سوال (41)
بنک میں رکھی ہوئی رقم پر جو سود کے پیسے ملتے ہیں ، کیا اسے کسی عام ضرورت مند کو دیا جا سکتا ہے ؟
جواب :
جی ہاں ، اسے اپنے استعمال میں نہیں لانا چاہیے ، کسی بھی غریب اور ضرورت مند کو دیا جاسکتا ہے؟
سوال (42)
ایک خاتون کی طبیعت روزہ کی حالت میں بہت خراب ہو گئی – انہیں سانس لینے میں دشواری ہو رہی تھی _ انہیں پانی پلایا گیا اور دواخانہ لے جایا گیا _ کیا انہیں کفارہ ادا کرنا ہوگا؟
جواب :
ان پر کفّارہ نہیں عائد ہوگا ، قضا کافی ہے_
سوال (43)
بعض اوقات عشاء کی نماز میں مسجد دیر سے پہنچنے پر جماعت چھوٹ جاتی ہے اور تراویح کی نماز شروع ہوجاتی ہے _ اس صورت میں عشاء کی نیت سے تراویح میں شامل ہوکر عشاء مکمل کرنا درست ہے ، یا عشاء کی نماز الگ سے ادا کرنی ہوگی؟
جواب :
اولاً وقت سے پہلے مسجد پہنچنا چاہیے _ عشاء فرض ہے ، تراویح نفل ہے _ فرض کی جماعت چھوڑ دی جائے اور نفل باجماعت پڑھی جائے ، یہ بے وقوفی ہے _ اگر عشاء چھوٹ جائے تو پہلے اسے ادا کیا جائے ، بعد میں تراویح میں شامل ہوا جائے _
سوال (44)
کیا کسی مستحق کو زکوۃ کی رقم میں سے کھانے کی اشیاء وغیرہ خرید کر دی جا سکتی ہیں؟
جواب :
جی ہاں ، دے سکتے ہیں _
سوال (45)
پہننے کے زیورات پر زکوٰۃ کس حساب سے ادا کی جاے گی؟ جو زیور گھر پر ہوتا ہے اس کو اگر بیچا جائے تو کم قیمت لگائی جاتی ہے _ کچھ وزن میں بناوٹ کے وقت شامل کی گئی اشیاء کو کاٹ کر خریدتے ہیں _ اس صورت میں زکوۃ کس قیمت پر ادا کی جائے ؟
جواب:
زیور کی اس وقت مارکیٹ میں جو قیمت ہے اس کا حساب کرکے زکوٰۃ نکالی جائے _
سوال (46)
کیا تراویح کی ہر دو رکعت کے لئے الگ الگ نیت کرنی چاہیے ، یا بیس رکعت کے لیے ایک ساتھ نیت کی جا سکتی ہے؟
جواب :
نیت ارادہ کا نام ہے ، نیت زبان سے ادا کرنا ضروری نہیں ہے _ آپ جب کھڑے ہوئے ہیں تو تراویح کے لیے کھڑے ہوئے ہیں ، یا ظہر کی نماز پڑھنے کے لیے ، یہ آپ کو معلوم ہونا چاہیے ، بس کافی ہے _
سوال (47)
ایک شخص کرایے کے گھر میں رہتا ہے _ اس نے نیا گھر خریدنے کے لیے بیس لاکھ اپنے بینک اکاؤنٹ میں جمع کیا ہے ۔ اتنی رقم میں گھر دست یاب نہیں ہے ۔ وہ اس میں اور جمع و اضافہ کر کے گھر خریدنا چاہ رہا ہے _ کیا جمع شدہ رقم پر زکوٰۃ عائد ہوگی ؟
جواب :
وہ مذکورہ رقم پر ایک برس پورا ہونے سے پہلے گھر خرید لے تو اس پر زکوٰۃ نہیں عائد ہوگی _ اگر رقم ایک برس تک رکھی رہے تو اس پر زکوٰۃ ادا کرنی ہوگی _
سوال (48)
سیلری پر زکوٰۃ کیسے نکالیں؟
جواب :
سیلری میں سے جو پیسے سال بھر تک باقی رہیں ، ان پر زکوٰۃ ادا کرنی ہوگی _ ایک سال سے پہلے خرچ ہوجائیں تو ان پر زکوٰۃ نہیں ہے _
سوال (49)
ملازمت پیشہ افراد اپنی زکوٰۃ کیسے نکالیں؟ ہر مہینے ان کے اکاؤنٹ میں مشاہرہ کے پیسے آتے رہتے ہیں اور خرچ ہوتے رہتے ہیں _
جواب :
وہ زکوٰۃ نکالنے کے لیے کوئی وقت طے کرلیں _ مثال کے طور پر طے کرلیں کہ پندرہ رمضان کو زکوٰۃ نکالیں گے _ اب دیکھیں کہ پندرہ رمضان کو ان کے اکاؤنٹ میں کتنے پیسے ہیں؟ مثال کے طور پر اکاؤنٹ میں پانچ لاکھ روہے ہیں – ان میں سے کچھ پیسے ایسے ہوں گے جن پر سال گزر گیا ہوگا ، کچھ پر ابھی سال نہیں گزرا ہوگا – انہیں سب کی زکوٰۃ نکالنی ہوگی ، بشرطے اکاؤنٹ میں پورے سال اتنے پیسے رہے ہوں جو زکوٰۃ کے نصاب کے برابر ہوں _
سوال (50)
میرے پاس رہائش کے لیے ایک مکان ہے _ اس کے علاوہ دو فلیٹ اور ہیں ، جن کے کرایے سے گھر کا خرچ چلتا ہے _ کیا حاصل ہونے والے کرایے پر بھی زکوٰۃ ادا کرنی ہوگی؟
جواب :
مکان یا فلیٹ پر زکوٰۃ نہیں ہے ، چاہے رہائش کے لیے ہو ، یا کرایے پر اٹھا ہوا ہو – کرایے سے جو پیسے حاصل ہوں اگر وہ ایک سال تک محفوظ رہیں تو ان پر زکوٰۃ عائد ہوگی _
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

