گمشدہ دولت (افسانوی مجموعہ) / طارق شبنم – عرفان رشید
جموں وکشمیر میں اردو فکشن کی ایک مستحکم اور شاندار تاریخ رہی ہے بلخصوص فنِ افسانہ نگاری کی۔ادبی تاریخ کا مطالعہ ہمیں یہ بتا تاہے کہ جموں و کشمیر میں ایسے افسانہ نگار بھی سامنے آئے ہیں جنہوں نے اس صنف میں قومی اور بین الاقوامی سطح کے ادبی منظر نامے پر ایک گہری چھاپ قائم کی ہے۔جن میں محمد دین فوق،پریم ناتھ پردیسی، پریم ناتھ در،تیرتھ کاشمیری،سوم ناتھ ذتشی،علی محمد لون،قدرت اللہ شہاب،ٹھاکر پونچھی،پشکر ناتھ،نور شاہ حامدی کاشمیری،وریندر پٹھواری،آنند لہر،دیپک بد کی، وحشی سعید،غلام نبی شاہد، ترنم ریاض وغیرہ قابلِ ذکر ہیں۔ طارق شبنم کشمیر میں معاصر اردو افسانہ نگاری کے حوالے سے ایک بہترین نام ہے جو تقریباً ہر ہفتے کشمیر عظمیٰ کے ادب نامہ میں ایک نئی تخلیق کے ساتھ چھپتے ہیں۔اصل نام طارق احمد شیخ ہے لیکن ادبی حلقوں میں طارق شبنم کے نام سے جانے جاتے ہیں۔انہوں نے اپنے افسانوی سفر کا آغاز 2010 میں افسانہ ”مجبوری“ سے کیا ہے یہ افسانہ ”ہند سماچار“ جموں نے شائع کیا۔اب تک ان کے متعدد افسانے رسائل و جرائد میں چھپ چکے ہیں۔ زیر تبصرہ افسانوی مجموعہ ”گمشدہ دولت“ حال ہی میں منظر عام پر آیا ہے۔ اس مجمو عہ ک وجی۔این۔کے پبلی کیشز(بڈگام،کشمیر) نے 2020 میں شائع کیا ہے۔ یہ ان کا پہلا افسانوی مجموعہ ہے جس میں 27 افسانے شامل ہیں جن میں بے درد زمانہ، اندھیرے اجالے، صدمہ، کہانی کا المیہ، دہشت کے سائے، اعتبار، گمشدہ دولت، مسیحا کی تلاش، نسخہ کیمیا، سنہرا پھنداوغیرہ اہمیت کے حامل ہیں۔ افسانہ ”بے درد زمانہ“ اس مجموعے کی پہلی کہانی ہے۔ یہ کہانی ایک مچھیرن ”سندری“ کی زندگی پر مبنی ہے۔ افسانہ نگار نے اس کہانی کے ذریعے ایک طرف سماج پر طنز کیا ہے کہ کس طر ح سے ایک بے رحم سماج میں ایک مجبور، لاچار اور بے بس عورت کا مزاق اُڑیا جارہا ہے۔ دوسری طرف اس افسانے میں یہاں کے گورنمنٹ اسپتالوں کا حقیقی نقشہ بھی کھینچا گیا ہے جس میں ”سندری“ جیسی سینکڑوں عورتیں استحصال کا شکار ہوجاتی ہیں۔کہانی کی آخری دو سطور اس کہانی کا کلایمکس بیان کرتاہیں: ”اس بے درد زمانے میں،میں اکیلی عورت بے سہارا عورت کیا کروں۔ کس سے مدد مانگوں، کہاں انصاف ڈھونڈوں،یہاں صرف پتھردل انسان ہیں، پتھر کے ضمیر ہیں، چاپلوسی، فریب،حرص اور خودغرضی ہے“ (افسانہ: بے درد زمانہ) اس اقتبا س سے کہانی کا روح مترشح ہوجاتا ہے کہ کس طرح سے موجودہ سماج میں انسان ہی انسانیت کا جنازہ نکالتاہے اور دنیا کے عقلمند اور دانش یافتہ لوگ اس چیز کالطف اُٹھا تے ہیں۔ مذکورہ کہانی کا پلاٹ منظم اور سادہ ہے۔ بیانیہ اسلوب کا خوبصورت امتزاج، خودکلامی اور فلش بیک تکنیک کا استعمال ہوا ہے۔ البتہ کہیں کہیں جملوں کی ساخت کمزور پڑ جاتی ہے لیکن اس سے کہانی کی معنویت اور وحدت تاثر میں کو ئی رکاوٹ پیدا نہیں ہوجاتی ہے۔ افسانہ ”اندھیرے اجالے“میں کشمیر کے موجودہ حالات و واقعات کی عکاسی کی گئی ہے۔ اس افسانے میں علامت نگاری اور اشاروں اور کنایوں کی تکنیک سے کام لیا ہے۔ منظر کشی اس طرح سے کی گئی ہے کہ کشمیر کا نقش آنکھوں کے سامنے رقص کرتا ہو ا نظر آتا ہے۔ منظر کشی کے حوالے سے کہانی کا پہلا ہی اقتباس ملاحظہ کیجئے: ”ارے واہ۔۔۔کتنا حسین دل موہ لینے والا سماں ہے۔یہ باغ یہ گلستان کتنا خوبصورت ہے۔یہ رنگ بہ رنگے پھول،یہ سر سبز پتوں والے درخت، یہ ننھی منی کونپلیں،یہ سبز مخملی چادر جیسا بچھونا،یہ نیلے پانی کا جھرنا،یہ فلک بوس دلکش پہاڑیاں۔۔۔“ اس افسانے میں طارق شبنم نے یہاں کے بزگوں،نوجوانوں اور بچوں کی نفسیات کو علامتی انداز میں پیش کیا ہے: ”اس دلکش باغ کے سبھی پھول مرجھا کیوں گئے ہیں؟ شبنم میں نہلائے ہوئے اس گلستان کے سارے پھول اتنے اداس کیوں ہیں؟ جیسے آنسوؤں میں ڈوبے ہوئے۔۔ارے یہ کوئل،یہ بلبل،یہ بھنورے،یہ ہد ہد اتنے خاموش اور اداس اور اکھڑے اکھڑے کیوں ہیں؟ مندرجہ بالا اقتباس سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ کس طرح سے افسانہ نگار نے علامتی جامع میں یہاں کے عوام کی حقیقی زندگی کا آئینہ پیش کیا ہے۔ ”افسانہ صدمہ“میں بھی کشمیر کے آئے روز گولیوں اور لاشوں کا منظر نامہ پیش کیا ہے اور ’کاکا‘جن کا اصلی نام محمد شفیع ہے جیسے سینکڑوں ایسے ہوں گے جو ان حالات و واقعات کا شکار ہوئے ہونگے۔افسانہ’دہشت کے سائے‘ میں بھی یہاں کے روز مرہ حالات و واقعات کا رونا رویا گیا ہے۔ کشمیر کی ثقافت پر لکھا ہوا افسانہ ’آبرو‘ہے۔جس میں ایک مفلوک الحال گھرانے کو موضوع بحث بنا گیا ہے۔ اس افسانے میں ایک طرف قالین بننے کے کام کو دکھا یا گیا ہے تودوسری طرف اس وقت کے سماج کے سماج کا احاطہ کیا گیا ہے جس میں پڑھائی کے مقابلے میں چھوٹے بچوں کو قالین بننے کے کام پر لگایا جاتا تھا۔یہ بھی ایک وجہ ہے کہ یہاں کا عوام بہت دیر تک تعلیم کے نور سے دور رہا۔ طارق شبنم کے یہاں موضوعاتی تنوع دیکھنے کو ملتا ہے۔ انہوں نے نہ صرف یہاں کے سیاسی، سماجی، اقتصادی اور معیشیت کو افسانے کے قالب میں ڈھالا ہے بلکہ انہوں نے ایسے افسانے بھی خلق کیے ہیں جو بین الاقوامی وسعت رکھتے ہیں۔ ایسا ہی ایک افسانہ ”اعتبار“ ہے۔ حالانکہ افسانہ بیانیہ تکنیک میں لکھا گیا ہے۔لیکن موضوعاتی اعتبار سے یہ ایک اچھوتا افسانہ ہے جس کی مثال خال خال ہی اردو افسانے میں نظر آئے گی۔ پورا افسانہ رومانوی اسلوب کی تار پود سے تیار کیا گیا ہے۔ افسانے میں ماجد اور ثمینہ کی داستان محبت کا بیان ہواہے۔ ماجد اور ثمینہ بچپن سے لے کر بلوغت تک ایک ساتھ پڑھتے ہیں اور کب ان کے درمیان محبت کا پھول کھل اُٹھا۔دونوں کو پتہ ہی نہیں چلا۔ دونوں ڈاکٹر بننا چاہتے ہیں لیکن انٹرنس میں ناکام ہوجاتے ہیں جس کا سارا خمیازہ ماجد کو بھگتنا پڑتا ہے۔ثمینہ اس وجہ سے الگ ہوتی ہے انہیں ہر حال میں ڈاکٹر بننا ہے۔آخر پر ثمینہ ڈاکٹر بن ہی جاتی ہے۔ لیکن جب یہ خبر ماجد نے سنی اسے یقین ہی نہیں آیا۔ اس نے جنرل لسٹ دیکھنے کے بعد جب ثمینہ کا نام categoty listمیں دیکھا تو اس کے پیروں تلے زمین کھسک گئی۔ کہانی کا آخری اقتباس ملاحظہ کیجئے جس میں کہانی کا روح چھپا ہوا ہے:
”ثمینہ شاہباز۔۔۔وائف آف شہبازخان۔۔“
اور پتا کیا کالم میں ایک دوردرازپہاڑی علاقے کا نام درج تھا۔
”کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ ہم بھی کسی کیٹگری میں آسکیں ۔۔۔ مجھے ہرحال میں ڈاکٹر بننا ہے کسی بھی قیمت پر“۔
اس اقتباس سے مترشح ہوتا ہے کہ کس طرح سے categoryوالےGeneral Category پراستحصال کرتے ہیں۔
شہبازخان کی فیملی شہر میں بسنے کے لیے آئے ہیں اور جب اس کا نکاح ثمینہ سےہوتاہےتو MBBS میں ثمینہ بحیثیت شہبازخان کی بیوی فارم جمع کرتی ہے اورپتہ دوردازپہاڑی جگہ کا اس لیے دیتی ہیں تاکہ Reservation برقراررہے۔ حقیقی معنوں میں افسانہ نگار اپنے قارئین کو باورکرانا چاہتا ہے کہ کن کن جگہوں اورمراحل پر انسان کے ساتھ استحصال کیا جاتا ہے۔ افسانہ کئی معنوں میں اہمیت کا حامل ہے۔ اس میں ایک طرف سے ان بچوں اور والدین پر بھی طنز ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ ڈاکٹری سے آگے دنیا نہیں ہے۔ تکنیکی نوعیت کے حوالے سے یہ افسانہ کافی مضبوط ہے۔ اس میں مکالماتی انداز اور ڈرامائ انداز سےبھی کام لیا گیا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں اکیسویں صدی میں اردو افسانے کی پیش رفت – اصغر شمیم )
”گمشدہ دولت “ایک انوکھے موضوع پر لکھا ہوا افسانہ ہے جس میں افسانہ نگار نے جنرل ٹام جو مریخ سے اتر کر دنیا کا معاینہ کرنے آیا تھا۔ پہلے اسے انسان کی خوشحالی، سکون، آرام، دولت، خوبصورتی پر رشک آتا ہے لیکن جوں ہی وہ اس دنیا کا دوسرا رخ دیکھتا ہے جو جدید سائنسی ٹکنالوجی کا دور کہلاتا ہے جس میں ہتھیاروں اور ایٹم بموں کی وجہ سے ناحق انسانیت کا خون کیا جاتا ہے۔ اس سے بے دل ہوکے مریخ پر واپس جانا پڑتا ہے۔
یہ افسانہ موضوع کے لحاظ سے بہترین افسانہ ہے۔ جس میں عصرحاضر کے انسان کی نفسیاتی حقیقت نگاری کو عیاں کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
”سنہرا پھندا “بھی ایک اچھوتے موضوع پر لکھا گیا ہے۔ اس میں انٹرنیٹ کے منفی اور مثبت پہلوؤں کو زیر بحث لایا گیا ہے۔ افسانہ نگار نے راحیلہ کے ذریعے ہمارے سماج کی ان لڑکیوں پرسوال کیا ہے جو اس آفت کے ذریعے اپنے گھر کو جہنم بنادیتی ہیں۔ موصوف اس بات پر زور دیتے ہیں کہ انٹرنیٹ ایک ایسا زہر ہے جس نے youthکو اپنے لپیٹ میں لیا ہے۔ اورایسی کئی ’راحیلہ‘ہوں گی جو بظاہر نیک اور پرہیزگار ہوتی ہیں لیکن اس زہر کے آگے ہر انسان بےیارومددگار ثابت ہوتا ہے۔ اس لیے تخلیق کار دانستہ طور پر اپنے قارئین کو اس لعنت سے دور رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
”کیمیا گھر“اس مجموعے کی آخری کہانی ہے جس میں موجودہ COVID 19 اور لاک ڈاون کو موضوع بنایا گیا ہے۔ قرأت کے دوران یہ افسانہ افسانے سے کہیں زیادہ ڈراما معلوم ہوتا ہے کیون کہ اس میں افسانہ نگار نے افسانہ پن کو برقرار رکھنے کے لیے ڈرامائی اسلوب اور مکالموں سے کہانی کو آگے بڑھایا ہے۔
طارق شبنم کو کہانی کہنے کا فن آتا ہے۔ اس مجموعے میں موضوعاتی تنوع ہے۔ اسلوبی اور تکنیکی طور پر زیادہ باریک بینی سے کام نہیں لیا گیا ہے۔ پورے مجموعے پر راست بیانیہ غالب ہے جو کہیں کہیں قاری کو اکتاہٹ پیدا کرتا ہے۔ بہرحال میں ذاتی طور پرطارق شبنم کو اس پہلی کامیاب کوشش کے لیے مبارکباد پیش کرتا ہوں اور آئندہ بھی ان سے ہم نئی نگارشات کی توقع رکھتے ہیں۔
عرفان رشید
(ریسرچ اسکالر،شعبۂ اردو،
یونی ورسٹی آف کشمیر) ای۔میل: irfanrasheedf@gmail.com
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

