میں اندھیرا ساتھا ۔ دو تخت تھے، ایک پر ’شب خون‘ کا اور دوسرے پر کتابوں کا انبار سا لگا تھا اوردرمیان میں لمبی میز تھی۔ دوسری طرف تین اجنبی بیٹھے ہوئے تھے۔ دو اجنبی چٹر پٹر بول رہے تھے اور ایک بالکل خاموش، مگرکبھی کبھی کچھ دھیرے سے بول پڑتا۔ یہی فرخ جعفری تھے۔ دونوں زیادہ بولنے وا لے حضرات رئیس فراز اور سید ارشاد حیدرتھے (یہ دونوں فرخ سے پہلے مرحوم ہوچکے)۔پھر تو لگاتار ملاقاتیں ہوتی رہیں اور یہ سلسلہ تقریباََ بیس سال پر محیط ہے۔ ادبی نشستوں میں برابر ساتھ رہا۔ ان صحبتوں نے میری شعر گوئی پر جلا کردی۔ شعر گوئی میں بھی مسابقت ہوتی تھی کہ اچھے سے اچھا شعر کہا جائے۔ آخر وہ دن بھی آیا جب سہیل احمد زیدی اور فرخ جعفری کے ساتھ خاکسار کا مجموعۂ کلام بھی شائع ہوا اور تینوں کتابوں کی ایک ساتھ رسم اجرا شمس الرحمٰن فاروقی کے ہاتھوں الٰہ آباد میں ہوئی۔
فرخ جعفری کا دوسرا مجموعۂ کلام کئی سال بعد ’’ اک ذرا سا بوجھ‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔ اس میں پہلے مجموعے کی بھی چند غزلیں شامل کی گئیں ۔ فرخ جعفری کی شخصیت میں خاموشی بہت تھی۔ کبھی کبھی جب وہ گفتگو کرتے تو معلوم ہوتا کہ کسی اور سے بات کررہے ہیں۔ دوسری بار میں معلوم ہوتا کہ مجھ ہی سے کچھ کہہ رہے ہیں۔ آخری دنوں میں یہ کیفیت بہت بڑھ گئی تھی۔ مجھے ان کی غزلوں میں بارہا ایک ’’ماورائی گم شدگی‘‘ کی کیفیت سی محسوس ہوتی ہے۔ یہ میرا اپنا احساس ہے۔
فرخ صاحب سال بھر میں دو چار غزلوں سے زیادہ نہیں کہتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی عمر کو دیکھتے ہوئے غزلوں کی تعدادبہت کم معلوم ہوتی ہے۔ مجھے اپنی زندگی کے وہ پر مسرت دن اب بھی یاد ہیں جب میں سنیچر کے دن اپنے اسکول سے، جہاں میں اردو پڑھاتا تھا، چار بجے چھٹی ہونے پر سیدھا الٰہ آباد کے لیے اپنی سائیکل موڑ دیتا تھا۔ گھر والوں کو یہ بات معلوم تھی کہ ماسٹرصاحب آج گھر لوٹ کر آنے والے نہیں۔
سنیچر کی رات ایک دوست کے یہاں گذارکر صبح فرخ صاحب کے دولت کدے پر آواز لگاتا،اور وہ دروازے پر مسکراتے ہوئے نمودار ہوجاتے۔ یہ چائے کا وقت ہوتا،پھر چائے چلنے لگتی، ایک بار کبھی دو بار ساتھ میں کچھ اور بھی ۔ شب خون کی باتیں ، ادب اور تنقید کی باتیں اور کچھ ادبی لڑائی جھگڑے، جن میں مخالف محاذ پر اکثر حقیقتاََ اور کبھی کبھی قیاساََ ترقی پسند ادیب و شاعر موجود ہوتے۔ خوب باتیں ہوتیں، پھر وہ تیار ہوجاتے کہ چلو بھائی فراز صاحب کی طرف ۔ وہاں پھر چائے چلتی ۔اب کہاں ؟ بس پڑوس میں ارشاد حیدر سے بھی مل لیا جائے۔پھر ارشاد حیدر تیار ہوجاتے اور کہتے کہ چلو بھئی آج ساحل احمد صاحب سے بھی مل آتے ہیں۔ یہ ایک ہفتے کی بات نہیں ۔ یہ سلسلہ تقریباََ ہر ہفتے چلتا ، کبھی کبھی تھوڑا فرق ہوجاتا بس۔
میں نے عرض کیاکہ وہ میری زندگی کے پر مسرت دن تھے ۔ خاص طور پر وہ لمحات جب اسکول کی چھٹی ہوتی (اس زمانے میں چھٹیاں خوب ہوتی تھیں)تو سیدھے اے جی آفس پہنچ جاتا ۔پہلے فرخ سے ملتا، ان کو لے کر رئیس فراز اور ارشاد صاحب چاروں باہر نکلتے ہوئے کبھی ا حترام اسلام کو آواز دے لیتے۔ باہر کینٹین میں چائے وائے چلتی اور ساتھ کے ساتھ بحث جاری رہتی۔ پھر بڑے لان میں ہم سب بیٹھ جاتے ۔ نئی غزلیں اور اشعار سنے سنائے جاتے۔کبھی کبھی احترام اسلام کے ادبی رفیق ہندی والے بھی آجاتے۔ احترام ہندی میں بھی غزلیں لکھتے اور ہندی والے انھیں بہت چاہتے تھے۔ اسی درمیان ہندی نظمیں اور غزلیں بھی چلنے لگتیں۔ عجیب وغریب منظر ہوتا۔ آزادی اور اختیار سے بھر پور۔ اس وقت تو بادشاہ کیا ہیں!
ایک مرحلہ ایسا آیا جسے بیان کرنا چاہتا ہوں، لیکن قلم رک سا جاتا ہے۔ فرخ جعفری کم بولتے تھے ، آہستہ بولتے تھے اور حیا دار مزاج رکھتے تھے۔ ایک بار مجھے محسوس ہوا کہ کہیں دل اٹک گیا ہے۔ آفس سے باہر نکل کر ایک خاص جگہ کھڑے ہوجاتے اور نگاہیں بچا کرایک طرف دیکھتے۔ میں بھی ادھر دیکھتا ۔ اوہ! یہ تو اے جی آفس کی خواتین کرام کا مجمع ہے۔ فرخ کی نگاہ کا تعاقب کرتا تو کچھ کچھ سمجھ میں آتا۔ ایک بار بہت دور تک سائیکل چلائی گئی ۔ غالباََ محترمہ کے مکان کے سامنے سے گذرے ،نگاہ بچا کر دیکھتے ہوئے۔ بہر حال کچھ دن کے بعدیہ طوفان تھم گیا،لیکن پھردوسرا طوفان شروع ہوا۔ فرخ جہاں شادی کرنا چاہتے تھے وہاں گھر والے تیار نہیں تھے ۔ بڑی کشمکش کے بعد نکاح وغیرہ ہوا۔پھر گھر چھوڑکر دوسری جگہ رہنے لگے ۔ آگے چل کرفرخ نے کریلی کالونی میں اپنا مکان بنوا لیا۔ وہاں بھی میں ۱۹۹۵سے پہلے تک حاضر ہوتا رہا۔۱۹۹۵ میں مجھے ملازمت کی وجہ سے الٰہ آباد چھوڑنا پڑا، اور یہ لمبا عرصہ تھا تقریباََ بیس سال کا ۔اس دوران میں الہ آباد آتا جاتا اور کبھی کبھی ان سے ملاقات ہوجاتی ۔ پھر فرخ ریٹائر ہوکر گھر رہنے لگے۔
الٰہ آباد میں سہیل احمد زیدی مرحوم نے ایک ادبی نشست کا آغاز کیا تھا۔ یہ ہر ماہ کے آخری اتوار کو منعقدہوتی ۔اس سے بڑی برکت ہوئی ، اچھے شاعر اچھے اشعار۔’’ادارۂ فن و ادب‘‘کی اس محفل نے ہم جیسے کتنوں کی تربیت کی تھی۔ فرخ صاحب اس کے اہم ستون تھے اور خوب سرگرم رہتے۔ مگر کہاں تک ،ع
جہاں پاؤں رک جائیں منزل وہی ہے
فرخ جعفری کی شاعری میں ایک خاص کیفیت ہے۔ جتنے شعر کہتے انتخاب ہوتے، پانچ شعر سے زیادہ کی غزل شاید ہی کہی ہوگی۔ غزل میں ایک دو شعر ہمیشہ بڑے غضب کے ہوتے ۔ ہم سب ان کا منھ دیکھتے رہ جاتے۔میں اس کیفیت کو آج ’’ ماورائی گم شدگی‘‘ کا نام دے سکتا ہوں۔ بس مجھے ایسا لگتا ہے کہ فرخ کسی اور دنیا کی بات کرتے ہیں،کہیں اور رہتے ہیں،کسی اور سے باتیں کرتے ہیںاور اسی سے اپنے اشعار کے ذریعے کچھ کہنا چاہتے ہیں۔کیا کہنا چاہتے ہیں،ایک طویل خاموشی!
کوئی مکاں نہ کوئی مکیں دور دور تک
خالی پڑی ہوئی تھی زمیں دور دور تک
۔۔
اب شہر کا سناٹا ویرانے سے ملتا ہے
آواز لگائی تو بولا ہی نہیں کوئی
تھک ہار کے آبیٹھے اس پیڑ تلے آخر
جس پیڑ تلے فرخ سایہ ہی نہیں کوئی
اس غزل کا مطلع خود ان کی سوانح حیات کا ایک اشارہ ہے:
اس راز کے باطن تک پہنچا ہی نہیں کوئی
کیوں لوٹ کے گھر اپنے آیا ہی نہیں کوئی
ان کے اشعار میں حزن کا ایک عنصر چھایا ہوا رہتا ہے۔
خود ہی پیاسا تھابھلا پیاس بجھاتا کس کی
سر پہ سورج کو لیے ابر رواں میں ہی تھا
یہ حزنیہ لہجہ پھیلتا اور بڑھتا جاتا ہے ،اور عجیب ویرانی پیدا کرتا ہے۔کسی زمانۂ رفتہ کی طرف جانا چاہتا ہے،تب جب شادابی تھی،اور جانے کیا کیا !
اس وقت جدید غزل گو شعرا کی طوطی بو ل رہی تھی ۔’شب خون‘ کے صفحات پر جدید وقدیم کی بحث چھڑی رہتی تھی ۔کیا غزل اور کیا افسانہ،ایک دھوم مچی ہوئی تھی ۔آج کے سناٹے میں پیدا ہونے والے اس دور کے ہنگامے کا اندازہ نہیں کرسکیں گے۔فرخ جعفری کی خاص پہچان تھی، دھیما لب ولہجہ ،حزن،خاموشی اور ایک جاوداں گم شدگی کا احساس ۔اوروں کے کلام میں یہ مناظر بہت کم تھے یا بالکل نہ تھے ۔ہاں،ایک بناوٹ ،کچھ خاص قسم کے الفاظ کی تکرار جس میں جدت احساس کی کبھی کبھی کمی بھی محسوس ہوتی تھی۔لیکن فرخ جعفری کی طبع زادیت ،ایک انفرادی حساسیت کے ساتھ جاری تھی۔جیسے یہ سدا سے جاری ہے اورجاری رہے گی ۔مطلب یہ کہ وہ آدم سے جاری ابن آدم کی جذباتی اور وارداتی روایات کے امین تھے۔وقتی اور ہنگامی کوئی شے نہیں ۔یہ میرے احساسات ہیں، کسی کا اتفاق کرنا ضروری نہیں ہے۔ذرا مندرجہ ذیل اشعار دیکھئے ۔یہ اشعار اردو غزل کی روایت میں اضافہ کہے جا سکتے ہیںیا نہیں :
ہم نے خود اس کو فراہم کیے اس کی خاطر
دوریوں کے جو بہانے اسے درکار ہوئے
۔۔۔
بھرا تھا دل کا خزانہ نہ خالی ہونے کو
پر اس کا صرف ہمیں کو ہنر سے آیا نہیں
میری آواز پہ بولا نہ کوئی
چل پڑا جب تو صدا دی کس نے
۔۔۔
بہت دنوں سے میں اس کی تلاش میں گم ہوں
وہ ایک لفظ جو فرخ مجھے بیاں کردے
اس آخری شعر پر فاروقی صاحب مرحوم نے لکھا ہے’ ’ایسا لفظ کہیں ہے ہی نہیں ۔اس لیے بے زبانی ہی مقدر ہوگئی۔ ‘‘شمس الرحمن فاروقی نے فرخ کے دوسرے مجموعۂ کلام ’اک ذرا سا بوجھ‘پر ایک مختصر لیکن انتہائی اہم مقدمہ لکھا ہے۔اس میں فرخ کے کلام کی گہرائی ،پس منظر،اطراف اور جہات بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔فرخ جعفری کی غزل کوسمجھنے کے لیے یہ مقدمہ بہترین رہبر ثابت ہوتا ہے۔اس کے علاوہ یہ مقدمہ جدید غزل اور جدید غزل گو شاعر کو سمجھنے کا ایک تنقیدی زاویہ بھی فراہم کرتا ہے ۔وہ لکھتے ہیں:
’’فرخ جعفری کا کوئی مسئلہ طے نہیں ہوتا ،جب بھی کچھ طے کرنے کی کوشش ہوتی ہے توکچھ بات ایسی ہوجاتی ہے جو ان کا مقدمہ فیصل نہیں ہونے دیتی۔۔۔۔یہاں ہر بات کے پیچھے ایک اور بات ہوتی ہے۔۔۔۔فرخ جعفری کے یہاں غم جاناں کا ذکر بہت کم ہے اور’’ دوراں‘‘ تو یہاں بہت ہی کم نظرآتا ہے۔‘‘
میں اگر اپنے دل کی بات کہنا چاہوں تو کہوں گا کہ فرخ کے اشعار ہمیشہ میرے ساتھ رہیں گے۔ یہ ہمارے واردات ہیں اور ان کی زبان واسلوب انسان کے باطن سے بے حد قریب ہے۔نئے شاعروں سے نئی غزل کے عمدہ شاعر سہیل احمد زیدی کو ایک شکایت تھی اوربجا تھی۔انھوں نے کہا تھا کہ قدیم شعرا کے اشعار یاد ہوجاتے ہیں،جدید شعرا کے کیوں نہیں ہوتے؟دراصل ’’وقت کا فیشن‘‘ بری بلا ہے،اچھے اچھوں پر سوار ہوجاتا ہے۔پھر شاعر یا فنکار باہر زیادہ دیکھتا ہے،اندر کم دیکھتا ہے۔اور یہاں سے ابن آدم کی ابن آدم سے دوری شروع ہوجاتی ہے۔فن ہو، تہذیب ہو ،معاش ہو ،مذہب ہو،سیاست ہو،یہ قانون ہر جگہ لاگو ہوتا ہے(مجھے معاف کیجئے گا)۔
فاروقی صاحب نے اپنے مضمون کے آخر میں فرخ کی غزل کے چند اشعار پیش کیے ہیں اور تبصرہ کیا ہے ۔اشعار اور تبصرہ پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے ۔پہلے اشعارملاحظہ ہوں:
کوئی موسم ہو کچھ بھی ہو سفر کرنا ہی پڑتا ہے
ادھر سے بوجھ کاندھے کا ادھر کرنا ہی پڑتا ہے
کہاں جاتے ہیں کیا کرتے ہیں کس کے ساتھ رہتے ہیں
ہمیں اپنا تعاقب عمر بھر کرنا ہی پڑتا ہے
کھلا رکھیں نہ رکھیں گھر کا دروازہ مگر فرخ
سفر آنکھوں کو تا حد نظر کرنا ہی پڑتا ہے
اب فاروقی کا تبصرہ ملاحظہ کریں:
ایسی بھر پور ،ایسی شائستہ غزل ہمارے زمانے میں کم ملے گی ۔یہ ضرور ہے کہ فرخ جعفری کی دنیا بہت تنگ اور ذرا خوف انگیز ہے۔لیکن ایسی تنگی سے واسطہ کبھی کبھی بیدل کو اور کبھی کبھی میر کو بھی پڑا تھا ۔فرق یہ ہے کہ وہ لوگ اس کے باہر بھی نکل جاتے تھے ۔مگر دنیا ان پر بھی تنگ تھی اس میں کچھ شک نہیں ؎
ہمت چہ قدر زیر فلک بال کشاید
پست است بحد ے کہ دریںخانہ ہوا نیست (بیدل)
زیر فلک رکا ہے اب جی بہت ہمارا
اس بے فضا قفس میں مطلق ہوا نہیں ہے (میر)
اب مجھے اپنے سوال کا جواب ملتا ہے ۔شروع میں میں نے کہا تھاکہ فرخ کے کلام میں ایک’ ماورائی گم شدگی‘کا احساس ہوتاہے۔کیوں نہ ہو کہ ہر سچے فنکار اور شاعر کی طرح ان کا جی بھی اس بے فضا قفس (دنیا)میں بہت رکا ہوا تھا ۔یہاں مجھے بے ساختہ بانی کا شعر یادآتا ہے:
کون تھا میرے پرتولنے پر نظر جس کی تھی
جس نے سر پر مرے آسماں رکھ دیا کون تھا
بہت پہلے فرخ کے لیے میں نے چند شعر کہے تھے۔ مناسب ہے کہ اپنے مضمون کے آخر میں ان کو پیش کردوں۔ اس کے علاوہ اپنے محترم پیارے دوست کے لیے اور میں کر بھی کیا سکتا ہوں:
فرخ تری غزلوں میں دھواں کس کے لیے ہے
کچھ بول کہ یہ درد نہاں کس کے لیے ہے
گھنگھور میں کیا نقش چمک اٹھتے ہیں ہر بار
باراں میں شرر برق رواں کس کے لیے ہے
حسرت سے میں تکتا ہوں تری گمشدگی کو
کیا بے خبری ہے یہ میاںکس کے لیے ہے
گرداب سا اپنی ہی طرف سارا سفر کیوں
یہ وحشت غرقابی جاں کس کے لیے ہے
وہ گونج خموشی کہ مٹادیتی ہے سب کچھ
یہ اس میں بیاں زیر بیاں کس کے لیے ہے
اب حرف کر آغاز کہ درویش جہاں گرد٭
تو کون ہے اور خاک نشاں کس کے لیے
٭فرخ جعفری کے پہلے مجموعۂ کلام کا نام ’’حرف آغاز‘‘ ہے۔
مضمون نگار کا تعلق الہ آباد سے ہے ۔
گورنمنٹ پی جی کالج محمود آباد ،سیتا پور کے شعبہ اردو میں استاد رہے ہیں ۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

