"افکار و اظہار "/معین شاداب- ڈاکٹر خان محمد رضوان
جناب معین شاداب صاحب میرے سچے،اچھے اور مخلص دوست ہیں، وہ صاف دل اور پاک طینت ہی نہیں بلکہ صاف گو اور حاضر جواب انسان بھی ہیں- جہاں انھوں نے ناظم مشاعرہ کی حیثیت سے اپنی علحدہ شناخت قائم کی ہے- و ہیں اپنی بہترین شاعری کے ذریعے بھی اپنا مقام مستحکم کیا-
ان کی شاعری فطرت کی زبان میں پیش کیا ہوا ایسا کلام موزوں ہے جو جذب و انجذاب کی کیفیت سے پر ہے،جو یکایک سامع کو اپنی گرفت میں لے لینے کی بھر پور قوت رکھتی ہے،ان کی شاعری صرف سماعت کو ہی ترنگ نہیں عطا کرتی بلکہ ذہن و دل اورفکر وخیال کو آسودگی بھی بخشتی ہے- ان کے یہاں کیف وسرور کے ساتھ صدی کا المیہ بھی پرویا ہوا دکھتا ہے- یہاں حالات حاضرہ کی عکاسی بھی ہے،اور فطرت کی ترجمانی بھی- قلب وجگر کی راحت کا سامان بھی ہے اور ادبی ذوق کی تسکین کا اہتمام بھی-
بہر کیف یہاں معین شاداب کی شاعری پر گفتگو مقصود نہیں ہے،کیوں کہ معین شاداب کا مطلب خوش گفتار اور خوش بیان ناظم مشاعرہ اور نئے طرز فکر اور جدید ذہن وخیال کا تازہ دم شاعر ہے- اگر آپ کسی سے ذکر کریں گے کہ ہم نے کل اس معین شاداب سے ملاقات کی ہے جو ایک اچھے ادیب اور کئی نثری تخلیقات کے مصنف ہیں تو کوئی یہ تسلیم نہیں کرے گا کہ آپ اس معین شاداب کی بات کر رہے ہیں جو ایک کامیاب ناظم مشاعرہ اور مقناطیسی لب ولہجہ کے
شاعر ہیں-
در اصل معین شاداب صاحب بہت ساری خوبیوں اور صلاحیتوں کے مالک انسان ہیں انہیں کسی ایک دائرے میں قید کرنا سراسر نا انصافی اور زیادتی ہوگی- ان کی سب سے بڑی خوبی یہی ہےکہ ان پر ابتک دنیا کا رنگ نہیں چڑھا ہے وہ آج بھی اپنی اسی فطرت پر قائم ہیں جس پر اللہ تعالیٰ نے انہیں پیدا فرمایا ہے-
اس تعلق سے قرآن مجید میں ہے کہ:
لَقَدْ خَلَقْنَا ٱلْإِنسَٰنَ فِىٓ أَحْسَنِ تَقْوِيمٍۢ
ہم نے انسان کو بہترین ساخت میں پیدا فرمایا ہے-
اور حدیث میں اس طرح ہے کہ:
كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى اَلْفِطْرَةِ وَ إِنَّمَا أَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ وَ يُنَصِّرَانِهِ وَ يُمَجِّسَانِهِ-
ترجمہ: "ہربچہ فطرت (اسلام) پرپیداہوتاہے ، پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی، نصرانی، یا مشرک بناتے ہیں-”
اس طور پر دیکھا جاے تو معین شاداب کی شخصیت اور ان کی ذات پر ست رنگی دنیا کا رنگ نہیں چڑھا ہے- یہی وجہ ہے کہ وہ اس رنگین دنیا میں آج بھی بے حد سادگی اور سادہ مزاجی سے جیتے ہیں،ان کا خلوص اور انکسار ان کی شخصیت کا خاص عنصر ہے-جو وقت کے فرعون کو بھی رام کردینے کے لیے کافی ہے-اور یہی ان کی اصل شناخت بھی ہے- (یہ بھی پڑھیں طاہر تلہری کی شعری کائنات – ڈاکٹر خان محمد رضوان )
"افکار وخیال” کے لیے جناب معین شاداب صاحب کو دل سے مبارک باد پیش ہے،اگر یہ مضامین کے بجائے ان کا شعری مجموعہ ہوتا توہم ان کی خدمت مبارکہ میں دلی مبارک باد پیش کرتے-کیوں کہ معین شاداب بلوغت کی عمر پار کرکے جوانی کے آنگن سے ہوکر عمر رسیدگی کے دروازے پر قدم رکھ چکے ہیں،
یہ وقت ان کے مجموعہ کلام کی آمد کا عین وقت ہے،جس کا ان کے چاہنے والوں کو شدت سے انتظار ہے-
پوری دنیا میں معین شاداب کی شناخت ایک اچھے شاعر اور خوبصورت لب ولہجہ کے ناظم مشاعرہ کی ہے نہ کہ نثر نگار کی ہے- اس لیے ضروری تھا کہ اس سے پیشتر شعری مجموعہ زیور طباعت سے آراستہ ہوکر منظر عام پر آتا تو بات ہی کچھ اور ہوتی- مگر ان کی ذاتی ترجیح کا معاملہ ہے،اس میں ہمارا کوئی عمل دخل نہیں-
یہ ویسے ہی ہے جیسے کوئی اداکار رومانس کنگ کی حیثیت سے مقبول ہو اور اس کی فلموں کے شائقین اس کی فلم کم اس کا رومانس دیکھنے زیادہ جاتے ہیں، مگر فلم ہال میں جاتے ہی رومانس کنگ ولن کی شکل میں پردے پر آئیں تو شائقین کے دل پر کیا گزرے گی،آپ سمجھ سکتے ہیں- کوئی اگر کسی کا شائق ہے تو وہ ہمیشہ یہی پسند کرے گا کہ اس کا معشوق اپنی اصل شکل میں ہی سامنے آئے یہ اور بات ہے کہ کبھی کبھار شکل بدل بھی لیا کرے مگر اصل شناخت کبھی گم نہ ہونے پائے-
یہ کوئی ضروری نہیں کہ ایک شاعر ادب کی تقریباً تمام اصناف پر قدرت رکھتا ہو مگر یہ لازم ہے کہ ایک شاعر کا ادبی ذوق نتھرا ہوا ضرور ہونا چاہیے- (یہ بھی پڑھیں شیرشاہ کا نظریہ اتحاد اور عدل و انصاف – ڈاکٹر خان محمد رضوان )
خیر "افکار واظہار” کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں زیادہ تر مضامین ان شعرا پر لکھے ہوئے ہیں جن پر یا تو بہت کم لکھا گیا ہے یا ابھی لکھاہی نہیں گیا ہے،اس اعتبار سے یہ مجموعہ اہم ہے کہ اس میں ان شعراپر مضامین ہیں جنہیں ابتک قابل اعتنا نہیں سمجھا گیاہے- بیشتر مضامین مختصر ضرور ہیں مگر معلوماتی اور اہم ہیں،جیسے عرفان صدیقی، آنند نرائن ملا،مانی جائسی ،شفیق جونپوری, اظہار اثر , وقار مانوی ،معراج فیض آبادی وغیرہ پر مضامین قابل ذکر ہیں-
میں اس خوبصورت اور معلوماتی مجموعہ مضامین کے لے بھائی معین شاداب صاحب کو مبارک باد پیش کرتاہوں-اس گزارش کے ساتھ کہ 2022 میں لازما شعری مجموعہ منظر عام پر آجانا چاہیے-
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

