میں جب کبھی مسلم سلاطین کے بارے میں پڑھتا ہوں یا ان کے کارناموں کو یاد کرتا ہوں تو اخترانصاری کا یہ شعر مجھے یاد آتا ہے۔
یاد ماضی عذاب ہے یارب چھین لے مجھ سے حافظہ میرا
آپ سب اہل علم ہیں اور شعر کے باطن میں جو مفہوم پوشیدہ ہے اسے سمجھ چکے ہوں گے۔
یہاں میں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی آمد سے قبل یہاں کے باشندے تہذیبی، معاشرتی، سماجی، سیاسی اور مذہبی اعتبار سے بہت بیدار نہیں تھے۔یہ عرب تاجروں اور مسلم سیاحوں کی دین ہے کہ انھوں نے اپنے اخلاق اپنی تہذیب اور طور طریقے سے یہاں کے باشندوںکو تہذیب روشناس کیا۔ (یہ بھی پڑھیں نئی شاعری کانمائندہ شاعر:طارق متین -ڈاکٹرخان محمد رضوان )
تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ مسلمان اس سرزمین پر رحمت کی صورت آئے تھے۔ مسلم مبلغین بہ غرض تبلیغ ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتے اپنی دعوت اور طرز فکر سے اپنے مخاطب کو متاثر کرتے ۔ مسلم تاجروں نے بھی ایک ملک سے دوسرے ملک کا تجارتی سفر کیا اور اپنے اخلاق حسنہ اور حسن معاملہ سے لوگوں کو متاثر کیا۔ اسی طرح مسلم سیاست دانوں نے اپنی سیاسی سوجھ بوجھ اور اسلامی طور طریق سے اپنی بادشاہت میں رعایا کے ساتھ یکساں برتائو عدل و انصاف اور نظریہ اتحاد کو بروئے کار لا کرعوام الناس کا دل جیتا،نتیجے کے طور پر رفتہ رفتہ لوگ نہ صرف ان سے قریب ہوئے بلکہ ان کا مذہب بھی اختیارکرنے لگے۔ مسلم حکمرانوں نے علوم دینیہ اور علوم دنیوی کے ساتھ ایجادات واختراعات اور اصلاحات کے کاموں میں غیر معمولی دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے اپنی مختلف النوع صلاحیتوں سے ہندوستان کو سجایا سنوارا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب مسلم سلاطین نے ہندوستان کو اپنا مسکن بنایاتو تہذیب وتمدن اور صنعت وحرفت کے ساتھ تعمیر و ترقی کے بھی حیرت انگیز جوہر دکھائے جو قابل رشک ہے۔ ان ہی میں ایک قابل احترام نام فرید خاں کا ہے، جنہیں دنیا سلطان الہند شیر شاہ سوری کے نام سے جانتی ہے۔ آپ کے آباء و اجداد کی نسبت افغانی النسل جلال خان سے تھی اور والد حسن خان سوری افغانستان سے ہندوستان آئے تھے مگر آپ کی پیدائش ہندوستان کے تاریخی شہر سہسرام(بہار) میں ہوئی، جسے مدینۃ الاولیاء بھی کہا جاتا ہے۔ یہ وہی شیرشاہ ہیں جنہیں اپنے تعمیری کاموں کی وجہ سے ہندوستانی نپولین بھی کہاجاتا ہے اور مورخین شیرشاہ کو برصغیر کا عظیم اسلامی رہنما، فاتح اور مصلح مانتے ہیں۔ ساتھ ہی وہ بہادر، جری، اور دیندار حاکم بھی تھے۔ شیرشاہ کی زندگی کا اگر ہم عادلانہ مطالعہ کریں تو اندازہ ہوتا ہے کہ قدرت نے ان کی فطرت میں اچھے اخلاق واقدار اور بادشاہت کے اہم ترین اوصاف ودیعت کی تھی۔ وہ ایک انصاف پسند حکمراں اور سچے پکے مسلمان تھے۔ تاریخ میںبہت کم ایسے حکمراں ہوئے ہیں جنھوں نے اپنی حکمرانی شرعی اصولوں اور سیرت رسول کے آئینے میں کی ہے۔ شیرشاہ کی زندگی اور نظام حکمرانی دینی اصولوں کی بنیاد پر تھی۔ نظام عدل ہو کہ نظام حکومت ہر معاملے میں احکام شریعت کو ملحوظ خا طر رکھتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ انھوں نے رعایا اور اپنی اولاد کے درمیان کبھی امتیاز اورفرق نہیں کیا۔ شیرشاہ کے انصاف اور مساوات کا ایک مشہور اور چشم کشا واقعہ یہ ہے کہ:
’’اس کا بیٹا عادل خان جو ولی عہد بھی تھا۔ ایک روز ہاتھی پر سوار ہوکر آگرہ کی کسی گلی سے گزر رہا تھا کہ ناگاہ ایک بقال (بنیا) کے گھر کی انگنائی (آنگن)میں نظر جا پڑی، دیکھا کہ ایک ہندو نوجوان عورت غسل کررہی ہے۔ عادل خان نے پان کی ایک گلوری پھینک ماری اور چلتا ہوا۔ عورت حیا دار تھی۔ غیر محرم کی اس حرکت پر اسے سخت تکلیف ہوئی۔اور یہاں تک کہ وہ اپنی جان دینے پر آمادہ ہوگئی۔ اتنے میں اس کا شوہر بھی آگیا۔ یہ معلوم کرکے کہ بادشاہ کے بیٹے عادل خاں نے یہ نا زیباحرکت کی ہے وہ فوراً دربار شیرشاہی میں فریادی بن کر پہنچا اور سارا حال کہہ سنایا۔ بادشاہ بہت برافروختہ ہوا اور بھرے دربار میں یہ حکم دیا کہ یہ بقال اسی طرح ہاتھی پر سوار ہو اور عادل خاں کی بی بی کواسی طرح سامنے بٹھلایا جائے اور یہ بھی گلوری مار کر اپنا بدلہ لے۔ اس حکم سے دربار میں کھلبلی مچ گئی۔ امراء نے ہر چند سفارشیں کیںلیکن باد شاہ نے کسی کی ایک نہ سنی اورسزا بر قرار رکھی۔
میری نگاہ میں ایک معمولی رعیت کی بیٹی اور بہو اپنی خاص بیٹی اور بہو کے برابر ہے۔ بقال نے جب دیکھا کہ شاہی حکم کسی طرح رک نہیں سکتا تو آگے بڑھا اور دست بستہ عرض کیا کہ جہاں پناہ میں اپنی داد کو پہنچ گیا۔ حضور کے حکم کے یہ معنی ہیں کہ ملزم کی سزا ہوگئی۔ اب مجھے اس کا بدلہ نہیں چاہیے ۔ ‘‘
شیرشاہ کی حکومت میں عدل وانصاف کا یہ ایک اکیلا واقعہ نہیں ہے بلکہ انیک واقعات تاریخ کے صفحات میں محفوظ ہیںاور مورخین شیر شاہ کے عدل وانصاف کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے۔
شیرشاہ نے اپنی حکومت کا نظام اس قدر درست اور چست کررکھا تھا کہ اپنے اس وسیع وعریض ملک میں کہیں بھی بے اعتدالی اور ناہمواری دیکھنے کو نہیں ملتی تھی۔ انھوں نے عدل و قسط کا ایسا نظام بناکر رکھا تھا کہ پوری سلطنت میں چوری اور ڈکیتی کا نام ونشان تک نہ تھا ہر شخص مالدار اور خوش حال تھا ، یہ وہی عہد تھا جس میں شیر اور بکری ایک گھاٹ پر پانی پیا کرتے تھے۔ یہ صرف اور صرف شیر شاہی نظام عدل وانصاف کا ہی نتیجہ تھا کہ ہر عہد میں مسلم حکمرانوں کے لیے ایک نمونہ بنا ۔ اخوت و ہمدردی اور عدل و رواداری اس حد تک تھی کہ اگر کوئی راہ گیر یا سوداگر راستہ میں مرجاتا تو اسکے مال کے وارثوں تک پہنچادینے کا خاص انتظام تھا۔ شیرشاہ کو رعایا کے ساتھ اخوت اور ہمدردی کا جذبہ اس قدر تھا کہ جب کوئی مظلوم ان کے پاس آتا تو وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اسکی طرف متوجہ ہوجاتے۔ تاریخ گواہ ہے کہ شیر شاہ واحد ایسے حکمراں گزرے ہیں جن کی پوری زندگی عوام کی فلاح و بہبود کے لیے وقف تھی ۔ان کے کے عدل و اخوت اور مساوات کی یہ مثال بھی اہم ہے کہ وہ صرف مسلمانوں کے حکمراں نہ تھے بلکہ ہندوستان جو ہر عہد میں گنگا جمنی تہذیب کی علامت اور مثال رہا ہے ، اس ملک کے طول وعرض میں بسنے والے تمام باشندوں کے بلاتفریق مذہب وملت بادشاہ تھے۔ انہوں نے دوران حکمرانی اتحاد واتفاق اور بھائی چارگی کی ایسی مثالیں قائم کی ہیں کہ جس کی نظیر پیش کرنے سے تاریخ قاصر ہے۔ شیر شا نے جب رعیت کے واسطے ہر دو کوس پر سرائیں تعمیر کرائیں تو ان میں ہندو اور مسلمان مسافروں کے لئے الگ الگ کھانے کا انتظام کرایا۔ ان سرایو ں میں بلا تفریق مذہب و ملت مسلمانوں کو مسلمان ملازم اورہندؤں کو ہندو ملازم پکا پکا کر کھانے پہنچاتے تھے۔ ساتھ ہی ہمیں یہ بات صرف متعجب ہی نہیں کرتی بلکہ انگشت بدنداں بھی کر دیتی ہے کہ بادشاہ نے ہر سرائے میں ایک نقارہ (طبل) رکھوایا اور یہ حکم دیا کہ میں جس وقت دستر خوان پر بیٹھوں اسی وقت ہر سرائے کے مسافروں کو کھانہ پروس دیا جانا چاہیے ۔اس اعتبار سے بادشاہ اور مسافر ایک ہی دستر خوان پر ایک ہی وقت میں کھانے کھاتے تھے۔ مجھے نہیں لگتا کہ تاریخ اخوت ومحبت اور اتحاد کی ایسی بے نظیر مثال کہیں سے سامنے لا سکتی ہے ۔
اس موقع سے علامہ اقبال کا یہ شعر مجھے یاد آتا ہے کہ :
ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز
نہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز
شعرشاہ بے حدذہین،فطین،دوراندیش،دوررس،کشادہ دل،کشادہ دست،صاحب کردار،بااخلاق،ملنسار،درد مند،خدا شناس اور غریب پرور بادشاہ تھے۔ ہم ان کی زندگی اور عہد حکومت کاغائر مطالعہ کریں تو اندازہ ہوتا ہے کہ حکمرانی اور بادشاہی ان کی خاندانی روایت تھی،نہ کہ ضرورت ۔ چونکہ انہوں نے حکومت کے طریقہ کار اور نظام حکمرانی سے یہ ثابت کردیا کہ ان کا مقصد بندگان خدا کی خدمت کرناہے اور رعیت کو ہر اعتبار سے سہولیات مہیا کرنا فرض منصبی ہے۔ یہی وجہ تھی کہ انہوںنے اپنی پوری زندگی میں کبھی رعایا کے درمیان اونچ نیچ ، امیرو غریب اور ہندومسلم کی تفریق نہیں کی۔ ایک خاص بات یہ بھی تھی کہ وہ صرف ایک بادشاہ اور دنیادار انسان نہ تھے بلکہ پابند شریعت اور مذہبی انسان بھی تھے۔ وہ متشرع اور حکم الٰہی میں ہمہ آن سر جھکا ئے رہتے تھے۔ خوف خدا ہمیشہ دامن گیر رہتا ان پر دینداری ہمہ وقت طاری رہتی ۔انہیں دیکھ کر بادشاہ کم ایک دیندار انسان کاگمان زیادہ ہوتا تھا ۔ شیر شاہ کی حکومت جبر اور خوف سے نہیں بلکہ محبت اور رواداری پر قائم تھی۔ ان کی حکومت میں رعایا کو دہشت زدہ اور سخت ضابطوں پر عمل درآمد کرنے پر مجبور نہیں کیا جاتا تھا۔ حد تو یہ تھی کہ باغیوں کو سنت کے مطابق اصلاح کا موقع فراہم کرتے۔ وہ مصالحت پسند اور انسانی ہمدردی واخوت کاپیکر تھے۔ یہی وجہ تھی کہ وہ اصولوںکے لیے کٹرپن اور ضدی نہیں تھے، وہ اپنے قول وفعل میںاعتدال پسند تھے۔ ان کے دل ودماغ میں کسی کے لیے ذرہ بر ابر بھی تعصب نہیں تھا۔ شیر شاہ کی شرافت ،ایمانداری ،ہمدردی، محبت اور اخوت کی ایک مثال یہ بھی ہے کہ ایک جلسہ عام میں انھوںنے سب فریقوں اور طبقوں کے لوگوں کے لیے عام معافی کا اعلان کیا اور کہا کہ میں پوری نیک نیتی اور دیانت داری سے ان کے مفاد کی حفاظت کرنا چاہتا ہوں۔ شیر شاہ کی ذاتی زندگی کا اگر ہم مطالعہ کریں ،تو پتا چلتا ہے کہ ہے کہ ان کا عہد طفلی بے حد تنگدستی، کشمکش اور انتشار میں گزرا ،باوجود اس کے انھوں نے اللہ پر توکل اور کمال جوش وجذبہ کے ساتھ تمام مسائل کاسامنا کرتے ہوئے زندگی کا سفر جاری رکھا۔اور ایک وقت ایسا بھی آیا کہ وہ عالم دین ہوئے اور حاکم وقت بھی۔ مگر انھوں نے کبھی بھی حکمرانی کے زعم جنون میںآکر رعایا کے ساتھ ظلم وزیادتی کا معاملہ نہیں کیا۔ بلکہ اللہ رب العزت نے انھیں جس علوم دینیہ سے بہرور کیا تھا، اسی کی روشنی میں پوری زندگی بسر کی ،اور ہر وہ کام کیا جو انسان کی بنیاد ی ضرورت تھی ۔ان کی زندگی اور ان کے نظام حکمرانی سے ہمیںیہ حوصلہ ملتا ہے کہ ہم ایک کسان اور تاجر ہوتے ہوئے بھی زندگی کی بڑی سے بڑی منزلیں طے کرسکتے ہیں۔مگر شر ط یہ ہے کہ ہمارے اندر د جوش وجذبہ اور لگن کے ساتھ دینداری اور انسانیت کا جذبہ بھی موجود ہو۔اس ضمن میںمیرا یہ معروضہ قابل غور ہے کہ:
کسے خبر تھی کہ تاریخ دہرانے کے بجائے مسخ کر دی جائے گی ۔یہ کون جانتا تھا کہ ایک دن ایسا بھی آئے گا کہ قدیم ہندوستان کی تابناک تاریخ کو صرف تعصب اور نفرت کی بھینٹ چڑھا دیا جائے گا۔ یہ کوئی نہیں جانتا تھا کہ ملک ہندوستان کو تہذیب و تمدن سے آشنا کرانے والوں، لال قلعہ ، قطب منار ، شاہی جامع مسجد اور تاج محل جیسی بے مثل عمارتیں تعمیر کرانے والوں کو ملک کا دشمن ، باغی اور لٹیرااور خارجی حملہ آور گردان کر ہماری نئی نسلوں کو گمراہ کیا جائے گا۔ میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ لال قلعہ ، قطب منار اور تاج محل سے اتنی ہی نفرت ہے۔تو ان سے ہونے والی کروڑوں کی آمدنی کو ملک کی معیشت کا آپ حصہ کیوں بناتے ہیں۔مگر افسوس صد افسوس کہ ہماری ملکی سیاست نے بھی چند سر پھروں کا ساتھ دیکر نہ صرف ملک کے وقار کو مجروح کیا ہے بلکہ اسے دائو پر بھی لگا دیا ہے ۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہمارے سلاطین،نوابین اور بادشاہوں کی تعمیر کردہ فلک بوس عمارتوں کو نقصان پہنچایا جارہا ہے اور ان کے بسائے ہوئے تاریخی شہروں کے نام کو بدل کر معاشرے میں نفرت کا ذہر گھولا جارہا ہے ،اور نہ جانے اس طرح کی کتنی ہی عجیب و غریب اور منصوبہ بند سازش کی جارہی ہیں جن کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ میں ملک کے رہنمائوں کے گوش گزار کرنا چاہتا ہوں کہ ہمارے یہ سلاطین ہندوستانی باشندے تھے اور انہوں نے ملک کی تعمیر میں جو کارنامہ انجام دیا ہے، آپ لاکھ کوششوں کے باوجود ان کی خاک پا کو نہیں پہنچ سکتے۔ خلاصہ کلام یہ کہ ہمارے یہ اسلاف ہمارے ملک کی شان تھے ،شان ہیں اوررہتی دنیا تک شان رہیں گے۔
ای میل: afeefrizwan@gmail.com
9810862283
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


2 comments
عمدہ مضمون
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ امید کہ مزاج گرامی بخیر ہو گا ۔
خان رضوان صاحب میں نے شیر شاہ سوری پر آپ کا سیر حاصل مضمون پڑھا۔ماشا اللہ بہت خوب لکھا ہے ۔کلائمکس تو بہت ہی پر اتر اور حالات حاضرہ کی نمائندگی کر گیا۔خوب۔ایک اصلاح کر لیجیے فرید خان سہسرام میں پیدا نہیں ہوا تھاصحیح تاریخ ہے کہ وہ موجودہ ریاست ہریانہ کے حصار فیروزہ میں اس کی پیدائش ہوئی تھی۔