علم و تحقیق کا زوال اور فضلائے مدارس – ڈاکٹر وارث مظہری

by adbimiras
1 comment
اسلامی علمی روایت کی تشکیل و ارتقا میں ماضی میں مدارس کے فضلا کی کاوشوں کا جو تناسب رہا، اس میں دور جدید میں شدید کمی آئ ۔ایسا محسوس ہوتا تھا کہ وقت گزرنے کے ساتھ اس تناسب میں اضافہ ہوگا اور ان کی حصہ داری بڑھے گی ۔لیکن معاملہ برعکس نظر آتا ہے۔ سنجیدہ، ٹھوس اور معیاری علمی کام معتد بہ انداز ومقدار میں نہ مدارس کی چہار دیواری میں انجام پاتا نظر آتا ہے اور نہ مدارس سے باہر ۔ میری نظر میں اس کی متعدد وجوہات ہیں:
1. مدارس کے باصلاحیت فضلا کی زیادہ بڑی تعداد مدارس سے وابستگی کو ہی ترجیح دیتی ہے۔لیکن اس کو مدارس کی چہار دیواری میں اپنی صلاحیتوں کو صحیح طور پر آزما نے کا موقع نہیں ملتا۔ مدارس کے اندر رہتے ہوئے اسے علمی وفکری رجحانات و معیارات کا صحیح اندازہ نہیں ہوپاتا کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو ان کے مطابق ڈھال سکے۔ نتیجتاً وہ پیش پا افتادہ اور غیر معیاری علمی کاموں کو حرز جان بنایے رکھتی ہے اور اسے ہی مایہ فخر سمجھتی ہے۔
2. مدارس کے جو فضلا مدارس کی دنیا سے باہر آتے ہیں ان کے سامنے سب سے بڑا چیلنج معاشی ہوتا ہے ۔اس لیے ان کی زیادہ بڑی تعداد زبانوں( عربی و انگریزی) کی صلاحیت کے حصول کو ترجیح دیتی ہے۔ تاکہ وہ ترجمے یا زبانی ترجمانی کے ذریعے اپنی معاشی کفالت کرسکے۔یا دوسری صورت میں اسے عرب سفارت خانوں ، خلیجی ممالک اور بین الاقوامی کمپنیوں میں ملازمت کے مواقع حاصل ہوسکیں۔ راقم الحروف کا ایسے بہت سے لوگوں سے واسطہ ہے ۔ان کی صلاحیتوں کو دیکھ کر رشک آتا ہے لیکن افسوس ہوتا ہے کہ وہ بمشکل کوئی  علمی اشتغال رکھتے ہیں۔ (یہ بھی پڑھیں ’’ صلاح الدین ایوبی‘‘ایک رزمیہ ناول- امیر حمزہ )
3. تیسری نوعیت کے فضلا وہ ہیں جنہیں یونی ورسٹییز کی اچھی ملازمت حاصل ہے اور وہ بلاشبہ اعلی اکیڈمک کاموں کے لیے خود کو وقف کرسکتے ہیں لیکن تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ یونی ورسٹی کی اعلی ملازمتوں سے وابستگی کے بعد ان کا ذہن بھی بدل جاتا ہے ۔اور شبلی کے بقول بس وہ پرعیش وپرتکلف زندگی کی چکاچوند میں کھو کر رہ جاتے ہیں۔
افسوس ہمارے مدارس اور ملت کے ایجنڈے میں یہ مطلقا یہ پہلو نہیں ہے کہ اس گرتی ہوئ دیوار کو سنبھالنے کی کس طرح کوشش کی جائے۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

You may also like

1 comment

Leave a Comment