خواب پلکوں میں (شعری مجموعہ)/ وِشال کھلّر – امتیاز احمد علیمی
اکیسویں صدی کے شعری و تخلیقی منظر نامے پر نظر ڈالیںتو ادبا اور شعرا کی ایک طویل فہرست نظر آتی ہے جنھوں نے شعر و ادب کے میدان میں اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔وِشال کھلّر انھیں تخلیقی فن کاروں میں سے ایک ہیں۔انھوں نے اپنا تخلیقی سفر 2001میں شروع کیا اور پہلی غزل ماہنامہ’شاعر،ممبئی‘ میں شائع ہوئی۔اس کے بعد وہ مسلسل شعر کہتے رہے اور علمی و ادبی حلقوں میں اپنی جگہ بناتے رہے۔نتیجتاً 2011میں ان کا پہلا شعری مجموعہ ’دھند میں اماں‘ کے نام سے انشاء پبلی کیشنز کولکاتہ سے منظر عام پر آئی ،جس میں غزلیں اور نظمیں شامل تھیں۔اس مجموعے کو قارئین نے بہت زیادہ پسند کیا جس کی وجہ سے انھیں ’ساہتیہ اکادمی یُوا پرسکار‘ سے بھی نوازا گیا۔اس یُوا پرسکار نے ان کے اندر مزید حوصلہ پیدا کیا ۔چنانچہ ان کا یہ دوسرا مجموعہ ’خواب پلکوں میں‘ اسی سرشاری اور حوصلہ مندی کا نتیجہ ہے۔اس مجموعہ کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں غزلوں اور نظموں کے علاوہ نثری نظمیں بھی شامل ہیں۔اس مجموعے کے مطالعے سے جہاں شاعر کی تخلیقی جہات اور اس کے وسیع کینوس کا اندازہ کر سکتے ہیں وہیں شاعر کے داخلی و خارجی جذبات، سماجی مسائل،ہجر و وصال اور امید کی مختلف کرنوں کے شیڈس بھی دیکھ سکتے ہیں۔اس مجموعہ میں کل 54غزلیں ، 39نظمیں اور سات نثری نظمیں شامل ہیں،جن کی قرأت سے شاعر کے متنوع جہات کا اندازہ کر سکتے ہیں۔شاعر اپنے مالک حقیقی سے جہاں آدمی کو آدمی کرنے اور ظالموں کا سر قلم کرنے اور حق کی حمایت کرنے کی التجا کرتا ہے وہیں امن و شانتی کے خوشبو اور اس کے رنگ بکھیرنے کی دعا بھی کرتا ہے۔اس ضمن میں چند اشعار ملاحظہ کیجیے:
گنگناتا ہے حادثہ مجھ میں میری آسان زندگی کر دے
کوئی ایسا سبق پڑھا داتا آدمی کو جو آدمی کر دے
سر قلم کر گناہگاروں کے بے گناہوں کو تُو بری کر دے
میں حمایت کروں سدا سچ کی میرے اندر وہ روشنی کر دے
جہاں اس طرح سے شاعر بارگاہ ایزدی میں عصری صورتحال کو پیش کرتے ہوئے حق کی حمایت کا طلبگار نظر آتا ہے وہیں انصاف کی گُہار بھی لگاتا ہے۔صرف یہی نہیں، بلکہ مجموعہ کلام کا مطالعہ کرتے ہوئے اور بھی بہت سی ایسی باتیں ہیں جن کو ہم بہت ہلکے میں لیتے ہیں لیکن شاعر نے ان سب کا فنکارانہ اور تخلیقی اظہار کیا ہے۔شعر کی سادگی اور روانی تفہیم میں مانع نہیں ہوتی بلکہ آسان سے آسان تر کر دیتی ہے۔اشعار کی قرأت کے دوران اس بات کا بھی احساس ہوا کہ کلام میں شعریت بھی ہے،جدا گانہ رنگ بھی ہے۔نادر تلمیحات و استعارات بھی ہیں۔امیجری کی ایک نئی فضا بھی ہے۔اظہار مطالب پر قدرت بھی ہے ،پاکیزگی بھی ہے اور معصوم جذبوں کا اظہار بھی۔جذبات و احساسات کی رنگینی بھی ہے۔تجربات و مشاہدات کا شعری پیکر بھی ہے اور اساطیری جڑیں بھی۔حسن وعشق کا اچھوتا انداز بھی ہے اور انسانی کرب کی داستان بھی ہے۔مسائل حیات بھی ہے اور مسائل کائنات بھی۔اردو اور ہندی کا حسین امتزاج بھی ہے اور لفظوں کا بر محل استعمال بھی۔رمزیت اور اشاریت جو غزل کا بنیادی وصف ہے سبھی کچھ نظر آتا ہے۔ان سب کے علاوہ ہجر و وصال کی ملی جلی کیفیات کا برملا اظہار بھی ہے۔مذکورہ تمام باتیں شاعر کے قادر الکلامی پر دال ہیں۔ایک ایسا نوجوان شاعر جو بیک وقت ہندی، اردو پنجابی، انگریزی اور فرانسیسی زبانوں کو نہ صرف جانتا ہے بلکہ اس کے برتنے کا سلیقہ بھی آتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ان کے کلام کا مطالعہ کرتے ہوئے کہیں کہیں کلاسیکی رنگ وآہنگ بھی نظر آجاتا ہے۔یہ تمام باتیں کوئی ہوا ہوائی نہیں ہیں بلکہ جب آپ ان کی غزلوں اور نظموں کا مطالعہ کریں گے ،آپ بھی یہی کہیں گے کہ یقیناً یہ ایک اچھا شاعر اور فن کار ہے جسے ہر چیز کو برتنے کا بخوبی سلیقہ آتا ہے۔مثال کے لیے صرف چند اشعار دیکھیے:
میں انسان تھا خدا ہونے سے پہلے انا الحق ،انا ہونے سے پہلے
ایک منظر،ایک لمحہ، ایک چہرہ،ایک روپ عمر رفتہ کے اشاروں پر دھواں ہوتا ہوا
گر نہیں دیر و حرم میں بھی سکونت یارب! تو پھر اچھا ہے بیاباںکا بیاباں ہونا
وہ جو رکھتے ہیں ہاتھ میں خنجر کتنے شیریں بیان والے ہیں
ہر بچھڑتے ہوئے موسم سے ملائوں نظریں ہجر کو وصل بنائوں تو تجھے یاد کروں
اس نے جب آگ کو دریا میں ملا رکھا ہے میں نے بھی دھوپ میں رستہ سا بنا رکھا ہے
اس طرح وِشال کھلّر نے چھوٹی اور بڑی دونوں بحروں میں جہاں غزلیں کہہ کر اپنی انفرادیت قائم کرنے کی کوشش کی ہے وہیں نظموں اور نثری نظموں میں بھی طبع آزمائی کر کے ایک الگ رنگ و آہنگ کے ذریعہ معاصر شعرا میں اپنی جگہ بنانے میں کامیاب نظر آتے ہیں۔ان کی نظموں میںلمحۂ آمد، لہو بو رہا ہوں،جذبات، جنم دن، خواب ماورا ہے، جھیل کنارے، میں کرشن نہیں، آتش فشاں،آتش کدہ، ورثہ، باز گشت۔منظر اک پیاسا ہے،خدا باقی ہے،اور احتجاج ایسی نظمیں ہیں جن سے زندگی کے مختلف گوشوں کو نمایا ں کرتے ہوئے اپنے خیالات کو بہت ہی مربوط انداز میں پیش کیا ہے۔یہ تمام نظمیں ایسی ہیں جو پڑھنے سے تعلق رکھتی ہیں ۔نظموں کو پڑھ کر ان کے خیالات سے اتفاق و اختلاف کیا جا سکتا ہے۔غزلوں اور نظموں کے علاوہ نثری نظموں میں تعمیر،انحراف،محبت، نذر اقبال، انحصار، سناہے،اور سفیران حق وغیرہ اہم ہیں جو مطالعے کی دعوت دیتی ہیں۔مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ وشال کھلر کے یہاں تخلیقیت اور شعریت دونوں پائی جاتی ہے۔اس مجموعے کے مطالعے سے آپ مزید در وا کر سکتے ہیں۔مجموعہ دیدہ زیب ہے البتہ300روپے قیمت غیر مناسب ہے،یہ ہم سب پر گراں بار ہے۔ امید ہے کہ اس کی علمی و ادبی حلقوں میں پذیرائی ہوگی۔

