فضائی آلودگی  – محمد خورشید اکرم  سوز 

by adbimiras
0 comment

دل میں کیسا درد ہے سینے میں ہے کیسی جلن

سانس بوجھل ہو رہی ہے اور طاری ہے گھٹن

 

ہم نے صنعت میں ترقی خوب تو کر لی مگر

بد سے بدتر ہو گیا ماحول پر اس کا اثر

 

جنگلوں کو اس قدر ہم نے کیا برباد ہے

زہر آلودہ ہواؤں سے فضا برباد ہے

 

الٹرا وائلٹ کرن سے جو ہماری ڈھال ہے

اب وہی اوزون سی ایف سی سے خود بے حال ہے

 

صنعتی آلودگی کی ہر طرف یلغار ہے

آکسیجن کی کمی سے زندگی دشوار ہے

 

اب تو ہر ذی روح کو خطرہ بڑا لاحق ہوا

کس طرح باقی رہے گا زیست کا یہ سلسلہ

 

دل میں کیسا درد ہے سینے میں ہے کیسی جلن

سانس بوجھل ہو رہی ہے اور طاری ہے گھٹن

 

آؤ مل کر ہم سبھی ماحول کی رکچھا کریں

آ گیا ہے سامنے جو دور وہ خطرہ کریں

 

چمنیوں سے بند ہو اب زہر آلودہ دھواں

مت کرو اپیوگ ہر گز  پالی تھن کی تھیلیاں

 

آؤ مل جل کر  لگائیں  پیڑ  پودے بےشمار

ختم ہو آلودگی اور ہر طرف چھائے بہار

☆☆☆☆☆

You may also like

Leave a Comment