غالب انسٹی ٹیوٹ اور ایران کلچر ہاؤس کے تعاون سے ایک روزہ خطاطی ورکشاپ اور نمائش کا اہتمام کیا گیا، جس میں ایران کے مشہور و ممتاز خطاط ڈاکٹر مسعود ربانی کی خطاطی کی نمائش ہوئی اور ڈاکٹر مسعود ربانی نے ورکشاپ میں حصہ لینے والے طلبا کو خطاطی کے رموز سے آگاہ کیا۔ افتتاحی اجلاس کا آغازجناب قاری محمد حسین سعیدیان نے تلاوت کلام پاک سے کیا۔ جلسے کی صدارت کرتے ہوئے ایران کے کلچرل کونسلر عزت مآب ڈاکٹر محمد علی ربانی نے کہا کہ ڈاکٹر مسعود ربانی ایران کے ممتاز خطاط اورعالم گیر شہرت کے مالک ہیں۔ انھوں نے فن خطاطی کو عروج تک پہنچا دیا ہے اور اب خطاطی ان کی شناخت بن گئی ہے۔ ہمیں خوشی ہے کہ اہل ہندستان بھی ان کی خطاطی کے نمونوں سے فیض یاب ہو سکیں گے۔ میں غالب انسٹی ٹیوٹ کا شکر گزار ہوں کہ انھوں نے اس تقریب کا انعقاد کیا۔ غالب انسٹی ٹیوٹ کے سکریٹری پروفیسر صدیق الرحمٰن قدوائی نے کہا کہ غالب انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے مختلف ثقافتی پروگرام ہوتے ہیں لیکن آج کا پروگرام کئی لحاظ سے یادگار ہے۔ خطاطی کے میدان میں ایران کو جو مرتبہ حاصل ہے وہ کسی ملک کو حاصل نہیں۔ ایران سے روابط کے نتیجے میں خطاطی کا ہندستان میں بھی عروج ہوا۔ رامائن و مہابھارت کے جو خوبصورت خطی نسخے ہندستان میں ملتے ہیں وہ ہند ایرانی تعلقات کی بولتی تصویر ہیں۔ مجھے بے حد خوشی ہے کہ آج ایران کے ممتاز خطاط ہمارے یہاں تشریف لائے ہیں، ان کی آمد سے ہماری عزت افزائی ہوئی ہے۔ غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ڈاکٹر ادریس احمد نے کہا کہ ثقافتی پروگام کا انعقاد غالب انسٹی ٹیوٹ کے بنیادی مقاصد میں شامل ہے۔ خطاطی ایک شاندار فن ہے جس میں اہل کمال نے اپنے فن کے جوہر دکھائے ہیں۔ مجھے دلی خوشی ہے کہ ایران کے عالمی شہرت یافتہ خوش نویس آج یہاں تشریف لائے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ طلبا ان سے استفادہ کریں گے اور ان کے خطی نمونوں کی نمائش سے بھی محظوظ ہوں گے۔ ایران کے ممتاز خوش نویس ڈاکٹر مسعود ربانی نے کہا کہ خطاطی ایسا فن ہے جس سے جس سے عبد و معبود کے رشتے مضبوط ہوتے ہیں۔ نستعلیق کو تمام خطوں کا سردار تسلیم کیا گیا ہے ، اگر آپ اس کے حروف کو بغور دیکھیں تو اس میں انسانی شکل نظر آئے گی، مثلاً الف انسانی جسم کی نمائندگی کرتا ہے، جیم کانوں کی شبیہ ہیں اور صاد آنکھوں کی شکل ہے۔ مجھے بہت خوشی ہوئی کہ غالب انسٹی ٹیوٹ میں میری خطاطی کی نمائش ہو رہی ہے اور اس فن کے تعلق سے طلبا سے روبرو ہونے کا موقع ملا۔ جناب حافظ معتز آقای نے قران کریم کی آیات کی تلاوت فرمائی اور کہا کہ غالب انسٹی ٹیوٹ اور ایران کلچر ہاؤس قابل مبارکباد ہے کہ انھوں نے خطاطی ورک شاپ اور نمائش کا اہتمام کیا، اس طرح ہم ایک دوسرے کے کلچر کے قریب آتے ہیں۔ افتتاحی اجلاس کے بعد نمائش کا افتتاح غالب انسٹی ٹیوٹ کے سکریٹری پروفیسر صدیق الرحمٰن قدوائی نے فیتا کاٹ کے کیا۔
تصویر- دائیں سے:مائک پر ڈاکٹر ادریس احمد،ڈاکٹر مسعود ربانی، جناب قاری محمدحسین سعیدیان، جناب ڈاکٹر محمد علی ربانی، پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی، جناب حافظ معتزآقای
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

