سوال (51)
اگر کوئی شخص بیماری کی وجہ سے روزہ نہیں رکھ پارہا ہے تو اس کا فدیہ کیا ہے؟
جواب :
اگر بیماری ایسی ہے کہ اس سے شفا کی امید ہے تو بعد میں اس کی قضا کی جائے گی _ اگر آئندہ بیماری ہمیشہ باقی رہنے والی ہے تو روزہ کا فدیہ ادا کرنا ہوگا _ ایک روزے کا فدیہ دو وقت کا کھانا ہے _
سوال (52)
کیا زیور کی زکوٰۃ ہر سال نکالنی ہے یا صرف ایک بار؟
جواب :
زیور ہو ، یا نقد روپے ، یا مالِ تجارت ، اس کی زکوٰۃ ہر سال نکالنی ہے _ حدیث میں زکوٰۃ واجب ہونے کے لیے ‘حولانِ حول’ کی شرط عائد کی گئی ہے ، یعنی مال پر جب بھی سال گزرے گا ، زکوٰۃ ادا کرنی ہوگی _
سوال (53)
کیا بیوی کے زیورات کی زکوٰۃ نکالنا شوہر کی ذمے داری ہے؟
جواب :
جو مالک ہو اس کی ذمے داری ہے _ زیور بیوی کے ہیں تو ان کی زکوٰۃ بیوی کے ذمے ہے ، البتہ شوہر نکال دے تو زکوٰۃ ادا ہوجائے گی _
سوال (54)
عورت کے پاس صرف 4 تولہ سونے کا زیور ہے – نہ چاندی کا زیور ہے ، نہ نقد ہے تو کیا اس پر زکوٰۃ ہے؟
جواب :
اگر کسی عورت کے پاس نہ چاندی کے زیورات ہوں نہ نقد رقم ہو تو ساڑھے سات تولہ سے کم سونے کے زیورات پر زکوٰۃ نہیں ہے _
سوال (55)
ایک عورت خاتون خانہ ہے _ اس کے پاس زکوٰۃ نکالنے کے لیے کچھ رقم نہیں ہے _ وہ کیا کرے؟
جواب :
کوئی عورت خاتون خانہ ہو اور اس کو معلوم ہو کہ اسے ایک سال بعد زکوٰۃ نکالنی ہے تو وہ اس کا انتظام کرنے کو سوچے گی _ کوئی بھی عورت پورے سال تہی دست نہیں رہتی _ روزانہ سبزی ، سودا اور گھریلو سامان کے لیے ملنے والے پیسوں میں سے اگر وہ کچھ بچاتی رہے تو سال بھر میں اتنی رقم اکٹھا ہوسکتی ہے کہ وہ اپنے زیورات کی زکوٰۃ ادا ہوسکے _
سوال(56)
اگر کوئی شخص حفظ ما تقدم کے طور پر ایسی چیز کھایے یا پیے جس سے بھوک یا پیاس کا احساس کم ہو جاۓ تو کیا اس کا یہ عمل صحیح ہوگا ؟
جواب :
ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں _
سوال (57)
کیا کاشت کی زمین پر زکوٰۃ ہے؟
جواب :
کاشت کی زمین پر زکوٰۃ نہیں ہے _ اس کی پیداوار پر زکوٰۃ ہے _ اگر کھیت میں سینچائی کی ہے تو 5%(اسے نصف عُشر کہتے ہیں)، ورنہ 10 % (اسے عُشر کہتے ہیں)
سوال (58)
کوئی پلاٹ اس ارادے سے خریدا کہ اسے فروخت کرکے منافع کمائیں گے _ کیا اس پر زکوٰۃ ہے؟
جواب :
پلاٹ اگر تجارت کے مقصد سے خریدا گیا ہے تو اس پر زکوٰۃ ہے ، ورنہ نہیں _
سوال (59)
میرے ایک دوست پر ڈیڑھ پونے دو لاکھ کا قرض ہے اور اس کے پاس تقریباً چار پانچ لاکھ روپے ہیں اور وہ بھی بٹے ہوئے ہیں ، یعنی قرض دے رکھا ہے – کیا اس پر زکوٰۃ ہے ؟
جواب :
قرض منہا کرکے باقی پر زکوٰۃ ہے _ جو مال دوسروں کو دے رکھا ہے اس پر زکوٰۃ ادا کرنی ہے _
سوال (60)
کیا سید کو زکوٰۃ نہیں دے سکتے؟
جواب :
کوئی سید غریب ہو تو اس کی ضرور مالی مدد کرنی چاہیے ، لیکن زکوٰۃ میں سے نہیں _ زکوٰۃ تو مال میں صرف 2.5% ہے _ سید کو باقی 97.5%میں سے دینا چاہیے _
سوال (61)
ایک صاحب ڈپریشن کا شکار ہیں _ کیا اس حالت میں وہ روزہ چھوڑ سکتے ہیں ؟
جواب:
طبیعت ٹھیک نہیں تو وہ ابھی روزہ نہ رکھیں ، قاعدے سے اپنا علاج کرائیں _ صحت ٹھیک ہو جائے تو قضا کریں _
سوال (62)
سیلری سے کٹنے والے mandatory PF اور Voluntary PF پر زکوٰۃ کا کیا حکم ہے؟
جواب :
کٹنے والے لازمی پی ایف (Mandatory PF) پر زکوٰۃ نہیں _ اختیاری طور پر کٹائے جانے والے پی ایف (Voluntary PF) پر زکوٰۃ ہے _
سوال (63)
ایک عورت کو میکے سے کچھ زیور ملے تھے ، جو اس نے اپنی بیٹی کے لیے محفوظ کر رکھے ہیں _ اس کے علاوہ اس کے پاس تقریباً چار تولے کی چوڑیاں ہیں ، جنھیں وہ خود استعمال کرتی ہے _ اس کا خاوند اسے پیسے نہیں دیتا کہ وہ ان کی زکواۃ ادا کر سکے اور نہ اس عورت کے پاس اتنے وسائل ہیں کہ وہ اپنی طرف سے زکوٰۃ ادا کر سکے _ وہ کیا کرے؟
جواب :
عورت نے لڑکی کے لیے جو زیور سنبھال کر رکھا ہے اس کا اسے مالک بنا دے _ ہر ایک کے پاس الگ الگ ساڑھے سات تولے سونے سے کم کا زیور ہو تو کسی پر زکوٰۃ نہیں _
سوال (64)
ایک عورت روزے سے تھی _ اس کو دوپہر میں حیض جاری ہوگیا _ کیا اس کا روزہ ٹوٹ گیا؟ کیا اب وہ کھاپی سکتی ہے؟
جواب :
جی ہاں ، اس کا روزہ ٹوٹ گیا _ بعد میں اس کی قضا کرے _ اب وہ کھا پی سکتی ہے ، البتہ روزہ داروں کے سامنے نہ کھائے پیے تو بہتر ہے _
سوال (65)
میرے گردے میں پتھری ہے _ ڈاکٹر نے زیادہ سے زیادہ پانی پینے کو کہا ہے _ کیا میں سحری کے وقت اذان تک پانی پی سکتا ہوں؟
جواب :
عموماً سحری کا وقت ختم ہونے کے بعد فوراً اذان دی جاتی ہے _ اذان تک پانی پیا جاسکتا ہے _ اگر ڈاکٹر نے تھوڑی تھوڑی دیر پر پانی پینے کی تاکید کی ہے تو روزہ نہ رکھیں ، ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق دوائیں استعمال کریں اور خوب پانی پییں _ بعد میں چھوٹے ہوئے روزوں کی قضا کریں _
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

