ہند وپاک میں مقبول فنکار محمد حامد سراج نے فکشن کی دنیا میں اپنی ایک الگ پہچان بنائی ہے اور اس نام ونمود کے حصول کے لیے برسہا برس ادبی تپسیا کی ہے ۔انھوں نے افسانوں کے علاوہ ایک عدد ناول بھی رقم کیا ہے اور تنقیدی دبستان میں بھی طبع آزمائی کی ہے۔ محمد حامد سراج نے ادبی زندگی کی ابتدا شاعری سے کی۔ انہوں نے پہلے اپنا تخلص راحتؔ رکھا اور پھر کچھ عرصہ بعد تہامیؔ۔ کالج کے زمانے میں انھوںنے دو غزلیں کہیںجنھیں بے تکی شاعری بھی کہہ سکتے ہیںلیکن بہت جلد انھوں نے شاعری سے علاحدگی اختیار کرلی اور فکشن کی دنیا میں قدم رکھا۔انھوں نے اپنا پہلا افسانہ کالج کے زمانہ طالب علمی کے دوران لکھا ۔تاہنوز اُن کے چار افسانوی مجموعے’وقت کی فصیل‘[۲۰۰۲ء]،’برائے فروخت‘[۲۰۰۵ء]،’چوب دار‘[۲۰۰۸ء] اور’بخیہ گری‘[۲۰۱۵ء] اشاعت سے ہمکنار ہو چکے ہیں۔افسانوی مجموعوں کے علاوہ انھوں نے ایک طویل خاکہ اور ایک ناول رقم کیا ہے۔’عالمی سب رنگ افسانے‘کے عنوان سے افسانوی کی انتھالوجی بھی ترتیب دی ہے۔ ان دنوں ’خود نوشت‘پر بھی کام کر رہے ہیں۔
محمد حامد سراج نے جن دنوں ادبی دنیا میں قدم رکھا،وہ پاکستان میں سیاسی حوالے سے پُر آشوب دور تھا۔قیامِ پاکستان کے بعد وہاں کی سیاسی و سماجی صورت حال ایک کڑی آزمائش سے گزر رہی تھی اوریکے بعد دیگرے رونما ہونے والے سانحات وحادثات نے وہاں کی عوام کے سکون کو غارت کردیا تھا۔۱۹۵۸ء کا مارشل لاہو یا ۱۹۶۵ء کی بھارت پاک جنگ،۱۹۷۱ء کا سقوطِ ڈھاکا ہو یا ۱۹۷۷ ء کا دوسرا مارشل لا،بھٹو کی پھانسی ہو یا پرویز مشرف کی فوجی آمریت،تمام مسائل نے وہاں کی عوام کے خوابوں کو چکنا چو رکر دیا تھا۔ان المیوںنے روایتی کہانی اورنئے افسانے کواپنے اپنے طریقے سے متأثرکیا۔سترکے عشرے کے بعداردوافسانہ نگاروںاورخاص طور پر پاکستانی افسانہ نگاروںکے ہاںایک اہم تبدیلی یہ آئی کہ ساٹھ کی دہائی میں فردیت یاانفرادیت ابھرکرسامنے آئی تھی وہ سترکے بعددھیمی پڑنے لگی۔پہلی کہانیوںمیں’’میں‘‘ اور فقط’’میں‘‘ کارجحان بہت شدت سے پیدا ہوگیا تھا وہ بعدکے ادوارمیںکم ہوتاگیا اور مغربی افسانوںکااثرکم ہونے لگا۔ساتھ ہی داخلیت پسندی کارجحان بھی بہت حدتک ختم ہوگیااور اُسی زمانے میں ایک صاحب اسلوب افسانہ نگار نے جنم لیا جسے ادبی دنیا محمد حامد سراج کے نام سے جانتی ہے۔
محمد حامد سراج کی افسانہ طرازی اور اُن کے عہد کا ذکر چھڑے اور اُن کے معاصر کاذکر نہ ہو،ایسا ممکن ہی نہیں ہے۔ اس مضمون میں اُن چند افسانہ نگاروں کا ذکر ہوجائے تو مناسب ہوگا۔اس ضمن میں محمد حمید شاہد،طاہرہ اقبال،آصف فرخی،سیمیں کرن،علی اکبر ناطق جیسے افسانہ دوستوں کے نام ضرور لیے جائیں گے۔ان میں ہر فنکار کا اپنا خاص اسلوب ہے اور موضوعات بھی جدا ہیں۔جہاں تک محمد حمید شاہد کی بات کریں تو انھوںنے اپنے افسانوں میں زبان و بیان کے کئی تجربے کیے ہیںجو انہی کی اختراع کردہ ہیں۔ وہ ایک ہی انداز اور ایک ہی اسلوب میں ہر موضوع کو نہیں برتتے بل کہ موضوع اور ماحول بدلنے سے نہ صرف زبان تبدیل ہو جاتی ہے بلکہ وہ صورتحال کو بھی تبدیل کرنے کا ہنر جانتے ہیں۔وہ فکشن کے رموز اوقاف سے بخوبی واقف ہیں۔یہاں اُن کے دو نمائندہ افسانوں کا محاسبہ لازمی ہے تاکہ اُن کے موضوعاتی تنوع کا اندازہ لگایا جا سکے۔یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ نئی صدی میں بدلتے منظر نامے کو سب سے پہلے محمدحمید شاہد نے محسوس کیا اور اپنے افسانوں میں برتا۔اسی ضمن کی دو کہانیاں مثال کے طور پر یہاں بیان کی جا رہی ہیں۔
افسانہ’برف کا گھونسلا ‘ان کا نمائندہ افسانہ ہے۔ اس کی تخلیق کا وہی زمانہ ہے جب افغانستان میں روس کی پسپائی ہوئی۔امریکا نے اپنے اتحادی پاکستان کی طرف سے نہ صرف آنکھیں پھیر لیںبل کہ اس کی امداد بھی بند کر دی تھی ۔ یہ افسانہ پرندوں اور انسانوں پر مشتمل دو کنبوں کی کہانی ہے جو ایک ہی گھر میں رہتے ہیں لیکن ان کی تقدیر یں ایک دوسرے سے مختلف ہیں ۔ اس کہانی میں بہ ظاہر محمد حمید شاہد نے حقیقت نگاری سے کام لیتے ہوئے متن کو تشکیل دیا ہے مگر کہانی ایک سے زیادہ سطحوں پر علامت بن جاتی ہے۔اسی تسلسل کا ایک اور افسانہ ’لوتھ‘ہے جو گیارہ ستمبر کے واقعات کے پس منظر میں لکھا گیا ہے ۔ ایک کردار جو اپنے ارد گرد کی آگاہی رکھتا ہے جو حالات کے مطابق رد عمل ظاہر کر سکتا تھا ، کیسے نا تجربہ کار ڈاکٹروں کی ارد گرد سے رفتہ رفتہ لوتھ میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ اس کہانی میں ان ڈاکٹروںکا المیہ بھی بیان کیا ہواہے جو رفتہ رفتہ اپنی اصل سے دور ہوتے جا رہے ہیں اور ان اقدار اور اُس طرز معاشرت سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں جو اُن کے اپنے تھے۔ یہ سب کچھ کھو کر ان کے ہاتھ پھر بھی کچھ نہیں آتا ۔ یہ کہانی احساس کی لہروں سے مرتب ہوئی ہے۔ یہ کہانی ہماری نصف صدی کی تاریخ میں دو نسلوں کے درمیان پھیلی ہوئی خلیج کا تنقیدی بصیرت کے ساتھ جائزہ لیتی ہے جس میں ہمارے خواب ڈوب چکے ہیں۔گویا محمد حمید شاہد کے افسانوں کا بنیادی رجحان وہ عالمی مسائل ہیں جن سے ہمارا افسانہ اپنی نظریں چرانے میں کامیابی کی منازل طے کررہا تھا اور فرسودہ موضوعات پر صفحات سیاہ کر رہا تھاتو محمد حامد سراج کے ہمعصر فنکاروں نے اس جانب خصوصی توجہ دی۔
اس ضمن میں ایک خاتون افسانہ نگارطاہرہ اقبال کا نام بھی اہم ہے۔ انہوں نے پنجاب کے دیہی زندگی میں رونما ہونے والے مسائل کو اپنے افسانے کا محور بنایا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ بیدی ،احمد ندیم قاسمی ، بلونت سنگھ ، غلام الثقلین نقوی ، محمد منشا یاد ،نعیم صدیقی جسے اہم فن کاروں کی تخلیقات میں بھی پنجاب کا منظر نامہ پوری طرح جلوہ گر ہے لیکن طاہرہ اقبال کا اختصاص یہ ہے کہ انہوں نے دیہی منظر نامے کے ساتھ عورتوں کی سفاکی کو بھی کسی نہ کسی طور پر پینٹ کیا ہے گویا ’’عورت‘‘ان کے ہاں کلیدی استعارہ ہے جس کا ذکر وہ بار بار کرتی ہیں اور یہی ان کا اختصاص بھی ہے۔ طاہرہ اقبال نے جہاں پنجاب کے دیہی زندگی اور خصوصا ًعورتوں کا ذکر کیا ہے وہاں غیر جانب داری سے کام لیا ہے اور ان کے سپاٹ کردار کو اسی شکل میںپیش کیا ہے ۔ ان کے زیادہ تر افسانوں کا مرکزی کردار عورت ہے ۔ دیہی معصوم عورتوں کو مختلف شکلوں میں دیکھا جا سکتا ہے۔ یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ طاہرہ اقبال نے اپنے افسانوں میں پنجابی زبان کا استعمال کثرت سے کیا ہے۔ایک عام قاری جو پنجابی تہذیب و زبان سے نا بلد ہے، اسے ان افسانوں کی تفہیم میں خاصی دشواری ہوتی ہے ۔ ان کے چند افسانے اردو کے نمائندہ افسانوں میں شمار کیے جائیں گے۔’’ماں ڈائن‘‘، ’’گنجی بار‘‘، ’’گلابوں والا ڈیرہ ‘‘، ’’دیسوں میں ‘‘ وغیرہ اسی ضمن کی کہانیاں ہیں ۔ ’’ماں ڈائن‘‘ تو ان کا شاہ کار افسانہ ہے ۔ اس افسانے کا مرکزی کردار ایک ماں کا ہے جس کا نام صوباں ہے۔ واقعہ یوں ہے کہ صوباں کے لڑکے دلاور کا پولیس پیچھا کر رہی ہے کیوں کہ وہ اشتہاری ڈاکوہے۔ اس کا تعاقب کرنے کے لیے اے ایس پی نے ماں کا سہارا لیا ہے کہ وہ دلاور کا ٹھکانا جانتی ہے۔ وہ جنگل میں رہتا ہے وہاں تک جانے کے لیے جیپ میں بڑھیا کو بٹھا کر لے جاتے ہیں اور دونوں کو چھلنی کر دیتے ہیں ۔
محمد حامد سراج کے ہمعصروں میں آصف فرخی کا بھی شمار ہوتا ہے بلکہ دونوں افسانہ نگاروں نے ایک ہی زمانے میں لکھنے کی ابتدا کی اور نئے افسانے کو صحیح سمت عطا کی۔آصف فرخی کا شمار جدید افسانہ کے ان نوجوان افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے کم عمری سے ہی افسانے لکھنے لگے ۔ ادب اور تہذیب کی یہ وراثت انہیں اپنے والدا ور دادا کے توسط سے ملی تھی ۔ یہی وجہ ہے کہ اکیس سال کی عمر میں ان کا پہلا افسانوی مجموعہ منظر عام پر آگیا ۔ ابتدائی مجموعوں میں داستانوں کے ساتھ داستانوی اسلوب اور کرداروں کو علامتی معنی دینے والے انتظار حسین کے بھی اثرات موجود ہیں مگر اپنے موقف اور منشا میں انتظار حسین سے منفرد بھی دکھائی دیتے ہیں اور دوسرے مجموعوں میں اپنی الگ شناخت قائم کرتے نظر آتے ہیں ۔ خاص طور پر پانچویں مجموعے میں حیرت انگیز طور پر اپنی پیشہ ورانہ دنیا کو تخلیقی محرک کے طور پر استعمال کرتے ہیں مثلاًناف ، الرجی ، گوہائی ، کھجلی وغیرہ ۔اور ظاہر ہے کہ ایک میڈیکل ڈاکٹر ہی ’السلام علیکم یا اہل القبور‘جیسے افسانے کو لکھنے کا اہل ہوسکتا ہے ۔ ان سب افسانوں میں سائنس ، مریضوں کا عملی تجربہ اور ساتھ ہی ساتھ ہماری روایت اور تہذیب کے ساتھ جڑی دانش مرکب ہو کر ایک فضا ضرور تشکیل دیتے ہیں جو آصف فرخی کے تخلیقی جوہر اور فنّی ہنر مندی کی یا د دلاتی رہتی ہے۔
اس طرح محسوس کیا جا سکتا ہے کہ محمد حامد سراج اور اُن کے ہمعصروںنے جس عہد میںلکھنے کی ابتدا کی تھی،وہ زمانہ افسانوی ادب کے لیے پُر آشوب تھا۔علامتی طرزِ اظہار کے سبب قارئین کی تعداد میں تنزلی آرہی تھی،افسانہ بہ ذات خود ایک محدود دائرے میں سمٹ کر رہ گیا تھا اور افہام و تفہیم کی دقتیں بھی درپیش تھیں لہٰذا جو نئی نسل سامنے آئی ،انھوں نے تمام عیوب کو افسانے سے پاک کرنے کا بیڑہ اٹھایا اور کسی حد تک کامیاب بھی ہوئے ۔ یہ وہ زمانہ تھا جب عوام اور فنکار کے سامنے موضوعات کے انبار تھے اور نئے عہد کے تقاضوں سے آنکھیں ملانے کی اشد ضررت تھی۔ایسے دور میں محمد حامد سراج اور معاصر فنکاروں نے سیاسی و معاشرتی صورتحال کا جائزہ لیا اور اپنے فن پاروں میں برتا۔موزوں معلوم ہوتا ہے کہ محمد حامد سراج کی افسانہ طرازی کے متعلق چند امور پر بحث کرلی جائے۔
محمد حامد سراج کی افسانوی شناخت اس بات میں مضمر ہے کہ اُن کے پاس موضوعات کا تنوع ہے اسی لیے وہ ایک ہی موضوع کا طواف نہیں کرتے اور نہ ہی انھیں کسی ایسے افسانوی مزاج سے منسوب کیاجاسکتا ہے جس میں ہم سانس لے رہے ہیں اور انسانی اقدار کو دن بہ دن روبہ زوال ہوتے محسوس کررہے ہیں ۔ ایسا نہیں ہے کہ اشرف المخلوقات کے دلوں کے اندر سے وہ جذبہ مفقود ہوگیا ہے جس سے وہ اُسے تنزلی سے بچا سکے یا اُس پر احتجاج درج کراسکے ۔ آج کا انسان پرانی اقدار کی تنزلی کی بات توکرتا ہے لیکن وہ نجات دلانے سے قاصر ہے کیوں کہ وہ بھی اُسی سماج کاحصہ بن چکا ہے ۔ افسانہ ’’گلوبل ولیج ‘‘ میں افسانہ نگار نے جدید ٹکنالوجی کے مضر اثرات کی نشاندہی کرتے ہوئے اگلے دنوں کی پیشین گوئی بھی کردی ہے۔ افسانہ کاپہلا جملہ پڑھتے ہوئے قاری کا ذہن اساطیری میلان کی طرف یاکسی تلمیحی اشارے کی طرف جاتو سکتا ہے لیکن افسانہ ختم ہوتے ہوتے یہ اثر زائل ہوجاتا ہے ۔ کہانی کا ایک پہلو تو یہ ہے کہ بستی کے مکینوں کی بصارت زائل ہوجاتی ہے حتیٰ کہ معالج بھی اُس کی زد میں آجاتا ہے اور اگلی ہی صبح پوری بستی کی حاملہ عورتوں کے پیٹ بنجر ہوجاتے ہیں۔یہ سانحہ معمولی نہیں ہوتا بلکہ آنے والے وقتوں کے لیے اُس وقت غیر معمولی بن جاتا ہے جب ایک عورت کی گود ہری ہوجاتی ہے، وہ مولود جب سنِ رشد کو پہنچتا ہے تو لوگوں میں امید کی کرن چمکتی ہے کہ وہ دنیا کے سفر پر نکلے گا تو اہلِ دنیا کے احوال سے ضرور واقف کرائے گا اور وہ قصہ کہانیوں کی طرح اُس کی بات غور سے سنیں گے لیکن جب وہ ایٹمی دھماکے والی دنیا کی بابت بستی والوں کو بتاتا ہے تو لوگ شسدر رہ جاتے ہیں۔ وہ کہتا ہے :
’’اس عہد میں جھوٹ، فریب، رشوت اورملاوٹ کا چلن عام تھا۔ کاروبارِ زندگی میں جھوٹ، فریب اوررشوت اتنی ہی ضروری قرار دے دی گئی جتنی زندہ رہنے کے لیے سانس لینا ضروری ہے۔ کرۂ ارض کو گلوبل ولیج قراردے دیاگیاتھا اوراس میں سودی کاروبار اورسودی قرضہ جات کو قانونی اورحکومتی تحفظ حاصل تھا۔ تعلیم اورعلاج جیسے شعبے بھی خدمتِ خلق کے دائرے سے نکل کرمکمل طورپرکمرشیل اورکاروباری ہوگئے تھے۔ جاں بلب مریضوں کے ورثا سے لاکھوں روپیہ بٹورلینے کا چلن عام تھا۔ بے حیائی اورفحاشی شرافت کے زمرے میں شمارہونے لگی تھی۔ اسے فنونِ لطیفہ کے نام سے فروغ دیاجاتاتھا۔‘‘
گلوبل ولیج کی کہانی سناکر راوی یہ بھی کہتا ہے کہ دنیا نے اتنی ترقی کرلی ہے کہ وہی ترقی اُن کے لیے سوہان روح بن گئی ہے۔ دریا، سمندر ، خشک اور پانی کے کنوئوں کے پیندے سیاہ ہوگئے ہیں، پورا کرئہ ارض ایٹمی جنگ کی لپیٹ میں ہے اور یہی وہ سرمایہ ہے جسے ہمارے آبا واجداد نے ہمارے لیے کاشت کیا ہے اور آخر کار بستی کاآخری بصارت والا شخص،اپنی ہی آنکھوں میں گرم سلائی پھیرلیتاہے۔
اس افسانے میں محمد حامد سراج نے گلوبل ولیج میں نموپذیر ہونے والی ترقی کے اُس رخ کو پیش کیا ہے جہاں بہ آسانی لوگوں کی نگاہ نہیں جاتی۔وہ اس زاویے سے سوچنے پرقادر نہیں ہیں لیکن ہمارے افسانہ نگار کی ذہنی تربیت کی داد دینی ہوگی کہ انھوںنے ماضی ، حال اور مستقبل کو ایک افسانے میں سمیٹ دیا ہے۔
نئی اردو کہانیوں میں جنسی جذبات کو بیان کرنے کارجحان عام ہے۔ اس کی دو وجوہات ہو سکتی ہیں۔ اوّل تو یہ کہ دنیا میں بے حیائی پھیلنے کی جو وبا عام ہو رہی ہے ، اس پر ہمارے نئے کہانی کار خامہ فرسائی کرکے حالات کو قارئین سے روبہ رو کرانے کی کوشش کرتے ہیں۔ دوم یہ کہ نئے کہانی کاروں نے اپنی کہانیوں میں جنسی جذبات کو بیان کرکے قاری کی توجہ اپنی جانب کشید کرنے کا بھی بیڑا اسی کے سہارے اٹھایا ہے لیکن معدود ے چند کہانی کار ایسے بھی ہیں جو جنس کے بیان سے حتی الامکان گریز کرتے ہیں، ان ہی میں محمد حامد سراج بھی ہیں۔’’ نقش گر‘‘ میں صنف نازک کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ مصور اُس کے نازک تن کو کاغذ تصور کر کے نقش گری کرے۔ مصور اُس کی خواہش کا احترام نہیں کرتا بلکہ یہ کہتا ہے کہ ’’سامنے بٹھا کر تمہارا پورٹریٹ تو بنایا جاسکتا ہے لیکن بدن پر نقش گری نہیں___ناممکن ۔ اس آفر سے کسی اور افسانہ نگار کا کردار ضرور رضا مندی ظاہر کرتا لیکن ہمارے افسانہ نگار کا کردار، فن کو فن کی حیثیت سے دیکھتا ہے۔ تب اس کے پیار میں پاگل یوں گویا ہوتی ہے:
’’میں پیرالوئی کی افروڈائٹ ہوں۔ سلیم کی انارکلی اور اختر شیرانی کی سلمیٰ، میں ہر عہد میں زندہ رہتی ہوں۔ میں اجتماعی لاشعور کا تسلسل ہوں۔ تم کیسے فنکار ہو؟ ایک چھوٹی سی خواہش پوری نہیں کر سکتے۔ تم نے زندگی میں کتنی ہی تصاویر بنائی ہوں گی۔ میرا بدن ایک کاغذ سے بھی کم قیمت ہے۔۔۔۔۔؟ تمہیں اس سرد برفیلی شام کی قسم، تمہیں میری اس خواہش کی تکمیل کرنا ہوگی۔ ‘‘
اس نے چودہویں کی چاندنی نقش گری کا وعدہ تو کرلیا لیکن نہیں آتا ہے اور مہہ وش سوچتی ہے کہ کسی مصور کی اس سے بڑی خوش قسمتی اور کیا ہوسکتی ہے کہ ایک لڑکی اپنے بدن پر نقش گری کی فراخ دلانہ دعوت دے اور کوئی مصور قبول نہ کرے۔
نفسیاتی افسانوں کی بات کی جائے تو محمد حامد سراج کے نمائندہ افسانوں میں ’’چائے کی پیالی‘‘ کو غیر معمولی حیثیت حاصل ہے۔ نفسیات کی گرہ جس طرح سے اس افسانے میں واضح طور پر سامنے آیا ہے ، وہ پڑھنے سے تعلق رکھتاہے ۔ اس افسانے میں ’’شک‘‘ کی بیماری کو موضوع بناکر ہمارے افسانہ نگار نے پلاٹ تیار کیا ہے۔ شک ،وہ بھی ایسے رشتوں میں جن کی بنیاد ہی اعتماد پر قائم ہوتی ہے۔ وہ رشتہ ہے میاں بیوی کا__ارینہ اور ارتات احمد ایک زمانے سے رشتۂ ازدواج میں بندھے ہیں۔ دونوں کے تعلقات استوارہوتے ہیں لیکن کہتے ہیں ناکہ خالی ذہن شیطان کاہوتا ہے ، وہی ارتات احمد کے ساتھ ہوا۔ ارتات احمد کے ذہن میں ایک سوال گھر کرنے لگتا ہے کہ اس کی حسین وجمیل بیوی کا ماضی کیسا رہا ہو گا۔ اس کے کن کن لوگوں سے مراسم رہے ہوں گے۔ بیوی یہ سب محسوس کرتی ہے تو ایک دن سوال پوچھ بیٹھی ہے کہ بات کھل کر کہیں کہ کیا مسئلہ ہے ۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ اولاد نہ ہونے کی وجہ سے آپ پریشان ہیں ۔اگر ایسا مسئلہ ہے تو میں ساری زندگی آپ پر آنچ نہیں آنے دوں گی اور کمال ضبط سے آپ کی دلہن اپنے ہاتھوں سے سجائوں گی__لیکن مردکے اندر تو شک کا زہر پھیل رہاہے، وہ ہمت جٹا کر یہ بیان بھی کردیتا ہے۔ ملاحظہ ہوں یہ اقتباس :
’’میں شک کی وجہ جان سکتی ہوں۔۔۔۔۔؟
تمہارے بے پناہ حسن نے مجھے اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے۔
اس میں میرا کوئی قصور نہیں نکلتا۔
کیسے۔۔۔۔۔؟
میں نے اپنے آپ کو تخلیق نہیں کیا۔ یہ تخلیق کار کی عنایت ہے۔
ایک بات کہوں۔۔۔۔۔ ؟
کہیے۔۔۔۔۔
سکول، کالج اور یونیورسٹی میں تمہارا کوئی دوست بھی رہا ہے۔۔۔۔۔؟
دوست سے آپ کی مراد ہے۔۔۔۔۔ اس کا اعتماد بحال ہو رہا تھا۔
کوئی ایسا شخص جس نے تمہیں پسند کیا ہو۔۔۔۔۔؟
پسند کرنے والے تو ہزاروں تھے۔ شمع کے گرد پروانے تو رقص کرتے ہی ہیں۔
تم کچھ چھپا رہی ہو۔
میں کچھ بھی نہیں چھپا رہی۔ آپ نے سوال ہی الٹ کیا ہے۔ میں ہزاروں کی پسند سہی لیکن میں نے کسی کوپسند نہیں کیا۔ میری زندگی میں آپ پہلے مرد ہیں۔ ‘‘
ایک ایسی مشرقی عورت جس نے کبھی غیر محرم کی طرف آنکھ اٹھا کر نہ دیکھا ہو، اس پر شوہر کی جانب سے لگائے گئے الزامات بلکہ شکوک وشبہات سے مشرقی شرمیلی عورت کا ٹوٹنا لازمی ہے ،یہی وجہ ہے کہ وہ جنون کے عالم میں اپنا سب کچھ بھول جاتی ہے اور یہاں تک کہہ دیتی ہے کہ میں وہ ارینہ نہیں ہوں جسے آپ جانتے تھے بلکہ مجھے تو اپنا محبوب مل گیا ہے۔ یہ نفسیاتی کیفیت لازمی ہے اوریہ افسانہ ابنارمل کی نفسیات کی واضح مثال ہے۔
داستانوں کا اردو ادب میں ایک پروقار دور رہا ہے جب ادب میں شاعری کے علاوہ نثر میں صرف داستانوی روایت تھی ۔ داستانیں صرف ادب کاحصہ نہ تھیں بلکہ وہ تہذیب وثقافت کی بھی علمبردار تھیں۔ انہی روایات کو ہمارے عہد کے افسانہ نگاروں نے اپنے اپنے طور پر برتا ہے ۔ محمد حامد سراج کافنی اختصاص یہ ہے کہ انھوں نے داستانوی انداز اختراع کرکے پرانے زمانے کی روایات کو نئے عہد کے بچوں کی نفسیات سے جوڑنے کی ممکن کوشش کی ہے ۔ اس افسانے میں دو تہذیبیں ایک ساتھ چل رہی ہیں۔ ایک طرف پرانی تہذیب ہے جس کی نمائندہ وہ بوڑھی دادی ہے جو بچوں کو سلیقے سے کہانی سنانا چاہتی ہیں لیکن دوسری طرف وہ چالاک بچے ہیں جو ہر بات کی تاویل پیش کرتے ہیں۔ یہ بچے آیسی تہذیب کے پروردہ ہیں جہاں علم تو ہے ساتھ ہی ریاکاری، عیاری اور تملّق بھی ہے__یہ وہی دور ہے جہاں پر چمکتا ہوا آلہ سوتا نظر آتا ہے۔
ایک فکشن رائٹر فطرت کے ساتھ فطرت انسانی کابھی نباض ہوتاہے۔وہ نفسیاتی گرہ کو خوب صورت بیانیے سے مزین کرتا ہے۔محمد حامد سراج کی اکثر کہانیوں میں یہ عنصر دیکھنے کوملتا ہے ۔ ’’چائے کی پیالی‘‘ سے لے کر ’’آخری آئس کیوب‘‘ تک کی کہانیوں میں نفسیاتی گرہ قابل ذکر ہے۔ اول الذکر کہانی کاذکر بعد میں آئے گا۔ پہلے آخر الذکر کہانی کابیان ہوجائے۔ کہانی ’’ آخری آئس کیوب‘‘ ایک لڑکی کی اپنے محبوب سے بے اعتنائی کا بیانیہ ہے جہاں کہانی ایسے جملوں سے شروع ہوتی ہے کہ لڑکا، اپنی محبت کو پانے کے لیے عاجزی سے پیش آرہا ہے جب کہ اُسے اندازہ نہیں ہے کہ صنف نازک کا وجود ہی کبھی نہ پلٹنے کے لیے ہوتا ہے ۔ وہ پرانے دنوں کو یاد کرکے محبوب کی تمام باتوں کو یاد کرنے کی کوشش کرتاہے اور تمام یادیں روز روشن کی طرح عیاں ہوتی جاتی ہیں۔ کبھی وہ سوچتا ہے کہ محبت ایک بزنس ڈیل تو نہیں کیوں کہ اُس کے محبوب کے سوچنے کا انداز بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔ وہ چاہتی ہے کہ اُس کے بدن کے لمس کو محسوس کیا جائے اور اُسے ایک واقعہ یاد آیا ہے:
’’آج توسرحد کے پار اتر جاؤ۔
یہی ایک نقطہ اسے ہمیشہ عذاب دیا کرتا تھا۔
کیا یہ لمس کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کافی نہیں ہیں؟
تم نہیںسمجھو گے۔۔۔۔۔ عورت جب لمس سے گزرتی ہے تو وہ کسی بھی سرحد کو خاطر میں نہیں لاتی۔
لیکن اس کا انجام سوچا ہے تم نے۔۔۔۔۔ ؟
کچھ نہیں ہو گا۔۔۔۔۔ ۔
تم پاگل ہو۔۔۔۔۔
یہی تو میںتمہیں سمجھانا چاہ رہی ہوں کہ میرا پاگل پن دور کرو۔
یہ مجھ سے کبھی نہیں ہو گا۔
بزدل۔۔۔۔۔۔۔
مجھے یہ بزدلی گوارا ہے۔
ایک بات تو بتاؤ۔
یہ جو میں تمہاری بانہوں میںکتنی دیر سمائی رہتی ہوں یہ گناہ نہیں ہے؟
چپ۔۔۔۔۔!
اور یہ جو تم نے اپنی یادوں کے اَن گنت لمس میرے بدن پر پینٹ کر ڈالے ہیں یہ گناہ نہیں ہے۔ اگر تمہیں اتنا ہی گناہ کا خیال ہے تو پھر مجھے ملنے کیوں آتے ہو۔۔۔۔۔؟
گناہ کے گراف میں فرق ہوتا ہے۔
کوئی فرق نہیں ہوتا ۔‘‘
لیکن اُسے بزنس ڈیل والامعاملہ اس وقت سمجھ میں آتا ہے جب شادی کے بعد ایک روز اس نے اُسے چھونا چاہا تو وہ یوں تڑپی جیسے اُسے بچھونے ڈنگ مارا ہو۔ زندگی کاآخری آئس کیوب گھلتا جارہا ہے اور وہ یوں ہی محبوب کا مارا زندگی کی لذتوں سے ناآشنا ہے۔ عورت کی بے وفائی کامضمون باندھ کر ،مظہر الاسلام نے بھی کئی عمدہ کہانیاں لکھی ہیں جن میں رات کنارا، پروں پر پانی ،کاغذ کے ایک شہر کاقصہ اور شیلف سے گری ہوئی کتاب اہم ہیں۔ اسی طرح کہانی’’گائوں کا غیر ضروری آدمی ‘‘مجموعہ برائے فروخت کی پہلی کہانی ہے جس کامرکزی خیال عربی کے اس شعر سے مستعار ہے جس میں اس بات کا ذکر ہے کہ وقت اور ضرورت انسان کی کمیوں اور کوتاہیوں پر ملمع سازی کر دیتا ہے یعنی یہ مسائل دنیا، کسی ایک کی بھی کمی کا احساس نہیں ہونے دیتی۔ مرور ایام نے بچوں کو جو ان اور جوانوں کو بوڑھا بنا دیا ہے ۔ خیرولوہار کے مرنے کی خبر جب گائوں والوں کوہوتی ہے تو کسی پر کوئی فرق نہیں پڑتا بلکہ لوگ اپنی اپنی باتوں اور مسائل میں الجھے ہوئے تھے اور جنازے پر خاموشی کے بجائے گندم کی کٹائی جیسے موضوعات زیر بحث تھے۔ کیا اس لیے کہ خیرو لوہار غریب آدمی تھا اور غربت نے اس کا لہو چوس کر ہڈیو ں پر صرف چمڑا رہنے دیا تھا یا اس لیے کہ مرنے کے بعد اُس کی حیثیت صفر ہو گئی تھی یا معاشرہ اس قدر بے حس ہو چکا تھا کہ کوئی غم کرنے والانہ تھا یا سب کی ضرورتیں اس سے پوری ہوگئی تھیں___یہی وجہ ہے کہ راوی نے فیضو کے سامنے درانتیاں اور ٹوکے رکھے دیکھے تو سارے مسئلے کاحل نکل آیا کہ گائوں والوں کو اب فیضو کی ضرورت ہے اور فیضو کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوگا اور اس کے بعد …یعنی مطلب پرستی اس قدر عام ہوگئی ہے کہ انسان اپنے مفاد کے لیے لوگوں کا استعمال کرتا ہے اور اُس کے بعد اسی شخص کی حیثیت معمولی ہوجاتی ہے۔
بے روزگاری ، غربت اور کرپشن برصغیر کے چند ممالک کامقدر ہے جس کی بنیادی وجہ وہ سیاسی اتھل پتھل اور بدنظمی ہے جو انہی ممالک کی اختراع کردہ ہے۔ ان کے کچھ ایسے مسائل ہیں ، کچھ پالیسیاں ہیں جو انھیں حصار سے باہر نکلنے ہی نہیں دیتیں اور نتیجتاً نوجوان نسل، دوسرے ممالک کوچ کرجاتے ہیں۔کہانی’’کلوننگ کی پیداوار‘‘ کاایک ہونہار کردار اپنی ماں کی خدمت کرنے کے لیے شہر سے باہر نہیں جاسکتا اور یہی وہ زنجیر ہے جواُسے آڑے آتی ہے لیکن ملک کے حالات آسامیوں کے سلسلے میں ایک خاص نہج پر کام کررہے ہیں۔ بے روزگاری پورے ملک میں بال بکھرائے آوارہ گھوم رہی ہے اور نوجوان اپنے گھروں کی دیواروں سے غربت کھرچنے میں ناکام ثابت ہو رہے ہیں۔حتی کہ اس بے حیا دور میںماں کی دعا نے بھی اپنا اثر دکھانا بند کردیا ہے۔ وہ اپنے لاڈلے کو آسامی کی اشتہار دیکھ کر شرکت کرنے کی درخواست کرتی ہے لیکن بیٹے اوربوڑھی ماں کومعلوم ہے کہ یہ سب چھلاوہ ہے ۔ فارمیلٹی کے لیے لوگوں کو بے وقوف بنایاجارہا ہے اور کچھ نہیں_بیٹا قطار میں کھڑا ہے اور اپنے قریب کھڑے دوست سے یوں گویا ہوتا ہے:
’’یار۔۔۔۔۔ تم سفارش کی بات کرتے ہو۔ اپنے گھر تو اب بھوک پکتی ہے۔
مایوس کیوں ہو۔۔۔۔۔؟مایوسی تو کفرہے۔
میں اس کفر کا عادی ہو گیا ہوں۔ وہ سامنے والے نوجوان کو دیکھ رہے ہو جس نے اپنے لمبے بال پیچھے کی طرف ڈال رکھے ہیں۔
دیکھ رہا ہوں۔
یہ چیئر مین کا سگا بھانجا ہے۔ اسی لیے تو چہک رہا ہے۔ اور ان میں کچھ ایسے بھی ہیں جن کی پشت پر کرنل، برگیڈئیر اور جرنل بھی ہیں۔ بعض لمبا مال لگا کے بھی آئے ہیں۔ بس دیکھتے جائو۔
یار جب ملک ان کا ہے۔ سیاہ و سفید کے یہ مالک ہیں تو ہم کس قطار اور شمارمیںہیں۔۔۔۔۔؟‘‘
ماں کی دعائوں نے اثر دکھایا ہے اور انٹرویو لینے والوں میں ہل چل سی مچ گئی ہے لیکن کہتے ہیں ناکہ ملک کا سیاسی نظام جب ملکہ بازیاںد کھانے لگے تو سمجھو کہ ابتری اور غربت کاتسلط ہمیشہ قائم رہنے والاہے اور انہی مکاریوں کی جانب یہ ملک اور اس کا قانون ساز ادارہ انگوٹھے چھاپ ممبران سے چل سکتا ہے تو آپ کا ادارہ میرے بیٹے کے ساتھ کیوں نہیں چل سکتا ‘‘؟
اس افسانے میں افسانہ نگار نے صرف بے روزگاری یا بدعنوانی کوموضوع نہیںبنایا ہے بلکہ انھوں نے اس کے پس پشت ہونے والی ان تمام برائیوں اور خرابیوں کی جانب بھی واضح اشارے کردیے ہیں جس سے بر صغیر کے چند ممالک کی حالت ایسی ہوگئی ہے۔
جزکو بول کرکل مراد لینا، محمد حامد سراج کا افسانوی اختصاص بھی ہے اور فنی ہنر مندی بھی۔ افسانہ ’’ہے کوئی ‘‘ میں بالکل یہی مسئلہ ہے۔ انھوں نے ایک بازار کے چند دکانوںاور وہاں کے لوگوں کا نقشا کھینچا ہے لیکن اس سے مراد وہ پوری نسل انسانیت ہے جہاں شیطانیت کا بازار گرم ہے اور اس میں وہ لوگ زیادہ شامل ہوتے ہیں جو معاشرے میںپڑھے لکھے ، مہذب اور فلسفی کہلانا زیادہ پسند کرتے ہیں۔ کم پڑھے لکھے لوگ، فلسفیوں کو معاشرے کانمائندہ اور متبرک تصور کرنے کی بھول کر بیٹھتے ہیں جب کہ انھیں اندازہ نہیں اُن فلسفیوں کے اندر مغلظات کا ٹھاٹھے مارتا سمندر ہے جس کا اظہار کرنے وہ بازار کارخ کرتے ہیں اور آنے جانے پر ہوس بھری نگاہ ڈالتے ہیں۔ دنیا اور رسم دنیا کے شب وروز کا سلسلہ یوں ہی چلتا رہتا ہے اور افسانہ نگار نے انہی باتوں کی طرف واضح اشارے کیے ہیں۔
’’ڈنگ ‘‘مہاجرت کی کہانی ہے اور مہاجرت میں جب زمین سے اکھڑنے کا احساس شدید تر ہوجائے تو واقعہ زیادہ المناک صورت اختیار کر جاتا ہے ۔ بشارت احمد بھی اس کرب میں مبتلا ہے اور جو اپنے ملک کے اندر ہی اس المیاتی کیفیت سے نبرد آزما ہے۔ مہاجرت کی ایک قسم وہ ہوتی ہے کہ کوئی اپنے ملک کے بجائے دوسرے ملک کو اپنی مرضی سے مسکن بنائے اور ایک قسم وہ بھی ہوتی ہے کہ ملک کے حالات بدسے بدتر ہوتے چلے جائیں اور کسی پر دبائو ڈالا جائے کہ اپنی مٹی سے اس کارشتہ ٹوٹ جائے لیکن بشارت احمد اور پورے گائوں والے اپنے ملک میں رہتے ہوئے بھی حکومت کی ہٹ دھرمی اور سیاست کاشکار ہیں۔ زمین سے اکھڑنے کااحساس بشارت احمد جیسے لوگوں کو اس لیے بھی ہے کہ انھوں نے اپنے قریے کی محبت کو زیادہ محسوس کیا ہے۔ مہاجرت کاموضوع ہمارے ہاں نیا نہیں ہے لیکن محمد حامد سراج نے اس افسانے میں مہاجرت کے نکتے کو مختلف انداز میں پیش کیا ہے۔
افسانہ ’’رومنی ‘‘ کو ’’یادوں کاالبم‘‘ کہیں تو زیادہ مناسب ہوگا اور وہ بھی ایسا البم جس میں محبت کابوسہ ہے، بچپن اور نوجوانی کی یادیں ہیں اور رومنی سے محبت کے وعدے وعید ہیںلیکن راوی کی ملاقات رومنی کے رشتے داروں سے ہوتی ہے تواُسے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنی یاد داشت کھو بیٹھتی ہے اورکہانی کے آخر میں یہ محسوس ہوتا ہے کہ یہ خالص کہانی ہے جسے محمد حامد سراج نے الگ زاویے سے بُنا ہے۔
محمد حامد سراج کی عمدہ کہانیوں میں سے ایک کہانی’’ زمین زاد‘‘ بھی ہے جسے سائنس فکشن کی اعلا مثال کہہ سکتے ہیں۔ ذاتی خیال ہے کہ ہمارے افسانہ نگارنے الگ زاویے سے کہانی لکھ کر سائنس دانوں کے اُن نظریات کو تردید کرنے کی کوشش کی ہے جو وہ اسلام کے تئیں جھٹلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب سائنس دان، انسان کو مریخ پر اتارنے کا حتمی فیصلہ کر چکے ہوتے ہیں تو وہاں جانے کے بعد اُس جوڑی میں عجیب اضطراری کیفیت ہوتی ہے جو خلاف فطرت نہیں ہے۔ مثلاً سائنس دانوں کوکہنا تھا کہ زمین پرفساد کی جڑ مذہب ہی ہے اسی لیے وہ یہ نہیں چاہتے تھے کہ مریخ پر جانے والاکوئی شخص مذہبی کتاب لے گیا تو وہاں بھی انتشار کی صورت پیدا ہوگی لیکن وہ مریخ میں قدم رکھتے ہیں تو مرد محسوس کرتا ہے کہ اس کی بیوی مذہبی ہوتی جارہی ہے۔ جب وہ دوبارہ زمین پر آتے ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ اربوں انسانوں کے درمیان پھر سے تنہا ہوگئے ہیں۔ محمد حامد سراج نے آدم وحوّا والے صدیوں پرانے خیالات کو نئے زاویے سے سوچنے کی کوشش کی ہے۔
اس مختصر مضمون میں محمد حامد سراج کے چند افسانوں پربحث کی گئی جب کہ اُن کے مجموعوں میں کئی اور بھی افسانے ہیں جو بحث کاموضوع بن سکتے ہیں۔ ان کے لکھنے کا انداز دوسرے معاصرین سے بالکل الگ ہے یہی وجہ ہے کہ وہ پاک وہند کے علاوہ پوری اردو آبادی میں محترم سمجھے جاتے رہے ہیں اور یہی ان کا امتیاز ہے۔
٭٭٭

